تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلام عصر حاضر میں
"اسلام عصر حاضر میں" کے زیر عنوان اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے جلسہ منعقد کیا اور خطاب کے بعد طلبہ نے سوالات کئے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۶۳ء۔
"اگر کوئی قوم پوری طرح سے اسلام کو اپنائے اور اپنا پورا نظامِ زندگی اس کے مطابق چلائے اور اسی کے لئے جینے اور اسی کے لئے مرنے کو تیار ہو تو میرا خیال ہے کہ آج دنیا اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ لوگوں کے لئے ناممکن ہے کہ چلتے پھرتے اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول نہ کریں، البتہ اگر آپ زبانی تقریروں اور کتابوں کے ذریعہ سے اسلام پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو قیامت تک آپ یہ ’’شغل‘‘ جاری رکھئے، دنیا کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ہوگا کہ اسلام قابلِ عمل ہے۔
میں جو چاہتا ہوں۔۔۔ اب اپنے مدعا کی بات بھی آپ سے عرض کیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قوم میں پیدا کیا ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں۔۔۔کہ
وہ قوم یہی قوم ہو، جس میں میں پیدا ہوا ہوں۔
تمام میری سیاست ہے تو یہی ہے۔
اور میرا مذہب ہے تو یہی ہے۔
میری ساری کوششوں کا مدعا یہ ہے کہ یہ قوم جس کے اندر میں پیدا ہوا ہوں یہ وہ قوم ہو کہ جو اسلام کو پوری طرح اپنا لے اور اس کو اپنی زندگی میں نافذ کر کے دکھادے ایسی زندگی جس کے اندر چلتا پھرتا اسلام نظر آئے۔
سوال: آپ نے فرمایا ہے کہ ایک زبردست طاقتور داعی ہونا چاہیے۔ کیا آپ اس منصب کے دعویدار ہیں؟
جواب: میں بالکل حیران ہوں کہ سائل کے ذہن میں یہ تصور کیسے آیا۔ میں اس طرح کا نہ کوئی دعویٰ رکھتا ہوں نہ میرے ذہن میں ایسا کوئی تصور ہے، میں تو اس بات کی ضرورت ظاہر کر رہا ہوں کہ اگر یہ انقلاب ہو سکتا ہے تو اس کے لئے بڑی زبردست انقلابی شخصیت کی ضرورت ہے۔ ویسے آپ خود بھی دعا فرمائیں اور میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی اپنے دین کی کوئی خدمت لے لے۔
سوال: آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا ہے کہ ”اسلام آج بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ اسلام پھیلانے کا یہ مقدس کام کون کر رہا ہے؟
جواب: کچھ اس سوال کی نوعیت یہ بتا رہی ہے کہ ایک خاص گروہ کی طرف سے یہ سوال آیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ گروہ جس چیز کو پھیلا رہا ہے اسے میں اسلام نہیں مانتا۔ البتہ یہ ہے کہ دنیا میں اسلام بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے۔ اور پہلے بھی پھیلتا رہا ہے۔ یاد رکھیں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ اسلام کے پھیلانے کے لئے باقاعدہ مشنری تنخواہ دار نکلے ہوں اور باقاعدہ مشن بنے ہوں۔ اسلام پھیلا ہے ایک ایک مرد مسلمان کی انفرادی کوششوں سے۔ تاجر گئے ہیں اپنی تجارت بھی کی ہے اپنے اثرات لوگوں پر ڈالے ہیں اور لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ مسلمان تنخواہ دار آرگنائزڈ مشنری کے تحت کام کرنے کے کبھی عادی نہیں رہے اور اسلام اس ذریعے سے کبھی تاریخ میں پھیلا ہو تو مجھے بتا دیا جائے۔
