مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تصریحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔

کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔

کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کی محترم سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست۔۔۔ ۱۷ مارچ ۱۹۶۸ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناظم کراچی تسنیم عالم منظر نے سوال و جواب کی اس نشست سے قبل کہا: ”ہمارے لئے یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ ہماری دعوت پر مولانا مودودی صاحب اس وقت یہاں موجود ہیں۔ ہمارے درمیان محبت و یگانگت کے گہرے رشتے موجود ہیں۔ ہمیں مولانا سے اور مولانا کو ہم نوجوان طلبہ سے محبت ہے۔۔۔۔ اس لیے کہ اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کے داعی کی حیثیت سے مولانا محترم جس مشن کو لے کر اٹھے ہیں، ہمیں اللہ کے فضل سے یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ ہم بھی اس مشن کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مطمع نظر بنائیں اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو اسلام کی شمع دکھائیں۔“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغربی تہذیب کا جو سیلاب ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے چلا جا رہا ہے۔ ہم اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ اس سلسلے میں کوئی تدابیر مؤثر ہو سکتی ہیں؟

جواب: پہلی چیز تو یہ ہے کہ آپ خود اس سیلاب سے بچیں۔ یہ سب سے اولین چیز ہے۔ ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی اگر کسی سیلاب میں خود بہتا چلا جا رہا ہو، تو اس کا دوسروں سے یہ کہنا کہ ”بھائیو! اس سیلاب میں نہ بہو“، بالکل ایک فضول بات ہے۔ اگر آپ اس سیلاب سے دوسروں کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے خود بچئے۔ جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ہاں یہ واقعی Sincere اور سنجیدہ ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس سیلاب کا مقابلہ اس وقت آپ اس کے سوا کسی اور طرح نہیں کر سکتے کہ اس کے نقصانات پورے دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے لائیں، کیونکہ آپ کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جس سے آپ سیلاب کے دھارے کو روک دیں، وہ ذرائع نہیں جن سے آپ بند باندھ دیں۔ وہ طاقت نہیں ہے۔ جس سے آپ ان لوگوں کا ہاتھ پکڑ سکیں، جو یہ سیلاب لیے چلے آرہے ہیں۔ جب یہ طاقت نہیں ہے، یہ ذرائع نہیں ہیں تو اب آپ جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ نہایت معقول دلائل کے ساتھ ہر اس شخص کو جو اس سیلاب میں بہا جا رہا ہو، بچانے کے لئے اس کو بتائیں کہ اس کے یہ یہ نقصانات ہیں۔

یہ ایک عجیب بات ہے کہ وہ مغربی تہذیب جو یہاں سیلاب کی طرح آرہی ہے، خود اپنے گھر میں اپنے تمام برے نتائج ظاہر کر چکی ہے۔ جہاں سے وہ آرہی ہے وہاں اس کے تمام بُرے نتائج ظاہر ہو چکے ہیں اور خود مغربی لٹریچر ہی میں پورے Facts & Figures کے ساتھ یہ تفصیلات موجود ہیں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ مطالعہ کریں۔ مغربی ممالک کے اخبارات و رسائل پڑھیں۔ وہاں کے مصنفین کی کتابیں دیکھیں اس کے اندر خود انھوں نے وضاحت کے ساتھ بتا دیا ہے۔ مثلاً مخلوط تعلیم، اس کے تمام نقصانات وغیرہ، مثلاً امریکہ میں جہاں اس کا سب سے زیادہ زور ہے وہاں کے اخبارات و رسائل اور کتابوں میں ان کے قبیح نتائج کی تفصیلات موجود ہیں۔ آپ نے اگر انگریزی پڑھی ہے تو اس کا فائدہ اٹھائیے، اس طرح کا مواد جمع کیجیے، اس کو بڑے پیمانے پر پھیلائیے اور لوگوں کو بتائیے کہ کیا یہ نتائج تم اپنے معاشرے میں چاہتے ہو؟

