تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ریڈیو پاکستان نے اپنے قومی پروگرام میں سیّد مودودیؒ کا یہ انٹرویو نشر کیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور اسلامی جمعیت طالبات، اسلام کی دعوت کے لئے جو کام کر رہے ہیں، اس مکالمے میں اُس کام کے بنیادی نکات اجاگر ہوتے ہیں اس لئے قدر مکرّر کے طور پر پیش ہے۔۔۔۔۔۹-۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمائندہ ریڈیو: جناب قائد تحریک اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی!
ریڈیو پاکستان کے لئے یہ لمحہ بہت مبارک ہے کہ ریڈیو کا یہ نمائندہ جناب والا کی خدمت میں حاضر ہے۔ استدعا یہ ہے کہ خداداد مملکت پاکستان کے مسلمان تیس سال کی بے راہ روی کے بعد اللہ کی رسی کو پکڑنا چاہتے ہیں، اور اللہ کے فضل سے آج اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔ مولانا محترم! رہنما تو اور بھی ہیں لیکن ہماری پریشان خیالی کا عالم یہ ہے کہ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
آج صراط مستقیم پر گامزن ہونے کے لئے ہم ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے طالب ہیں، تاکہ ہماری دنیا اور دین دونوں سنور سکیں۔ مولانا محترم! پہلی گزارش تو یہ ہے کہ آپ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ حکومت کے بارے میں کچھ معلومات بہم پہنچائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کے دور میں ہم اس طریق حکومت کو کس طرح اپنا سکتے ہیں۔ آج کے دور میں ایک ترقی یافتہ مملکت کے حسن و قبح کو پرکھنے کے لئے حسبِ ذیل چار پہلوؤں سے جائزہ لیا جاتا ہے:
ا۔ اقتدار اعلیٰ کس کو حاصل ہے؟
۲- مقننہ کی نوعیت و اختیارات و حدود کیا ہیں؟
۳- عدلیہ کس حد تک آزاد اور بے لاگ ہے؟
۴- انتظامیہ کی حدود، اختیارات اور خصوصیات کیا ہیں؟
اس نقطۂ نگاہ سے آپ سے یہ درخواست ہے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک پر روشنی ڈالیں۔ ہمیں آج کے لئے، آنے والے کل کے لئے، بلکہ ہمیشہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور ارشادات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے ایک خزینے کی تلاش ہے۔ جناب والا! میری پہلی گزارش تمام ہوتی ہے۔
جواب: مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے مجھ کو یہ موقع دیا کہ میں ملک کے مسلمانوں کو عموماً اور ملک کے حکمرانوں کو خصوصاً یہ بتاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نظام حکومت قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد اور اس کی شکل کیا تھی۔
بنیادی طور پر جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی وہ یہ تھی کہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نہیں ہے، زمین خدا کی ہے، ہوا اور پانی اور روشنی اور ہر وہ چیز جس پر ہم زندگی بسر کرتے ہیں، سب کچھ خدا کا ہے۔ یہ جسم جو ہمیں حاصل ہے اور اس کے اندر جو طاقتیں ہیں اور اس کے جو اعضاء ہیں، سب خدا کے بخشے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ ہم خود اقتدار اعلیٰ کا دعویٰ کریں، یا کسی ایسے شخص یا گروہ، یا ادارے کا دعویٰ قبول کریں جو اقتدار اعلیٰ کا مدعی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اولین بات جو انسان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش فرمائی اور جس پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی، وہ یہی تھی کہ ملک بھی اللہ تعالیٰ کا ہے، حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے سوا کسی کو انسان کے لئے قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔
دوسری بات جو اسی طرح بنیادی اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو براہِ راست قانون نہیں دیتا، بلکہ اپنے رسولوں کے ذریعے سے دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے منتخب کئے ہوئے حکمران نہیں تھے۔ نہ خود بنے ہوئے حکمران تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصب پر مقرّر فرمایا تھا کہ آپ لوگوں کو تعلیم بھی دیں، ان کی تربیت بھی کریں، ان کے ذہن و فکر اور اخلاق کو بھی ٹھیک کریں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے احکام بھی پہنچائیں اور جو لوگ ان احکام کو قبول کر کے ان کے برحق ہونے پر ایمان لائے ہوں ان کے ذریعہ سے احکام الٰہی کو نافذ بھی فرمائیں۔
تیسری اہم چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کو بتائی اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی، وہ آخرت کا تصور ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ نہ سمجھے اور اس کو یہ یقین نہ ہو کہ ایک دن اسے مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا ہے اور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے۔ تو وہ نہ اسلام کے راستے پر چل سکتا ہے نہ حقیقت میں صحیح انسان بن سکتا ہے۔
ان عقائد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے تیرہ سال مکہ معظمہ میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے لوگوں کے سامنے پیش کیا، اور جن لوگوں نے ان کو مان لیا، ان کو آپ نے ایک جماعت، ایک اُمت کی شکل میں منظم کیا۔
حضورؐ کے زمانہ قیام مکہ کے آخری تین سال ایسے تھے جن میں مدینہ منورہ کے باشندوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ایمان لے آئی اور اس نے آپ کو دعوت دی کہ آپ ان کے شہر میں سب مسلمانوں کے ساتھ تشریف لے آئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت صحیح بات فرمائی ہے کہ ”مدینے کو قرآن نے فتح کیا ہے۔“ یعنی کوئی تلوار نہیں تھی، کوئی جابرانہ طاقت نہیں تھی جس سے مدینے کے لوگ اسلام کے پیرو بنے ہوں، بلکہ قرآن مجید۔ جب ان کو پہنچا، اور مکہ معظمہ میں قرآن کی جو سورتیں نازل ہوئی تھیں وہ ان کے علم میں آئیں تو وہ نہ صرف یہ کہ سچے دل سے ایمان لے آئے، بلکہ انہوں نے اپنی چھوٹی سی بستی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اہلِ ایمان کو تشریف لے آنے کی دعوت دیدی۔ یہ دعوت اس بات کی نہ تھی کہ آپ اور مکے کے مسلمان ان کے ہاں پناہ گزیں ہوں۔ بلکہ اس بات کی دعوت تھی کہ حضورؐ ان کے معلم، مربی اور فرما نروا ہوں، مہاجرین و انصار ایک اُمت مسلمہ بن جائیں اور مدینے میں وہ نظام زندگی قائم ہو جس پر یہ اُمت ایمان لائی ہے۔ اس طرح جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے پہنچے، اسی روز اسلامی حکومت کی بنا پڑ گئی۔
اس حکومت کا اوّلین کام یہ تھا کہ لوگوں میں اسلام کا علم پھیلایا جائے۔ کیونکہ اسلام جہالت کا نام نہیں، علم کا نام ہے۔ حضورؐ اور آپؐ کے ساتھیوں نے اپنی پوری قوت اس بات پر صرف کر دی کہ لوگ دین کو سمجھیں اور سمجھ کر ایمان لائیں۔ جوں جوں یہ علم پھیلتا گیا اور لوگ اس کو جان کر مانتے گئے، اسلام کی طاقت بڑھتی چلی گئی اور اس کی بنیاد بھی مضبوط ہوتی چلی گئی۔
