مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تصریحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔

کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔

کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ کے ساتھ ایک نشست

سید مودودیؒ مشرقی پاکستان (حال بنگلہ دیش) کے دورے پر گئے تو وہاں پر اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ نے یہ نشست منعقد کی ____ فروری ۱۹۶۸ء

سوال: صنعتی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کا جو مسئلہ پیدا ہوتا ہے، کیا اس کا حل بڑھتے کنٹرول اور سوشلسٹ معاشی نظام کے بغیر ممکن ہے؟

جواب: پہلی بات تو یہ سمجھ لیجئے کہ یہ جو موجودہ صنعتی تہذیب ہے اس میں بیروزگاری کس طرح آئی ہے۔ آپ ایک جامع اور صحیح منصوبہ بندی کے بغیر جتنا زیادہ مشینری کو استعمال میں لائیں گے اتنا انسانوں کو استعمال کرنے کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ مشینیں آگے بڑھتی جائیں گی انسان پیچھے ہٹتے جائیں گے۔ ایک مشین لگنے کے معنے یہ ہیں کہ ایک یا دو آدمی جو اس مشین پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اس مشین کی مدد سے اتنا کام کریں جتنا پہلے پچاس یا سو آدمی کرتے تھے ____ تو اس صنعتی تہذیب میں یہ چیز موروثی ہے کہ بے روزگاری پیدا ہو۔ اب اگر اس بے روزگاری کا علاج یہ تجویز کیا جائے کہ مزید آدمیوں کو پیدا نہ ہونے دیا جائے گا بلکہ صرف اتنے آدمیوں کو پیدا ہونے کی اجازت دی جائے جتنے آدمی مشینوں کو چلانے کے لئے درکار ہیں اور باقی انسانوں کو وجود میں آنے سے روکا جاتا رہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک وقت میں اگر یہ صنعتی تہذیب ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جائے کہ ایک ہی آدمی پورے ملک میں کام مشین کی مدد سے انجام دے لے تو پھر صرف ایک صاحب کی ضرورت باقی رہ جائے گی۔ باقی سارے انسان غیر ضروری اور بے کار قرار دیے جائیں گے۔ اور انھیں رخصت کرنے اور آئندہ کے لئے پیدائش کو مکمل طور پر روک دینے کی ”خاندانی منصوبہ بندی“ پر کام شروع ہو جائے گا۔ بیروزگاری کا علاج یہ نہیں ہے کہ آپ برتھ کنٹرول کے ذریعے سے آبادی کو گھٹانا شروع کر دیں بلکہ اس کا علاج ایک دوسرا اقتصادی نظام ہے جو کہ بیروزگاری کی خرابیوں کو دور کر سکتا ہے اور اس کے لئے ایک اور انداز کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کی تفصیل کا یہاں موقعہ نہیں ہے اس وقت یہ سمجھ لیجئے کہ برتھ کنٹرول صرف ایک معاشی پہلو نہیں رکھتا اس کے بعض اور بھی پہلو ہیں۔ درحقیقت برتھ کنٹرول کے کچھ اخلاقی نتائج ہیں اور کچھ اس کے نفسیاتی نتائج ہیں۔ اگر ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس کے تمام نقصانات سامنے آجاتے ہیں۔

