تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
راولپنڈی میں طلبہ اور شہریوں کی ایک نشست میں سوال و جواب کی محفل۔۔۔ ۱۱ مئی ۱۹۶۸ء
سوال: آپ جب سے اسلامی تحریک کو لے کر چلے ہیں اس پر سب سے زیادہ نازک وقت کب آیا تھا اور وہ کیا حالات تھے؟
جواب: ٹھیک اوّل روز سے، جب سے ہم اسلام کے نصب العین کو لے کر چلے ہیں تحریک نازک حالات سے گزر رہی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نازک وقت سے گزرے بغیر رہے ہوں۔
سوال: کیا ہم اس بات کی امید رکھیں کہ ہماری زندگی ہی میں پاکستان میں اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔ اگر نہیں تو تحریک کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: یہ سوال بہت دلچسپ نوعیت رکھتا ہے۔ اس میں سوچنے کا انداز یہ ہے کہ اگر آپ کو جہاد میں شریک ہونے کا موقع ملے تو آپ پہلے یہ دیکھیں گے کہ میری زندگی ہی میں کامیابی ہو گی یا نہیں۔ اگر میں شہید ہو گیا تو پھر کیا فائدہ؟ یہ ملک فتح بھی ہو گیا تو پھر کیا فائدہ؟ یہ ملک فتح بھی ہو گیا اور اسلام پھیل بھی گیا تو مجھے کیا حاصل ہو گا۔ میں تو شہید ہو گیا۔ یاد رکھیے اس طریق سے سوچنے والا آدمی کبھی خدا کا کام نہیں کر سکتا۔ خدا کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ سمجھے کہ میرا جو فرض ہے، وہ مجھے ادا کرنا ہے، قطع نظر اس سے کہ نتائج کیا ہوں۔
سوال: اگر یہاں صدارتی نظام ہی اپنانے پر بعض لوگوں کو اصرار ہے تو امریکی دستور کا ڈھانچہ کیوں نہیں اپنایا جاتا جو اپنے باشندوں کو زیادہ بنیادی حقوق دیتا ہے؟
جواب: امریکہ کا دستور، پارلیمنٹری سسٹم کی دستور کی بہ نسبت زیادہ پیچیدہ ہے اور اسے یہاں چلانا پارلیمانی نظام سے زیادہ مشکل ہے۔ وہاں تین برابر کی طاقتیں پیدا کر دی گئی ہیں۔ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ تینوں اپنی اپنی جگہ پر بالکل آزاد ہیں۔ یہاں اس سسٹم کا چلنا بالکل ناممکن ہے۔ مقننہ وہاں جس طرح سے کام کرتی ہے خصوصاً سینٹ جو برتاؤ صدر کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر یہاں صدر کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے تو آئے دن مقننہ پر فوج چڑھ دوڑے گی۔
سوال: یہ کہا جاتا رہا ہے کہ جماعت اسلامی کو امریکہ سے خفیہ مالی امداد ملتی ہے اس میں کس حد تک صداقت ہے؟
جواب: اگر میرے متعلق اسی طرح کی باتیں کہی جاتی رہیں تو بعید نہیں ہے کہ کل کوئی صاحب یہ بھی پوچھنے لگیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تم فلاں مسجد سے جوتے چرا کر نکلے تھے حقیقت یہ ہے کہ جب لوگ خدا سے بے خوف ہو جائیں اور انھیں اس بات کا کچھ احساس نہ رہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے، وہ بڑی بڑی عبائیں پہن کر کھلے جلسوں میں جھوٹ بولتے پھریں تو سوائے اس کے کہ آدمی اس پر صبر کرے اور خاموشی سے اپنا کام کرتا رہے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ اس بات کو بالکل بھول چکے ہیں کہ کوئی خدا بھی ہے، کبھی اس کے سامنے جانا ہے اور وہاں باز پرس بھی ہونی ہے۔
سوال: سوشلزم کے حواری یہ کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں اسلام آ گیا تو اس کا چلنا بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ اسلام میں بہت سے فرقے ہیں اور تمام فرقے آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ اسلام کے بجائے کوئی اور نظام چلایا جائے؟