اسی طرح سے دوسری جتنی چیزیں ہیں، جس کو آپ مغربی تہذیب کے نوائض کا سیلاب کہتے ہیں، وہ جہاں سے آیا ہوا ہے وہاں اس کے نتائج پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہیں، آپ اس مواد کو جمع کریں، جمع کرنے کے بعد اس کو نہ صرف اردو میں اور انگریزی میں تحریری شکل میں لا کر پھیلائیں بلکہ زبانی طور پر بھی جن جن لوگوں سے آپ بعد بھی جو کوئی اس سیلاب میں بہنا چاہتا ہو اور بہہ رہا ہو اسے آپ روک نہیں سکتے۔ آپ روک تو اسی کو سکتے ہیں جس کے دل میں بُرائی کا خوف ابھی کچھ باقی ہے۔ لیکن دلائل سننے کے بعد جو خود ان ممالک کے اپنے لٹریچر میں موجود ہیں وہ پھر بول نہیں سکتا۔

سوال: تحریک کا ایک کارکن لٹریچر پڑھے اور پڑھائے‘ اجتماعات میں شرکت کرے، کالج میں تحریک کا کام کرے، اس کے ساتھ گھر کے کام اور دیگر ذمہ داریوں کو ادا کرے اور اس کے ساتھ پڑھے‘ یہ کیسے ممکن ہے! سوال یہ ہے کہ توازن کس طرح قائم کیا جائے؟

جواب: کبھی آپ نے غور کیا اس بات پر کہ ایک آدمی جب سائیکل کی سواری سیکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو آغاز میں وہ کس قدر گرتا ہے، کبھی ادھر گرتا ہے اور کبھی اُدھر گرتا ہے۔ کبھی ٹھوکر کھاتا ہے۔ رفتہ رفتہ مشق اور محنت کر کے وہ ”توازن“ قائم کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ آگے چل کر توازن پر اس کو اتنی قدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ اس کے لئے کوشش کرنے کی حاجت نہیں رہتی۔

مسلمان کی زندگی ایک معتدل اور ایک متوازن زندگی ہوتی ہے۔ مسلمان Extremist نہیں ہوتا، مسلمان اس مزاج کا نہیں ہوتا کہ ایک رخ پر تو وہ حق ادا کرے اور دوسرے رخ پر وہ حق مارنے لگے۔ والدین کے حقوق بھی ایک فریضہ ہیں۔ آخر اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھیجا ہے تو بے شمار ذمہ داریاں اُس کے ذمے عائد کی ہیں اور اس کی کامیابی کا سارا دارو مدار اور انحصار اس پر ہے کہ وہ تمام ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک طریقہ سے محسوس کرے۔ تمام حقوق و فرائض ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ پھر اس بات کی مشق بھی ہونی چاہیے کہ ہر ایک کے حق کو اس طرح سے ادا کرے کہ کسی دوسرے کا حق ساقط نہ ہونے پائے۔ خدا کا حق اس طرح سے ادا کرے کہ والدین کے حقوق بھی ساتھ ساتھ ادا ہوں۔ اس کے ساتھ اس کو اپنے نفس کا حق بھی ادا کرنا ہے اور آپ کے نفس کا حق یہ ہے کہ آپ اپنی تعلیم کو ٹھیک ٹھیک مکمل کریں۔ خدا کا حق یہ ہے کہ آپ برائیوں کے مقابلہ میں جدو جہد کریں، بھلائی کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔ والدین کا حق یہ ہے کہ اپنے گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بھی بٹائیں اور ان کے لئے آخر کار سہارا بھی بنیں۔ یہ ساری چیزیں بیک وقت آپ کو کرنی ہوں گی۔ یہ توازن کیسے قائم کیا جائے، یہ میں نہیں بتا سکتا، میں تو آپ کو یہ بتاؤں گا کہ سائیکل چلانے کی کوشش آپ کریں گے تو رفتہ رفتہ توازن قائم کرنا آپ کو آ جائے گا۔