اسی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سوشلزم بے روزگاری کا علاج کر دے گا تو وہ بھی نہ صرف غلطی پر ہیں بلکہ ناقص معلومات رکھتے ہیں۔ سوشلزم اس کا علاج نہیں کرے گا، بلکہ ایک زیادہ بڑی بیماری لے آئے گا۔ اس وقت تو یہ نقشہ ہے کہ کچھ لوگ برسر روزگار ہیں اور کچھ لوگ بے روزگار۔ لیکن بہر حال اس ملک کے عام باشندے آزاد تو رہتے ہیں۔ اس بات کا امکان تو رہتا ہے کہ ایک آدمی جو آج بے روزگار ہے کسی جگہ اسے ملازمت مل جائے وہ آزادی سے پھرے گا اور جہاں بھی اسے موقع ملے گا روزگار حاصل کر لے گا۔ لیکن سوشلزم ایک پوری کی پوری کمیونٹی کو باندھ لیتا ہے۔ اس کا انتظام چند ہاتھوں میں چلا جاتا ہے اور ملک کی پوری آبادی غلام بن کر رہ جاتی ہے۔ ساری صنعت اور زراعت ایک اقلیت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ زمین، مشینیں، تجارت سب چیزیں وہ ایک چھوٹا سا گروہ اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔ انسانی آزادیوں کو یوں سلب کر لینے کے بعد بھی یہ نظام بیروزگاری کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس وقت بھی روس میں بیروزگاری (Un-Employment) موجود ہے۔ سوشلٹوں کا یہ کہنا غلط ہے کہ سوشلزم بیروزگاری کو ختم کر سکتا ہے۔ روس میں سوشلزم بھی ہے اور بے روزگاری بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں کی بیروزگاری کی دنیا بھر میں تشہیر ہوتی ہے لیکن روس میں کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا۔ کوئی خبر رساں ایجنسی نہیں ہے جو ان کی خبروں کو دنیا کے سامنے لائے، کوئی ہڑتال یا احتجاجی جلسہ نہیں ہو سکتا۔ حالت یہ ہے کہ روا آدمی بیٹھ کر یہ بات کرتے ہیں کہ اس دور ظلمت (Regime) کو بدلنے کی ضرورت ہے لیکن قبل اس کے کہ یہ بات تیسرے آدمی تک پہنچے وہ جیل میں پہنچ چکے ہوتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ نہ __________ خاندانی منصوبہ بندی بے روزگاری کا کوئی حل ہے اور نہ سوشلزم اور اشتراکیت سے انسانی زندگی کے ان مسائل کا آبرومندانہ حل ممکن ہے۔ اس سب کچھ کا علاج اگر کوئی ہے تو وہ اسلام کے اقتصادی نظام کے پاس ہے۔ یہ نظام کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص بے روزگار ہو تو بیت المال فوراً اس کی کفالت کی ذمہ داری لے لے گا اور اس کی ضروریات فراہم کرنا شروع کر دیگا۔ جب بیت المال پر اس کا بار پڑے گا تو حکومت کو اس بات کا انتظام کرنا پڑے گا کہ اسے روزگار دلائے، یہ ہے اسلامی نظام میں بے روزگاری کے مسئلے کا حل۔

یہی نہیں بلکہ جہاں تک بے روزگاری کے آغاز اور اس کے پھیلنے کا تعلق ہے، اسلامی نظام اپنی ایک ایسی منصوبہ بندی اختیار کرے گا، جس میں انسان کی بھلائی نقطۂ آغاز ہوگی۔ مثلاً اس منصوبہ بندی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی کارخانہ بھی قائم کیا جا رہا ہو تو پہلے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ مشینیں لگیں گی تو کتنے آدمیوں کو کام ملے گا اور کتنے آدمی بے کار ہو جائیں گے۔ چنانچہ قبل اس کے کہ یہ کارخانہ کام شروع کرے سب سے پہلے ان آدمیوں کے لئے متبادل روزگار کا انتظام سوچا جائے گا۔ ہمارے موجودہ زمانے کے منصوبہ بندوں کے دماغ میں اس طرح کی منصوبہ بندی نہیں آتی۔ وہ اس طرح سوچتے ہی نہیں۔ سوچنے کا یہ اندازہ صرف ایک اسلامی حکومت اپنا سکتی ہے جو مملکت کے ایک ایک فرد کے معاملے میں خدا کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتی ہے۔

سوال: کیا ماڈرن میڈیکل (جدید طبی) سائنس میں مسلمانوں کا بھی کوئی حصہ ہے؟

جواب: ماڈرن میڈیکل سائنس دراصل مسلمانوں ہی کی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ اٹھارہویں صدی تک مغربی ممالک کے ہاں مسلمانوں ہی کی میڈیکل سائنس پڑھائی جاتی تھی۔ اس وقت تک اس سائنس میں جتنی ترقی ہوئی ہے اس سب کی بنا مسلمانوں کی ڈالی ہوئی ہے۔ جدید آلات جراحی سب سے پہلے مسلمانوں ہی نے ایجاد کیے تھے۔ انھیں کو ترقی دے کر رفتہ رفتہ موجودہ شکل اختیار کی گئی ہے۔ مختلف قسم کی دوائیں بھی اس وقت بیشتر وہی استعمال ہو رہی ہیں جو پہلے مسلمانوں کی میڈیکل سائنس میں استعمال ہوتی تھیں۔ اس میں شک نہیں کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں میڈیکل سائنس میں جو ترقی ہوئی ہے اس میں مسلمانوں نے کوئی حصہ نہیں لیا، اس لئے کہ مسلمان پچھلی کتابیں ہی پڑھتے پڑھاتے رہے آگے انھوں نے تحقیقی کام نہیں کیا۔ لیکن یہ مغربی عالموں کی بد دیانتی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے کام Contribution کو چھپانے کی کوشش کی ہے اور اسے اس طرح سے پیش کرتے ہیں گویا یہ سب کچھ ان کا اپنا کیا ہوا ہے۔ دوسروں نے کچھ نہیں کیا۔ اس سلسلے میں مفصل معلومات کے لئے انگریزی، اُردو اور بنگلہ زبانوں میں متعدد کتب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کے متعلق لکھا ہے۔