جواب: ان عقل مندوں کو غالباً یہ بات معلوم نہیں ہے کہ سوشلزم کے کتنے فرقے ہیں دو سب سے بڑے فرقے تو چین اور روس ہیں۔ ایک ”وہابی“ ہے اور ایک ”بدعتی“ ہے۔ چینی روسیوں کو ترمیم پسند کہتے ہیں تو یہ گویا بدعتی کے معنوں میں ہے۔ ان کے علاوہ اور نہ معلوم کتنے فرقے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سوشلٹ اپنے کون سے فرقے کو یہاں لانا چاہتے ہیں جس کے بعد ہمیں اسلامی فرقوں سے نجات مل جائے گی۔
سوال: آپ نے ”خلافت و ملوکیت“ لکھی ہے۔ اس پر چند لوگوں کو اعتراض ہے۔ آپ کے نزدیک اس کتاب کو لکھنے کا مقصد کیا تھا؟ علاوہ ازیں بعض علماء آپ کے بارے میں بڑے افسوس ناک الفاظ استعمال کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ لکھنے کا مقصد کتاب کے شروع میں بھی بیان کر دیا گیا ہے اور آخر میں بھی۔۔۔۔ اگر کوئی صاحب محسوس کرتے ہیں کہ یہ کتاب وہ مقصد پورا نہیں کرتی جو اس میں بیان کیا گیا ہے تو وہ علمی انداز میں اپنے دلائل سامنے لائیں۔ ۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو آپ علمائے کرام کے الفاظ بولتے ہیں اس پر بھی نظر ثانی کر لیجئے۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو علمی اور دینی معاملات میں اپنا خاص طرز فکر رکھتا ہے اور انھیں اپنی خاص زبان میں پیش کرتا ہے۔ دینی اور علمی معاملات میں یہ زبان اور یہ طرز عمل بہر حال نہیں چل سکتا۔ ملک میں ہزارھا علمائے کرام موجود ہیں جن کے وہ خیالات نہیں ہیں جو اس چھوٹے سے گروہ کے ہیں۔ اس گروہ کے لوگوں کو آپ اگر علمائے کرام میں شمار کرنا چاہتے ہیں تو اتنا سوچ لیجئے کہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں جو زبان یہ استعمال کرتے ہیں کیا وہ علمائے کرام کی زبان ہے؟ کیا علماء کے یہی اخلاق ہوتے ہیں؟ ۔۔۔۔ یہ اس قوم کی بد قسمتی ہے کہ دینی مدارس میں کچھ تعداد ایسے لوگوں کی بھی گھس جاتی ہے جو دینی تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں دینی تربیت حاصل نہیں کرتے۔ دینی اخلاق کی انھیں ہوا تک نہیں لگتی۔ ایسے لوگوں کی زبان بتا دیتی ہے کہ یہ شریف انسانوں کی زبان نہیں ہے کجا یہ کہ علم دین رکھنے والوں کی زبان ایسی ہو۔ اگر خدانخواستہ ہمارے علمائے دین کا یہ معیار بن گیا تو واقعہ یہ ہے کہ یہ خود دین کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس ملک میں علماء کی عظیم اکثریت ایسی ہے جو اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتی۔
سوال: کچھ علماء کی طرف سے آپ کے خلاف یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ آپ نے اپنی تحریروں میں صحابہ کرام پر نکتہ چینی کی ہے اور ان کے مقام اور مرتبے کو پوری طرح سے ملحوظ نہیں رکھا۔ براہ کرم وضاحت فرمائیے کہ احترام صحابہؓ کے بارے میں آپ کا مسلک کیا ہے؟ اور آیا اس سلسلے میں اہل سنت کے درمیان میں کوئی اختلاف رائے پایا جاتا ہے؟
جواب: چونکہ یہ سوال آ گیا ہے اس لئے اس کے متعلق میں چند کلمات کہہ دیتا ہوں۔ دراصل میں کبھی ایسے اعتراضات کا جواب نہیں دیا کرتا جن کے متعلق مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعتراضات میرے خلاف ناراضی کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ ناراضی کی اصل وجہ کچھ اور ہے اور ادھر اُدھر سے یہ اعتراضات محض اس لئے نکالے جاتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہم اس شخص سے اپنے نفس کے لئے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ یہ شخص ایسا ظالم ہے کہ اس نے صحابہؓ اور انبیاء سے متعلق یہ اور یہ کہہ دیا ہے، پس ہم اس سے اس وجہ سے ناراض ہیں ________ تو جن لوگوں کے متعلق مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی مخالفت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے بلکہ اس کی اصل وجہ کچھ اور ہے اور صحابہؓ اور انبیاء کا بہانہ بنایا جا رہا ہے تو میں ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اپنی عمر تم اس کام میں کھپاتے رہو، میں اپنی عاقبت کے لئے جس کام کو صحیح اور ضروری سمجھتا ہوں اس کو کرتا رہوں گا۔ تمہیں جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ البتہ جو اعتراضات کسی نہ کسی حد تک معقولیت یا کسی دلیل کے ساتھ ہوتے ہیں اُن کا جواب میں پہلے بھی دیتا رہا ہوں اور آئندہ بھی انشاء اللہ دینے کی کوشش کروں گا اور اگر اعتراض معقول ثابت ہو گا تو اس کو مان بھی لوں گا اور اپنی اصلاح بھی کرلوں گا۔ بارہا میں نے ایسا کیا ہے۔ اب دیکھیے کہ اس معاملے میں ان لوگوں کے اعتراضات کی حقیقت کیا ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیجیے کہ کسی آدمی کی کسی ایک عبارت یا کسی عبارت کے ایک فقرے سے اس کے متعلق یہ سمجھا کہ اس کا اس بارے میں یہ مسلک ہے درآں حالیکہ وہ اپنی بیسیوں عبارتوں میں اپنا مسلک واضح طور پر بیان کر چکا ہو۔ یہ بجز ایک ضدی آدمی کے اور کسی کا کام نہیں ہو سکتا، یعنی اگر ایک آدمی اپنے مسلک کی وضاحت بار بار نہ صرف اپنے قول سے اور اپنی تحریروں سے کر چکا ہو بلکہ اس کا مسلک اس کے مجموعی طرز عمل سے بھی صاف طور پر معلوم ہوتا ہو تو اس کی کسی ایک عبارت یا ایک فقرے سے اس کے بالکل برعکس نتیجہ نکالنا کسی معقول آدمی کا کام نہیں ہو سکتا اور نہ اس قسم کی حرکت کا کوئی علمی مقام ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میری کتاب تفہیم القرآن موجود ہے جس میں میں نے جہاں کہیں فقہی مسائل یا دینی مسائل کے متعلق کوئی بحث کی ہے تو ان کے اندر آپ دیکھیں گے کہ میں نے صحابہ کرامؓ کے اقوال سے استدلال کیا ہے۔ جہاں کہیں صحابہ کرامؓ کا ذکر آیا ہے میں نے بارہا یہ بات لکھی ہے کہ روئے زمین پر آفتاب نے کبھی ایسے انسان نہیں دیکھے تھے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ تھے۔ تمام بنی نوع انسانی کا بہترین گروہ اگر کوئی تھا تو وہ صحابہ کرامؓ تھے۔ پھر میں نے بارہا یہ بات بھی لکھی ہے کہ صحابہ کرامؓ کا جس چیز پر اجماع ہو وہ دین میں حجت ہے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی کے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اجماع کو اسی طرح تسلیم کرے جس طرح سنت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ اسی تفہیم القرآن میں دیکھ سکتے ہیں کہ میں مختلف مسائل میں صحابہ کرامؓ کے اقوال نقل اور پھر ان کے اقوال میں سے کسی قول کو اختیار کر کے اس کی تائید میں اپنی رائے بیان کرتا ہوں۔
کیا یہ سارا کام کسی ایسے فرد کا ہو سکتا ہے جو صحابہؓ کے معاملے میں منفی ذہنیت رکھتا ہو؟
یہ تو ہوئی سوال کے اس حصے کی وضاحت کہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں میرا مسلک کیا ہے۔ اب بعض ایسے معاملات کو لیجیے جن کے بارے میں تمام محدثین، مفسرین اور مورخین کا ایک ہی ریکارڈ ہو سکتا ہے۔ اگر بعض ایسے واقعات جو احادیث میں آئے ہیں یا جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے یا جو تاریخ سے ثابت ہیں تو محض ان واقعات کو بیان کرنا اگر ”گناہ“ ہے تو اس امت کے تمام محدثین اور مؤرخین اور مفسرین سب ”گناہ گار“ قرار پاتے ہیں، کوئی نہیں بچتا۔ خود قرآن مجید میں صحابہ کرام کی بعض غلطیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورہ جمعہ میں یہ ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور صرف بارہ صحابہ رہ گئے (بعض روایات میں یہ تعداد ۲۰ آئی ہے ) باقی سارے کے سارے خطبہ چھوڑ کر قافلے کی طرف چلے گئے۔ یہ قرآن مجید کا بیان کیا ہوا واقعہ ہے اور حدیث و تفسیر کی کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے جس میں سورہ جمعہ کی تفسیر میں اس واقعہ اور اس کی تفصیلات کو بیان نہ کیا گیا ہو۔ اگر اس چیز کا نام صحابہ کرام پر نکتہ چینی ہے تو اس سے کون بچا ہے؟ سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ابتدا کی اور اس کے بعد سارے محدثین اور مفسرین نے یہ کام کیا۔ اگر ان واقعات کو بیان کرنا، صحابہ کرام کی تنقیص اور نکتہ چینی ہے تو مجھے بتایا جائے کہ قرآن مجید اور اس اُمت کے عظیم دینی، علمی اور تفسیری خزانے کے ساتھ کیا سلوک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟
اب اس مسئلے کے ایک دوسرے پہلو کو لیجیے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ خود یہ چاہتا تھا کہ صحابہ کرام پر تنقید کی جائے؟ اگر نہیں چاہتا تھا تو قرآن مجید میں ان واقعات کا ذکر کیوں کیا گیا کہ لوگ قیامت تک انہیں پڑھتے رہیں؟ _______ جنگ اُحد کے موقع پر جو پچاس صحابی ایک خاص مقام پر متعین کئے گئے تھے اور وہ وہاں سے ہٹ گئے تھے، ان کا ذکر بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔ اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟ حدیث اور تاریخ کی کون سی کتاب ہے جس میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اب اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و حدیث میں ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد نکتہ چینی نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام کے معاملے میں ہم وہی غلطی نہ کر بیٹھیں جو انبیاء بنی اسرائیل کی اُمتیں کرتی ر ہیں کہ پہلے اپنے انبیاء کو خدا کی اولاد قرار دیا۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو چلڈرن آف گاڈ (Children of God) قرار دے لیا۔ قرآن و حدیث ہمیں صحابہ کرام کے احترام کے ساتھ ساتھ انہیں انسان سمجھنے کا شعور بخشتے ہیں اور ان میں اس بات کی تربیت دی گئی ہے تو اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ صحابہ کرام سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی تو وہ قرآن و حدیث کے خلاف بات کہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قرآن و احادیث میں مختلف مثالوں کا ذکر کیا گیا ہے تو ایک مسلمان ان کے برعکس موقف کس طرح اختیار کر سکتا ہے اور کس طرح سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر ان سے غلطی ہوئی تو اس کا بیان کرنا گناہ ہے؟ غلطی بھی ہوئی اور اسے بیان بھی کیا گیا، حدیثوں اور تفسیروں میں بیان کیا گیا اور ائمہ کرام، محدثین اور مفسرین نے بیان کیا۔ ____ اب اگر ان حقائق کے باوجود کوئی شخص قرآن و حدیث کے اصل منشاء کو نظر انداز کر کے اسے صحابہ کرام پر نکتہ چینی کرنا کہتا ہے تو اس کے صرف دو سبب ہو سکتے ہیں:
ایسی بات کہنے والے یا تو ان پڑھ ہیں اور نہیں جانتے کہ احادیث اور تفاسیر وفقہ میں کیا چیز موجود ہے۔
یا یہ لوگ جانتے تو سب کچھ ہیں مگر جان بوجھ کر غلط بات کہتے ہیں۔ مقصد مخالفت ہے اور فریق بنا رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول اور صحابہ کرام کو ______ یعنی دل میں گرہ تو کسی اور چیز کی ہے اور اعتراض کچھ اور تصنیف کیا جا رہا ہے۔