سوال: آپ ہمارے لئے کچھ ایسی چیزیں تجویز کریں جن کی بدولت ہم اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کر سکیں اس سلسلے میں وہ کیا کیا چیزیں ہیں، جو ہمارے لئے مضرت رساں بن سکتی ہیں۔“

جواب: یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اگر میں آپ کو ایک فہرست دینا شروع کروں کہ کیا کیا چیزیں ہیں جو آپ کے لئے مضرت رساں ثابت ہو سکتی ہیں، تو آپ کو صبح کی نماز کے وقت تک تو بہر حال بیٹھنا پڑے گا۔ اس لئے میں بجائے فہرست دینے کے آپ کو صرف ایک معیار دینا چاہتا ہوں، جس سے آپ یہ اندازہ کر سکیں گے کہ کیا چیزیں آپ کے لئے مضر ہیں اور کیا چیزیں آپ کے لئے مفید ہیں۔ یہ معیار میرا اپنا تجویز کردہ نہیں، قرآن مجید میں صرف ایک چھوٹے سے فقرے میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ

<<يايها الذين امنوا اتقوا الله و لتنظر نفس ما قدمت لغد>>

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور ہر متنفس یہ دیکھے کہ کل کے لئے اُس نے کیا سامان کیا ہے۔“

”کل“ سے مراد ”آخرت“ ہے اور ”آج“ سے مراد ”موجودہ زندگی“ ہے۔ جب یہ کہا جائے کہ کل کے لئے اُس نے کیا اٹھا رکھا ہے تو اس کے دوسرے معنی یہ ہوئے کہ وہ آج کی زندگی میں یہ دیکھے کہ آخرت کے لئے اُس نے کیا سامان کیا ہے۔ ہر متنفس کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہے اس آدمی سے زیادہ نادان کوئی نہیں ہو سکتا جو اپنی آج کی زندگی میں اپنے تمام وسائل و ذرائع اور ساری قوتیں، ساری محنتیں اور کوششیں سب کچھ صرف ”آج“ کے لئے کھپا دے اور ”کل“ کے لئے کوئی سامان جمع کر کے نہ رکھے۔ ظاہر ہے کہ یہ کل کا دن جب طلوع ہوگا تو اس کے لئے نہ کوئی سایہ کی جگہ ہوگی نہ سر چھپانے کی اس لئے اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ کل کی فکر کرو، جو ایک لازمی طور پر آنے والی چیز ہے۔ یہ دیکھو کہ آج تم اپنے ”کل“ کے لئے کیا سامان کرتے ہو اور یہ دعوت ہر شخص کو دی گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا محاسب اور محتسب خود بنے۔ خود جائزہ لے کر دیکھے۔ کوئی دوسرا آدمی اس کو فہرست دینے والا نہ ہو۔ قرآن اصول بیان کر دیتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے، اس کی تفصیلات نہیں بیان کرتا۔ احادیث میں بھی کچھ تفصیلات ملتی ہیں۔ ساری تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس لئے ایک ایک آدمی کو اپنی جگہ خود جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ میری کل کی زندگی کے لئے مفید ہوگا یا نقصان دہ۔ اگر آج وہ کوئی ایسا کام کر رہا ہے جو اس کے مستقبل کے لئے تباہ کن ہو تو اس کو رک جانا چاہیے۔ اپنا حساب خود کر کے دیکھے کہ وہ کل کے لئے کیا کر رہا ہے۔ اس وجہ سے میں آپ کو ایک جامع چیز بتا رہا ہوں جس سے آپ خود ہی معلوم کر سکیں گے کہ کیا نقصان دہ ہے اور کیا مفید ہے۔ یہی چیز سیرت و کردار بنانے والی ہے۔

