مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تصریحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔

کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔

کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ادب میں اخلاقی اقدار

طالب علموں کی فکری تہذیب کے لئے ادب بھی ایک بنیادی سرچشمہ ہے۔ طلبہ ادبی شہ پاروں سے اثر لیتے اور مستقبل میں تخلیق ادب کی ذمہ داری ادا کرنے کا عزم اور جذبہ حاصل کرتے ہیں۔ ”ادب میں اخلاقی اقدار“ کے مسئلے پر سید مودودی کی مختلف تحریریں اور گفتگوئیں پیش خدمت ہیں۔

آپ کی طبیعت کا رجحان اگر مختصر افسانے لکھنے کی طرف ہے تو اس کو نشو و نما دیجئے اور بڑے بڑے افسانہ نگاروں کے افسانے بکثرت دیکھ کر یہ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ کسی خاص نقطۂ نظر کو ناظرین کے ذہن میں غیر محسوس طور پر افسانہ کے ذریعہ سے اتار دینے کا کیا طریقہ ہے۔ افسانے کے عیوب میں یہ ایک بڑا عیب ہے کہ پڑھنے والوں کو یہ محسوس ہو جائے کہ افسانہ نگار اُن کے اندر کیا نقش بٹھانا چاہتا ہے۔ اور افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جو نقش آپ بٹھانا چاہتے ہیں، وہ آپ سے آپ بیٹھ جائے، بغیر اس کے کہ ناظر کا ذہن قبل از وقت چوکنا ہو کر اس اثر کو Resist کرنے پر آمادہ ہو۔ اس فن کو خصوصیت کے ساتھ رومی افسانہ نگاروں سے سیکھئے جنہوں نے اشتراکیت کی تبلیغ میں اس سے بہت کام لیا ہے۔ آپ اپنی ایک نہیں بلکہ دو چار کہانیاں مجھے نمونے کے طور پر بھیجیں، میں انہیں دیکھ کر پھر آپ کو رائے دوں گا۔

ایک اور طریقہ کھلم کھلا افسانے کے ذریعے سے کسی چیز کے تبلیغ کرنے کا بھی ہے، مگر اس صورت میں لکھنے والے کو بہت زیادہ قادر الکلام اور قوی الاستدلال ہونا چاہیے، تاکہ وہ اپنے زورِ بیان سے سے ناظرین کو اپنے ساتھ بہا لے جائے۔ میں آپ کے افسانے دیکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ آپ ان دونوں طریقوں میں سے کس طریقے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

(چودھری غلام جیلانی صاحب کے نام جنوری ۱۹۲۳ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہمیں اہل قلم کا ایک ایسا لشکر تیار کر لینا چاہئے جو علوم و فنون اور ادب کے ہر پہلو سے نظامِ حاضرہ پر حملہ آور ہو سکے۔ مجتہد مفکرین کو مدد بہم پہنچانے کے لئے ادیبوں، افسانہ نگاروں اور ڈرامہ نویسوں کا ایک گروہ بھی ضرور ہونا چاہئے جو فکری میدان کا رزار میں ”گوریلا وار“ لڑتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ایک لمحہ کا انتظار کئے بغیر ہم میں سے ہر شخص اٹھے اور جس سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرے۔ جو اہل علم ہیں وہ تخریب و تعمیر افکار کی مہم میں مصروف ہوں، جو اہل تعلیم ہیں وہ نئی نسل کی تیاری کے لئے مستعد ہو جائیں۔ جو ادیب ہیں وہ ادب کی مختلف راہوں سے نظام حاضر پر حملہ آور ہوں اور نظام اسلامی کی دعوت پھیلائیں، جو مضمون نگار ہیں وہ اخباروں اور رسالوں سے اظہار خیال شروع کر دیں۔“

(خطاب ۲۱ اکتوبر ۱۹۲۳ء ، در بھنگہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معاش کے لئے کوئی ادب پیدا کرنا میرے نزدیک غلط چیز ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ آدمی معاش کے لئے اینٹیں ڈھولے۔ ادب دماغوں کو ڈھالنے والی چیز ہے۔ یہ کام محض معاش کے لئے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کو تو بالکل اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق کرنا ہوگا۔

”نفس انسانی کو مطالعہ اور اس کے مختلف پہلوؤں کا اظہار بجائے خود مفید ہے، مگر اس میں ہر ایک کا اپنا تصور انسان کام کرتا ہے۔ جن لوگوں کے نزدیک انسان شریر اور خبیث ہے، وہ نفس انسانی کے بُرے پہلوؤں ہی کو نمایاں کرتے ہیں۔ ہمارا تصور انسان یہ نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں نفس انسانی کا مطالعہ اس نقطہء نظر سے نہیں کرنا ہے جس سے مغربی افسانہ و ڈرامہ میں کیا جا رہا ہے۔“