آخری بات میں یہ کہتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لیجیے کہ ان حضرات کی ناراضی کی وجہ یہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں دوسروں کو گالیاں دینا جائز ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرام کی خاطر ناراض ہونے والے شخص دوسرے شخص کی گھر کی خواتین پر تو حملہ نہیں کر سکتا۔ اگر آدمی فی الواقع کسی شخص سے حق کی خاطر ناراض ہو تو وہ اس پر بہتان تو نہیں باندھ سکتا، اس کی عبارتوں میں الٹ پھیر تو نہیں کر سکتا، اس کے خلاف جھوٹے الزامات تو نہیں تصنیف کر سکتا۔ اب اگر کوئی شخص یہ سارے کام بھی کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہ صحابہ کرام کی خاطر یہ کام کر رہا ہے تو آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام کی توہین کون کر رہا ہے؟
سوال: مصر کا چپکے سے اسرائیل کو اسلحہ دے کر بھاگ جانا اور روکڑ، کا پھر مصر کے اسلحہ کی کمی کو پورا کر دینا کیا یہ سازش نہیں ہے؟ [یہ سوال، جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے ہاتھوں عرب دنیا کی شکست کے حوالے سے تھا جس میں نہ صرف مصر کے صحرائے سینا پر بلکہ اردن کے حصے بیت المقدس (یروشلم) اور شام کی گولان پہاڑوں پر بھی یہودیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔]
جواب: یہ کہنا کہ مصر نے چپکے سے اسلحہ دیا اور بھاگ گیا، صحیح نہیں ہے۔ مصر کسی آدمی کا نام تھوڑا ہی ہے جو بھاگ گیا تھا۔ ______ صورت حال دراصل یہ ہے کہ جن ملکوں میں قوم کو دبا کر رکھا جاتا ہے اور انھیں اپنے گھر میں ظلم برداشت کرنے کی تربیت دی جاتی ہے وہ ملک سے باہر جارحیت کے مقابلے میں بھی بڑے اطاعت گزار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ جو آمریت کی قوم سے روا رکھتی ہے۔ جو لوگ اپنی قوم کے سینے پر چڑھے بیٹھے ہوتے ہیں وہ دوسروں سے لا محالہ جوتے کھاتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ آزادی نہیں ہوتے جو وہ دوسروں سے لڑ سکیں۔ ان کی تو ساری قوت اپنی قوم کو دبانے میں صرف ہو رہی ہوتی ہے۔ ____ یہی برسوں سے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک میں بھی ہوتا رہا ہے۔ اب آپ اندازہ کیجئے کہ اخوان المسلمون اور مصر کے اندر کام کرنے والے جو غیر اشتراکی اور غیر ملحد عناصر تھے ان کے تو ایک ایک آدمی کے پیچھے سی ۔ آئی۔ ڈی لگی ہوئی تھی اور ان کے پل پل کی خبر رکھتی تھی۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل کی جنگی تیاریوں اور سکیموں کے بارے میں ان کی کوئی معلومات نہیں تھیں۔ آج وہ خود مانتے ہیں کہ ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ اسرائیل اتنی طاقت پیدا کر چکا ہے کہ اس انداز کے ساتھ حملہ آور ہو رہا ہے۔ اب یہ نہ پٹتے تو اور کیا ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ لوگ سب کچھ یونہی چھوڑ چھاڑ کر بھاگ آئے۔ اس شکست کے لئے برسوں سے تیاری ہوتی رہی ہے، فوج کو چونکہ اندرونِ ملک اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اس لئے اس میں خوشامدی اور جی حضوریوں کے لیے ترقی کے راستے کھلے چلے گئے۔ نا اہل اوپر آتے گئے۔ ان کی تنخواہوں اور رینک وغیرہ میں وہ اضافے ہوئے جن کے وہ خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔ اس چیز نے عیاشی کو عام کر دیا۔