دوسرا عظیم کام جو آپؐ نے کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے اخلاق درست کئے اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ پیدا کیا، جس کی ہر چیز اخلاق صالحہ پر مبنی تھی۔ کوئی نظام حکومت خواہ کیسا ہی اعلیٰ مرتبے کا ہو اور اس کے قوانین خواہ کتنے ہی بہتر ہوں، اگر اس کی عمارت عمدہ اخلاق کی مضبوط بنیاد پر قائم نہ ہو، اگر اس کے چلانے والے بلند سیرت و کردار کے مالک نہ ہوں، اور اگر وہ معاشرہ جس میں اسے قائم کیا گیا ہو ایمان دار اور خدا ترس نہ ہو، تو وہ کبھی کامیابی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اس لئے حضورؐ نے ایمان کی دعوت اور علم دین کی اشاعت کے بعد سب سے زیادہ زور جس چیز پر دیا، وہ تزکیہ اخلاق تھا۔ آپؐ کے قائم کئے ہوئے نظام حکومت کی فطرت ہی یہ تقاضا کرتی تھی کہ لوگوں کے اخلاق ٹھیک اس نظام کے مزاج کے مطابق ہوں۔ اس صورت میں احکام کو نافذ کرنے کے لئے قوت استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ جبر و قہر کے ساتھ زبر دستی اطاعت کرانے اور لوگوں کو دبا کر فرمانبردار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بس یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ فلاں چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فلاں چیز سے منع فرمایا ہے۔ اس
کے بعد لوگ خود بخود ان فرامین کی تعمیل کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں کوئی پولیس نہ تھی۔ کوئی جیل خانہ نہیں تھا۔ کوئی جاسوسی نظام نہیں تھا۔ اس بات کا تصور تک نہ کیا جا سکتا تھا کہ آپؐ کی زبان مبارک سے کوئی حکم لوگوں کو پہنچے اور وہ اس کی خلاف ورزی کریں۔
اس کے لئے امتناع شراب ہی کے معاملے کو بطور مثال لے لیجئے۔ جس وقت مدینے کی بستی میں یہ اعلان ہوا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے، اسی وقت شراب کے مٹکے توڑ دیئے گئے، اور پینے والوں میں سے جس کا ہاتھ جہاں تھا وہیں رک گیا۔ اس طرح کی پابندی قانون کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے برعکس امریکہ میں اربوں روپیہ اس کام پر صرف کیا گیا کہ لوگوں کو شراب کی برائی اور اس کے نقصانات کا قائل کیا جائے۔ بہت بڑے پیمانے پر اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ اور رائے عامہ کی تائید سے امریکہ کے دستور میں ترمیم کر کے امتناع شراب کا قانون پاس کیا گیا۔ لیکن جس روز یہ قانون پاس ہوا اس کے دوسرے ہی روز سے پورے ملک میں اس کی خلاف ورزی شروع ہو گئی۔ طرح طرح کی زہریلی شرابیں پی جانے لگیں، اور یہ وہ بالی قدر خطر ناک صورت اختیار کر گئی کہ آخر کار اس قانون کو منسوخ کرنا پڑا۔ اب ذرا مقابلہ کر کے دیکھ لیجئے۔ ایک جگہ بس ایک حکم سنا دیا جاتا ہے اور فوراً اس کی تعمیل کی جاتی ہے۔ دوسری جگہ بڑی تیاری کے بعد لوگوں کی مرضی سے قانون بنایا جاتا ہے اور لوگ اس کو توڑ ڈالتے ہیں۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ ایک صالح نظام حکومت کی بنیاد ایمان اور اخلاق پر قائم ہوتی ہے۔ جہاں یہ دونوں چیزیں موجود نہ ہوں وہاں آپ کا کاغذ پر خواہ کتنا ہی اچھا دستور اور قانون بنا لیجئے، زمین پر وہ کبھی نافذ نہیں ہو سکتا۔
سوال: موجودہ زمانے کی مغربی جمہوریت کی جو چار خصوصیات ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خصوصیات کس شکل میں تھیں؟
جواب: جہاں تک اقتدار اعلیٰ کا تعلق ہے، میں بتا چکا ہوں کہ حضور کی تعلیم کے مطابق یہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ رہی نظام حکومت کی تین شعبوں میں تقسیم، یعنی منتظمہ، مقننہ اور عدلیہ تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں نہ تھی۔ حضور قانون دینے والے بھی تھے، جج بھی تھے اور حاکم بھی۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نبی کی حیثیت سے یہ تمام اختیارات آپ کی ایک ہی ذات میں جمع تھے۔
لیکن حضور کا قاعدہ یہ تھا کہ جو حکم اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو ملتا تھا اس میں تو آپ لوگوں سے بے چون و چرا اطاعت کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس میں کسی کے لئے کلام کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی، لیکن جس معاملہ میں اوپر سے کوئی حکم آیا ہوا نہ ہوتا تھا اس میں آپ صحابہ سے خود بھی مشورہ فرماتے تھے۔ صحابہ کو بھی یہ حق دیتے تھے کہ وہ آپ کی رائے سے اختلاف کریں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ آپؐ نے اپنی رائے چھوڑ کر ان کی رائے قبول فرمائی ہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر آپؐ نے ابتداء میں جس جگہ پڑاؤ کیا تھا اس کے متعلق ایک صحابی نے اٹھ کر پوچھا کہ یہ جگہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اختیار فرمائی ہے یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ آپؐ نے فرمایا ”نہیں، میں نے خود یہ جگہ تجویز کی ہے۔“ اس پر انہوں نے عرض کیا کہ ”اس کے بجائے فلاں مقام جنگی حیثیت سے زیادہ موزوں ہے۔“ اور آپؐ نے ان کی رائے قبول فرمالی۔
اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دو طرح کی تربیت دے رہے تھے۔ ایک اس بات کی تربیت کہ جب خدا کی طرف سے کوئی حکم آئے تو اس کی بے چون و چرا اطاعت کرو۔ دوسری تربیت اس بات کی کہ جس معاملے میں خدا کا حکم نہ ہو اس میں اہلِ الرائے سے مشورہ بھی کیا جائے، لوگوں کو بحث کا کھلا حق بھی دیا جائے، حضور کی اپنی رائے تک سے اختلاف کرتے ہوئے دوسری رائے بھی پیش کی جاسکے اور مشورے کے بعد جو بات طے ہو اس پر عمل کیا جائے۔
ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ جنگِ احزاب کے موقع پر جب حالات بہت نازک ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ دشمنوں کے چند قبائل، جن کی بڑی طاقت وہاں جمع تھی، ان کو مدینے کی پیداوار کا ایک حصہ پیش کر کے مخالفین کی جتھہ بندی سے انہیں الگ کر دیا جائے۔ انصار کے سرداروں نے حضور سے عرض کیا کہ ”یہ معاملہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم سے طے فرما رہے ہیں یا یہ آپ کا اپنا خیال ہے؟“ حضور نے فرمایا ”یہ میرا اپنا خیال ہے میں تمہیں اس خطرے سے نکالنا چاہتا ہوں جس میں تم پڑ گئے ہو۔“ انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ، جب ہم کافر تھے اس زمانے میں بھی یہ
قابل ہم سے ایک حد تک نہ لے سکے تھے اور اب تو ہم مسلمان ہیں۔ اب ہم سے کوئی چیز کیسے لے سکتے ہیں۔‘‘ چنانچہ اسی وقت ان کے کہنے کے مطابق یہ معاملہ ختم کر دیا گیا۔ اس مثال سے بھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز حکومت کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جن معاملات میں اللہ کا حکم ہوتا تھا وہاں کوئی جمہوریت نہ تھی اور جن معاملات میں اوپر کا حکم نہ ہوتا تھا ان میں پوری جمہوریت تھی۔