سوال: پاکستان ایک غیر سودی معاشی سوسائٹی برپا کرنے میں کیسے کامیاب ہوگا جبکہ اس کے پیش نظر ترقی بھی ہو؟

جواب: یہ سوال بہت تفصیل طلب ہے تاہم میں مختصر طور پر اس کا جواب بتا دیتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔آپ اس کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ غیر سودی معاشی سوسائٹی زیادہ پھلتی پھولتی اور ترقی کرتی ہے بہ نسبت اُس سوسائٹی کے جس میں سودی نظام کارفرما ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچے کے پیدا ہونے کے وقت سے ہی اس کا خون نکالنا شروع کر دیا جائے تو اس کی نشوونما نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح سے فرض کیجیے کہ اگر سود کا روپیہ قرض لے کر کوئی صنعت قائم کی جائے یا تجارت شروع کی جائے تو وہ صنعت یا کاروبار کب منافع دینے کے قابل ہو۔۔۔ ممکن ہے کہ۔۔۔ سال دو سال میں ہو لیکن سود تو اسی روز سے اس پر بڑھنا شروع ہو جائے گا جس روز سے وہ قرض لیا گیا ہو بلکہ ابھی کاروبار کا آغاز بھی نہیں ہوتا کہ سود لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کاروبار یا صنعت کے پھلنے پھولنے کی صورت یہ نہیں ہے کہ جو لوگ یہ سرمایہ لے کر کام شروع کریں انہیں چاہے کچھ ملے یا نہ ملے، سرمایہ دینے والے کو پہلے روز سے سود ملنا شروع ہو جائے۔

پھر آپ دیکھیں کہ یہ سود آخر کن کی جیبوں سے ادا کیا جائے گا۔ جب ایک کارخانہ یا کاروبار اپنی اشیاء کی قیمتیں مقرر کرے گا تو اس میں دوسرے اخراجات کے علاوہ اس سود کی رقم بھی شمار کرے گا جو اسے ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ گویا سود کی یہ رقم ان اشیاء کے خریدنے والوں سے وصول کی جاتی ہے۔ ___ یعنی نفع کارخانہ دار کا، سود روپیہ دینے والوں کا اور سود ادا کرنے والے معاشرے کے عام انسان۔ کیا اس چیز سے ایک معاشرہ ترقی کر سکتا ہے؟ ____ اسلام دراصل اسی لئے سود کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے کہ یہ ایک معاشرے کو پروان نہیں چڑھاتا بلکہ اس کا خون چوستا چلا جاتا ہے۔

سوال: مادی ترقی اور اخلاقی و روحانی ارتقاء میں توازن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے؟