سوال: تحریکی مزاج کسے کہتے ہیں؟ اور یہ کن ذرائع سے پیدا ہوتا ہے؟

جواب: ایک آدمی جو اپنی ذات کی حد تک ایک فلسفہ زندگی اور مقصد حیات رکھتا ہے۔ اگر وہ اس کو دنیا میں پھیلانے، دوسرے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے اور اس کے لئے سعی و جہد کرنے کا کوئی جذبہ نہ رکھتا ہو تو گویا یہ غیر تحریکی مزاج ہے۔ یہ ایسا آدمی ہے جس نے اپنا ایک راستہ خود اپنی ذات کے لئے تجویز کر لیا ہے اور اس پر وہ مخلصانہ طور پر کوشش بھی کرتا ہے۔ مگر اپنی ذات کی حد تک! اس مزاج کا حامل انسان کسی تحریک کو نہیں چلا سکتا۔ تحریکی مزاج اس کے برعکس یہ ہے کہ میں جس چیز کو حق سمجھتا ہوں دنیا کو بھی اس حق کو قبول کرنے کی دعوت دوں اور کوشش یہ کروں کہ اس حق کے خلاف جو چیزیں ہیں ان کا فروغ رکے اور حق کے مقاصد فروغ پائیں۔ جب کوئی شخص عملاً یہ کام شروع کر دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے اندر ایک تحریکی سیرت پیدا ہوگئی ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر تحریکی مزاج نہیں ہوتا، وہ تحریک کا جو کام بھی کرتے ہیں، بالعموم بگاڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کام کو وہ جانتے نہیں ہیں۔ ان کے اخلاق و عادات، ان کی طبیعت اس کام کے ٹھیک ٹھیک مناسب نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ غلط طریقے سے کام کرتے ہیں اور بالآخر جس مقصد کے لئے وہ کام کرنے اٹھتے ہیں ۔ اسی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

تحریکی مزاج کیا ہے؟ تحریکی مزاج سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی جو حق کو قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور باطل کے خلاف جد و جہد کر رہا ہے تو اس کی سیرت و عادات و احوال ایسے ہونے چاہئیں جو اس مقصد کے لئے سازگار بن سکیں۔ مثلاً ایک آدمی بداخلاق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ کسی تحریک کا کام کرے گا تو تحریک کو نقصان پہنچائے گا۔ اس کے مقابلہ میں ایک آدمی میں ایسا اخلاق ہے کہ جن لوگوں سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے۔ وہ اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اس کے لئے قدر و عزت پیدا ہوتی ہے وہ ایک جاذب شخصیت رکھتا ہے۔ یہی ایک صحیح قسم کا تحریکی مزاج ہے۔ اس کے برخلاف ایک شخص ہے جو کسی کی تنقید برداشت نہیں کر سکتا، کسی کا اعتراض نہیں سہہ سکتا، ذرا کوئی بات مزاج کے خلاف ہوئی تو لڑ پڑا تو وہ تحریک کے لئے موزوں نہیں ہے۔ تحریکی جذبہ تو اس میں ہو سکتا ہے مگر تحریکی مزاج نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس ایک شخص زبان کا شیریں ہے، متحمل ہے، اس کے اندر ضبط کا مادہ ہے، بہت سی چیزیں جو مزاج کے خلاف ہوتی ہیں برداشت کر جاتا ہے۔ بہت سی چیزیں جو اسے سخت ناگوار ہوتی ہیں، ان پر تحمل سے کام لیتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس شخص میں تحریکی مزاج ہے۔ وہ کام بگاڑنے والا نہیں ہے۔ کام کو بنانے والے اوصاف اس کے اندر موجود ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ تحریکی مزاج کیسے پیدا ہو تو میرے خیال میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ اس کے لئے بہت نافع اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ہم وہی کام کرنے اٹھے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تھا۔ اس وجہ سے ہمارے لئے اگر کوئی بہترین نمونہ ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ نے کس طرح اس حق کو پھیلایا۔ کیا مزاج تھا، جس کی وجہ سے شدید مخالفت پر تلی ہوئی دنیا آخر مسخر ہوگئی اور آپ کے بدترین مخالفوں کو بھی بالآخر ہتھیار ڈالنے پڑے اور بعد میں انھیں اللہ کے رسولؐ کے ساتھ عشق اور قلبی لگاؤ پیدا ہو گیا۔ دوسری چیز جو درکار ہے۔ وہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ آپ کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں سے واقف ہونے کا نہیں ہے۔ جن دوسرے مقامات پر ان کی سیرتیں موجود ہیں وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ انبیاء کے جو حالات قرآن میں بتائے گئے ہیں ان کو بڑے غور سے آپ پڑھیں۔ آپ کو معلوم ہوگا، کہ یہ کام جن لوگوں کو کرنا ہو، ان کے اندر کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔

اصلاح احوال کی کوئی تنظیم اس وقت مؤثر ہو سکتی ہے۔ جب وہ خود بحیثیت ایک جماعت اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرے۔ پھر اس کے ساتھ جو لوگ بھی ملتے جائیں گے اس کے مطابق ڈھلتے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تنظیم میں یہ قوت پیدا کی ہے کہ افراد اس کے سانچے میں ڈھلتے ہیں بشرطیکہ وہ افراد اس کے اندر شامل ہوں جو اس کے اثرات کو Resist کرنے کا جذبہ نہ رکھتے ہوں بلکہ اس کے اثرات کو قبول کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اگر Resist کرنے والے افراد اس میں شامل ہوتے جائیں تو جیسے جیسے وہ داخل ہوں گے، اس تنظیم کی بنیادوں کو کمزور کرتے چلے جائیں گے۔

سوال: حکمت اور موعظۂ الحسنہ کے وہ کیا کیا پہلو ہیں جو دین کی دعوت دیتے وقت ایک داعی کے پیشِ نظر رہنے چاہئیں؟

جواب: اس چیز کو میں نے بڑی تفصیل کے ساتھ مختلف مواقع پر بیان کیا ہے۔ اچھا ہو گا کہ آپ اس کو میری کتابوں میں پڑھ لیں۔ میں یہاں مختصر طور پر آپ کو دو باتیں بتاؤں گا حکمت کیا چیز ہے اور موعظۂ الحسنہ کیا ہے۔

حکمت یہ ہے کہ آپ جب کام کرنے اٹھیں تو اپنی تحریک کے نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر دیکھیں کہ ہم کس وقت، کس زمانے میں اور کن حالات میں کام کر رہے ہیں؟ تحریک کے نقطۂ نظر سے جائزہ لینے سے مراد یہ ہے کہ آپ اس لحاظ سے دیکھیں کہ آپ جو کام کرنے اٹھے ہیں، اس کام کے لحاظ سے اس وقت اس زمانے میں کون سی چیزیں اس مقصد کے لئے مددگار ہیں۔ انکا ٹھیک ٹھیک آپ حساب لگائیں کہ وہ کس حد تک مددگار ہیں اور کس کس پہلو سے مددگار ہیں۔ جو چیزیں مانع ہیں ان کا اس پہلو سے جائزہ لیں کہ ان کی وسعت کیا ہے؟ کس پیمانے پر یہ پھیلی ہوئی ہیں؟ ان کی پشت پر کون سی قوتیں کام کر رہی ہیں؟ ان کا پس منظر کیا ہے؟ کہاں سے یہ آ رہی ہیں؟ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ یہ حکمت ہے۔ ایک آدمی جو حکیم ہو وہ سب سے پہلے یہ دیکھنے کی کوشش کرے گا کہ میں کس زمانے میں اور کن حالات میں کام کر رہا ہوں! مثال کے طور پر ایک داعی جب یہاں دین کی دعوت لے کے اٹھے گا تو وہ یہ دیکھے گا کہ کتنا کچھ مصالحہ گردو پیش میں موجود ہے جو اس کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مثلاً اسلام کو ماننے والی سوسائٹی ہے، یا اسلام کی مخالف سوسائٹی ہے، اسلام کی منکر سوسائٹی ہے یا اسلام کی دشمن اور مزاحمت کرنے والی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک آدمی جو اسلام کی سخت مخالف دشمن سوسائٹی میں ہو، وہ کوئی اور طریق کار اختیار کرے گا۔ ایک آدمی جو اسلام کی منکر لیکن بے حس سوسائٹی میں ہو وہ ہاں کوئی اور راستہ اپنائے گا اور اسلام کو ماننے والی سوسائٹی میں بالکل مختلف طریق کار اختیار کرے گا وہ آدمی بالکل کم فہم ہوگا جو مسلمانوں میں پھیلی ہوئی بداخلاقیوں یا ان میں پائے جانے والے تساہل کو دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں تو اسلام برائے نام ہے اور یہ سوسائٹی تو اسلام سے منحرف ہو چکی ہے اور نتیجتاً اسی احساس غلط کے نتیجے میں وہ ایسا کام کرنا شروع کر دے جو مثلاً کفار کے اندر کرنے کا ہے۔