اب عدلیہ کے مسئلے کو لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قاضی تھے۔ اس لئے عدلیہ بھی پوری طرح آپ ہی کے ہاتھ میں تھی۔ اس معاملے میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ نہ صرف انصاف کیا جائے بلکہ لوگ بھی یہ دیکھ لیں کہ انصاف کیا جا رہا ہے۔ تمام مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں ہوتی تھی۔ خفیہ سماعت کی کوئی نظیر آپ کے طریق عدل میں نہیں ملتی۔ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ایک صحابی نے مشرکین مکہ کے نام ایک خط لکھ دیا جس میں ان کو مطلع کیا گیا تھا کہ تم پر حملہ ہونے والا ہے۔ وہ خط پکڑا گیا۔ اب یہ صریح جاسوسی کا معاملہ تھا۔ اس زمانے کے لوگ کہیں گے کہ ایسا خطرناک معاملہ تو بند کمرے میں پیش ہونا چاہئے تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں اس کی کھلی سماعت فرمائی۔ دوسرا اہم قاعدہ آپ کی عدالت کا یہ تھا کہ کسی مقدمے کا فیصلہ فریقین کی بات سنے بغیر نہ کیا جائے اور کسی شخص کو صفائی کا پورا موقع دئے بغیر ایک لمحے کے لئے بھی اس کے کسی بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ حضورؐ نے مدینہ کے باہر جو قاضی مقرر فرمائے تھے ان کو بھی آپ کی ہدایت یہ تھی کہ فریقین کی بات سنے بغیر کسی معاملے کا فیصلہ نہ کریں۔ عدالت کے کام میں سفارش کا دروازہ آپ نے بڑی سختی کے ساتھ بند کر دیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد قریش کے ایک معزز خاندان کی عورت نے چوری کا ارتکاب کیا۔ اس کے خاندان نے کوشش کی کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ حضرت اسامہؓ بن زیدؓ سے، جو حضورؐ کو نہایت عزیز تھے، سفارش کرائی گئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ تم حدود اللہ کے معاملے میں سفارش کرتے ہو؟ تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہیں وہ اسی لئے تباہ ہوئیں کہ ان کے عام آدمی جب کوئی جرم کرتے تھے تو ان کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی تھی، اور بڑے لوگ جب وہی جرم کرتے تھے تو ان کے ساتھ رعایت برتی جاتی تھی۔ خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ اس طرح آپ نے سفارش کا دروازہ ہی بند نہ کیا بلکہ یہ اصول بھی قائم فرما دیا کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ یہ اصول بھی آپ نے قائم فرما دیا کہ۔۔۔ اگر کوئی شخص عدالت کو دھوکا دے کر اپنے حق میں غلط فیصلہ حاصل کر لے تو اس کا فائدہ وہ دنیا ہی میں اٹھا سکے گا۔ آخرت میں خدا کی پکڑ سے کوئی چیز اسے نہ بچا سکے گی۔
اس کے بعد مقننہ کا مسئلہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ جو دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اس میں چونکہ بنیادی طور پر قانون اللہ تعالیٰ کا تھا اور وہی قانون بنانے کا حق رکھتا تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قانون ساز کی نہ تھی بلکہ قانون کو نافذ کرنے والے، اس کی تشریح کرنے والے اور لوگوں کو اس کے مطابق عدل و انصاف کا نظام چلانے کی تربیت دینے والے کی تھی۔ آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون کیا ہے اور پھر اس کی وہ تشریح فرمائی جو سنت میں پائی جاتی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں چوری کی سزا کا حکم بڑے مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو۔ اس سے زائد کوئی تفصیل قرآن میں نہیں ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جس نے ہمیں بتایا کہ اس حکم پر عمل کن حالات میں ہوگا اور کن حالات میں نہ ہوگا۔ چوری کسے کہتے ہیں اور کسے نہیں کہتے۔ کس قسم کے اور کتنے مال کی چوری کے لئے یہ سزا ہے اور اس پر عمل کس طرح ہوگا۔ اگر سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی یہ تشریح ہمیں نہ ملی ہوتی تو ہم اس حکم کی کبھی صحیح تعمیل نہ کر سکتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضور خود قانون ساز نہیں تھے بلکہ اصل قانون ساز اللہ تعالیٰ تھا اور آپ اس کے مقرر کردہ سرکاری شارح تھے۔ اس طرح جس چیز کو ہم اسلامی قانون کہتے ہیں وہ قرآن اور سنت رسولؐ کے مجموعے کا نام ہے۔
قانون نافذ کرنے کے معاملے میں جو نظام آپ نے قائم فرمایا تھا اس کے بڑے بڑے اصول یہ تھے کہ لوگوں کو جہاں تک ممکن ہو سزا سے بچاؤ۔ قاضی کا کسی قصور وار کو چھوڑ دینے کی غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ بے قصور کو سزا دینے میں غلطی کرے۔ آپس کے جھگڑوں کا فیصلہ لوگ خود کر لیں، یا کسی کے قصور کو معاف کرنا ہو تو معاف کر دیں، یا کسی کے جرم و گناہ پر پردہ ڈالنا ہو تو ڈال دیں۔ یہ سب کچھ عدالت میں معاملہ پہنچنے سے پہلے تک ہو سکتا ہے لیکن جب عدالت تک معاملہ پہنچ جائے تو کوئی معافی اور پردہ پوشی نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد تو پھر عدالت ہی قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کو آپ نے سختی کے ساتھ منع فرما دیا۔ اور قاضی کو قرآن و سنت اور خود اپنی سمجھ سوجھ کے مطابق بے لاگ فیصلہ دینے کے لئے آزاد قرار دیا۔ آپ نے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ علم کے بغیر فیصلہ کرنا، یا علم رکھتے ہوئے غلط فیصلہ کرنا سخت گناہ ہے۔ صحیح قاضی وہ ہے جو قانون کا علم رکھتا ہو اور اپنے علم کے مطابق بے رو رعایت فیصلہ کرے۔
اس سلسلے میں چند باتیں اور سمجھ لینی چاہئیں۔ موجودہ زمانے کے سیاسی نظریات کو بنیاد بنا کر عہدِ رسالت کے معاملات کو اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ مثلاً اس زمانے میں ریاست کے تین شعبے ہوتے ہیں۔ انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ۔ پھر آئینی طریقے سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ ان شعبوں کے حدود کیا ہیں۔ مگر اس زمانے میں صورت معاملہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینے تشریف لے جانے سے پہلے وہاں کے بڑے بڑے گھرانوں کے الگ الگ احاطے ہوتے تھے جن کے اندر ان کی زمینیں، ان کے باغات، ان کے رہنے سہنے کے گھر اور ان کے سقیفے (یعنی چوپالیں اور پنچایت خانے) ہوتے تھے۔ وہاں قبائلی نظام رائج تھا اور ہر قبیلے کے لوگ اپنے معاملات کو خود چلاتے تھے۔ مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اہل مدینہ کے ایک بڑے گروہ نے بیعت کی تو آپ نے خود ان کی درخواست پر بارہ نقیب مقرر فرما دیئے جو اپنے اپنے قبیلوں میں زیادہ قابل، زیادہ با اثر اور زیادہ با اعتماد تھے۔ اور یہ ہر نقیب کی ذمہ داری تھی کہ اس کے قبیلے کے مختلف گھرانوں میں جو صالح اور معتبر سردار ہوں ان کی مدد سے اخلاق اور معاملات کو درست رکھیں۔ قبیلوں اور گھرانوں میں جو لوگ فطری طریقے سے سردار پائے جاتے تھے انہی میں سے ایمان لانے والوں کو آپؐ نے سربراہ بنا دیا تھا۔ پھر جب حضورؐ خود مدینہ تشریف لے گئے تو اس نظام کو آپ نے برقرار رکھا۔ فرق جو کچھ واقع ہوا وہ یہ تھا کہ شہر کے مشترک سرداروں کی جگہ ایمان لانے والوں کو سرداری کا مقام حاصل ہو گیا۔ یہ تغیر ووٹوں کے ذریعے نہیں ہوا بلکہ یہ اسلامی انقلاب کا فطری تقاضا تھا کہ مشرک پیچھے ہٹتے چلے گئے اور مسلمان سردار آگے آتے گئے۔ شہر کے معاملات کو چلانے کے لئے حضورؐ مہاجرین کے اہل الرائے اور انصار کے سرداروں سے مشورہ فرماتے تھے۔ یہ مجلس مشاورت موجودہ زمانے کی مقننہ یا پارلیمنٹ سے کوئی مشابہت نہ رکھتی تھی۔ مسلمانوں میں جو لوگ بھی بااثر اور قابل تھے، خواہ وہ مہاجرین میں سے ہوں یا انصار میں سے ہر اہم موقع پر، ہر اہم معاملے میں۔ جب بھی ضرورت ہوتی تھی مشورے کے لئے ان کو بلا لیا جاتا تھا۔ وہ عوام کے منتخب کئے ہوئے نہیں تھے۔ ان کا کوئی باقاعدہ الیکشن نہیں ہوا تھا، لیکن وہ ایسے بااثر، ذی علم اور سمجھدار لوگ تھے کہ اگر موجودہ زمانے کے طریقے پر الیکشن بھی ہوتے تو انہی کو منتخب کیا جاتا۔ ہر معاملے میں ان سب کا بلایا جانا ضروری نہ تھا۔ جس وقت کسی مسئلے میں مشورے کی حاجت پیش آتی تو اس وقت جو لوگ بھی موجود ہوتے ان سے رائے لے لی جاتی، اور بڑے اہم مسائل میں بس یہ اعلان کرا دیا جاتا کہ مسجد نبوی میں لوگ حاضر ہو جائیں۔