رہا روسی امداد کا سوال تو اصل میں جہاں تک میں سمجھا ہوں میرا خیال ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اب دنیا باقاعدہ تقسیم ہو گئی ہے اور پورے سمجھوتے کے تحت ہوئی ہے، چین کے مقابلے میں اب چونکہ روس اور امریکہ کے درمیان ایک طرح کا سمجھوتہ ہے۔
امریکہ کو مسلمان ممالک میں روس کے اثر اور سوشلزم کے پھیلنے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سوشلزم پھیلے گا تو کم از کم اسلام کی جڑ تو کٹے گی، اور ظاہر بات ہے کہ انہیں بھی اسلام سے وہی دشمنی ہے جو چار پانچ سو برس پہلے عیسائیوں کو صلیبی لڑائیوں میں تھی۔ آج بھی اگر انہیں کمیونزم اور اسلام میں سے کسی کو ترجیح دینے کے لئے کہا جائے تو وہ کمیونزم کو ترجیح دیں گے۔
سوال: کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ہمارے ملک میں ناکام ہو گئی ہے تو ہم اس کی بحالی کے لئے کیوں کام کریں۔ جبکہ یہ بھارت میں بھی خاص طور پر ناکام ہو رہی ہے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: یہ کہنا ہی غلط ہے کہ جمہوریت ہمارے ملک میں ناکام ہو گئی ہے۔ پہلے ——— اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جمہوریت نام کس چیز کا ہے؟ جمہوریت اس چیز کا نام ہے کہ ایک ملک کے باشندے خود اپنے معاملات طے کرنے کے مختار ہوں اور ملک کے باشندوں کی جو رائے ہو ملک کا انتظام اس کے مطابق چلایا جائے۔ یہ ہے جمہوریت کا مفہوم۔
کیا یہ چیز اس ملک کے باشندوں کو حاصل ہے؟
آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان کا نظام حکومت ۱۹۳۵ء کے ایکٹ پر چل رہا تھا۔ ۱۹۳۵ء کا ایکٹ اس تصور پر قائم تھا کہ یہ برطانوی پارلیمنٹ ہے جو ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ گویا ہندوستان پر اقتدارِ اعلیٰ برطانوی عوام کا تھا۔ گورنمنٹ آف انڈیا اس ملک کے اندر برطانوی پارلیمنٹ کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتی تھی۔ جو تھوڑی بہت خود مختاری یہاں دی گئی تھی وہ اس قسم کی تھی، جس سے اصل فیصلے کے اختیارات کسی ایسی اسمبلی کو حاصل نہیں تھے جو اس ملک کے اندر انتخابات سے بنی ہو، بلکہ اصل فیصلے کے اختیارات وائسرائے کے ہاتھ میں تھے اور وائسرائے برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت تھا۔ اسی طرح صوبوں میں اصل فیصلے کے اختیارات گورنروں کے ہاتھ میں تھے، اور گورنر وائسرائے کے ماتحت تھے اور وائسرائے برطانوی پارلیمنٹ کا ماتحت تھا۔ اس تصور اور نظریے پر ۱۹۳۵ء کا ایکٹ مبنی تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو اس ایکٹ ہی کو ملکی دستور کی حیثیت سے Adopt کر لیا گیا اور جو اختیارات برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے پاکستان کے عوام کو منتقل ہوئے تھے۔ ان اختیارات کی امین دستور ساز اسمبلی بنی، یعنی برطانوی پارلیمنٹ کی جگہ اس دستور ساز اسمبلی نے لے لی تھی۔ باشندوں کی طرف ابھی اختیارات منتقل نہیں ہوئے تھے۔ دستور ساز اسمبلی جب تک دستور نہ بنا دیتی اس وقت تک اختیارات ملک کے باشندوں کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے تھے۔