اسی طرح ایک داعی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کون سی قوتیں یہاں اسلام کے خلاف کام کر رہی ہیں اور ان کے محرکات کیا ہیں؟ ان کے افکار کی بنیادیں کیا ہیں؟ ان کا فلسفہ کیا ہے؟ ان ساری چیزوں کا جائزہ لینا اس لیے ضروری ہے کہ اسے ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی جو پہلوان سے کشتی لڑنے جا رہا ہو وہ پہلے یہ دیکھے گا کہ یہ پہلوان کتنا طاقتور ہے؟ اس کا وزن کتنا ہے؟ اس کی طاقت کا کیا حال ہے؟ اس کے مقابلے میں مجھے کس قدر طاقت فراہم کرنی چاہیے۔ تب میں جا کر اس سے کشتی لڑوں۔ دوسرے کی طاقت کا اندازہ لگائے بغیر اکھاڑے میں اترنے والا آپ سے آپ پچھڑ جائے گا۔

اس کے ساتھ پھر حکمت کا ہی یہ تقاضا ہے کہ Line of action ایسی اختیار کی جائے جو زیادہ سے زیادہ مواد کو استعمال کرنے کے لیے موزوں ہو اور جو طاقتیں مزاحم ہیں ان کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ طاقت فراہم کی جائے۔ یعنی داعی ایسا طرزِ عمل اختیار کرے ان کا زور کم سے کم وقت میں آسانی کے ساتھ توڑ دے۔ میرے نزدیک مختصر حکمت کا مفہوم یہی کچھ ہے۔

دوسری چیز موعظہ حسنہ ہے۔ موعظہ حسنہ میں دو چیزیں خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں، گو اس کے دوسرے اور پہلو بھی ہیں۔

پہلی چیز یہ ہے کہ نصیحت، دعوت اور تبلیغ کرنے کا ایسا طریقہ استعمال کیا جائے جو دوسرے شخص کے اندر ضد پیدا نہ کرے۔ دوسرے شخص میں کبر اور غصے کے جذبات نہ ابھریں۔ دوسرے شخص سے آپ اس طرح اپیل کریں کہ اگر اس کی فطرت میں ذرہ برابر بھی کوئی بھلائی موجود ہو تو وہ متاثر ہو جائے اور اس کے اندر کوئی کجی اور ٹیڑھ ہو تو آپ کے لئے آئندہ کام کرنے کے مواقع باقی رہنے چاہئیں۔ اس معاملہ میں ایک مرتبہ امام ابو حنیفہؒ نے ایک بڑی دلچسپ بات کہی۔ امام ابو حنیفہؒ ایک زمانے میں بہت بڑے متکلم تھے اور مناظرے کیا کرتے تھے۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ میں بصرہ میں جا کر ٹھہرتا تھا اور وہاں مختلف گمراہ فرقوں سے مناظرے کیا کرتا تھا۔ بعد میں ان کے صاحبزادے کو بھی علم کلام سے دلچسپی پیدا ہو گئی اور وہ بھی مناظرے کرنے لگے۔ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے بیٹے کو مناظرے کرنے سے روکا۔ صاحبزادے نے کہا ابا جان! آپ بھی تو پہلے مناظرے کیا کرتے تھے۔ آپ آخر آج مجھے کیوں روک رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم جب مناظرے کرتے تھے تو یہ سمجھتے ہوئے کرتے تھے کہ جیسے ایک آدمی کے کندھے پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا ہے اور کہیں ہم ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں کہ یہ پرندہ اڑ جائے۔ اس پرندے کو تو ہمیں پکڑنا ہے۔ اتنی احتیاط کے ساتھ ہم مناظرہ کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ جتنا کچھ ایمان ایک شخص میں موجود ہے۔ مناظرے کا مقصد اس کو بڑھانا ہوتا تھا، نہ کہ جتنا کچھ ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اتنی بیدردی سے مناظرہ کرو گے کہ جتنا کچھ ایک آدمی دین سے دور ہے، تمھارے مناظرے کی بدولت اس سے بھی زیادہ دور چلا جاتا ہے۔

