تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اٹھارہویں سالانہ اجتماع، لاہور کی نشست میں شرکت ۹ نومبر ۱۹۶۹ء
”میرے نہایت عزیز نوجوانو!
آپ لوگوں نے میرے لئے ۹ بجے کا وقت رکھا تھا اور میں اپنے حساب سے اس وقت چلا تھا کہ یہاں بلا تاخیر پہنچ جاؤں گا، لیکن مجھے آپ کے نعروں کا پتہ نہ تھا۔ ان نعروں کی وجہ سے راہ میں جو تاخیر ہوئی ہے، امید ہے آپ مجھے اس کا ذمہ دار نہ سمجھیں گے۔ یہ بھر پورا اجتماع دیکھ کر مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب ۲۲ سال پہلے چند نوجوانوں نے ایک مختصر جمعیت کی بنیاد ڈالی تھی اور کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ آگے چل کر یہ ایک عظیم جمعیت کی شکل اختیار کرلے گی۔ اللہ تعالیٰ خلوص کی قدر فرماتا ہے اور تھوڑے سے کام میں بھی برکت عطا کرتا ہے۔ یہ اسی کی برکت ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی ان درس گاہوں میں جو عقائد اور اخلاق دونوں کو خراب کرنے والی ہیں، ایسے نوجوان بھی پائے جاتے ہیں جو نہ صرف خود صحیح عقیدے اور پاکیزہ اخلاق کے مالک ہیں بلکہ اپنی درسگاہوں میں اسی عقیدے اور اخلاق کی خوشبو پھیلانے کے لئے کوشاں بھی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں میں مزید برکت عطا فرمائے اور وہ وقت جلد لائے جب ان درسگاہوں میں اسلامی نظامِ تعلیم اور اس ملک میں اسلامی قانون رائج ہو۔
سوال: پچھلے دنوں پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ہم نوجوانوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے مثلاً عبد المالک کی شہادت، یادگار عبد المالک کی تعمیر میں رکاوٹ اور ایسے ہی دوسرے واقعات! کیا اب ہمارے لئے یہ روا نہیں ہے کہ ہم اپنے مخالفین کے تشدد کا جواب تشدد سے دیں؟
جواب: ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ ہم بہر حال معقولیت کے ساتھ کام کریں، لیکن جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ شرافت اور معقولیت کے معنی بزدلی کے نہیں ہیں۔ جو لوگ آپ سے الجھیں انھیں ایسا سبق دیجیے کہ وہ ساری عمر یاد رکھیں ۔ مخلص، شریف اور بلند کردار لوگوں کے آگے بد کردار اور کرائے کے آدمی کبھی نہیں ٹھہر سکتے۔ شریف آدمی بہادر ہوتا ہے۔ کمینہ کبھی بہادر نہیں ہوتا۔ وہ اسی وقت تک شیر رہتا ہے جب تک کہ اُسے یہ یقین ہو کہ دوسرا آدمی اس پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا، لیکن جب اسے معلوم ہو جائے کہ اس کی پٹائی ہو جائے گی تو وہ کبھی یہ خطرہ مول نہیں لے گا۔
سوال: اس زمانے میں پورا ملک دو کیمپوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور نوجوان طالب علم جوق در جوق اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو رہے ہیں ۔ وہ اسلامی جذبے سے سرشار ہیں، لیکن ابھی پوری طرح جمعیت کے مزاج سے واقف نہیں ہیں، کیا انھیں جمعیت کا رکن بنانا چاہیے؟
جواب: جو نوجوان آپ کی طرف آ رہے ہیں انھیں دھکیل کر دور پھینکنا عقل مندی نہیں ہے۔ وہ بہر حال اسلامی جذبہ رکھتے ہیں اور اسی جذبے سے سرشار ہو کر وہ اپنا وزن اسلام کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ کو ایسے لوگوں کی ہمت افزائی کرنی چاہیے۔ البتہ آپ یہ کوشش کیجیے کہ ان لوگوں کی پوری ہمت افزائی کے ساتھ فکری اصلاح بھی ہو۔ بلاشبہ یہ محنت طلب اور وقت طلب کام ہے لیکن آپ کو یہ کام کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لئے آپ کے پاس ایسا مختصر لٹریچر ہونا چاہیے جسے پڑھ کر وہ اسلامی تحریک کے مزاج سے پوری طرح آشنا ہو جائیں۔ اگر آپ یہ کام نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ نو وارد نوجوان کسی وقت کوئی غلطی کر بیٹھیں اور وہ آپ کے سرمنڈھی جائے۔ آپ جانتے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا گروہ موجود ہے جو ہر وقت الزام تراشی کی مہم میں لگا رہتا ہے اور ہمارے ہاں کا اخلاقی معیار اس قدر گر گیا ہے کہ کوئی آدمی اُٹھ کر خواہ کیسا ہی لغو اور بے ہودہ الزام جہاں کر دے اسے اخبارات میں جگہ مل جاتی ہے۔
آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ اُردو اور انگریزی میں آپ کے پاس مختصر تربیتی لٹریچر کا ہونا ضروری ہے۔ آپ باقاعدگی کے ساتھ کارکنوں کے تربیتی اجتماعات کرتے رہیں اور انھیں بتائیں کہ عام زندگی میں اور موجودہ بحرانی حالات میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟
سوال: تحریک اسلامی اس وقت جن حالات سے گزر رہی ہے اس میں طلبہ کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جواب: یہ سوال بہت وسعت رکھتا ہے، تاہم میں مختصر آپ کو بتاتا ہوں کہ تحریک اسلامی اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اگر چہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی یہ مختلف آزمائشوں سے دو چار رہی ہے اور قدم قدم پر اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔ لیکن ۵۸ء سے حالات نازک سے نازک تر ہوتے گئے۔ ۵۸ء کے انقلاب نے نتیجے میں یہاں ایسے لوگ برسر اقتدار آئے جو اسلام کا نام لے کر عوام کو تو دھوکا دیتے رہیں۔ لیکن اسلام کا کام کرنے والوں کے ہاتھ باندھتے رہے اور ان لوگوں کو کھلی چھٹی دیتے رہے جو اسلام کے سوا کسی دوسرے نظریے پر ملک کا نظام چلانا چاہتے تھے۔ مزدوروں میں انہیں لوگوں کو کام کرنے کے مواقع دیے گئے ۔ طلبہ میں انہی کو آگے بڑھنے کا راستہ دیا گیا جو نوجوانوں کے عقیدے اور اخلاق کو خراب کرتے رہے۔ اسی طرح صحافت ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی اسی طائفے کو مسلط کر دیا گیا اور بڑے بڑے سرکاری مناصب بھی اس کے قبضے میں آ گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب تحریک جمہوریت کے ذریعہ سے عوام نے اپنے حقوق کی بحالی کی مہم شروع کی تو عین اس وقت جبکہ عوام اپنی منزل کے قریب تھے، ان لوگوں نے ہنگامے برپا کرا دیے اور عوام کو ملنے والے حقوق پھر سلب کر لئے گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ مارشل لاء اس دعوے کے ساتھ لگایا گیا تھا کہ وہ ان خرابیوں کا سد باب کرے گا جو اس وقت ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور شر پسند عناصر نے خود اس مارشل لاء کے تحفظ میں اپنی پوزیشن اور مضبوط کر لی۔
ان حالات میں طلبہ کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ اپنی درسگاہوں کو مفسدین کے گروہ سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔ ان لوگوں نے طلبہ کی خانہ ساز انجمنوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ با شعور اور محب وطن طلبہ کی تنظیم نہایت مستعد اور فعال ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ملک کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ آپ کو دونوں محاذوں پر کام کرنا ہے۔ ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے جدو جہد بھی اور درس گاہوں کی تطہیر بھی۔
سوال: تحریک اسلامی ایک مدت سے عوام میں کام کر رہی ہے لیکن اس نے ابھی تک عوام کے پریشر گروپس میں اپنے اثر کو وسیع نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: بلاشبہ تمام یہ پریشر گروپس مثلاً مزدور، کسان، طلبہ، صحافی، وکیل اور اساتذہ (وغیرہ) میں تحریک اسلامی کا کام ہونا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ایوب خان کے زمانے میں تحریک اسلامی کی راہ میں سخت رکاوٹ ڈالی گئی تھی اور عوام کے ان موثر حلقوں میں اس کے لئے کام کرنا عملاً ناممکن بنا دیا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں مفسد گروہوں کو کام کرنے کے پورے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ طویل عرصہ تک یہی ہوتا رہا، اب اس کی تلافی آناً فاناً تو نہیں ہو سکتی۔ خدا کے فضل سے ہر حلقے میں کام کا آغاز ہو گیا ہے اور انشاء اللہ اس کے نتائج بھی بہت جلد برآمد ہوں گے۔
سوال: آج کل بڑے بڑے سرمایہ دار اسلام کی حمایت کر رہے ہیں، کیا اس طرح سے وہ اپنا تحفظ چاہتے ہیں؟
جواب: میرے علم میں تو نہیں ہے کہ وہ کون سے بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں جو اسلام کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ میں تو یہی جانتا ہوں کہ تمام بڑے بڑے سرمایہ دار سوشلزم کے علمبردار ہیں۔ لیکن اگر کوئی سرمایہ دار اسلام کا نام لیتا بھی ہے تو اس سے تحریک اسلامی کے کام میں کیا فرق واقع ہوتا ہے۔ یہ تحریک تو اس لئے کام کر رہی ہے کہ وہ اسلامی نظام کو رائج کرے اور اسلامی قانون کے تحت کوئی سرمایہ دار نہیں رہ سکتا۔ وہ اسلام کی حدود کو توڑ کر جب بھی ناجائز نفع خوری کرے گا۔ اسلامی قانون کی زد میں آئے گا۔
سوال: موجودہ حالات میں ہم نوجوانوں کے لئے کون سا محاذ زیادہ اہم ہے۔ کیا ملک کو لادین عناصر کی یلغار سے بچانے کے لئے ہم تعلیم سے دست کش ہو کر ان کے مقابلے پر آجائیں یا تعلیم میں لگے رہیں؟
جواب: اس معاملے میں ٹھیک ٹھیک توازن کی ضرورت ہے۔ نہ تو یہ صحیح ہے کہ آپ تعلیم کو چھوڑ کر ملک کے مسائل میں لگ جائیں اور نہ یہ درست ہے کہ آپ کتاب کے کیڑے بنے رہیں اور ملک کے حالات کی بالکل خبر نہ رہے۔ آپ تعلیم بھی حاصل کیجیے اور پوری توجہ سے حاصل کیجیے اور ملک کے حالات پر بھی نظر رکھئے۔ آپ کو اس بات کی بھی فکر کرنی چاہیے کہ آپ کی درس گاہوں کو کون لوگ خراب کر رہے ہیں۔ اور اس بات پر بھی توجہ ہونی چاہیے کہ کون لوگ ملک کے حالت بگاڑنا چاہتے ہیں اور اس بگاڑ کا کیسے سد باب کیا جا سکتا ہے۔ خدا کے دین کو سر بلند کرنا بھی آپ کا کام ہے اور تعلیم کو حاصل کرنا بھی۔
اگر آپ تعلیم حاصل نہیں کریں گے اور ہمہ وقت ملک کے مسائل میں لگ جائیں گے تو اسلامی انقلاب کے بعد ملک کے نظام کو چلانے کے لئے جس اہلیت کی ضرورت ہے اس سے آپ تہی دامن رہ جائیں گے۔ مسلمان کی زندگی ہی دراصل اعتدال و توازن کی زندگی ہے۔ آپ اسی اعتدال کو اختیار کیجیے۔
سوال: بفرض محال ہمارے ملک میں اچانک اشتراکی انقلاب آجائے تو آپ کیا کریں گے؟
جواب: فرض کیجیے راتوں رات زلزلہ آجائے، مکانات گر جائیں، ہزاروں لوگ ان کے تلے دب کر مر جائیں، لاکھوں زخمی ہو جائیں اور ایک قیامت برپا ہو جائے تو ایسی صورت میں زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لئے جو ممکن ہوگا کیا جائے گا۔ آدمی پہلے سے اس کے لئے کوئی اسکیم نہیں بنا سکتا۔ یہی معاملہ اشتراکی انقلاب کا ہے۔ یہ آفت اگر یکا یک نازل ہو جائے تو قبل از وقت اس کے تدارک کی کیا سبیل ہو سکتی ہے! اس وقت جو ممکن ہو گا کیا جائے گا۔
سوال: کیا تاریخ سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ کوئی قوم زوال کے بعد پھر ابھری ہو۔ اگر نہیں تو پھر مسلمان قوم کے بارے میں یہ امید رکھنا کہ وہ زوال کے بعد پھر ابھر آئے گی۔ درست ہے؟