مدینے سے باہر جب اسلامی مملکت پھیلنی شروع ہوئی تو مختلف علاقوں میں گورنر مقرر کر دیئے گئے، وہی اپنے علاقے کے منتظم بھی تھے اور سپہ سالار بھی۔ اس زمانے میں کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ جس وقت بھی ضرورت ہوتی رضا کارانہ طور پر لوگ جہاد کے لئے آجاتے تھے۔ حضورؐ نے مختلف علاقوں میں قاضی بھی مقرر فرما دیئے تھے جن کے عدالتی کام میں کوئی گورنر دخل نہ دے سکتا تھا۔ آپؐ نے ہر علاقے میں ایسے لوگ بھی مقرر کئے تھے جو باشندوں کو اسلام کی تعلیم دیں۔ تعلیم سے مراد یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھا ئیں، بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ وہ عوام کو قرآن سنائیں، اس کے معانی و مطالب سمجھائیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ان کو آگاہ کریں۔ یہ کام زیادہ تر زبانی تلقین کے ذریعے سے کیا جاتا تھا اور معلمین لوگوں کی اخلاقی اور ذہنی تربیت اسی طریقے پر کرتے تھے۔ جس طریقے پر حضورؐ نے خود ان کی تربیت فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر جب مکہ معظمہ فتح ہوا تو حضورؐ نے حضرت عتابؓ بن اسید کو گورنر اور حضرت معاذؓ بن جبل کو معلم مقرر فرمایا تھا۔
زکوٰۃ کے نظام کی صورت یہ تھی کہ کہیں آپ نے باقاعدہ تحصیل دار مقرر کئے تھے اور بعض علاقوں میں قبیلوں کے سرداروں کو اس کی تحصیل کا کام سپرد فرما دیا تھا۔ جہاں غیر مسلم آبادی نے اطاعت قبول کر کے خراج ادا کرنے کا معاہدہ کیا تھا وہاں بھی خراج کی تحصیل کے لئے کوئی مستقل تحصیلدار مقرر نہ تھا۔ جب خیبر فتح ہوا اور وہاں کے باشندوں نے نصف پیداوار ادا کرنا قبول کر کے صلح کر لی تو فصل کی کٹائی کے وقت حضورؐ کسی صحابی کو بھیج دیتے تھے اور وہ پیداوار کا نصف نصف الگ کر کے یہودیوں کو اختیار دے دیتے تھے کہ دونوں ڈھیروں میں سے جو ڈھیر چاہیں اٹھا لیں۔ تاریخ میں یہ واقعہ موجود ہے کہ جب اس طریقے پر خراج لیا گیا تو یہودی پکار اٹھے کہ اسی انصاف پر زمین و آسمان قائم ہیں۔ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام حکومت کا ایک مختصر خاکہ۔
سوال: مولانا اس ساری تفصیل کے بعد جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام حکومت کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔ آدمی کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج نہ تو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم جیسی جامع شخصیت موجود ہو سکتی ہے نہ آج ایسا کوئی تربیت یافتہ گروہ موجود ہے جیسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی صورت میں تیار فرمایا تھا، اور نہ وہ اخلاقی تربیت اور وہ معاشرہ موجود ہے جس معاشرے کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار فرمایا تھا۔ اب اگر آج اس بگڑے ہوئے معاشرے میں ہم اسلام کے نظام کو نافذ کرنے کی تیاری کریں تو اس میں اوّل تو ان چاروں خصوصیات کو جو آج کے دورِ جدید کی ریاست کی خصوصیات تصوّر کی جاتی ہیں، کس طرح سے اسلامی نظام کے سانچے میں ڈھالا جائے گا؟ دوسرے یہ کہ آج اس بگڑے ہوئے معاشرے کو اس معیاری معاشرے میں کس ترتیب و تدریج کے ساتھ تبدیل کیا جائے؟ اس پر آپ کچھ اظہارِ خیال فرمائیں گے؟
جواب: اس معاملے میں سب سے پہلی بات جو سمجھ لینی چاہئے وہ یہ ہے کہ جس چیز کا نام اسلامی نظام ہے وہ کسی بے ایمان اور بد کردار حکومت کے ہاتھوں سے نہیں چل سکتا۔ کوئی خدا سے بے خوف بیورو کریسی اسے نہیں چلا سکتی۔ کسی ایسی آبادی میں وہ ٹھیک طور سے نہیں چل سکتا جس کی اخلاقی حالت بالعموم خراب ہو اور خراب کی جاتی رہی ہو۔ ہم نے ایک مدت تک بادشاہی نظام کے تحت زندگی بسر کی ہے جو پوری طرح اسلامی نظام نہیں تھا مگر پھر بھی اس میں اسلامی قانون رائج تھا اور عام لوگوں کی تعلیم و تربیت کا کام علماء اور صوفیاء انجام دیتے تھے۔ اس وجہ سے اگر چہ وہ معاشرہ اس درجہ کا نہیں تھا جس درجے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں تھا، لیکن اس کے باوجود نہ لوگوں کی عام اخلاقی حالت اتنی بگڑی تھی جتنی بعد میں بگڑی اور نہ لوگ اسلام کے علم سے اس قدر بے بہرہ تھے جس قدر بعد میں ہوئے۔ شراب نوشی مسلمانوں میں تقریباً ناپید تھی۔ لوگ گناہ کرتے تھے، مگر علانیہ بے باکی کے ساتھ نہ کرتے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں، جب انگریزی حکومت اوّل اوّل بنگال میں قائم ہوئی، اس زمانے کے بعض انگریز مصنفین لکھتے ہیں کہ چوری وہاں ناپید تھی اور چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔ مسلمانوں سے جھوٹ کی کوئی توقع نہیں کرتا تھا۔ کوئی شخص یہ خیال نہیں کر سکتا تھا کہ عدالت میں جا کر کوئی مسلمان جھوٹی گواہی دے گا۔ مسلمانوں کی عام آبادی لکھی پڑھی تھی بلکہ سو فیصد مسلمان خواندہ تھے۔
یہ اٹھارہویں صدی کے آخر تک ہماری حالت تھی۔ بعد میں جب انگریزی دور آیا تو اس نے ہمارے قوانین کو بدلا۔ ہمارے معاشی نظام کو بدلا۔ ہمارے معاشرتی نظام کو بدترین اثرات ڈالے۔ اسلامی تعلیم بالکل اس بات پر منحصر ہو گئی کہ کھاتے پیتے لوگ مدد کریں تو اسلامی مدارس چل سکیں۔ حکومت نے ان مدارس کے تعلیم یافتہ لوگوں پر رزق کے دروازے بند کر دیئے۔ اس کے برعکس جو نظام تعلیم انگریزوں نے رائج کیا وہ مسلمانوں کے ذہن سے خدا اور رسول اور آخرت کے تصورات کو بالکل مٹا دینے والا تھا اور رزق کے دروازے اسی کے لئے کھلے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ ہم نے انگریزی دور سے میراث میں پایا۔ افسوس ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد اس صورت حال کو بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ انگریزی دور میں ہم جتنے بگڑے ہوئے تھے اس سے زیادہ ان تیس سال کے زمانے میں بگڑ گئے۔ اب اگر کوئی اسلامی حکومت قائم ہو تو یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ چھوٹے ہی مثالی نظام کی طرف پلٹ جائے گی۔ آغاز کار میں اگر کچھ ہو سکتا ہے تو وہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو ملک کے تمام ذرائع و وسائل، ملک کے تمام ذرائع ابلاغ، ملک کے سارے نظام تعلیم اور حکومت کی پوری انتظامی پالیسی کو اس غرض کے لئے استعمال کریں کہ مسلمانوں میں اسلام کا علم وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اور ان کی عام اخلاقی حالت کو درست کیا جائے۔ جس قدر اسلام کا علم پھیلے گا اور عام اخلاقی حالت درست ہوتی جائے گی اتنی ہی زمین اسلامی نظام کے لئے تیار ہوتی چلی جائے گی۔