”ادب میں دو سکول آف تھاٹ ہیں۔ ایک اسکول اس کا قائل ہے کہ جیسا کچھ ہے اس کو بیان کیا جائے ۔ دوسرا اسکول اس کا قائل ہے کہ جو کچھ ہونا چاہیے اس کی تلقین کی جائے۔ ہم ان دونوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ ہے اُس کو اس طرح بیان کیا جائے کہ جو کچھ ہونا چاہیے اُس کی طرف خود بخود ذہن منتقل ہو اور اس کی پیاس پیدا ہونے لگے۔ تنقید کیجیے تو کسی تعمیری معیار کو سامنے رکھ کر کیجیے— اشتراکی صرف سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کرتا ہے۔ مگر ہم انسان کی خودمختارانہ غیر ذمہ دارانہ زندگی اور انسان کی بندگی مخلوقات پر تنقید کرنا چاہتے ہیں۔“

(نعیم صدیقی صاحب کے نام ایک خط ، یکم اکتوبر ۱۹۴۱ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اس نظریے کا قائل ہوں کہ ہر خیال اپنے ساتھ خود الفاظ لاتا ہے۔ اور ہر خیال کو ادا کرنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں وہی الفاظ ہیں جو اس خیال کے ساتھ خود بخود چلے آتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں صرف مضمون سوچنا چاہیے۔ باقی رہے الفاظ تو اُن کے لئے انتخاب میں الجھنے کی ضرورت نہیں وہ آپ سے آپ مضمون کے ساتھ آ جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ مجھے جب کبھی کچھ لکھنا پڑتا ہے، تو اپنی تمام تر کوشش صرف خیالات کو مجتمع کرنے اور دلائل و شواہد اور مواد فراہم کرنے میں صرف کرتا ہوں اور جب دماغ میں مضمون مرتب ہو جاتا ہے تو پھر اسے کاغذ پر منتقل کرنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے انتخاب میں میری بے اعتنائی کچھ ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ اکثر و بیشتر میں لکھنے کے بعد نظر ثانی بھی نہیں کرتا۔ الا یہ کہ کوئی خاص ذمہ داری کی تحریر لکھنا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی‘ افسانہ اور تمثیل کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ اس سے مقصود کسی خیال کو واقعہ کے رنگ میں بیان کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ خیال سامع کے ذہن نشین ہو سکے۔ اسے سُن کر کسی بلید الذہن آدمی کو بھی کبھی یہ غلط فہمی نہ ہو کہ کہنے والا کسی امر واقعہ کی روایت کر رہا ہے، اس لئے اس ایک معروف چیز کو خواہ مخواہ جھوٹ کی ایک قسم سمجھنا اور اس پر اعتراض کرنا محض ایک خشک خیالی اور بے جا تشدد ہے۔ کہانی تو خود حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی اور حدیث میں اس کی روایات موجود ہیں اور تمثیلی قصوں کی مثالیں قرآن مجید میں بھی پائی جاتی ہیں۔

(ماہنامہ ”مشیر“ کراچی افسانہ نمبر جنوری ۱۹۵۴ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”نوعِ انسانی جس المناک اضطراب میں مبتلا ہے اور روز بروز مبتلا ہوتی چلی جا رہی ہے، اس کا اصل سبب اعتدال کی سیدھی راہ سے اُس کا بھٹک جانا ہے اور یہ سیدھی راہ اگرچہ نظروں کے سامنے موجود ہے، لیکن جو لوگ بندگی نفس اور فریب نظر میں مبتلا ہیں وہ اوّل تو اسے دیکھنا نہیں چاہتے اور دیکھ بھی لیں تو اس پر آنا نہیں چاہتے۔ اس سیدھی راہ پر آنے کی بجائے وہ ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف بھٹکتے پھرنے کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اس کا نتیجہ خود اُن کے لئے اور ساری دنیا کے لئے کرب و الم میں روز افزوں اضافے کے سوا کچھ نہ ہو۔

جن لوگوں کو سواء السبیل کی معرفت حاصل ہے اُن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں اور قوت کے ساتھ عالم انسانی کو اس کج روی سے روک کی سیدھی راہ پر چلائیں۔ اپنی اور پرائے صلاحیت کو انسانیت کے بھٹکانے میں نہیں بلکہ راہ راست پر لانے میں استعمال کریں۔ کوئی شعر و ادب اپنی لفظی و معنوی خوبیوں کی بنا پر قابل قدر نہیں ہے۔ وہ اگر زندگی کی صلاح و فلاح کے لئے کام نہیں کرتا تو ذہن کی عیاشی اور اربابِ نشاط کی عشرہ گاہی ہے۔ اور اگر زندگی کو بگاڑنے کے لئے کام کرتا ہے تو بیشمار زہر ہے۔ قدر کے قابل وہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب اُس کا حسن زندگی کے جمال میں اضافے کا موجب ہو رہا ہو۔“