جواب: یہ سوال صرف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کو صرف ایک قوم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مسلمان محض ایک قوم نہیں ہیں۔ اسلام ایک نظریہ اور تحریک ہے جس کے علمبردار بن کر لوگ پہلے بھی اُٹھے تھے اور اب بھی اُٹھ سکتے ہیں۔ اگر وہ صرف ایک قوم بن کر رہ جائیں تو بلاشبہ ان کے دوبارہ اُبھرنے کا امکان نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر اسلام جیسی انقلابی تحریک کے کارکن بن کر اُٹھیں تو ان کے دنیا پر چھا جانے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
جب کمیونزم ایک نظریے کی حیثیت سے دنیا میں پھیل رہا ہے باوجودیکہ وہ سراسر شر ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ اسلام جو اس سے کہیں زیادہ معتدل نظام اور سراسر سچا نظریہ ہے، نہیں پھیل سکتا! دنیا میں اس کی کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں بشرطیکہ مسلمان اسے ایک تحریک کی حیثیت سے اپنا لیں۔
سوال: علمائے سُوء ان دنوں دیہاتوں میں عوام کو تحریک اسلامی اور اس کے قائدین کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ ان کا کیا علاج کیا جائے؟
جواب: علمائے سُوء کا ہمیشہ سے یہ خاصا رہا ہے کہ وہ عوام کو صحیح کام کرنے والوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور عوام جتنے زیادہ ان پڑھ ہوتے ہیں اتنے ہی زیادہ ان کے دام میں آ جاتے ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر سلیم الفطرت واقع ہوا ہے۔ ماں کے پیٹ سے بُری فطرت لے کر نہیں آیا۔ ہمارے عوام الحمد للہ مسلمان ہیں۔ وہ نیک و بد میں تمیز کرنا جانتے ہیں۔ آپ بھی ان دیہاتی لوگوں میں کام کیجیے وہ خود بخود یہ فیصلہ کر لیں گے کہ حق بات کون کہتا ہے اور ناحق بات کون کہتا ہے۔ کس کے دلائل معقول اور انداز شریفانہ ہے اور گونمنٹوں کی سی زبان استعمال کر رہا ہے۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ لوگ کیسے علمائے دین ہیں جو منبر رسول پر تقریر کرتے ہوئے دوسروں کو غلیظ گالیاں دیتے ہیں۔ اگر آپ دیہاتی عوام کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے تو اس میں عوام کا نہیں آپ کا قصور ہے۔
سوال: بعض لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کتاب کو لکھ کر بہت سے اختلافی مسائل کو چھیڑا گیا ہے۔ براہ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیے۔
جواب: ان حضرات کو دنیا بھر کے مصنفین کے نام ایک سوالنامہ جاری کرنا چاہئے، کہ انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں آخر ان کی ضرورت کیوں محسوس کی ہے اور جب وہ کوئی شافی جواب دیں تو ان کتابوں کو ہاتھ لگایا جائے ورنہ نہیں سوائے جاہل آدمی کے کوئی اس قسم کی بات نہیں کر سکتا۔ جہاں تک ’’خلافت و ملوکیت‘‘ کے لکھنے کا تعلق ہے میں نے دیباچے میں بھی اس کی صراحت کر دی ہے۔ البتہ جو لوگ اس کتاب پر اعتراض کرتے ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر انھیں اس کتاب کے خلاف گاؤں گاؤں جا کر تقریریں کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ اس کی مخالفت میں یوں بے چین ہوئے جاتے ہیں؟
سوال: لوگ آئے دن آپ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے رہتے ہیں اگرچہ آپ ان کو جواب بھی دیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آتے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ ان کے الزامات کو عدالت میں چیلنج کر کے انھیں بے نقاب کر دیں اور آئندہ کبھی انھیں آپ کے خلاف الزام تراشی کی جرات نہ ہو۔
جواب: میں نے کبھی کسی شخص کے الزام کا جواب نہیں دیا ہے الا یہ کہ اس نے کسی علمی دلیل کی بنیاد پر کوئی اعتراض اُٹھایا ہو اور میں نے علمی انداز میں اس کی وضاحت کر دی ہے۔ میرا نقطہء نظر یہ ہے کہ آدمی کو دنیا میں جو وقت ملا ہے وہ اسے ایسے کام میں صرف کرے کہ اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی لکھی جائے ۔ لیکن اپنا وقت کسی ایسے کام میں صرف کرنا کہ اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ لکھی جائے اور لکھی جائے تو بدی لکھی جائے کسی ایسے شخص کا شیوہ نہیں ہو سکتا جو سمجھتا ہو کہ اسے اپنے رب کے پاس حاضر ہونا ہے۔
میرے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ ان لوگوں کے الزامات کو عدالت میں چیلنج کرتا پھروں میں نے تو یہ مقدمہ ایک اور عدالت کے لئے اُٹھا رکھا ہے جہاں پورا کیس تیار ہو رہا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس طرح سے میں بہت بڑی کمائی کرلوں گا۔ اور ان لوگوں سے جرمانے کے طور پر وہ تمام نمازیں اور روزے دھرالوں گا جو وہ دنیا میں ادا کرتے رہے ہیں۔ انشاء اللہ۔
سوال: اسلام سود کو حرام قرار دیتا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے بیرونی قرضے ایک ضروری جزو کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ قرضے بغیر سود کے نہیں ملتے ۔ ایسی صورت میں ہم سود سے کیسے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں؟