یہی چیز تھی جس کی ہم توقع رکھتے تھے کہ انگریزی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پاکستان کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں آئے گی تو وہ اس طریق کار کو اختیار کرنے گی۔ ذرائع ابلاغ کی پوری طاقت عام مسلمانوں میں ایمان اور صحیح اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لئے استعمال کرے گی۔ نظام تعلیم کو ایک اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کے کارکن اور شہری تیار کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ الحاد پیدا کرنے والی تعلیم کو بدلا جائے گا اور اس کی جگہ خدا پرستی کی تعلیم کو رائج کیا جائے گا۔ عام لوگوں کے اندر حلال و حرام کی تمیز پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ان میں سے کوئی توقع بھی ہماری پوری نہیں ہوئی۔ اگر اس وقت حکومت اپنے تمام ذرائع و وسائل کو اس کام کے لئے استعمال کرتی تو آج حالت بالکل مختلف ہوتی۔
اب ہمیں گویا بالکل نئے سرے سے کام کرنا ہے۔ بے شک اسلامی قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کیجئے۔ قوانین اسلامی کو مدوّن بھی کیجئے تاکہ ہماری عدالتیں ان کے مطابق فیصلے کرسکیں مگر بس یہی ایک کام ایسا نہیں ہے جس سے اسلامی نظام قائم ہو جائے۔ سب سے زیادہ زور جس بات پر صرف کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہمارے ابتدائی اور ثانوی مدرسوں اور ہمارے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیم دی جائے۔ ذرائع ابلاغ کو فحش، بے حیائی، بداخلاقی اور جرائم پھیلانے کے بجائے مسلمانوں کو ایمان اور اسلامی عقائد سمجھانے اور ان کے ذہن نشین کرنے پر صرف کیا جائے۔ عام لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اسلامی اخلاق کیا ہیں اور کافرانہ اخلاق کیا، اور دونوں قسم کے اخلاقوں میں فرق کیا ہے؟ پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ اسلامی نظام تو قائم ہی اس معاشرے میں ہوا تھا جس کے اندر سب سے پہلے ایمان کو مستحکم کیا گیا تھا، پھر اسی ایمان کی مضبوط بنیاد پر پورے اخلاقی نظام کی، پورے معاشرتی نظام کی، پورے معاشی نظام کی، پورے سیاسی نظام کی اور پورے قانونی نظام کی عمارت اٹھائی گئی تھی۔ اب اگر ہم اس مثالی دور کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیں اسی ترتیب سے پلٹنا چاہئے ۔ عام مسلمانوں کے دلوں میں اگر خدا پر ایمان، رسول پر ایمان، قرآن پر ایمان اور آخرت پر ایمان مضبوطی کے ساتھ نہ بٹھایا گیا تو محض قوانین کو بدلنے سے کام نہ چلے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں جھوٹے مقدمات بنانے میں پولیس اتنی مہارت رکھتی ہے کہ وہ ساری دنیا کو چیلنج دے سکتی ہے کہ ہمارے مقابلے میں کوئی جھوٹا مقدمہ بنا کر دکھائے۔ گواہوں کا حال یہ ہے کہ عدالت میں جا کر صحیح گواہی دینا گویا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عدالت تو ہے ہی جھوٹی شہادت دینے کی جگہ۔ پولیس خود بھی جھوٹے گواہوں کا ایک پورا گروہ تیار رکھتی ہے۔ یہی دو چیزیں اگرنگاہ میں رکھی جائیں تو آپ اندازہ کر لیجئے کہ ہمارے ہاں اسلامی قانون صحیح طور پر کیسے نافذ ہو گا، جب کہ اس کو نافذ کرنے والی مشینری ہی بگڑی ہوئی ہے۔ قوانین اسلامی کے نفاذ کی تدبیریں کرنے کے ساتھ موجودہ حکومت کے لئے بھی اور آئندہ آنے والے حکمرانوں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ ملک کی انتظامیہ کو بھی درست کریں، تعلیم کے نظام کی بھی اصلاح کریں اور ملک کے تمام ذرائع و وسائل کو اس بات پر صرف کر دیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمان بٹھایا جائے، ان کے اخلاق درست کئے جائیں اور ان کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔
سوال: جناب والا! کہا یہ جاتا ہے کہ یہ قوم ڈنڈے کی غلام ہے۔ یہ ایک عام ضرب المثل ہے جو لوگوں کی زبانوں پر چڑھی ہوئی ہے۔ لیکن کیا اسلامی نظام بھی ڈنڈے کے زور سے قائم کیا جائے گا؟
جواب: اسلامی قانون میں ڈنڈے کا بھی ایک مقام ہے مگر وہ سب سے آخر میں آتا ہے۔ اسلام میں ترتیب کار یہ ہے کہ پہلے ذہنوں کی اصلاح کا کام تعلیم و تلقین کے ذریعے سے کیا جائے تا کہ لوگوں کے خیالات تبدیل ہوں۔ پھر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کام کیا جائے۔ یہاں تک کہ محلے محلے، بستی بستی اور کوچے کوچے میں ایسے لوگ تیار ہو جائیں جو بدکرداریوں کو عوام کی مدد سے دبائیں اور اپنے اپنے علاقوں کے باشندوں میں دین داری اور دیانت داری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ملک کے اندر ایک ایسی رائے عامہ پیدا ہو جائے گی جو برائیوں کو سر نہ اٹھانے دے گی۔ کوئی شخص ایسی عام رائے کی موجودگی میں بگڑنا چاہے گا تو اس کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی اور جو شخص صحیح طرز زندگی اختیار کرے گا اس کو پورا معاشرہ مدد دینے والا ہوگا۔ اس کے ساتھہ اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ معاشرہ ایسا ہو، جس کے لوگ ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار ہوں۔ ایک دوسرے کی مصیبت میں کام آنے والے ہوں۔ ہر شخص انصاف کا حامی اور بے انصافی کا مخالف ہو۔ ہر شخص اپنے اوپر پیٹ بھرنا حرام سمجھے اگر اس کو معلوم ہو کہ اس کا ہمسایہ بھوکا سو رہا ہے۔ پھر اسلام ایک ایسا معاشی نظام بھی قائم کرتا ہے جس میں سود حرام ہو، زکوٰۃ فرض ہو، حرام خوری کے دروازے بند کر دیئے جائیں، رزق حلال کمانے کے لئے تمام مواقع لوگوں کے لئے کھول دیئے جائیں اور کوئی آدمی اپنی ضروریات زندگی سے محروم نہ ہونے پائے۔ ان تدابیر کے بعد ڈنڈے کا مقام آتا ہے۔ ایمان، اخلاق، تعلیم، انصاف، اصلاح معیشت اور ایک پاکیزہ رائے عام کے دباؤ سے بھی جو آدمی درست نہ ہو تو وہ ڈنڈے ہی کا مستحق ہے‘ اور ڈنڈا پھر اس پر ایسی بے رحمی کے ساتھ علی الاعلان چلایا جائے کہ ان تمام لوگوں کے دماغ کا آپریشن ہو جائے جو جرائم کے رجحانات رکھتے ہوں۔
لوگ بڑا غضب کرتے ہیں کہ اسلام کے پروگرام کی ساری تفصیل چھوڑ کر صرف اس کی سخت سزاؤں پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ اسلام پہلے عام لوگوں میں ایمان پیدا کرتا ہے۔ پھر عوام کے اخلاق کو پاکیزہ بناتا ہے۔ پھر تمام تدابیر سے ایک ایسی مضبوط رائے عام تیار کرتا ہے جس میں بھلائیاں پھیلیں پھولیں اور برائیاں پنپ نہ سکیں۔ پھر وہ معاشرتی اور معاشی اور سیاسی نظام ایسا قائم کرتا ہے جس میں بدی کرنا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہو جائے۔ وہ ان تمام دروازوں کو بند کرتا ہے جن سے فواحش و جرائم نشو و نما پاتے ہیں۔ اس کے بعد ڈنڈا وہ آخری چیز ہے جس سے ایک پاک معاشرے میں سر اٹھانے والی ناپاکی کا قلع قمع کیا جاتا ہے۔ اب اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے کہ ایسے برحق نظام کو بدنام کرنے کے لئے آخری چیز کو پہلی چیز قرار دیتا ہے اور بیچ کی سب چیزوں کو نگل جاتا ہے۔