سوال: آپ کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ سندھ سے لے کر ہسپانیہ تک کے ممالک مسلمانوں کے اخلاق نے فتح کئے تھے جبکہ مسلمانوں کا اخلاق اور اس کے متعلقات تو خلافت راشدہ کے بعد ہی رخصت ہو گئے تھے۔ دورِ خلافت کے بعد جتنے بھی ممالک فتح کئے گئے وہ صرف تلوار کے بل بوتے پر فتح ہوئے، فاتح فوجوں اور امیروں کا کردار یہ ہوتا تھا کہ ان کے حرم مفتوحہ علاقوں کی حسین عورتوں سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ مسلمان فوجیوں کا کردار تو خلافت راشدہ کے بعد اس واقعے سے اچھی طرح سامنے آ جاتا ہے جس میں مدینے کو تین دن کے لئے مباح قرار دے دیا گیا تھا؟
جواب: اصل میں اس طرح کی جو بحثیں ہیں یہ کبھی تاریخ کو سمجھنے میں مدد گار نہیں ہو سکتیں۔ آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ دور جس میں انسان کو بلند ترین مقام پر اٹھایا گیا ہو اس دور میں بھی جرائم بھی پیش آئے ہیں، گناہ بھی ہوتے ہیں، آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر کسی کا چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹا گیا ہے تو بہر حال چوری کا فعل تو ہوا تھا نا۔
اس معاشرے میں اگر کسی کو زنا کی سزا دی گئی ہے تو زنا کا ارتکاب کسی نے کیا تھا نا، تبھی تو سزا دی گئی تھی۔ کوئی بلند ترین اور پاکیزہ ترین معاشرہ بھی لے لیجیئے یہ تصور کرنا کہ اس میں گناہ اور جرم کا قطعی طور پر استیصال ہو جائے یہ بالکل غلط ہے۔ اسی طرح سے جب ہم یہ ذکر کرتے ہیں کہ فلاں دور جو آیا تو اس دور میں یہ خرابیاں پیدا ہوئیں تو یہ تصور کرنا کہ وہ دور خود سے مجسم گناہ بن گیا تھا۔ یہ خیال غلط ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے آپ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں جو زبر دست Momentum اسلام کو ملا تھا اس کے اثرات تو آج تک ختم نہیں ہوئے بجائے کہ قریب کے زمانے میں ختم ہو گئے ہوتے۔
اب مسلمان بادشاہوں اور اُمراء کے افعال جیسے کچھ بھی رہے ہوں مگر اس کے مقابلہ میں عام مسلمان کا کردار نہایت بلند تھا اس لئے کہ ان کی سیاسی لیڈرشپ بادشاہوں اور اُمراء کے ہاتھ میں تھی اور ان کی روحانی اور اخلاقی اور ذہنی لیڈرشپ جو تھی وہ ہمیشہ علماء، فقہا اور صوفیاء کے ہاتھ میں رہی۔ ان پاکیزہ ترین انسانوں کے ہاتھ میں رہی ہے جن کی نظیر فی الواقع انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ تو ان لوگوں کو اثرات کے تحت آپ کے اسی ملک میں مسلمانوں کے اخلاق اتنے بلند تھے کہ ایک مسلمان جا کر اپنی مونچھ کا بال توڑ کر نیچے کہ پاس رہن رکھواتا تھا اور بنیا اس کو رکھتا تھا اس اطمینان پر کہ یہ اسے لینے کے لئے آئے گا اور قرض ادا کرے گا، کھا نہیں جائے گا۔ آخر ۸۰۰، ۹۰۰ برس تک یہ کردار اور یہ سیرت آپ کے ہاں رہی ہے، اس وجہ سے یہ خیال کرنا کہ ملوکیت کا دور آیا تو مسلمانوں کے کردار اور سارے اخلاق کا خاتمہ ہو گیا بالکل غلط ہے۔ اس طرح کی کوئی رائے قائم کرنے کے لئے کسی جزئی واقعہ کو بنیاد بنا لینا کہ یزید کے زمانے میں یہ ہوا اور فلاں زمانے میں یہ ہوا تھا پھر ان چیزوں سے یہ اندازہ کرنا کہ مسلمانوں کا کردار بحیثیت مجموعی یہ کچھ ہو گیا تھا، یہ غلط ہے۔ انفرادی واقعات اور جزئی واقعات ہر زمانے میں پیش آتے ہیں۔