دستور ساز اسمبلی نے دستور بنانے کے فرض کی تکمیل میں مسلسل کوتاہی کی۔ ۱۹۵۶ء تک دستور نہیں بنا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۶ء تک جس طرح آپ پہلے برطانوی پارلیمنٹ کی رعایا تھے۔ اس طرح اب اس دستور ساز اسمبلی کی رعایا بنے ہوئے تھے، کیوں کہ جو اختیارات برطانوی پارلیمنٹ کو حاصل تھے، وہی اختیارات اس دستور ساز اسمبلی کو حاصل تھے اور اس نے یہ اختیارات سالہا سال تک اپنے ملک کے باشندوں کو منتقل نہیں کیے۔ انتقال اختیارات کا یہ پہلا مرحلہ ۱۹۵۶ء کے دستور کے ساتھ مکمل ہوا۔ لیکن ۱۹۵۶ء کے دستور کی حد تک بھی صرف نظری طور پر اختیارات آپ کی طرف منتقل ہوئے تھے، عملاً وہ اس وقت تک منتقل نہیں ہو سکتے تھے جب تک کہ ملک میں عام انتخابات نہ ہو جائیں۔ ان عام انتخابات کا مرحلہ آتا تو آپ اپنے ان اختیارات کو عملاً استعمال کرتے یعنی ملک پر خود حکومت کرنے کے قابل ہوتے۔ لیکن قبل اس کے کہ عام انتخابات ہوتے اور ملک کے باشندے ان اختیارات کو استعمال کرتے جو ان کی طرف منتقل کئے گئے تھے ملک پر فوجی آمریت قائم ہو گئی اور مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ اس طرح انتخابات روک دیے گئے اور وہ ساری طاقت جو برطانوی پارلیمنٹ سے دستور ساز اسمبلی کی طرف منتقل ہوئی تھی، اس آمریت کے ہاتھ میں چلی گئی۔ یعنی جس طرح پہلے آپ برطانوی پارلیمنٹ کے غلام تھے اسی طرح اب فوجی آمریت کے غلام بن گئے۔
۱۹۶۲ء تک کوئی آئین نہیں بنایا گیا اور ملک مارشل لاء کے تحت رہا۔ ۱۹۶۲ء میں جو دستور بنا اس میں تمام اختیارات صدر کے ہاتھ میں دے دیے گئے۔ عوام کی طرف منتقل نہیں کئے گئے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ ۱۹۶۸ء تک یہ پورے ہیں سال جو گزرے ہیں ان میں ایک دن بھی یہاں پر جمہوریت بحال نہیں کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب یہاں عملاً جمہوریت کا آغاز ہی نہیں ہونے دیا گیا تو اس کی ناکامی کا پروپیگنڈا کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اسے یہاں کام کرنے کب دیا گیا ہے؟ یہاں جمہوریت قائم کب ہوئی ہے؟ اور کب اختیارات لوگوں کی طرف منتقل کئے گئے ہیں؟
جمہوریت کے ناکام ہونے کا جو ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے ذرا اس کو بھی دیکھ لیں۔ جمہوریت اس چیز کا نام ہے کہ ایک ملک کے باشندے اپنے اختیارات سے اپنے ملک کے معاملات کو چلائیں۔ اب ایک آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ملک کے باشندے اپنے معاملات کے چلانے کے قابل نہیں ہیں اس لئے میں سارے ملک کے معاملات کو خود چلاؤں گا۔ یعنی لوگوں نے اسے یہ نہیں کہا ہے کہ تم ہماری طرف سے معاملات چلاؤ بلکہ اس نے خود ہی یہ دعویٰ کر دیا اور خود ہی سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ معاملے کو آپ ایک مثال سے سمجھیں۔ مثلاً پندرہ سولہ برس کا ایک لڑکا ہے جسے اپنے باپ
کی طرف سے ایک بڑی میراث اور جائداد ملی ہے۔ اس کے باپ کے ملازموں میں کوئی منشی جی ہیں جو اس کے معاملات چلایا کرتے تھے۔ یہ منشی جی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لڑکا اپنی جائیداد سنبھالنے کے قابل نہیں ہے اس لئے میں اس کے سارے معاملات کو چلاؤں گا۔ چنانچہ منشی جی تمام اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ وہ اسے جائیداد میں کوئی کام نہیں کرنے دیتے۔ کسی قسم کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور عملاً اس کی ساری جائیداد کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ منشی جی اپنے جیتے جی سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھیں تو کیا یہ نوجوان کبھی اپنے معاملات چلانے کے قابل ہو سکتا ہے؟ ____ وہ تو اسی وقت اس قابل ہوگا جب کہ اس کی جائیداد اس کے ہاتھ میں ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں غلطی کرے‘ نقصان اُٹھائے‘ یا تکلیفیں جھیلے، لیکن اسی طرح وہ حالات کو سمجھے گا۔ اسی طرح وہ بہت کچھ سیکھے گا اور اپنے معاملات کو چلانے کے قابل ہو جائے گا۔ جمہوریت بھی اسی طرح اپنے معاملات کو خود سمجھنے اور تجربات سے سیکھنے کا نام ہے۔ یعنی Learning by experience۔ ایک قوم تجربات سے آہستہ آہستہ یہ بات سیکھ جاتی ہے کہ وہ اپنے معاملات کو کس طرح چلائے _____ لیکن اگر منشی جی عمر بھر جائیداد پر قابض رہیں تو وہ لڑکا بوڑھا ہو جائے گا مگر اپنے معاملات کو چلانے کے کبھی قابل نہ ہو سکے گا، اور اس کے بعد، قبل اس کے کہ منشی جی کا انتقال ہو وہ اپنے بیٹے کو بٹھا ئیں گے کہ اب یہ معاملات کو سنبھالے گا۔ یا ممکن ہے اپنے کسی بھائی بند کے حوالے کر دیں یا ان کے دفتر میں کوئی اور کلرک صاحب مُنتظر ہوں اور وہ قابض ہو جائیں اور سب کا ”استدلال“ یہ ہو کہ یہ لڑکا کوئی تجربہ نہیں رکھتا، اس لئے ہم جائداد کو سنبھالیں گے تو اس طرح وہ لڑکا ہی نہیں بلکہ اس کی اولاد بھی کبھی اس قابل نہیں ہو سکے گی کہ اپنی جائیداد کو سنبھال سکے۔ اسے کبھی تجربہ ہی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ہاتھ میں کوئی اختیارات ہی نہیں تھے۔
چنانچہ جمہوریت کی ناکامی کا دعویٰ فقط ایک مکاری ہے جو ایک ملک کے باشندوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے کے لئے کی جاتی ہے۔ ورنہ ظاہر بات ہے کہ کوئی قوم بھی جب آزاد ہوتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ پہلے دن سے اپنے معاملات کو چلانے کے کام میں ماہر ہو جائے۔ وہ قوم اپنے اختیارات کو انتخابات کے ذریعے Exercise کرتی ہے۔ انتخابات میں وہ دھوکا کھا سکتی ہے۔ غلط قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اپنے معاملات دے سکتی ہے۔ چار پانچ سال تک غلط قسم کے لوگ معاملات کو چلاتے رہتے ہیں۔ قوم اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہتی ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے چنا تھا وہ ہمارے ساتھ کیا۔ زیاد تیاں کر رہے ہیں۔ دوسرے انتخابات کی نوبت آتی ہے تو قوم انھیں اُٹھا کر پھینک دیتی ہے اور دوسرے لوگوں کو آگے لاتی ہے۔ وہ بھی اگر قوم کی اُمنگوں کا ساتھ نہیں دیتے تو قوم تیسرے انتخابات میں جا کر زیادہ بہتر لوگوں کو آزماتی ہے۔ اس طرح اسے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ قوم کو آزادی حاصل رہے، اس کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔ حالات لوگوں کے سامنے آتے رہیں اخبارات آزاد ہوں پبلک پلیٹ فارم آزاد ہو اور لوگ اپنے ملک کے حالات سے باخبر ہوتے رہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ وہ اس بات کو سیکھتے جاتے ہیں کہ کن لوگوں پر وہ اعتماد کریں ۔ اور کیسے لوگوں کے ہاتھ میں اپنے معاملات دیں۔۔۔۔ یہ ہے ایک قوم کی زندگی میں جمہوریت کی کامیابی کا راستہ ۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی قوم آزاد ہوتے ہی پہلے دن جمہوریت کو بڑی کامیابی کے ساتھ چلانے لگے۔ جس طرح قومی خوشحالی کے لیے دویا تین پنچ سالہ منصوبوں کی تکمیل شرط ہوتی ہے اسی طرح اگر جمہوریت کی کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لئے ایک قوم کو دو تین آزادانہ انتخابات کے مراحل سے گزرنا پڑے تو اس میں کیا ہرج ہے! اور اگر فرض کیجیے کہ اس دوران میں ملک کے حالات خراب بھی ہو جائیں تو ملک کے کسی ملازم کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ یکا یک ملک پر قابض ہو جائے۔ نوکر ہے تو نوکری کرے ، ملک کا مالک بننے کا اسے کیا حق ہے !