سوال: حکومت کے سلسلے میں آپ نے یہ جو کچھ ارشاد فرمایا ہے، بخدا بڑی صحیح بات ہے۔ جب تک ایسا نظام وجود میں نہ آجائے، ایسے لوگوں پر وہ نظام مشتمل نہ ہو جو ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اسلام کو نافذ کرنا چاہتے ہوں بلکہ اخلاقی اور علمی اعتبار سے بھی وہ اس منصب اور اس معیار کے لوگ ہوں کہ وہ اس کام کو انجام دے سکیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں حکومت کی تبدیلی کے لئے انتخابات ہی کو ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کو سامنے رکھتے ہوئے کیا آپ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ اس مغربی انداز انتخابات کو کس حد تک اسلام کے شورائی نظام سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اور کس طرح؟
جواب: یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ہم اس وقت جس مقام پر کھڑے ہیں اسی مقام سے ہمیں آگے چلنا ہوگا۔ اور جس منزل تک ہم جانا چاہتے ہیں اس کو واضح طور پر نگاہ کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ ہمارا ہر قدم اسی منزل کی طرف اٹھے۔ خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں، نقطۂ آغاز تو لامحالہ یہی انتخابات ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں اسی طریقے سے نظام حکومت تبدیل ہو سکتا ہے اور حکمران کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس وقت ایسا موجود نہیں ہے جس سے ہم پُر امن طریقے سے نظام حکومت بدل سکیں اور حکومت چلانے والوں کا انتخاب کر سکیں۔ اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس، دھوکے، دھاندلی، علاقائی یا مذہبی یا برادری کے تعصبات، جھوٹے پروپیگنڈے، گندگی اچھالنے، ضمیر خریدنے، جعلی ووٹ بھگتانے اور بے ایمانی سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ہو سکیں۔ انتخابات دیانتدارانہ ہوں۔ لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول، مقاصد اور پروگرام پیش کریں اور یہ بات ان کی اپنی رائے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے انتخابات میں ہم عوام کے طرزِ فکر اور معیارِ انتخاب کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظام حکومت پورے کا پورا ایماندار لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد پھر ہم نظامِ انتخاب پر نظر ثانی کر سکتے ہیں اور اس مثالی نظامِ انتخاب کو از سر نو قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو۔ بہر حال آپ یک لخت جست لگا کر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔
سوال: مولانا! یہاں کچھ سوال اگرچہ اور بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے اور آپ سے کسی اور نشست میں کوئی سوال کرنے کا موقع میسر آئے۔ ایک بات میں آپ سے آخر میں ضرور معلوم کرنا چاہوں گا کہ آپ نے جس مشن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا، اور جس طرح آپ نے اس کے لئے پوری عمر جدوجہد کی، اور آج الحمد للہ ایک ایسے مقام پر ہم پہنچ چکے ہیں کہ جہاں وہ نصب العین اب اپنی منزل کے قریب پہنچتا نظر آتا ہے۔ میں آپ سے یہ جاننا چاہوں گا کہ آپ اس ساری صورت حال کو اپنی اس جدوجہد کی روشنی میں کس طرح سے محسوس کرتے ہیں اور کیا آپ کی نظر میں اب آپ کی یہ جدوجہد فی الواقع اپنے منطقی نتیجے تک پہنچ رہی ہے، اور کیا فی الواقع آپ اپنے مشن میں کامیاب ہوئے؟
جواب: یہ میرے لئے ایک بڑا مشکل سوال ہے۔ میں نہ غلط دعوے کر سکتا ہوں اور نہ خود ستائی کرنا چاہتا ہوں۔ البتہ میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ پچھلے تیس چالیس سال کے دوران میں اسلامی خیالات کی اشاعت کا کام جتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے، اور وہ صرف میں نے ہی نہیں کیا ہے، دوسرے لوگوں نے بھی کیا ہے، اس کے نتیجے میں ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت اب اسلام کی خواہاں ہو گئی ہے۔ اگرچہ اس کے اخلاق پوری طرح اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں ہو سکے، لیکن اس میں اسلام کی سمجھ اور اسلامی نظام قائم کرنے کی تڑپ ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ ہماری جو درسگا ہیں میکالے کے نظامِ تعلیم پر قائم تھیں، خدا کے فضل سے انہی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی پیدا ہو گئی ہے جو اسلام سے گہری قلبی عقیدت بھی رکھتی ہے اور اسلام کا فہم بھی بڑی حد تک اس کو حاصل ہو چکا ہے۔ اب ہمارے سامنے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عام آبادی جو اَن پڑھ ہے، اس کے اندر کس طرح اسلام کے علم و فہم کو پھیلایا جائے۔ چونکہ رائے دہندوں کی اکثریت اَن پڑھ ہے، لئے تعلیم یافتہ لوگوں کی سو فیصد تعداد بھی اگر ایک صحیح انتخاب کرنا چاہے تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اس مرحلے پر میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان اور علماء کرام شہروں، قصبوں اور دیہات کی ان پڑھ آبادیوں میں دین اسلام کی واقفیت پیدا کرنے میں لگ جائیں۔ اس کے لئے لوگوں کا خواندہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتابوں کے ذریعے سے دین نہیں پھیلا تھا، زبانی تلقین سے پھیلا تھا۔ اب بھی یہ ضروری نہیں کہ ہم ان سب کو پہلے پڑھا لکھا بنا ئیں پھر انہیں دین سمجھائیں۔ عہد رسالت کی طرح آج بھی عام لوگوں کو زبانی تعلیم سے دین سمجھایا جا سکتا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں کا خوف ان کے دلوں میں بٹھایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ فرائض اور ارکان دین کی اہمیت ان کے ذہن نشین کی جا سکتی ہے۔ حرام و حلال کی تمیز ان میں پیدا کی جا سکتی ہے۔ نیکیوں کے اجر کی رغبت انہیں دلائی جا سکتی ہے۔ قرآن کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جنہوں نے عرب کی دنیا بدل ڈالی تھی، آج بھی اپنا معجزنما اثر دکھا سکتی ہیں۔ بشرطیکہ ہم ان سے اصلاحِ معاشرہ کا کام لینا چاہیں۔
بڑی اہمیت اس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث کی صاف صاف تعلیمات پیش کر کے ہم لوگوں کے دلوں میں یہ یقین پیدا کریں کہ تم سب کی نگاہوں سے چھپ سکتے ہو مگر خدا سے نہیں چھپ سکتے۔ سب کی سزا سے بچ سکتے ہو مگر خدا کی سزا سے نہیں بچ سکتے۔ تمہارا پورا اعمال نامہ تیار ہو رہا ہے۔ ایک دن تمہیں یقیناً مرنا ہے اور قیامت کے روز خدا کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ تم نماز ترک کرو، رمضان میں علانیہ کھا پی کر خدا کے دین کی توہین کرتے رہو، بے باکی کے ساتھ گناہوں کی گندگی میں لت پت ہو جاؤ، لوگوں کے حقوق مار کر خدا کے سامنے جاؤ، لوگوں کی عزت و آبرو لوٹ کر اپنے رب کے حضور پیش ہو، لوگوں کی جانیں لے کر وہاں جاؤ، پھر اللہ کی عدالت سے چھوٹ جاؤ۔ اس دنیا میں تم چالبازیاں کر کے بچ سکتے ہو، خدا کی عدالت سے کیسے بچو گے۔ یہ چیزیں آپ عام لوگوں کے دماغ میں بٹھائیں تو رفتہ رفتہ آپ دیکھیں گے کہ ہماری عام آبادی کے اندر صحیح سمجھ بوجھ اور اخلاقی حس پیدا ہو جائے گی۔