سوال: نظام تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھال دینے کا کوئی فوری ذریعہ بتائیں؟
جواب: (مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا) فوری ذریعہ صرف ایک تعویذ ہوتا ہے اور وہ مجھے لکھنا نہیں آتا ہے۔ اس طرح کے معاملات فوری طور پر کبھی نہیں ہوا کرتے۔ (پھر فرمایا) اس طرح کے معاملات بتدریج ہی ہوا کرتے ہیں۔
سوال: سعودی عرب میں سیکولر حکومت نہیں ہے مگر پھر بھی وہ بہت پسماندہ ہے؟ (یہ وہ زمانہ ہے جب پٹرول کی دولت اس وسیع پیمانے پر نہیں نکلی تھی۔ مرتب)
جواب: اس طرح کے معاملات کے متعلق رائے قائم کرنے کے لئے قریبی واقفیت کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ کیا ہے؟ صدیوں سے وہاں کیا حالات رہے ہیں؟ اگر آپ ان حالات سے واقف ہوں تو آپ کو پتہ چلے کہ سعودی عرب کی پوزیشن کس لحاظ سے اچھی ہے اور کس لحاظ سے بری ہے۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تقریباً نو دس صدیوں سے عرب کا جزیرہ نما انتہائی Neglected (نظر انداز) علاقہ رہا ہے۔ تمام مسلمان ریاستوں نے اس سے غفلت برتی ہے۔ خصوصاً ترکی حکومت کے زمانے میں عرب ملکوں میں تعلیم کا سرے سے کوئی انتظام نہیں تھا۔ کوئی قابلِ ذکر مدرسہ سارے ملک میں نہیں پایا جاتا تھا۔ حرمین میں کچھ علماء درس وغیرہ دیا کرتے تھے۔ باقی سارا ملک اور یہ سیرت آپ کے ہاں رہی ہے، اس وجہ سے یہ خیال کرنا کہ ملوکیت کا دور آیا تو مسلمانوں کے کردار اور سارے اخلاق کا خاتمہ ہو گیا بالکل غلط ہے۔ اس طرح کی کوئی رائے قائم کرنے کے لئے کسی جزئی واقعہ کو بنیاد بنا لینا کہ یزید کے زمانے میں یہ ہوا اور فلاں زمانے میں یہ ہوا تھا پھر ان چیزوں سے یہ اندازہ کرنا کہ مسلمانوں کا کردار بحیثیت مجموعی یہ کچھ ہو گیا تھا، یہ غلط ہے۔ انفرادی واقعات اور جزئی واقعات ہر زمانے میں پیش آتے ہیں۔
سوال: نظام تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھال دینے کا کوئی فوری ذریعہ بتائیں؟
جواب: (مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا) فوری ذریعہ صرف ایک تعویذ ہوتا ہے اور وہ مجھے لکھنا نہیں آتا ہے۔ اس طرح کے معاملات فوری طور پر کبھی نہیں ہوا کرتے۔ (پھر فرمایا) اس طرح کے معاملات بتدریج ہی ہوا کرتے ہیں۔
سوال: سعودی عرب میں سیکولر حکومت نہیں ہے مگر پھر بھی وہ بہت پسماندہ ہے؟ (یہ وہ زمانہ ہے جب پٹرول کی دولت اس وسیع پیمانے پر نہیں نکلی تھی۔ مرتب)