جواب: بیرونی ممالک سے جو قرضے لیے جا رہے ہیں ان کا بہت بڑا حصہ بالکل غیر ضروری ہے۔ آپ دیکھیے کہ ان کا کتنا حصہ حقیقی ترقی کے کاموں میں صرف ہوا ہے اور کتنا ضائع کیا گیا ہے یا عیاشیوں میں اُڑایا گیا ہے۔ آخر ایک غریب ملک میں بڑی بڑی عمارتیں بنانے اور اسلام آباد کی تعمیر میں اربوں روپے صرف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا اس کے بغیر ملک کا نظام نہیں چل سکتا تھا۔ ان عیاشیوں کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے پرانے وقتوں کے نواب اور جاگیر دار اپنی جاگیروں کو رہن رکھ کر دولت حاصل کرتے تھے اور ٹھاٹھ جماتے تھے۔ پھر ایک دن کنگال ہو کر سب کچھ کھو بیٹھتے تھے۔ کیا ضرورت ہے کہ ہم دوسرے ملکوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں؟ کیا اپنے وسائل سے کام نہیں چلا سکتے؟ اگر اس ملک میں کوئی دیانت دار حکومت قائم ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ بیرونی قرضوں کی بہت کم ضرورت باقی رہی ہے۔ تاہم اگر ناگزیر ضرورت کے لئے بیرونی قرضے سود پر لینے بھی پڑیں تو اس کا جواز کہاں سے نکلتا ہے کہ ہم ملک کے اندر بھی سودی نظام کو جاری رکھیں۔ سود کو بہر حال اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور ہمیں اپنے دائرہ اختیار میں تو اسے حرام قرار دینا چاہیے۔
سوال: ”علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے“ ____ کہا جاتا ہے کہ حضورؐ کی حدیث ہے اور پھر اس سے بعض حضرات نے نئے معنیٰ اخذ کرتے ہیں؟
جواب: مجھے جہاں تک علم ہے یہ حضورؐ کی حدیث نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں اگر یہ بات کسی نے کہی تھی تو اس لئے کہ چین عرب سے بہت دور تھا اور یہ بتانا مقصود تھا کہ علم اتنی قیمتی چیز ہے کہ اگر تمہیں اس کو حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو جاؤ لیکن آج لوگوں نے اس کا یہ مطلب نکال لیا ہے کہ ”علم حاصل کرنا ہو تو صرف چین جاؤ“۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی انگلستان کو علم کا منبع قرار دیتے تھے اور انگریز کی نقالی کرنا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ پھر امریکہ آیا تو اس کے گن گانے لگے اور اب چین کا چرچا ہوا ہے تو اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔
سوال: سوشلسٹ عناصر پاکستان میں خفیہ طریقے سے اپنے آپ کو منظم کر رہے ہیں اور اپنے کارکنوں کو فوجی تربیت دے رہے ہیں۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم بھی اسی طریقے سے اپنے آپ کو منظم کریں۔
جواب: یہ سوال پچھلے دنوں بھی مجھ سے کیا گیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ ہمارا کام خفیہ تحریک چلانا نہیں بلکہ کھلم کھلا اپنے نظریے کو پھیلانا ہے۔ کمیونسٹ کھلے طریقے سے عوام میں کام نہیں کر سکتے۔ ان کا مزاج ہی یہ ہے کہ خفیہ طریقوں سے کام کرتے ہیں اور عوام کی مرضی کے خلاف ان پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ کسی خفیہ تحریک کے ذریعے کوئی صالح انقلاب نہیں آ سکتا۔ اس تحریک میں جو خرابیاں پرورش پاتی ہیں ان کا کسی کو پتہ نہیں چلنے پاتا۔ اور جب وہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خرابیاں ایکا ایکی اُبھر کر پورے ملک کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی خفیہ تحریک کا نتیجہ تھا کہ اسٹالن جیسا ظالم آدمی روس میں برسر اقتدار آ گیا اور روس کے عوام نے ایک زار سے چھٹکارا حاصل کیا تو دوسرے زار نے ان کی گردن دبوچ لی۔
خفیہ تحریک اس طریقہ سے چلتی ہے کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ شبہ بھی ہو جائے کہ وہ پارٹی کا وفادار نہیں ہے تو اسے بلا تکلف قتل کر دیا جاتا ہے اور یہ قتل و غارت گری اس تحریک کا عام مزاج بن جاتا ہے۔
بہر کیف یہ ایک بلا ہے جو ہمارے ملک میں پرورش پا رہی ہے۔ اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ ہم بھی ایک جوابی بلا بننے کی کوشش کریں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ کھلے بندوں لوگوں کو آنے والے خطرات سے آگاہ کریں۔ گاؤں گاؤں جا کر ایک ایک کسان کو بتائیں کہ یہاں سوشلٹ انقلاب آ گیا تو ایک بیگھہ زمین بھی تمھارے پاس نہیں رہے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسان یہ بات سمجھ جائیں تو کوئی کمیونسٹ بھی ان کے گاؤں میں داخل نہیں ہونے پائے گا۔ اور یہ لوگ کمیونسٹوں کی وہ خبر لیں گے کہ ان کے حواس درست ہو جائیں گے۔
جہاں تک ہتھیار بند ہونے کا تعلق ہے اگر آپ کو لائسنس کا ہتھیار مل سکتا ہو تو ضرور رکھیے اور نشانہ بازی کی مشق بھی کیجیے، لیکن غیر قانونی اسلحہ نہ رکھیے۔ مدافعت کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا کوئی اخلاقی، شرعی یا قانونی جرم نہیں ہے بلکہ اس کی اجازت ہے۔ لیکن خفیہ طریقے سے کوئی مسلح انقلاب برپا کرنا اسلام کے مزاج کے بھی خلاف ہے اور انجام کے لحاظ سے خطرناک بھی۔
سوال: کیا تحریک اسلامی اپنے خصوصی اجتماعات میں فوٹوگرافی پر پابندی عائد نہیں کر سکتی؟
جواب: جن لوگوں نے فوٹوگرافی سے لڑ کر ان کے کیمرے تک چھینے ہیں وہ بھی اس بات میں کامیاب نہ ہو سکے کہ ان کے فوٹو اخبارات میں نہ آئیں۔ دراصل یہ برائی کی شاخیں ہیں۔ اگر ہم انھیں کاٹنے میں لگ جائیں گے تو جڑ کی اصلاح نہ ہو سکے گی۔ پہلے جڑ کی فکر کیجیے۔ انشاء اللہ یہ شاخیں خود بخود درست ہو جائیں گی۔
سوال: آپ زیادہ تر تعلیم یافتہ اور شہری آبادی میں جاتے ہیں لیکن دیہاتی آبادی آپ کے فیض سے محروم رہتی ہے۔ حالانکہ دیہات میں عوام کی اکثریت ہے۔ بارہ کروڑ دیہی آبادی کو بھی اپنے پروگرام سے آگاہ کریں۔