(پروفیسر فروغ احمد صاحب کی کتاب ”سواء السبیل“ پر پیش لفظ سے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعر اگر ناپاک جذبات سے خالی ہو اور جمالِ فطرت سے لطف اندوز ہونے کی حد تک رہے تو ناجائز نہیں۔ البتہ جہاں حسن و عشق کے جھگڑے شروع ہوتے ہیں، عدم جواز کی سرحد آ جاتی ہے کیونکہ یہ چیز اپنے اندر محض لطف نہیں رکھتی بلکہ غیر اخلاقی رویّہ کی طرف اس کا رجحان واضح ہے، خواہ اس پر کتنے ہی لطیف پردے ڈالے جائیں۔“

(ایک خط کا جواب، ۱۱ جولائی ۱۹۵۱ء ______ ”چراغِ راہ“ کراچی، اکتوبر ۱۹۵۱ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال: اخلاقی اقدار کو لٹریچر میں پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ کیا ہے؟

جواب: (مولانا مودودی نے فرمایا کہ) ”اخلاقی اقدار کو لٹریچر میں پیش کرنے کا سب سے بہتر طریقہ وہی ہے جو قرآن حکیم نے اختیار کیا ہے۔ قرآن حکیم حسن کلام اور تاثیر کلام کا سب سے مکمل نمونہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن حکیم نے انسانیت کو سنوارنے کے لئے لٹریچر میں اخلاقی اقدار کو جس طرح پیش کیا ہے، اس کو اختیار کریں۔ جس میں کلام کا حُسن بھی ہے۔ تاثیر اور بلاغت بھی ہے۔ سوسائٹی کے لئے اصلاح کا پروگرام بھی ہے۔ ایک خدا پرست معاشرہ کے قیام کے لئے دعوتِ انقلاب بھی ہے؛ جس میں فلسفہ، حکایات و قصص اور ضرب الامثال کی نہایت بہترین مثالیں موجود ہیں اور جو اتنا مؤثر ادب پیش کرتا ہے کہ اس کے مطالعہ سے ذہنیتوں اور سیرتوں میں انقلاب آ جاتا ہے۔ جو ایک پست اور گری ہوئی قوم کو اتنا بلند کرتا ہے کہ بہترین تہذیب و تمدن رکھنے والی قوموں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں (مولانا نے فرمایا) کہ قرآن حکیم نے ایک اعلیٰ درجہ کے ادب اور اسلوب میں ایک پاکیزہ نظریۂ حیات کو جس طرح پیش کیا ہے۔ میرے نزدیک لٹریچر میں اخلاقی اقدار کو پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے اور نہ اب تک دریافت ہو سکا ہے۔ زبان کی سادگی، بیان کی سلاست، عام فہم الفاظ، شاداب و شگفتہ پیرایۂ بیان، دل ہلا دینے والی باتیں قرآن حکیم کی خصوصیات ہیں اور انھیں خصوصیات کو ہمیں اپنے لٹریچر کا طرۂ امتیاز بنانا چاہیے۔“

سوال: لٹریچر میں محبت کا کیا مقام ہے؟

جواب: اگر محبت سے مراد عشق بازی ہے تو لٹریچر کو اس سے پاک ہونا چاہیے۔ لیکن اگر آپ کی مراد کسی مقصد، نصب العین اور صالح طرز حیات سے محبت ہے۔ تو لٹریچر کو اس سے آراستہ ہونا چاہیے کیونکہ عشق بازی بہر حال ایسا کوئی نیک کام اور تعمیری مقصد نہیں ہے کہ وہ لٹریچر کا موضوع بنے اور اس کو بیان کرنے کے لئے ادیب اپنی ادبی صلاحیتوں کو وقف کریں۔