جواب: اس دنیا میں یہی تو انسان کی ساری آزمائش ہے کہ وہ اس دنیا کو برتتے بھی اس میں اپنی روزی، اپنی خوشحالی اور آسائش و آرام کے لئے کوشش بھی کرے لیکن ہر کام میں اپنے خدا کی خوشنودی اور رضا کو بھی پیش نظر رکھے اور اپنے اخلاق کو بھی ٹھیک رکھے، یہی انسان کی آزمائش ہے اور اسی توازن کو برقرار رکھنے پر انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اسی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے قرآن مجید میں یہ بات بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اس دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرو کہ ہمیں خدا کو حساب دینا ہے۔ جب آدمی یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرے گا تو اپنی خوشحالی کے لئے وہی کام کرے گا جس کے متعلق اسے یہ اطمینان ہوگا کہ یہ میرے رب کے احکامات کے مطابق ہے۔ لیکن جس جگہ اسے یہ محسوس ہوگا کہ یہ کام اگر میں نے کیا تو اس کا میں اپنے خدا کو جواب نہیں دے سکتا اس جگہ وہ رک جائے گا۔ جو آدمی اس بات سے غافل ہو کہ اسے کبھی خدا کے حضور جوابدہی بھی کرنا ہے اور جا کر اپنا حساب بھی پیش کرنا ہے۔ وہ بگٹٹ چلتا رہے گا۔ جدھر بھی اس کے نفس کی خواہشات اور اغراض چاہیں گی اسی طرف چلتا جائے گا۔ لیکن جو آدمی یہ احساس رکھتا ہو کہ مجھے جا کر اپنے خدا کو حساب دینا ہے، وہ ہر لفظ زبان سے نکالتے وقت، ہر کام کرتے وقت اور دنیا میں ہر جدو جہد کرتے وقت برابر یہ دیکھتا جائے گا کہ میں کس فعل اور کس بات کا جواب دے سکتا ہوں اور کس بات کا جواب نہیں دے سکتا۔ بس یہ توازن قائم کرنے کا نسخہ ہے جو قرآن مجید نے ہمیں بتایا ہے۔

سوال: ہم تحریک اسلامی کے لئے اپنا وقت صرف کرتے ہیں تو والدین ناراض ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب: بچوں اور ان کے والدین کے درمیان تعلق کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اس کے قانونی حدود مقرر نہیں کیے جا سکتے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اپنے والدین کو بھی راضی رکھنے کی کوشش کریں اور اسلام کا کام بھی کرتے جائیں۔ عملاً یہ صورت ہے کہ بہت سے نوجوان سینما دیکھتے جاتے ہیں۔ جو اکھیلتے ہیں اور فسق و فجور کی دوسری صورتوں میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن والدین اپنی اولاد کو برداشت کرتے ہیں وہ اسے ذبح نہیں کر ڈالتے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنی نیک اولاد کو نہ برداشت کریں۔ اگر وہ آپ پر ناراض ہوتے ہیں تو ان کی ناراضی سہہ لیں، وہ ڈانٹتے ہیں تو آپ پلٹ کر جواب نہ دیں اور خاموشی سے ان کی ڈانٹ کو برداشت کر لیں لیکن اپنا کام کرتے جائیں۔

سوال: جب ہم تحریک اسلامی کا پیغام دوسروں تک پہنچاتے ہیں تو ہم پر مختلف الزامات چسپاں کیے جاتے ہیں۔ اور یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ہم امریکی امداد حاصل کر رہے ہیں۔ کیا ان الزامات کا جواب دینے کی ضرورت ہے؟

جواب: الزام لگانے والوں کے پیش نظر یہ ہے کہ آپ اپنا کام چھوڑ چھاڑ کر ان کے الزام کی جوابدہی میں لگ جائیں۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ انھیں الزامات لگانے دیجیے اور آپ اپنا کام کرتے جائیے۔ کچھ لوگ الزامات لگاتے لگاتے تھک جائیں گے اور بالآخر خاموش ہو جائیں گے اور کچھ لوگ انہی الزام تراشیوں میں اپنی عمر کھپا دیں گے لیکن آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ میرے ساتھ بھی ایک مدت دراز ہے یہ ہو رہا ہے لیکن میں کسی الزام کا جواب نہیں دیتا اور اپنا کام کیے چلا جاتا ہوں۔

رہی امریکی امداد تو اس کی حقیقت صاف ظاہر ہے۔ لوگ اپنے آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن کے پاس موٹریں ہیں، عالی شان کوٹھیاں ہیں، بے حساب بنک بیلنس ہے۔ وہ کون سا گروہ ہے اور جس پر امریکی امداد کا الزام لگایا جا رہا ہے اس کی حالت کیا ہے، امریکہ بڑا احمق ہے کہ وہ ان لوگوں کو امداد دے رہا ہے جو اس کا کام نہیں کرتے اور اسلام کا کام کیے جاتے ہیں۔ کیا واقعی امریکہ اسلام سے اتنی محبت کرنے والا ہے؟ لوگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بیرونی امداد کا ظہور کہاں ہو رہا ہے خستہ حال لوگوں میں یا عالیشان کوٹھیوں اور بڑی موٹروں والوں میں!