جواب: ان کے لئے میرے پاس یہ پروگرام ہے کہ میں تعلیم یافتہ آبادی میں پیغام پہنچاؤں اور تعلیم یافتہ حضرات اسے دیہی علاقے میں پھیلائیں۔ اگر گاؤں گاؤں پہنچنے کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے لوں تو شاید میں پاکستان کے سو دیہاتوں میں سے ایک دیہات تک بھی نہ پہنچ پاؤں گا۔ جب سے میں رہا ہوں۔ آپ لوگ ہفتے میں تین دن تو میرے لے لیتے ہیں۔ اور صرف چار دن مجھے اپنے تحریری کام کے لئے ملتے ہیں۔ اب آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ میں تفہیم القرآن لکھوں۔ دوسرا علمی کام بھی کروں اور گاؤں گاؤں بھی پھروں۔ میرے لئے آخر یہ کیسے ممکن ہے؟
سوال: اگر حکومت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں آجائے تو آپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟
جواب: میں مفروضات پر کلام نہیں کیا کرتا۔ آپ نے پہلے سے یہ مفروضہ قائم کر لیا ہے کہ حکومت میرے ہاتھ میں آئے گی تو پھر میں کیا پالیسی اختیار کروں گا______ میں نہ حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کا خواہش مند ہوں اور نہ اس کا امکان ہے۔ مجھ سے یہ پوچھیے کہ اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ ہمارا رویہ مصالحانہ ہونا چاہیے۔ نہ ہم کسی کے دوست بنیں، نہ دشمن۔ ہاں مسلمان ملکوں کے ساتھ ہمیں ایک متحدہ امت کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔ ان سے قریبی اور گہرے تعلقات قائم کریں اور اس بات کی کوشش کریں کہ تمام مسلمان حکومتوں کا "Federation of Muslim Status" عمل میں آ جائے۔
سوال: اسلام میں سرمایہ داری کا وجود کس حد تک جائز ہے؟
جواب: اسلام میں سرمایہ داری نہ حلال ہے نہ حرام۔ اصل چیز یہ ہے کہ سرمایہ کس راستے سے حاصل کیا جاتا ہے، اور کس راستے میں خرچ کیا جاتا ہے۔ اگر سرمایہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق حاصل کیا جائے اور ان راستوں میں خرچ کیا جائے جن کی اسلام نے اجازت دی ہے تو ایسا سرمایہ اسلام میں جائز ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس سرمائے کا حصول ناجائز اور حرام طریقوں سے عمل میں آئے تو وہ سرمایہ سارے کا سارا ناجائز اور حرام ہے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ معاشی معاملات میں لوگ اسلام کے نظریے کو نہیں اپناتے بلکہ دنیا میں چلنے والے معاشی نظام میں سے کسی کو اپنے ذہن میں رکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ اسلام کس نظام کا حامی ہے۔
سوال: امریکہ کے ناپاک عزائم پر کبھی آپ نے کھل کر اظہار خیال نہیں کیا، کیا وجہ ہے؟
جواب: کیا وجہ ہے؟ _______ کا جواب تو میں اس وقت دوں جب کہ میں نے واقعی امریکہ کے ناپاک عزائم پر اظہار خیال نہ کیا ہو۔ ”ترجمان القرآن“ کے پچھلے کئی ماہ کے اشارات اس بات پر گواہ ہیں کہ امریکہ پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے لیکن ہمارے ہاں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جو لوگ اشتراکیت کے حامی ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم روس اور چین کا قصیدہ گائیں اور دوسری طرف جو لوگ سرمایہ داری نظام کے حامی ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم اندر سے اشتراکی نظام کے طرفدار ہیں۔ دراصل یہ حضرات سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک عورت کا نام ہے جسے لازماً ایک شوہر ملنا چاہیے۔ اگر امریکہ سے طلاق مل گئی ہے تو اب ضرور اس کا نکاح چین سے پڑھا جائے۔ میں کہتا ہوں کہ بھائی مرد بنو۔ کب تک اپنے آپ کو دوسروں کے نکاح میں دیتے رہو گے۔
سوال: جو لوگ انگریز نوازی کی وجہ سے یا دیگر ناجائز ذرائع کی بدولت آج بڑی بڑی جاگیروں، کارخانوں اور ملوں کے مالک ہیں، ایک اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کے متعلق کیا رویہ اختیار کیا جائے؟
جواب: اسلامی اصول کی روشنی میں ان کے بارے میں دو رویے اختیار کیے جا سکتے ہیں، ایک یہ کہ آئندہ ان کی تمام ناجائز مراعات کا خاتمہ کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ پہلے انہوں نے دولت جس طرح سے کما رکھی ہے اس پر ٹیکس عائد کر کے آہستہ آہستہ ان کے قبضے سے نکال لی جائے۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ اسے اشتراکیت کا آپریشن کر کے نکالا جائے، لیکن وہ اس بات کو نہیں سوچتے کہ اشتراکیت کا آپریشن کر کے ان کے قبضے سے نکالنے کے لئے حکومت کو بہت زیادہ وسیع اختیارات دینے پڑیں گے۔ کیونکہ جب تک حکومت کو اتنے وسیع اختیارات نہ حاصل ہوں کہ وہ لوگوں کی جائیدادیں ضبط کر سکے، اس وقت تک یہ سکیم عمل میں نہیں آ سکتی۔ اب اگر آپ حکومت کو اتنا طاقتور بنا دیتے ہیں تو اس کے بعد آپ کے پاس اس بات کی کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور غیر محدود اختیارات کو عوام کے خلاف استعمال نہیں کرے گی۔ حکومت کا انتظام بہر حال انسان چلائیں گے، آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے، اور انسانوں کو وہی اختیارات دیے جا سکتے ہیں جن کو وہ آسانی سے ہضم کر لیں۔ جہاں بھی انسانوں کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں وہاں بالعموم انھیں اختیارات کی بد ہضمی لاحق ہو گئی ہے، اور انھوں نے لوگوں پر بے پناہ ظلم و ستم ڈھایا ہے۔ اسلام ظلم و ستم کا یہ دروازہ کھولنے کا قائل نہیں اور اسی لئے وہ حکمرانوں کو وسیع اختیارات دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی حکومت اسلام کی قائم کی ہوئی حدود اور اسلام کے طے کئے ہوئے اصولوں کے مطابق تمام حالات اور معاملات کی اصلاح کرے گی۔ نہ کہ قوانین اسلامی کے حدود سے باہر جا کر اس طرح کے ظالمانہ قوانین بنائے گی۔ جس طرح سے اشتراکی حکومت میں بنائے جاتے ہیں۔ یہ صحیح طریقہ کار نہیں ہے۔ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ سرمایہ داروں سے دولت چھینتے چھینتے پھر غریبوں سے بھی سب کچھ چھین لیا جاتا ہے اور ملکیت ختم کرتے کرتے آزادی کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔
سوال: اگر اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آج کل کے بڑے بڑے کارخانے ملیں اور جاگیریں جوں کی توں بحال رکھیں گئیں تو معاشی و طبقاتی تفاوت کس طرح دور ہوگا؟ اور معاشی مسائل حل کیسے ہوں گے؟ کیا اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آسمان سے من و سلویٰ برسنے لگے گا؟
جواب: نہیں بلکہ من و سلویٰ انشاء اللہ زمین سے اُگے گا۔ اسلامی حکومت خدا کی بنائی ہوئی زمین کی برکات کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گی۔ انشاء اللہ۔
اس سوال کے پہلے حصے کا جواب میں ابھی دے چکا ہوں۔ یعنی اسلامی حکومت ان چیزوں کو اسلامی قوانین کی حدود میں حل کرے گی، ان حدود کو توڑ کر نہیں۔ جاننا چاہیے کہ انسان کے معاشی مسائل حل کرنے کے لئے اسلام اپنا ایک مزاج رکھتا ہے۔ اس میدان میں اس کا نظام چودہ سو سال پہلے سے مکمل ہے۔
سوال: حضرت عمر رضی اللہ عنہ، اپنے دورِ خلافت میں اچھے مکان بنوانے والوں، بہترین لباس پہننے والوں اور بہترین خوراک کھانے والوں پر سختیاں کرتے تھے اور سخت سزائیں دیتے تھے۔ آج اسلام کا نعرہ لگانے اور دعویٰ کرنے والوں کے لئے ایئر کنڈیشنڈ بنگلے، کوٹھیاں اور ہوٹل تعمیر کرنے، کاروں میں سفر کرنے اور فرسٹ کلاس کے ڈبوں میں سفر کرنے اور بہترین لباس اور بہترین خوارک استعمال کرنے کے حقوق کہاں سے آگئے ہیں؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا اس کا پس منظر آپ لوگ نگاہ میں رکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک ایسی قوم آباد تھی جو بالکل غریب اور مفلس تھی، جس میں بہت ہی کم دولتمند آدمی پائے جاتے تھے۔ اسلام کی برکت سے اس قوم کے صحرا نشین یکا یک اُٹھے اور مصر، شام، عراق اور ایران جیسے عظیم الشان ممالک کو فتح کیا اور دولت کی ریل پیل شروع ہوگئی۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہی اندیشہ لاحق ہوا جو موجودہ زمانے میں عربوں کے معاملے میں ہمیں لاحق ہوا ہے اور ہم نے اپنے آنکھوں سے اس کے نتائج دیکھے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خطرہ محسوس فرمایا کہ یہ دولت کی ریل پیل جو یکا یک شروع ہوئی ہے۔ آگے چل کر مسلمانوں میں مختلف مفاسد نہ پیدا کر دے۔ حضرت عمرؓ کا یہ خدشہ بالکل صحیح تھا۔ دولت کی اچانک فراوانی جو حالات پیدا کر دیتی ہے ان کی ایک مثال ہم حال ہی میں دیکھ چکے ہیں جبکہ عرب ممالک میں تیل نکلا۔ اس سلسلے میں مثال کے طور پر سعودی عرب کے معاملے کو لیجیے۔ پٹرول نکلنے سے پہلے پورے سعودی عرب کی آمدنی چالیس لاکھ ریال تھی۔ پٹرول نکلنے کے بعد یہ بڑھتے بڑھتے تین ارب ریال سے بھی آگے جا چکی ہے۔ گویا سابقہ اور موجودہ آمدنی میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ اب وہ بچہ جس کے باپ دادا نے اُونٹ کی سوا کوئی سواری نہ دیکھی تھی یکا یک اس کے پاس کیڈلک کار آ جاتی ہے۔ ان کے خیموں کے اندر ریڈیو سیٹ ٹرانزسٹر ریفریجریٹر وغیرہ پہنچ جاتے ہیں۔ چونکہ ابھی کوٹھیاں بنانے کی نوبت نہیں آئی اس لیے خیموں کے اندر ہی یہ ساری چیزیں انھیں مہیا ہو جاتی ہیں۔ اس کے لئے سعودی عرب میں قائم ہونے والی پٹرول کمپنی ARAMCO نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک عرب بَدُو جب اپنے لڑکے کو جو بالکل اَن پڑھ ہے اور ابھی صحرا سے اُٹھ کر آیا ہے آرامکو میں ملازم رکھوا دیتا ہے۔ آرامکو اسے ۹ سو ریال معاوضہ اسی وقت سے دینا شروع کر دیتی ہے چاہے وہ کوئی کام کرنے کے قابل نہ ہو اور ساتھ ساتھ اس کو انگریزی زبان سکھانی شروع کر دیتی ہے۔ ایک مہینے میں اس لڑکے کو عربی بولتے ہوئے شرم آنے لگتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ جفاکشی کی زندگی سے کٹ جاتا ہے۔ جو چند ایک لفظ انگریزی کے وہ سیکھ چکا ہے انہی کو وہ اپنی زبان بنا لیتا ہے۔ خیموں میں ریفریجریٹر، ریڈیو وغیرہ پہنچ چکے ہیں۔ نغموں کا شور اُٹھا ہوا ہے۔ ______ اس آغاز کے بعد جو عیاشی شروع ہوئی ہے آج مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ دولت کی اچانک ریل پیل نے انھیں اپنی سابقہ زندگی ہی نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اقدار سے بھی کاٹ کر رکھ دیا ہے۔
اسی چیز کا اندیشہ حضرت عمرؓ کو تھا اور اسی لئے وہ اس صورتِ حال کی روک تھام کر رہے تھے۔ ورنہ اچھا کھانا شریعت نے حرام نہیں کیا ہے۔ اچھے مکان میں رہنا شریعت نے حرام نہیں کر دیا ہے۔ خود قرآن مجید میں ہے کہ <<قل من حرم زینۃ الله التی اخرج لعباده>> گویا یہ حضرت عمرؓ کی ایک انتظامی اور تدبیری کوشش تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ یہ قوم دولت کی یکا یک ریل پیل سے بگاڑ کا شکار نہ ہو جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس زمانے میں تمدن نے جو ذرائع یا جو سہولتیں پیدا کی ہیں، اگر ان کے متعلق آپ کا رویہ یہ ہو کہ یہ سب کفار کے لئے ہیں اور اہل ایمان کے لئے یہ حرام ہیں تو آپ ہی بتائیے کہ آپ کا حشر کیا ہوگا۔ آپ کہیں گے کہ ہوائی جہاز پر سفر کرنا غلط ہے۔ تم لاؤ تو ریل سے سفر کرو۔ سوال یہ ہے کہ ریل سے سفر کرنا کیوں صحیح ہے۔ ریل گاڑی سے سفر کیوں نہ کیا جائے۔ ریل بھی تو موجودہ دور کی ایجاد ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ نظریہ کہ سائنس اور تمدن کی ہر چیز کفار کے لئے ہے اہل ایمان کے لئے نہیں ہے، کفر کے کام اور گمراہی کی اشاعت کے لئے تو ہر سہولت پیدا کر دیتا ہے، لیکن اسلام کا کام کرنے والوں کے لئے کچھ باقی نہیں رہنے دیتا۔ اس لئے آپ کا نقطہ نظر یہ ہونا چاہئے کہ تمدن نے جو ذرائع پیدا کیے ہیں اگر کوئی انھیں عیش کے لئے استعمال کرے تو غلط ہے، لیکن اگر کوئی انھیں دین کے کام میں مددگار بنائے تو بالکل صحیح ہے۔ بلکہ دین ہی کا یہ حق ہے کہ وہ اس میں مددگار بنائے جائیں اور کفر کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا کی پیدا کردہ تمام قوتوں پر قابض ہو جائے۔
سوال: اسلامی ممالک میں اشتراکیوں اور قادیانیوں کی سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ کیا آپ اب بھی اسلامی قیادت کے قیام کے متعلق پُر امید ہیں؟
جواب: ہم قادیانیوں اور اشتراکیوں کی سرگرمیاں بغور دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے مسلمان ملکوں میں اشتراکیوں کی سرگرمیاں زیادہ ہیں قادیانیوں کی کم ہیں۔ ہمارے ملک میں دونوں کی سرگرمیاں اچھی خاصی ہیں۔ لیکن ہم ان کو دیکھ کر بھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑے کہ اب یہاں اسلامی قیادت کے لئے امکانات باقی نہیں رہے اس لئے ان کے لئے میدان خالی چھوڑ دیں۔ ______ جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے ان کے بارے میں ایک مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی اصل پوزیشن کیا ہے۔ معلوم نہیں کہ آپ نے یہ منظر دیکھا ہے یا نہیں؟ مگر ہم پٹھان کوٹ کے قریب رہتے تھے۔ وہاں ہم نے یہ منظر دیکھا ہے کہ ایک درخت ہے۔ (مثلاً شہتوت کا درخت) اس کے اوپر کسی جانور نے چھیل کی بیٹ لا کر ڈال دی تو چھیل نے اس کے اندر جڑیں پکڑ لیں اور بڑھنا شروع ہوا۔ گویا اس کی اپنی جڑ زمین میں نہیں ہے۔ وہ شہتوت کے درخت سے غذا حاصل کر رہا ہے اور اس کے اوپر بڑھ رہا ہے۔ اب اگر اس درخت کو آپ بدل دیں تو طفیلی درخت خود بخود نشو ونما سے محروم ہو جائے گا۔ اس وجہ سے ہم زیادہ فکر اسی بات کی کر رہے ہیں کہ اس شہتوت کے درخت کی جگہ ایک مضبوط درخت لگے۔
باقی رہی اشتراکیت ______ تو اشتراکیت ایک عالمی تحریک کی بدولت یہاں چل رہی ہے۔ اس کا اپنا زور اب بھی یہاں نہیں ہے۔ اس کو غذا باہر سے مل رہی ہے لٹریچر باہر سے مل رہا ہے، گویا یہ بیرونی اثر سے چل رہی ہے۔ باہر اگر روسی اور چینی اشتراکیت کا تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو یہاں بھی یہ لوگ روسی اور چینی لابی میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ الغرض اشتراکیت ہو یا کچھ اور کوئی چیز ہمارے لئے پریشان کن مسئلہ نہیں ہے۔ الجھاؤ اس طرز عمل سے پیدا ہوتا ہے جب حکومت اپنے ملک کی اسلامی تحریکوں کو تو خطرناک قرار دے دیتی ہے لیکن اشتراکی اثرات کو نہ صرف یہ کہ خطرناک نہیں سمجھتی بلکہ عملاً اسے پروان چڑھانے میں خود مددگار ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں پی۔ آئی۔ اے۔ کے جہاز باہر سے بے تحاشا اشتراکی لٹریچر لا رہے ہیں۔ یہ لٹریچر ٹنوں کے حساب سے آ رہا ہے اور برائے نام قیمت پر اور بعض صورتوں میں بالکل مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے کار پردازان حکومت اس کے خطرناک نتائج کو نگاہوں میں رکھنے سے گریز کر کے ملت سے عظیم دھوکا دہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
سوال: روس اور چین نے زبردست مادی ترقی کی ہے اور وہ ایٹمی طاقت بن گئے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: کسی ملک کی مادی ترقی اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا مسلک زندگی بھی حق ہے اشتراکی ممالک میں تمام اختیارات ایک پارٹی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھوکا مار کر جنگی جنون پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ ہمہ جہتی ترقی روس میں ہوئی ہے اور نہ چین میں ۔ سوشلزم میں بحیثیت مجموعی قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔
روس اور چین کا ایسی طاقت بن جانا سوشلزم کی حقانیت کی دلیل نہیں، ورنہ امریکہ ان دونوں سے زیادہ ترقی یافتہ ہے تو کیا سرمایہ داری کو برحق مان لیا جائے؟
سوال: یوں تو فلمیں ویسے بھی معاشرے کے لئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر فلمی دنیا نے پچھلے دنوں ایک فلم ”خانہ خدا“ کے نام سے بنا کر عوام کو دکھانے کا اہتمام کیا ہے۔ آپ کے خیال میں اور شریعت کی رُو سے یہ کہاں تک درست اور مناسب بات ہے؟ اور اگر مناسب نہیں تو عوام میں سے اسلام پسند عناصر کو اس کی روک تھام کے لئے کیا تدابیر اور اقدام کرنے چاہئیں؟