سوال: لٹریچر میں عورت کا مقام کیا ہے؟

جواب: عورت کا مقام لٹریچر اور ادب میں وہی ہے جو زندگی میں ہے۔ زندگی میں اس کا مقام کھلونا بننا نہیں بلکہ اچھی ماں بننا ہے۔ اور ایک ماں کے جو فرائض ہیں وہ ہر شخص پر واضح ہیں جدید ادبیات میں عورت کو جس حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ ہوس کے کھلونے کی حیثیت ہے جبکہ ہوس پر کسی پائیدار اور پاکیزہ سوسائٹی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ تعمیر معاشرہ کے لئے سنجیدگی اور پاکیزگی شرط ہے۔ اور ہوس میں یہ دونوں باتیں مفقود ہیں۔ میرے نزدیک ادب میں عورت کو اس طرح موضوع گفتگو بنانا جس طرح آج کل بنایا جا رہا ہے۔ نہ تو جائز ہے اور نہ مفید۔ اب تو عورت کو صنفی تسکین کے لئے ادب میں وہ لوگ بھی پیش کرنے سے پرہیز کرتے ہیں جو سب سے پہلے عورت کو گھر سے گھسیٹ کر بازار میں لائے تھے۔ اگر ایک شخص کے لئے یہ بات صحیح اور درست نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اپنے تعلقات کو بر سر عام بیان کرے تو ایک غیر عورت سے ادب میں اپنی دل چسپی کا اظہار کیسے درست ہو سکتا ہے؟ معاشرہ کی صحت مندی کا انحصار اس حقیقت پر ہے کہ اس میں صنفی انارکی اور جنسی آوارگی نہ پائی جاتی ہو۔ قید نکاح سے باہر عورتوں اور مردوں کے درمیان کسی قسم کے صنفی تعلقات قائم نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایسا ادب کس طرح معاشرہ میں پسندیدہ سمجھا جا سکتا ہے جو جنسی آوارگی پیدا کرنے کا باعث ہو اور جو نکاح کے Institution کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے؟ ادب کا فطری منصب یہ ہے کہ وہ اس چیز کو مزین اور نکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرے۔ جو معاشرے کے لئے صحت بخش ہے۔“

(مولانا نے فرمایا کہ) "خیالی اور ذہنی محبوبہ سے لذت لینے کی عادت جب کسی شخص کو پڑ جاتی ہے۔ تو وہ زندگی میں واقعی ایک محبوبہ تلاش کرنے لگ جاتا ہے اور ہمارے معاشرہ کو محبوبہ قسم کی خواتین کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ان خواتین کی ضرورت ہے جو گھر چلائیں اور ایک بہترین رفیقہ زندگی بن کر ایک صالح اور جاندار خاندان کی تخلیق کریں۔ ذہنی بدکاری اور صنفی آوارگی سے کوئی معاشرہ تندرست و توانا نہیں بنا کرتا۔ اور اب تو جاہلیت کے نمائندہ معاشرے بھی ایک حد سے آگے ایسے لٹریچر کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں جو کسی وقت بھی صنفی انتشار کا باعث بن سکتا ہو، کیونکہ یہ بات ہر مکتب فکر کے نزدیک غلط ہے کہ سوسائٹی میں صنفی آوارگی کسی حیثیت سے بھی مفید ہے۔“

(مولانا نے مزید فرمایا کہ) "زندگی کے لئے جو باتیں مفید ہیں۔ وہی ہمارے ادب کا موضوع بن سکتی ہیں۔ انہیں کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت مؤثر اور جاندار بنا کر پیش کرنا چاہیے۔ اور اس بارے میں قرآن اور رسولؐ کے کلام سے رہنمائی حاصل کرنا چاہیے۔ کیونکہ مقصدی ادب کا اس سے بہتر اور مکمل نمونہ اسلام کے مخالفین کے نزدیک بھی کوئی دوسرا نہیں ہے۔“

(انٹرویو نگار: ابو صالح اصلاحی، ماہ نامہ ’یثرب‘ لاہور، ستمبر ۱۹۵۰ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”انسانیت کی تعمیر اور کسی پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں ادب جو اہم اور نمایاں حصہ ادا کرتا ہے‘ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کے دل و دماغ پر ادب کی قوت تاثیر ایک مسلم حقیقت ہے۔ دراصل کسی کلام کو ادبی کلام کہتے ہی اُس وقت ہیں، جبکہ اس کے مطالب و معانی ایسے الفاظ کا جامہ پہن کر سامنے آئیں، جن سے قلب اور ذہن متاثر اور متحرک ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ یہ تاثیر اور قوت متحرکہ ادب کا حسن بھی ہے اور اس کا عیب بھی۔ جو ادب فکر و عمل کی دنیا میں انتشار اور فساد کا موجب ہو وہ معاشرے کے لئے سم قاتل ہے اور جو ادب انسان کو اصلاح نفس اور اصلاح خلق پر آمادہ کرے اس سے بڑھ کر معاشرے کے امراض کے لئے کوئی نسخہ شفا بھی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے جو کتابیں نازل فرمائیں اور ان کتابوں کی تشریح میں انبیاء علیہم السلام نے جو کلمات ارشاد فرمائے ہیں، وہ ادب کا بہترین اور اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سننے اور پڑھنے سے جو دل پتھر تھے وہ بھی موم ہو گئے اور جو افراد ریت کے ذروں کی طرح بے نور تھے وہ آفتاب و ماہتاب بن کر افق عالم پر درخشاں ہوئے۔