پس موعظہ حسنہ یہ ہے کہ آپ دعوت و تبلیغ کا ایسا طریقہ اختیار کریں کہ جو دوسرے شخص کو زیادہ سے زیادہ اپیل کرے۔ اس کے اندر ضد پیدا نہ کرے۔ اس کو اور زیادہ دور نہ پھینک دے۔ زبان اور طرز بیان ایسا ہونا چاہیے کہ آپ کو لوگوں سے قریب کرنے والا ہو، اور ان کو آپ سے مانوس کرے۔ نہ کہ ان کے دلوں میں آپ کے خلاف نفرت اور غصہ پیدا ہو۔

دوسری چیز جو موعظہ حسنہ کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی شخص کو نصیحت کرنے اور اس کو سمجھانے کی سعی کرنے سے پہلے یہ جانیں کہ اس کی گمراہی کی پشت پر کیا کیا محرکات ہیں؟ پھر اُسے ایسے طریقے سے سمجھائیں جو اس کے دماغ اور دل دونوں کو متاثر کرنے والا ہو۔ اگر وہ ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہے تو اس کی ذہنی الجھنیں آپ رفع کرنے کی پہلے کوشش کریں۔ پھر معقول دلائل کے ساتھ اسے مطمئن کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی شخص کسی جذباتی بگاڑ میں مبتلا ہے تو اس کے جذبات کو اپیل کریں، اور ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے اس کے جذبات میں اگر دین سے انحراف کرنے والی کوئی چیز ہو تو وہ پلٹ کر دین کی طرف مائل ہونے والی چیز بن جائے۔

سوال: کیا عالم اسلام میں اسلامی تحریک اور بھی ہے؟ اور اگر ہے تو کس مرحلے پر ہے؟ کیا پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی جماعت اسلامی ہے؟

جواب: تمام مسلمان ملکوں میں اسلام کے لیے کام ہو رہا ہے۔ کہیں منظم صورت میں اور کہیں اپنے طور پر۔

کوئی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے کہ جہاں ایسے لوگ موجود نہ ہوں جو اسلام کی سربلندی کے لیے کام نہ کر رہے ہوں۔ انڈونیشیا، ترکی، ایران اور مختلف عرب ممالک میں، غرضیکہ کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اس طرح کی تحریکیں یا افراد موجود نہ ہوں۔ جن ممالک میں حکومتوں نے ایسی رکاوٹیں ڈال رکھی ہیں کہ وہاں منظم صورت میں تحریک نہیں چلائی جا سکتی ، وہاں غیر منظم صورت میں کام ہو رہا ہے درحقیقت اس کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ آئینی طور پر مواقع کتنے ملتے ہیں۔ بدقسمتی سے رکاوٹیں ہر جگہ موجود ہیں۔ کہیں زیادہ ہیں اور کہیں کم۔ جہاں رکاوٹیں زیادہ ہیں وہاں تحریکیں ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ جہاں رکاوٹیں کم ہیں وہاں تحریکیں کافی آگے بڑھ چکی ہیں۔