جواب: اس طرح کے معاملات کے متعلق رائے قائم کرنے کے لئے قریبی واقفیت کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ کیا ہے؟ صدیوں سے وہاں کیا حالات رہے ہیں؟ اگر آپ ان حالات سے واقف ہوں تو آپ کو پتہ چلے کہ سعودی عرب کی پوزیشن کس لحاظ سے اچھی ہے اور کس لحاظ سے بری ہے۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تقریباً نو دس صدیوں سے عرب کا جزیرہ نما انتہائی Neglected (نظر انداز) علاقہ رہا ہے۔ تمام مسلمان ریاستوں نے اس سے غفلت برتی ہے۔ خصوصاً ترکی حکومت کے زمانے میں عرب ملکوں میں تعلیم کا سرے سے کوئی انتظام نہیں تھا۔ کوئی قابلِ ذکر مدرسہ سارے ملک میں نہیں پایا جاتا تھا۔ حرمین میں کچھ علماء درس وغیرہ دیا کرتے تھے۔ باقی سارا ملک مدارس سے خالی پڑا تھا۔ اس وقت بھی حالت یہ ہے کہ صحرائی علاقوں میں اگر آپ جائیں تو ایسے بدو آپ کو ملیں گے کہ جو سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص نہیں جانتے۔ جن کو یہ معلوم نہیں کہ نماز میں کیا پڑھا جاتا ہے۔ ___________ جن کو یہ معلوم نہیں کہ مسلمان کیا کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ یہ عرب میں اس وقت بھی بدوؤں کی حالت ہے۔ اس سعودی حکومت کو ابھی قائم ہوئے ۲۵، ۳۰ سال ہوئے ہیں۔ اس علاقے کے اندر تبدیلی آئی ہے۔ اب انھوں نے بڑے پیمانے پر اس علاقے کے اندر مدارس کھولنے شروع کیے ہیں۔ وہ اپنا کام کر رہے ہیں ان تمام نقائص کے باوجود جو اس سعودی حکومت میں پائے جاتے ہیں اور میں ان کے نقائص کا حامی نہیں ہوں لیکن بہر حال وہ کوشش کر رہے ہیں کہ عرب کی عام آبادی خوشحال ہو جائے۔ صدیوں کے انحطاط کے جو نتائج ہیں اُن کو چند برس میں نہیں ختم کیا جا سکتا۔
سوال: شرع کی رُو سے بھوک ہڑتال کے مسئلے پر روشنی ڈالیں۔ آیا کہ موجودہ حالات میں جب کہ کوئی بھی جائز بات نہیں مانی جاتی ہے اور جیلوں میں ڈال کر من مانیاں کی جاتی ہیں _________ اس سلسلے میں کس قسم کی رعایت اسلام دیتا ہے؟ کیا یہ حرام ہے؟
جواب: (مولانا نے شگفتہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے فرمایا) بھوک ہڑتال تو ہر گھر میں ہوتی ہے۔ بچے بھوک ہڑتال کرتے ہیں، بیویاں بھوک ہڑتال کرتی ہیں، کبھی شوہر بھی بھوک ہڑتال کر دیتے ہیں، بھوک ہڑتال کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ یہ کوئی ممنوعہ اور حرام چیز بھی نہیں ہے۔ البتہ اتنی احتیاط برتیے کہ مرنے کی نیت سے بھوک ہڑتال نہ کیجیے۔ مرنے کے لئے اگر بھوک ہڑتال کریں گے تو یہ خود کشی کا ارادہ ہو گا جو نا جائز ہے۔ باقی مخصوص صورت حال میں بھوک ہڑتال کرنے سے پہلے آپ اس بات کا انتظام کر رکھیے کہ جب آپ بھوک ہڑتال کریں تو کچھ لوگ شور مچائیں تاکہ آپ کا مسئلہ حل ہو اور اسلامی اصولوں سے تجاوز بھی نہ ہو۔
سوال: طلبہ کا سیاست میں حصہ لینا کیسا ہے؟ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ ان کے نا پختہ ذہنوں کا کسی بھی سیاسی جماعت کے ہاتھوں شکار ہو جانا عین ممکن ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ صحیح ہے یا غلط؟