آج جو لوگ پاکیزہ اور اصلاحی ادب یا دوسرے لفظوں میں اسلامی ادب کے علمبردار ہیں انہیں دو امور ضرور اپنے پیش نظر رکھنے چاہئیں: ایک یہ کہ جدید ادب کے ساتھ ساتھ انہیں اس الہامی اور ”قدیم ادب“ کا بھی برابر اور بغور مطالعہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ ایک طرف وہ اس کے بلیغ اُسلوبِ بیان سے مانوس ہوں اور دوسری طرف اس کے حیات بخش مضامین کا پرتو بھی ان کے دل و دماغ پر پڑتا رہے۔ دوسری بات، جس کا ہمارے ادیبوں کو شدت سے اہتمام کرنا چاہیے وہ یہ کہ ان قول اور عمل باہمی تضاد سے بالکل پاک ہوں۔ سیرت و کردار کی بلندی کے بغیر افکار کی بلند پروازی کسی کام کی نہیں۔ اس سے کام بننے کے بجائے اور زیادہ بگڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ہماری نگاہیں ہمیشہ ہی رہنی چاہئیں۔

<<يايها الذين امنوا لما تقولون مالا تفعلون O كبر مقتا عند الله ان تقولوا مالا تفعلون O>>

(ماه نامه ”ضمیر انسانیت“ لاہور اپریل ۱۹۵۷ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”اسلامی ادب صرف اس ادب کا نام نہیں جو گندگی سے پاک ہو۔ غیر نجس ہو اور صاف ستھرا ہو بلکہ اسلامی ادب وہ ہے جو اسلام کے نظریہ پر مبنی ہو۔ جن باتوں کو اسلام حق کہتا ہے، مسلم ادیب انہیں حق سمجھے اور دوسروں پر ظاہر کرے اور انہیں منوائے۔ جو باتیں اسلام کے نزدیک باطل ہیں، مسلمان ادیب انہیں جھوٹ سمجھے ان کے جھوٹ ہونے کا اظہار کرے اور انہیں جھوٹ ثابت کرے۔ اسلام جس نظام زندگی کو قائم کرنا چاہتا ہے۔مسلم ادیب اس کے لئے ادب کے دائرہ عمل میں سعی کرے۔

علمی لٹریچر کا مقصد ذہنوں کو تیار کرنا ہوتا ہے لیکن ادب دلوں کو مسخر کر کے انہیں حرکت پر آمادہ کرتا ہے اس لئے ادب کو موثر ہونا چاہئے اگر وہ قلوب کو متاثر نہیں کرتا اور ان میں جوش و ولولہ بھر کر انسانوں کو آمادہ حرکت نہیں کرتا تو وہ بے روح اور بے جان ادب ہے۔

ادب کو موثر بنانے کے لئے سات چیزوں کی ضرورت ہے اور میں پاکستان کے تمام مسلم ادیبوں سے کہوں گا کہ وہ ان چیزوں کو اپنائیں۔

ادب کو موثر بنانے والی پہلی چیز یہ ہے کہ ادب میں ابتذال نہ ہو۔ مسلم ادیب اپنے آپ کو مبتذل اور پامال راہوں سے بچاتے رہیں۔ مسلم ادیب میں انچ ہونی چاہیے۔ اس کا ذہن نئی راہیں نکال سکتا ہو۔ جو ادیب پٹی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں وہ لوگوں کو بہت جلد تھکا دیتے ہیں۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زبان عام فہم ہو وہ گنجلک زبان اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن سے ذہن آشنا نہ ہو۔ یہ کمزوری ان ادیبوں میں ہوتی ہے جو غیر زبان میں پڑھتے اور سوچتے ہیں اور اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں۔ لیکن مناسب الفاظ نہ پا کر انہیں گھڑتے ہیں۔ ایسے ادیبوں سے لوگوں کے ذہن مانوس نہیں ہوتے اور وہ ایک اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ گمراہ ادیبوں کی بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے ورنہ ان کی زبان شیریں اور عام فہم ہوتی تو وہ بہت زیادہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اسلامی ادیبوں کے اندر یہ صفت پیدا ہو۔

ادب کو موثر بنانے والی تیسری چیز پختگی فکر ہے۔ مسلم ادیب کو ادھ بھرے خیال ظاہر نہیں کرنے چاہئیں بلکہ انھیں اپنی فکر خوب اچھی طرح سلجھا لینی چاہیے۔ سلجھی ہوئی فکر زبان اور اسلوب بیان میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہونے دیتی۔

چوتھی چیز یہ ہے کہ ادیب کی معلومات وسیع ہوں۔ اس کے بغیر ادیب نہ تو کوئی کام کی بات کہہ سکتا ہے نہ دوسرے لوگوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کا سینہ اچھلے کنوئیں کی طرح ہوتا ہے۔ جس کا ذخیرہ بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔ ادیب کی معلومات جس قدر وسیع ہوں گی اتنی ہی موثر بات وہ کہہ سکے گا اس لئے اسلامی ادیبوں کو تاریخ، فلسفے وغیرہ کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔

پانچویں ضروری چیز ادیب کی قوتِ استدلال ہے۔ جس طرح علمی مضامین میں استدلال سے کام لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک ادیب اور ایک شاعر کو بھی استدلال کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن ادیب اور شاعر کا اندازِ استدلال منطقی ہونے کے بجائے شیریں اور دلکش ہوتا ہے۔ اس استدلال ہی سے وہ قاری سے اپنی بات منوالیا کرتا ہے۔ استدلال کے بغیر ادیب موثر نہیں ہوتا۔

چھٹی چیز یہ ہے کہ ادیب میں خلوص ہو جو ادیب مخلص ہوتا ہے اُس کے الفاظ اُس کے احساسات اور خیالات کے عین مطابق ہوتے ہیں اگر وہ اپنے احساسات کے خلاف کہنا بھی چاہے تو اس کی زبان اور قلم اُس کا ساتھ نہیں دیتے۔ مسلم ادیب حقیقی جذبات اور احساسات کے مطابق زبان اور قلم سے کام لیتا ہے جس سے اس میں بے پناہ طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔

ساتویں اور آخری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زندگی اس کے خیالات کے مطابق ہو۔ جو لوگ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں میرے نزدیک ان سے زیادہ فضول آدمی کوئی نہیں۔ ایسے لوگوں نے دنیا میں کوئی کام نہیں کیا۔ سیرت و کردار ہی بیان اور قلم میں زور پیدا کرتا ہے۔ کردار سے خالی گفتار بے اثر چیز ہے۔ کوئی اسلامی ادیب اس ابوالفضولی میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔

(حلقہ ادب اسلامی لاہور کے اجلاس میں خطاب: ۱۱ جولائی ۱۹۵۲ء ترتیب رفیع الدین ہاشمی۔ ماہ نامہ ”اسوۂ“ کراچی جون ۱۹۷۰ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال: اسلامی نظام میں ادب کا کیا مقام ہوگا؟ اس میں عورت کا کیا کردار ہوگا؟ کیا افسانے اور ڈرامے ختم ہو جائیں گے؟ پھر تو زندگی بڑی خشک ہو کر رہ جائے گی؟

مولانا مودودی: جب زندگی حرام ”نری“ کی عادی ہو جائے تو وہ حلال ”نری“ کو خشکی سمجھتی ہے۔ جب اسلامی ریاست قائم ہو گئی تو آہستہ آہستہ زندگی حلال کی عادی ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ اس ادب سے آپ کو گھن آنے لگے گی جس کو آپ اس قدر پسند کرتے ہیں۔ آخر وہ کیا ادب ہے جس میں بے حیائی اور گندگی ہو۔

ایسا ادب جو شریفانہ ہو۔ انسان بنانے والا اچھے جذبات کو ابھارنے والا ہو۔ اس کی گنجائش ہوگی، مگر اس میں عورت کا کردار لانے کی کیا ضرورت ہے؟ عورت کا مقام گھر کی ملکہ کا ماں بہن کا ہے۔ اس کا مقام اسٹیجوں پر ناچنا اور شہوانیت کو تسکین دینا نہیں ہے۔ عورت کو نچوا کر لطف اٹھانا اسلامیت نہیں ہے۔ ایسی اسلامی حکومت سے کیا حاصل جس میں عورتوں کو اسٹیج پر نچوایا جائے۔