جواب: پہلے تو اس بات کو آپ سمجھ لیں کہ خانہ خدا میں جو عبادت ہوتی ہے وہ لوگوں کے لئے تماشے کی حیثیت نہیں رکھتی۔ سب سے پہلی بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس کو بھی ایک تماشا بنا دیا گیا اور اس تماشے کو دکھایا بھی وہاں جا رہا ہے جہاں لوگ تماشا ہی دیکھنے جاتے ہیں اوّل تو خانہ خدا کی فلم بنانا ایک غلط کام ہے اور پھر اسے تماشے کی جگہ لے جا کر دکھانا اور بھی غلط ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک فلم بنائی جا سکتی ہے اور اس فلم کی اغراض وہی ہو سکتی ہیں۔ یا یہ کہ لوگوں کو عبادت کا طریقہ جو حج میں اختیار کیا جاتا ہے اور جو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ سکھایا جائے ۔ یا پھر یہ ہے کہ اس میں ایسی تبلیغ موجود ہو جو لوگوں میں حج کا شوق پیدا کرے۔ لیکن ”خانہ خدا“ کے نام سے بننے والی اس فلم میں یہ دونوں پہلو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے برعکس تاثر ملتا ہے۔ جن لوگوں نے اسے دیکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ بعض جگہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذاق کے لئے کسی خاص منظر کو لیا گیا ہے‘ اور اس پر کافی دیر تک فوکس کیا گیا ہے تا کہ لوگوں کے لئے وہ منظر بنے۔ مثلاً جہاں منیٰ میں قربانی ہوتی ہے۔ اب جہاں دس بارہ لاکھ آدمی جمع ہوں اور حج کے سلسلے کا آخری کام انجام دیا جا رہا ہو وہاں ہر آدمی کو جلدی ہوتی ہے کہ وہ قربانی سے فارغ ہو کر جا کر کپڑے بدلے۔ اس موقع پر بھاگ دوڑ اور قربانی کے جانوروں کو جلدی جلدی لانے کے مناظر کو خاص طور پر لیا گیا ہے۔ اسی طرح دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ ایک جگہ جہاں حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں تو اس جگہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے ایک ایسا سپاہی کھڑا ہوا تھا جس کا رنگ کالا تھا اور چہرے پر کچھ دھبے سے پڑے ہوئے تھے۔ فلم بنانے والوں نے ایک دفعہ اس سپاہی کو دکھایا۔ پھر حجر اسود کو دکھایا پھر اس سپاہی کو۔ یہ عمل تین مرتبہ کیا گیا۔ صرف یہ دکھانے کے لئے کہ اس کا رنگ بھی حجر اسود جیسا ہے۔ حجر اسود بھی ٹوٹا ہوا ہے اور وہاں بھی گو مڑے سے پڑے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی باتوں کا مقصد حج کی تبلیغ نہیں ہو سکتا۔ پھر اس کے ساتھ کوئی کنٹری ایسی نہیں ہے جو حج کا شوق پیدا کرنے والی ہو اور مناسک بھی ترتیب کے ساتھ نہیں دکھائے گئے جس سے مناسک کی تعلیم حاصل ہو۔ صرف حج کو تماشہ بنانے کا کام سر انجام دیا گیا ہے۔ اب کیا مسلمان اس حد تک گر چکے ہیں کہ وہ اپنی عبادتوں کو تماشے بنائیں گے؟
اول تو سعودی عرب کی حکومت نے یہ فلم بنانے کی اجازت ہی کیوں دی؟ پھر ہماری حکومت کو اسے پاس نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اور آخر میں لوگوں کو اس کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ بڑی عقیدت کے ساتھ جا جا کر دیکھیں۔
علاوہ ازیں اس کے اندر ایک چیز اور بھی ہے جو قابلِ افسوس ہے۔ وہ یہ کہ احرام کی حال میں عورتوں کو حکم ہے کہ وہ چہرہ کھلا رکھیں۔ نماز کی حالت میں بھی عورتوں کو لامحالہ چہرہ کھلا رکھنا پڑتا ہے‘ کیونکہ نماز منہ ڈھک کر نہیں ہوتی۔ اب اس فلم میں جہاں عورتیں نماز پڑھتی ہیں اس جگہ کے بار بار فوٹو لئے گئے ہیں۔ کیا یہ دینداری کے جذبات کا مظاہرہ تھا؟ حج میں عورت کو چہرہ کھولنے کا جو حکم ہے اسی طرح مرد کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھے اور عورت کی طرف نہ دیکھے لیکن یہاں کیمرے کے ذریعے ان خواتین کو دنیا بھر کے مردوں کو دکھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
سوال: پاکستان کی انتظامیہ کی یہ روش و ہی ہے کہ ہڑتال اور ہنگامے کے جواب میں وہ مسائل حل کرتی ہے جبکہ یہ روش درست نہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں بھی اس وقت کے حکام کی روش یہی تھی کہ توجہ ان کی طرف کرو جو شور و غل اور ہنگامہ برپا کرنے والے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ بس یہی وہ چیز ہے جو اہمیت رکھتی ہے۔ معقولیت اور دلیل کے ساتھ جو لوگ اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے وہ ان کے نزدیک قابلِ اعتناء نہ تھے کیونکہ ان لوگوں کی طرف سے انھیں کسی ہنگامے کا خطرہ نہ تھا۔ انگریز گئے تو یہ سبق ہمارے حکمرانوں کو بھی سکھا گئے اور اس سبق پر بدستور عمل ہو رہا ہے۔ آپ معقولیت اور دلیل کے ساتھ بات کریں تو حکمران اسے قابلِ قدر تو ضرور سمجھیں گے لیکن ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس آگ لگانے اور گھیراؤ کرنے کی اسکیم چلائی جائے تو وہ فوراً جھک جائیں گے اور ناجائز مطالبات تک کو مان لیں گے۔ بظاہر ان حالات میں ایک شخص یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ہم بھی اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لئے آگ لگائیں اور گھیراؤ کریں۔ لیکن در حقیقت نہ اس شخص کا یہ فیصلہ درست ہے اور نہ حکمرانوں کی یہ روش صحیح ہے۔ جب ایک شخص یہ فیصلہ کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ کچھ عرصے تک پورے خلوص اور دیانتداری کے ساتھ یہ عمل کرے۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اس اخلاص پر عامل نہیں رہ سکتا اور اس کے اندر بھی وہی مفسدانہ ذہنیت پیدا ہو جاتی ہے جو مفسد لوگوں کا خاصہ ہے، اور جب حکمران ہنگامہ و فساد برپا کرنے والوں کے آگے جھکتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے حق میں دشمنی کرتے ہیں بلکہ ملک کے حق میں بھی دشمنی کا بیج بوتے ہیں۔ گویا حکومت کی طرف سے معقولیت کی ہمت شکنی اور نامعقولیت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور مفسدوں کے گروہ کو پالا جاتا ہے۔ جو اہل حکومت کے لئے بھی چیلنج بن سکتا ہے اور ملک کی سالمیت کے لئے بھی۔