اس کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ اب ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام قائم کرنا ہے تو انتخابات کے موقع پر وہ خود ہی سوچیں گے کہ اس کام کے لئے ہم کیسے لوگوں کو آگے لائیں۔ عام لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ وہ بیمار ہوں تو کس ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ اس بات کو جانتے ہیں کہ کوئی مقدمہ پیش آ جائے تو کس وکیل کے پاس جائیں۔ اسی طرح جب آپ لوگوں میں اسلام کا شعور اور سمجھ پیدا کر دیں گے تو وہ خود ہی دیکھ لیں گے کہ اسلامی نظام چلانے کے لئے وہ کن لوگوں کو منتخب کریں۔ پہلی بار اگر وہ کچھ غلطی کر بھی جائیں تو انشاء اللہ دوسری مرتبہ نہ کریں گے، بشرطیکہ تعلیم عوام کا عمل برابر جاری رہے، اور حکمران اسلام سے ہٹ کر جو کام بھی کریں اس پر معقول و مدلل تنقید کی جاتی رہے۔ بالفرض اگر غلط آدمیوں کی اکثریت منتخب ہو جائے اور وہ دوسرا انتخاب ناجائز ذریعوں سے جیتنے کی کوشش کریں تو انہیں ویسی ہی تحریک کا سامنا کرنا ہو گا جس نے بھٹو جیسے جابر کے قدم اکھاڑ دیئے۔
تعلیم عوام کی بعض صورتیں خاص بھی ہیں جن کی خصوصیات کو نگاہ میں رکھنا ہوگا۔ مثلاً مزدوروں کی یونینیں ہیں۔ مزدوروں میں عام طور پر اس خیال کو پھیلایا جائے کہ تمہارے لئے منصفانہ معاشی نظام سوشلزم نہیں ہے، اسلام ہے۔ تمہاری مشکلات اسی کی پیروی سے رفع ہوں گی۔ کوئی انصاف سوشلزم نے مزدوروں کے ساتھ نہ کبھی کیا ہے، نہ آج کر رہا ہے اور نہ آئندہ کرے گا۔ سوشلزم، کمیونزم اور اشتراکی ملکوں کے حالات کا مطالعہ جن نوجوانوں نے کیا ہے وہ ناقابل انکار دلائل و شواہد کے ساتھ مزدوروں کو یہ بات سمجھا سکتے ہیں۔ اس طریقے سے مزدور تحریکوں کو رفتہ رفتہ اسلامی تحریکوں میں تبدیل کر دیا جائے اور مزدوروں میں یہ شعور پیدا کر دیا جائے کہ وہ جانچ پرکھ کر دیکھ لیں کہ ان کے لیڈر مارکس اور لینن کے ماننے والے ہیں یا اللہ اور رسول کے ماننے والے۔ پھر یہ فیصلہ انہی پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ حشر کے روز مارکس اور لینن کے ساتھ اٹھنا چاہتے ہیں یا رسول رب العالمین کے ساتھ۔
اسی طرح سے مثلاً کسان اپنے کچھ الگ مسائل رکھتے ہیں، ان کا اسلامی حل بھی انہیں سمجھائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے تشریف لے گئے تھے تو وہاں کے انصار زراعت پیشہ لوگ تھے۔ اسلام سے قبل ان کے ہاں زمیندار اور کسان اور مزارع کے جھگڑے برپا تھے، اور دیہات سے غلہ لانے والوں کو شہری تاجر اور دلال بری طرح لوٹتے تھے۔ حضورؐ وہاں پہنچے تو آپ نے انصاف کے ساتھ ان سب خرابیوں کی اصلاح کی اور اس اصلاح کی تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ اُنہیں آج بھی کسانوں کو بتا کر آپ مطمئن کر سکتے ہیں کہ ان کے مسائل کا عادلانہ حل اسلام ہی نے کیا ہے اور وہی کر سکتا ہے۔
یہ کام جتنا جتنا ہوتا جائے گا آپ دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ انتخابات کے نتائج صحیح ہوتے چلے جائیں گے، اور جتنے جتنے دین کو جاننے والے ایماندار آدمی اکثریت سے منتخب ہوں گے اتنے ہی ہم خلافت راشدہ کے مثالی نظام کی طرف قدم بڑھاتے چلے جائیں گے۔
سوال: جناب والا یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے آپ نے فرمایا ہے کہ اسلامی نظام بتدریج قائم کیا جانا چاہئے اور قائم کیا جائے گا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تدریجی تغیر کے دوران میں ہمارے موجودہ قوانین اور مغربی طرز کی جمہوریت کے تحت بنائے گئے قوانین چلتے رہیں گے؟ کیا یہ دو متضاد چیزیں ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں؟
جواب: مدتوں کے بگڑے ہوئے پورے نظام زندگی کو ہمیں بتدریج ہی بدلنا ہو گا۔ انگریزی دور کے نظام تعلیم کو یکا یک بدل کر ایک ہی دن میں اسلامی نظام تعلیم رائج نہیں کیا جا سکتا۔ عام لوگوں کی اخلاقی حالت بھی جو سالہا سال سے سینما بینی، فحش تصاویر، شب و روز کے گانوں، زن و مرد کی مخلوط سوسائٹی، شراب، جوئے اور دوسرے حرام افعال کی بدولت بگڑتی رہی ہے، اسے بھی ایک دن میں نہیں بدلا جا سکتا۔ لیکن ہمیں آج ہی سے ان کو بدلنے کی کوشش شروع کرنی ہوگی۔ اور جن جن برائیوں کو جس قدر جلدی مٹانا ممکن ہوگا، انہیں مٹانے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی جائز نہ ہوگی۔ ٹھیک اسی طرح ہمیں قوانین کے معاملے میں بھی کرنا ہوگا۔ کافرانہ دور کے جن قوانین کو اسلامی قوانین سے بدلنا آج ممکن ہو انہیں آج ہی بدل ڈالیے۔ اور جتنا جتنا اسلامی قانون کو نافذ کرنا ممکن ہوتا نظر آئے اس کے نافذ کرنے میں قطعاً دیر نہ لگائیے۔ کیونکہ ایک حکومت جو حقیقت میں مسلمان ہو اور جس کے پیش نظر یہ ہو کہ اسلام عملاً قائم کرنا ہے، اسے سارے شعبوں میں ایک ساتھ تبدیلی لانی ہوگی۔ یہ خیال کرنا غلط ہے کہ جب تک ساری اصلاحات مکمل نہ ہو جائیں، اسلامی قانون نافذ نہ کیا جائے۔ اگر ہمارے جج غیر اسلامی قوانین کی جگہ اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرنے شروع کر دیں گے تو اس سے خود بخود عام لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ اب یہاں کافرانہ نظام نہیں چلے گا اور اسلامی قانون ہی رائج ہوگا۔ یہ منجملہ ان چیزوں کے ہے جن سے آپ کو عوام کے خیالات تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
آپ اس کا اندازہ یوں کر سکتے ہیں کہ انگریزوں نے جب ہمارے قوانین کو متروک کر کے اپنے قوانین رائج کئے اور ان کے مجسٹریٹوں اور ججوں نے ان قوانین کے مطابق فیصلے کرنے شروع کر دیئے تو رفتہ رفتہ ہمارے معیار بدلتے چلے گئے۔ حرام حلال ہو گیا اور حلال حرام۔ جو چیزیں انگریزی قانون نے اخلاق، معیشت، معاشرت اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں جائز کی تھیں وہی ہمارے نظام زندگی میں رائج ہو گئیں، خواہ اسلامی نقطۂ نظر سے وہ کتنی ہی غلط بلکہ قابل نفرت ہوں۔ ہم خود اپنے قانون کو فرسودہ سمجھنے لگے۔ ہمارے دماغ میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ اسلام کا قانون تو صرف نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ کے لئے ہے۔ باقی دنیا کے معاملات چلانے کے قابل نہیں ہے۔ اب جونہی کہ لوگ اسلامی قانون کو عدالتوں میں چلتے دیکھیں گے، تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگے گی اور دماغوں پر سے انگریزی قانون کا تسلط ٹو ٹنا شروع ہو جائے گا۔ اس لئے یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ زندگی کے صرف ایک شعبے یا بعض شعبوں میں اصلاح کا کام کیا جائے اور دوسرے شعبوں میں پرانے طریقوں کو رائج رکھا جائے۔