(ہفت روزہ ”ایشیا“ لاہور ۳۰ ستمبر ۱۹۶۴ء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ بات کہ ادب کو اسلام اور غیر اسلام کی تفریق سے بلند ہونا چاہیے ایک لحاظ سے درست ہے اس لئے کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ ادیب کا مذہب ہوتا ہے۔ اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ پہلوانی یا سپہ گری وغیرہ بذات خود نہ تو اسلامی ہیں نہ غیر اسلامی۔ یہ فنون ہیں جن کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ البتہ پہلوان یا سپاہی کا کوئی نہ کوئی مسلک ضرور ہوتا ہے۔ اب ایک پہلوان محض پیشہ ور ہوتا ہے اور اس کا مقصد صرف اپنے فن کی نمائش ہوتا ہے۔ اسی مقصد کی خاطر وہ دنگل میں جاتا ہے یا اکھاڑے جماتا ہے۔ اسی طرح ایک پہلوان اپنی قوت کو محض غنڈہ گردی کیلئے استعمال کرتا ہے اور اسے ہم اس لئے پہلوان کہہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک پہلوان ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اپنی توانائی اور قوت کو معاشرے کی غنڈوں سے حفاظت میں صرف کرتا ہے۔ یہ سارے مسلک پہلوانی کے نہیں بلکہ پہلوانوں کے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اسلام اور غیر اسلام اور اشتراکیت اور غیر اشتراکیت سے بحث کوئی معنوی چیز نہیں ہے۔ در حقیقت ادیب کا تخلیقی عمل بالکل اسی طرح کا ہوتا ہے۔ جیسے بچے کی ولادت کا تخلیقی عمل ہوتا ہے۔ ادیب کے فکر کی کیفیت حمل کی مانند ہوتی ہے۔ جس سے بالکل فطری ولادت ہوتی ہے۔ ادیب جو کچھ بھی تخلیق کرتا ہے وہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ ادیب ایک انسان ہوتا ہے انسان کے اندر مختلف میلانات پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر ادیب کے اندر گمراہی کے میلانات ہیں وہ دنیا میں فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتا ہے تو اس کے اندر بُری نیتوں اور بُرے ارادوں کا حمل قرار پاتا ہے اور اس کے نتیجے میں لازماً وہی چیز پیدا ہوگی جو ان تمام مضرتوں کی حامل ہوگی۔ یہاں ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس گمراہی اور بدی کے باوجود اس ادیب کے اندر یہ صلاحیت ہو سکتی ہے کہ وہ جو چیز بھی پیش کرے اسے نہایت خوش اسلوبی سے فن کے سانچے میں اس طرح ڈھال کر پیش کرے کہ وہ بہت مؤثر بن جائے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا پیش کردہ ادب لوگوں کے اندر بُرے جذبات کو متحرک کرے گا اور اس سے معاشرے کو نقصان پہنچے گا۔ اس کے برعکس ایک دوسرا آدمی کسی اصلاحی مقصد کے پیش نظر اپنی ادیبانہ صلاحیتوں سے کام لے کر لوگوں میں پاکیزہ جذبات ابھارتا ہے۔ اسی لئے یہ چیز کسی مصنوعی طریقے پر نہیں پیدا ہو سکتی۔ ایک ایسا ادیب جو اسلام کے پیش کردہ حقائق کو درست سمجھتا ہو، معاشرت، معاش، تمدن اور سیاست وغیرہ کے اسلامی اصولوں پر ایمان رکھتا ہو وہ جب کبھی اپنی ادبی صلاحیتوں کو استعمال کرے گا تو بلا کسی ارادے اور کوشش کے وہ جو کچھ تخلیق کرے گا وہ اسلامی ادب ہوگا۔ اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ ادیب کو اسلام اور غیر اسلام سے بحث نہ ہونا چاہیے وہ دراصل دوسرے معنوں میں یہ کہتا ہے کہ ادیب کو صرف پیشہ ور ہونا چاہیے۔ وہ جس چیز کی بازار میں مانگ دیکھے اسے پیش کر دینا چاہیے لیکن اگر پیشہ ور ہونے کے بجائے مخلص (Sincere) ہوگا تو وہ لامحالہ کافرانہ ادب کے بجائے اسلامی ادب کو جنم دے گا۔

جہاں تک اسلامی ادب کے لئے روایات کا سوال ہے، تمام دنیا کا ادب (مجموعی) سے بلکہ اس سے پہلے سے لے کر اب تک ہر شخص اور زبان کی مشترکہ میراث ہے۔ اس ورثے میں یہ دیکھنا ہے کہ کام کی چیزیں کون کون سی ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔ اسلام پسند ادیبوں کو دراصل شہد کی مکھی کا کام کرنا پڑے گا۔ جہاں پھول ملے وہاں سے رس لیا جا سکتا ہے۔ کفار کے ادب میں بھی بہت سی اچھی باتیں ملیں گی۔ مغربی ممالک کے ادب میں بھی بہت سی کام کی چیزیں ملیں گی۔ عربی اور فارسی ادب میں بھی بہت فساد نظر آئے گا۔ اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کی فطرت اور مزاج کا صحیح ادراک ہو پھر اس فطرت اور مزاج کے مطابق جو چیز مل سکے اسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