جماعت اسلامی کے نام سے اس وقت ہندوستان میں جماعت موجود ہے، سیلون میں موجود ہے، مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔ اور اب میں نے سنا ہے کہ نیپال میں بھی جماعت اسلامی قائم ہو گئی ہے۔ اسی طرح لبنان میں بھی اس کا قیام عمل میں آیا ہے۔ لیکن ان میں سے کسی کا تعلق پاکستان کی جماعت اسلامی سے تنظیمی نوعیت کا نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے لٹریچر سے ہر جگہ فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے لیکن ہر جگہ ہر ملک میں اسی ملک کی جماعت منظم کی گئی ہے۔ کسی بین الاقوامی پیمانے پر کوئی تنظیمی تعلق نہیں ہے۔

سوال: جماعت اسلامی کے مستقبل کے بارے میں کچھ بتائیے۔ ایک خطرہ یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ کہیں یہ تحریک اپنے قائد کے بعد ختم نہ ہو جائے؟

جواب: ہمیں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے کہ ایسا نہ ہو۔ جو لوگ ہمارے بعد جماعت اسلامی کے کارکن بنیں گے یہ ان کا کام ہو گا کہ وہ اس کے کام کو آگے بڑھائیں۔ اگرچہ میرے پاس اس بات کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ میرے بعد کیا ہو گا۔ لیکن مجھے لوگوں کے یہ اندازے صحیح معلوم نہیں ہوتے کہ جماعت اسلامی خالی میرے گرد گھوم رہی ہے۔ ہو سکتا ہے دُور سے دیکھ کر یہ بات معلوم ہوتی ہو، لیکن خدا کے فضل سے جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کام کو چلا بھی سکتے ہیں اور ان کے دلوں میں وہ جذبہ بھی موجود ہے جو میرے دل میں ہے، بلکہ اب میری ذمہ داریوں کا بڑا حصہ بھی انھوں نے اٹھا لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اس تحریک پر اپنا خاص فضل ہے کہ یہ مردانِ کار سے خالی نہیں ہے۔

سوال: پاکستان میں تحریک اسلامی کی کامیابی کا امکان کس قدر ہے؟ اسلامی انقلاب کے لئے کب تک چشم براہ رہنا پڑے گا؟

جواب: کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کو کب تک چشم براہ رہنا پڑے گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ میرا فرض کیا ہے تو اس کو کبھی یہ فکر لاحق نہیں ہو سکتی کہ اس کو کامیابی ہو گی یا نہیں ہو گی اور ہو گی تو کب ہو گی؟ فرض کیجیے کہ کامیابی کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے۔ تو کیا اس صورت میں فرض آپ سے ساقط ہو جائے گا؟ ایک شخص ایک محلے میں جا کر اذان دیتا ہے تو اسے یہ فکر کیوں کر لاحق ہو سکتی ہے کہ کتنے لوگ میری اذان پر نماز کے لئے آتے ہیں۔ اگر کوئی نہ آئے تو اسے خود تکبیر کہہ کر نماز پڑھ لینی چاہیے اور ساری عمر اذان دینے کا یہ فریضہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔ کوئی آئے یا نہ آئے اذان بند نہیں ہونی چاہیے۔ کامیابی یا ناکامی کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم اپنا فرض انجام دیں۔ جتنا زیادہ آپ دیکھیں گے کہ دنیاوی معنوں میں کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ اتنا ہی زیادہ آپ کا فرض بڑھ جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ یہ خیال کر کے کہ جب امکانات ہی نہیں ہیں تو پھر خدا کا نام لینے کے بجائے اور کسی کا نام لیا جائے، خدا کا نام لینا چھوڑ دیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ آپ اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ خدا کا نام بلند کرنا شروع کر دیں۔