سوال: اسلامی ممالک کے ایک بلاک بننے کی امید ہے یا نہیں۔ براہ کرم اس پر روشنی ڈالیے۔

جواب: میں اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ ممالک جنھوں نے اشتراکیت کو بطور طریق زندگی کے اختیار کیا ہے وہ اس اتحاد کے شدید مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم اسلام کی بنیاد پر اکٹھے نہ ہوں اگر اکٹھے ہوں تو اشتراکیت کی بنیاد پر۔ گویا اُن کے نزدیک اسلام تو وجہ اتحاد نہیں بن سکتا البتہ اشتراکیت بن سکتی ہے۔ تمام کمیونسٹ ممالک ان کی اس مخالفت کو شد و مد سے رہے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ دار ممالک ہیں تو وہ بھی اس کے لئے تیار نہیں۔ اور اس راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ بعض مسلم ریاستیں ایسی ہیں جو چاہتی ہیں کہ اسلام کے نام پر جمع ہوں لیکن ان کی داخلی و خارجی مصلحتیں سد راہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن میرے نزدیک سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان ممالک میں اسلامی حکومتیں قائم نہیں، گونام کے اعتبار سے وہ مسلمان ضرور ہیں۔ اگر اسلامی حکومتیں قائم ہوتیں تو اس اتحاد میں ایک دن کی بھی تاخیر نہ ہوتی۔

سوال: کیا اسلامی حکومت میں بینکنگ جائز ہے اور وہ لوگ جو بینکوں میں ملازمت کر رہے ہیں ان کی ملازمتیں جائز اور درست ہیں؟

جواب: بینکنگ تو اس چیز کا نام ہے کہ کسی ایجنسی کے ذریعے کاروبار چلائے جائیں اور اسلام اس راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بینکنگ کی ایک شکل وہ بھی تھی جو حضرت امام ابوحنیفہؒ کے زمانے میں رائج تھی اور خود آپ کی دکان بہت بڑا پیمانے پر یہ کام سر انجام دے رہی تھی۔

موجودہ زمانے میں بنکوں کی اصل خرابی یہ ہے کہ وہ سود کے ذریعے سے سارا کاروبار چلاتے ہیں اور روپیہ بھی سود کے نام پر جمع کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں موجودہ بنکوں کی ملازمت ایسی ہی ہے جیسے کوئی قحبہ خانے یا شراب خانے میں ملازمت کرے۔

سوال: خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں اسلام کے احکامات کیا ہیں؟ براہ مہربانی وضاحت فرمائیں؟

جواب: اگر حضور کے زمانے میں ایسی کوئی تحریک اٹھتی تو میرا خیال ہے کہ حضور اکرمؐ اسی انداز سے اس کے خلاف جہاد کرتے جس طرح آپؐ نے شرک کے خلاف جہاد کیا تھا۔

بات شرم کی ہے لیکن ناگزیر ہے کہ میں اسے کھول کر سمجھاؤں۔ ہمارے ہاں عورت اور مرد کے آزادانہ میل جول کے بے شمار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں مخلوط تعلیم کا رواج ہو رہا ہے_____ ریڈیو دن رات عشقیہ گانے نشر کر کے ساری قوم کو عاشق مزاج بنا رہا ہے۔ ملازمتوں میں عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ فلموں کے ذریعے نوجوانوں میں آوارگی پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ سب کام کرنے کے بعد اگر کوئی رکاوٹ باقی رہ جاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ عورت محض اس لئے اپنے آپ کو ایک غیر آدمی کے حوالے کرنے سے ڈرتی ہے کہ کہیں ناجائز حمل نہ قرار پا جائے۔ یہ تحریک اس خوف کو دور کر دیتی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ جن ممالک میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کی تحریک شروع کی گئی، وہاں زنا کی کثرت عام ہو گئی ہے اور اس وقت مغرب میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں سو میں سے پینسٹھ بچے حرامی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر روٹی اتنی ہی اہم چیز ہے کہ لوگوں کو یہ تو ملے، خواہ اس کے نتیجے میں ان کے اخلاق تباہ ہو کر رہ جائیں تو اسلام میں ایسی روٹی کھانے سے مر جانا بہتر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضور کے زمانے میں یہ تحریک اٹھتی تو وہ شرک کے خلاف کیے جانے والے جہاد سے بڑھ کر اس کے خلاف جہاد کرتے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ آج کہا جا رہا ہے کہ حضور خود اس تحریک کی حمایت فرماتے تھے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو خدا کے خوف سے بے بہرہ اور اسلامی اصولوں سے بالکل ناواقف ہو۔