اس میں شبہ نہیں کہ جہاں تک اخلاقی اقدار (Ethical Values) کا سوال ہے ان میں سے اکثر اقدار دنیا کے بیشتر مذاہب میں مشترک ہیں مگر ہمارے لئے محض اسلامی اقدار کا اشتراک ہی کافی نہیں کیونکہ ہر مذہب کے پیچھے ان کا اپنا فلسفۂ حیات، اس کا مابعد الطبیعیاتی نظریہ (Metaphysical Conception) ہوتا ہے۔ مثلاً اسلام اور بدھ مذہب میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں لیکن صرف یہ چیز اس بات کے لئے کافی نہیں ہے کہ ہم بودھ مذہب کے پروان شدہ ادب کو اسلامی کہہ دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بودھ مذہب اپنی اخلاقی قدروں کے پیچھے اپنا ایک مخصوص نظریہ تناسخ رکھتا ہے۔ اس کا فلسفۂ حیات راہبانہ ہے۔ اس کے برعکس ہماری اخلاقی اقدار اور ہمارا نظام حیات اس دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیتا ہے۔ نتیجہ ہمارا دینی پس منظر ہمارا مابعد الطبیعیاتی نظریہ اور ہماری فلسفیانہ بنیادیں اخلاقی اقدار کے اشتراک کے باوجود مختلف ہوں گی۔ اس لئے ہمارا ادب بودھ ادب سے بہت مختلف ہوگا۔ ہمارے یہاں آخرت کا تصور ہے ان کے وہاں تناسخ کا۔ ہم برائی کی اس لئے مذمت کرتے ہیں اور اس سے اس لئے بچتے ہیں کہ ہمارے خدا کو ناپسند ہے اور اس نے اس سے بچنے کو کہا ہے۔ ایک بدھسٹ برائی سے اس لئے بچے گا کہ انسان کو نقصان نہ ہو اور اس کا اگلا جنم اس جنم سے بہتر ہو۔ اب ظاہر ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سارے تصورات اس کے ادب میں سرایت کریں گے اور بودھ ادب کو اسلامی ادب سے ممیز کر دیں گے۔ اسی طرح مغربی ممالک کا ادب ہے۔ مغرب کا فلسفۂ حیات، مغرب کا نظریۂ زندگی الگ ہے مسلمانوں کا الگ ہے۔ اس لئے ان کے ادب میں فرق ناگزیر ہے۔

یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے پیدا کردہ شعر و ادب میں بھی (علامات) Symbols بیشتر ایسے ہیں جو حرام یا ممنوع چیزوں سے متعلق ہیں۔ جہاں تک میرے ذوق کا تعلق ہے میں ان علامات سے اجتناب پسند کروں گا لیکن ہمارے ادیب

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

کے قائل ہیں۔ ہمیں جہاں تک ممکن ہو نئے سمبل پیدا کرنے چاہئیں جو ہمارے مقدسات سے ہم آہنگ ہوں۔ یہ کام کچھ آسان نہیں ہے کیونکہ موجودہ علامات ایک عرصہ دراز سے متعارف اور پسندیدہ ہو چکی ہیں پھر بھی اگر اس طرح کی کوشش جاری رہے تو بعید نہیں کہ رفتہ رفتہ کچھ نئی علامات رائج ہو جائیں۔

<<الشعراء يتبعهم الغاوون>> ۔۔۔۔۔۔ کا صحیح مفہوم سمجھنے سے پہلے قرآن کی آیتوں کو سمجھنے کے لئے اولاً تو سیاق و سباق کا لحاظ لازمی ہے ورنہ مفہوم غلط ہو سکتا ہے۔ اصل چیز جس کے متعلق اس مقام پر بحث کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کفار مکہ رسول اکرمؐ کے پیغام پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے رہتے تھے اور اس کو رد کرنے کے لئے بہانے تلاش کرتے تھے۔ چنانچہ کبھی آپ کو مجنوں کہا گیا، کبھی ساحر کہا گیا اور کبھی شاعر کہا گیا۔ یہاں کفار کی اسی بات کا جواب مقصود ہے۔ کفار کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم جس شخص کو شاعر کہتے ہو اس کا ذرا عام شاعروں سے مقابلہ کرو اور دیکھو کہ کیا شعراء اسی وضع قطع کے ہوتے ہیں؟ کیا ان کا رنگ ڈھنگ یہی ہوتا ہے؟ اور پھر کہا گیا کہ ”شعراء“ کی حالت تو یہ ہے کہ بہکے ہوئے لوگوں کے پیچھے پھرتے ہیں اور ہر وادی میں بھٹکتے ہیں۔ ”کسی وقت ترنگ آئی تو بڑا حکیمانہ شعر کہہ ڈالا‘ پھر کسی وقت مزاج بدلا تو بڑا ہی صوفیانہ شعر کہہ گئے، کبھی جی چاہا تو بالکل رندانہ شعر کہہ ڈالا۔ کبھی کسی کی شان میں قصیدہ کہا اور پھر خفا ہو گئے تو اس کی ہجو لکھ ڈالی۔ غرض یہ کہ مختلف جذبات کو مبالغہ آمیز انداز میں نظم کر دیتے ہیں۔ اب یہ ساری باتیں عرب کے جاہل شعراء کے بارے میں کہی گئی ہیں۔ کلام جاہلیت موجود ہے اس کو قرآن سے کوئی مناسبت نہیں۔ پھر ان کے زندگیاں رسول اکرمؐ کی زندگی کی بالکل ضد تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں نکلتا کہ تمام شعر اور شاعری کا لعدم ہے۔ ایسا نہیں ہے شاعری کو پاکیزہ اور بلند جذبات کا آئینہ بنایا جا سکتا ہے۔ خود ہمارے یہاں اقبال کا