انتخابات ہی کے معاملے کو لے لیجئے۔ بظاہر یہ صرف ایک شعبۂ زندگی ہے مگر اس کی اصلاح پورے نظام حیات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں انتخابات کا جو طریقہ رائج رہا ہے وہ یہ ہے کہ جھوٹے وعدے کرو، لوگوں کو بے وقوف بناؤ، ان کی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاؤ، لوگوں کے ووٹ خرید و مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال کر ووٹ حاصل کرو، مخالفین پر خوب کیچڑ اچھالو، برادریوں اور علاقوں کے تعصبات پھیلاؤ، مذہبی جھگڑے برپا کرو، غرض جس طریقے سے بھی ممکن ہو قوم کی گردن پر سوار ہو جاؤ۔ اس ساری صورت حال کو آپ تبدیل کیجئے، ان ناجائز ہتھکنڈوں کو بند کر دیجئے، اور عام لوگوں کو آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کرنے کا موقع دیجئے۔ آپ یقین رکھیے کہ بہت بڑی اصلاح تو اسی سے ہو جائے گی۔ بُرے آدمیوں کا اوپر آنا مشکل ہو جائے گا اور اچھے آدمیوں کا آنا ممکن ہو جائے گا۔
سوال: جناب والا، اسلام کی تشہیر و تبلیغ کے لئے کچھ تو موجودہ ذرائع ہیں۔ مزید کیا طریق کار اختیار کئے جانے چاہئیں؟ آپ کچھ نصیحت فرمائیں گے؟
جواب: یہ ساری چیزیں تو ایک حد تک میں اپنی کتابوں میں لکھ چکا ہوں اور میرے لئے یہ بڑا مشکل ہے کہ جو کچھ پہلے لکھ چکا ہوں اسے اب زبان سے بیان کروں۔
سوال: مولانا محترم! میں یہ گزارش کروں گا کہ ہمیں تلقین فرمائیں کہ ہم اس سلسلے میں ریڈیو کو کیونکر استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: ریڈیو کو استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے جو ایک ایک موضوع پر تیاری کرکے ریڈیو پر آکر تقریر کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جن کا سوچ سمجھ کر آپ اس کام کے لئے انتخاب کریں کہ وہ اسلام کے ایمانیات کی تشریح کریں اور طرح طرح سے ان کے ہر پہلو کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں۔ ایک ہی آدمی یہ کام کرے گا تو لوگ اکتا جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ مختلف قابلیتوں کے لوگ اپنے اپنے طریقے پر بات سمجھائیں گے تو سننے والے دلچسپی کے ساتھ ان کی باتیں سنیں گے۔ اسلامی اعتقادات کو دماغوں میں اتار دینا سب سے پہلا اور سب سے بڑا بنیادی کام ہے جس سے مسلمانوں کی ذہنی حالت بدلی جاسکتی ہے اور انہیں اسلام کے دوسرے حقائق کو سمجھنے کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کچھ دوسرے لوگ ایسے منتخب کرنے چاہئیں جو اسلامی عبادات کی اہمیت، ان کے بے شمار دینی و دنیاوی فوائد، اور ان کو چھوڑ دینے کے نقصانات دل نشیں انداز میں طریقے طریقے سے سمجھائیں۔ کچھ اور مقررین اسلام کے اخلاقی اصول، اس کے احکام اور اس کی ہدایات بیان کرنے کے لئے انتخاب کئے جائیں۔ کچھ دوسرے لوگ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں پر ایسے موثر انداز میں تنقید کریں جس سے عام لوگوں میں یہ احساس بیدار ہو کہ وہ کیسی گندگیوں میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ کچھ اور لوگ خصوصیت کے ساتھ کبائر میں سے ایک ایک بڑے گناہ پر پے در پے تقریریں کریں جن سے لوگوں میں یہ احساس ہو کہ یہ لوگوں کی دنیا اور آخرت کو برباد کر دینے والے کیسے سخت گناہ ہیں اور خدا کے ہاں ان کا کیسا دردناک عذاب انہیں بھگتنا پڑے گا۔ مثلاً قتل ہی کو لے کر اس کے نتائج ایک ایک کرکے بتائے جائیں۔ ایک آدمی اگر دس آدمیوں کو قتل کر دیتا ہے تو دنیا میں اس کو ایک ہی سزائے موت ملے گی۔ باقی ۹ کا عذاب تو دنیا کی عدالت نہیں بلکہ خدا کی عدالت ہی دے گی۔ ایک آدمی کے قتل پر بھی دنیا کی عدالت بس ایک ہی بار سزائے موت دے گی، لیکن مقتول کے خاندان اور اس کی آئندہ نسلوں کو اس کا جو نقصان اٹھانا ہوگا اور جب تک اٹھانا ہوگا اس کا حساب تو دنیا کی عدالت کسی طرح لگا ہی نہیں سکتی۔ یہ حساب تو خدا لگائے گا اور جہنم میں قاتل کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ ریڈیو پر اس طرح کی تقریروں کا سلسلہ اگر جاری ہو جائے اور موزوں آدمی اپنے اپنے موضوعات پر پوری اثر آفرینی کے ساتھ کلام کریں تو آپ دیکھیں گے کہ چھ مہینے میں فرق عظیم واقع ہو جائے گا۔ ریڈیو تو عوام کو تعلیم دینے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آج کسان کھیت میں ہل تک نہیں چلاتا جب تک ٹرانسسٹر اس کے پاس نہ ہو۔ اب تک یہ لوگ ان ٹرانسسٹروں سے بیگمات کے گانے اور ان سے بھی کچھ زیادہ ہی فحش فلمی اور فرمائشی گانے سنتے ہیں۔ آئندہ اگر یہی لوگ دلچسپ اور عام فہم زبان میں کچھ اپنے دین کی باتیں بھی سننے لگیں تو امید نہیں ہے کہ خدا کا نام سنتے ہی ٹرانسسٹر بند کر دیں گے۔ یہ لوگ آخر خدا اور رسول اور آخرت کے منکر تو نہیں ہیں۔ آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ان کے اندر دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اس پروگرام کا آغاز کچھ عہد رسالت، عہد خلافت اور عہد صحابہؓ کے واقعات اور صالحین کی حکایات سے کریں۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ انہیں اسلامی تعلیمات سننے اور سمجھنے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ ان سادہ لوح دیہاتیوں میں شاید ایک بھی ایسا نہ ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جان نثار نہ ہو۔ آپ انہیں بتا سکتے ہیں کہ جن رسول پاک پر تم جان نثار کر دینے کے لئے تیار ہو ان کے احکام کی پیروی بھی تو کرو۔ ان میں کون ہے جو یہ نہ مانتا ہو کہ مرنے کے بعد ایک دوسری زندگی بھی ہے؟ آپ انہیں بتائیے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کی تفصیلات قرآن اور احادیث سے ان کو سنائیے۔ بعید نہیں کہ ان کو سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ صرف عذاب قبر ہی کا ذکر سن کر وہ لرز جائیں گے۔
سوال: جناب والا ہم ریڈیو سے کسانوں کے لئے، کاشتکاروں کے لئے خصوصی پروگرام بھی کرتے ہیں۔ مزدوروں کے لئے بھی پروگرام کرتے ہیں، محنت کشوں کے لئے بھی، خواتین کے لئے بھی، بچوں کے لئے بھی پروگرام کرتے ہیں۔ تو ہم صرف گانے ہی کے پروگرام تو نہیں کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان پروگراموں کی بھی نوعیت ایسی نہ ہو جیسی کہ مطلوب ہے؟
جواب: میرا کہنا یہ ہے کہ آپ کے ہاں ریڈیو میں زیادہ عنصر گانے بجانے کا ہوتا ہے، اور کم عنصر دین و اخلاق کی تعلیم کا۔ پہلے عنصر کو آپ یک لخت ختم کر دیں گے تو وہ دوسرے ملکوں سے گانے سننے لگیں گے۔ اس کے بجائے آپ پہلے عنصر کو کم کرتے جائیں اور دوسرے عنصر کو بڑھاتے چلے جائیں۔ جب عوام کو صحیح طریقے سے دین سمجھایا جائے گا اور انہیں دلچسپ اور دل نشین طریقے سے بتایا جائے گا تو وہ گانے کے رسیا نہ رہیں گے اور انہیں باہر کے ریڈیو سے بھی گانا سنتے وقت یہ یاد آ جائے گا کہ قیامت کے روز ان کے کان گواہی دیں گے کہ یہ لوگ ان سے کیا چیزیں سننے کا کام لیتے رہے ہیں۔