جواب: اس معاملے میں میرا جو نقطہ نظر ہے وہ مختصر میں آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ طلبہ کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ اُن کو سیاست کے سمجھنے کا حق پہنچتا ہے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کیونکہ کل ان کو قومی زندگی کا چارج لینا ہے۔ موجودہ نسل کی قیادت کرنا اور معاملات کو چلانا ہے۔ اس لئے اُن کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مختلف گروہوں کے خیالات سے واقف ہوں، اپنے ملک کے حالات سے واقف ہوں، سیاسی نظریات سے واقف ہوں۔ اُنھیں اس بات کا علم ہو کہ ملک کا نظام کیسے چلایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں اگر کوئی حکومت طلبہ کو بسم اللہ کے گنبد میں پرورش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور یہ چاہتی ہے کہ جن لوگوں کی بات ہم سنوانا چاہتے ہیں۔ طلبہ صرف ان کی بات سنیں اور جن کی بات ہم نہیں سنوانا چاہتے طلبہ ان کے قریب پھٹکنے نہ پائیں۔ ایسی حکومت طلبہ کے ساتھ بھی اور ملک کے ساتھ بھی ظلم عظیم کا ارتکاب کرتی ہے۔ تو جہاں تک جاننے اور سمجھنے کا تعلق ہے یہ طلبہ کے فرائض میں سے بھی ہے او ان کے حقوق میں سے بھی ہے اس کے ساتھ طلبہ کہ یہ بھی حق ہے، خصوصاً وہ نوجوان طلبہ کہ جو تعلیم سے فراغت کے قریب ہیں ان کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ جو ان سے پہلے کی نسل ملک کے معاملات چلا رہی ہے وہ جانے سے پہلے ان کے حق میں کہیں کانٹے تو بو کر نہیں جا رہی۔ اس لئے کہ کل اُن کانٹوں سے ان کو سابقہ پیش آنا ہے۔ اگر وہ الجھنیں پھیلا کر جا رہی ہے تو کل ان الجھنوں سے ان کو سابقہ پیش آئے گا۔ جو مشکلات وہ پیدا کر کے جائیں گے ان مشکلات کو حل کرنا انھیں پڑے گا۔
عام طور پر سیاسی مسائل کے فیصلے کے لئے میدان میں اُتر آنا یہ طلبہ کا کام نہیں ہے۔ اس وقت کی جو نسل معاملات کو چلا رہی ہے۔ اس کام کو وہ ان کے لئے چھوڑ دیں۔ کیونکہ یہ کام ان کا نہیں ہے کہ وہ اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں اور مدرسوں سے نکل آئیں اور سیاسی مسائل کے تصفیے زبردستی کرائیں۔ البتہ بعض خاص مواقع ایسے آتے ہیں کہ جن میں یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ طلبہ بھی میدان میں آئیں اور سیاسی تحریکات میں حصہ لیں۔ جیسے کہ پاکستان کی آزادی کا مسئلہ تھا۔ کون آدمی ہے جو کھڑے ہو کر کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کی آزادی میں طلبہ نے جو حصہ لیا وہ ناجائز تھا اور اگر وہ جائز تھا تو معلوم ہوا کہ طلبہ کا سیاست میں حصہ لینا ہر حالت میں حرام نہیں۔ لیکن اس کو عام چیز بھی نہیں ہونا چاہیے کہ یہ آئے دن کا کھیل بن جائے اور عام سیاسی پارٹیاں وقتاً فوقتاً طلبہ کو اپنا آلہ کار بنا کر استعمال کریں۔ اس معاملے میں جو طلبہ کے لیڈر ہیں۔ ان میں اتنی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ وہ طلبہ کو غلط راستے پر نہ جانے دیں اور طلبہ کو آئے دن سیاسی کھیل کھیلنے سے روکیں۔ اگر وہ آئے دن سیاسی کھیل کھیلتے رہیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی تعلیم کا ستیا ناس ہو جائے گا اور وہ اس قابل نہ بن سکیں گے کہ مستقبل میں جب ملک کے معاملات ان کے ہاتھ میں آئیں تو خوبی کے ساتھ ان معاملات کو چلا سکیں۔