تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کے چوتھے سالانہ اجتماع (۲۲۔۲۵ نومبر) لاہور کے دوران طالبات کے نمائندہ وفد نے سید مودودی سے اپنی اس ملاقات کو ریکارڈ کر لیا۔۔۔ ۲۴ نومبر ۱۹۷۳ء
----------
(وفد نے بتایا کہ کن کن مقامات سے طالبات اجتماع میں شرکت کے لئے آئی ہیں)
سید مودودی: تو اس کا مطلب ہے کہ پشاور سے صادق آباد تک کی طالبات شریک ہیں۔ صوبہ سندھ سے کوئی نہیں آئیں۔
وفد: دراصل سندھ کی تین روزہ تربیت گاہ ایک ہی ہفتہ قبل ہوئی تھی۔ اس طرح وہاں کے لوگوں کے لئے یہاں شرکت مشکل تھی۔ کوئٹہ میں جمعیت کا حلقہ ہے لیکن وہاں سے بھی شرکت نہیں ہو سکی۔
سید مودودی: آپ کی جمعیت میں کالج کی ہی طالبات ہیں یا سکولوں میں بھی کام ہو رہا ہے؟
وفد: ویسے ایک آدھ سکول میں بھی کام کی ابتداء ہوئی ہے لیکن زیادہ تر کام کالجوں اور جامعات ہی میں ہے۔ سکول میں کام کرنا کچھ مشکل معلوم ہو رہا ہے۔
سید مودودی: سکولوں میں بھی کام شروع ہونا چاہئے۔ سکول کی طالبات کو تیار کر کے ہی آپ جمعیت کے لئے کارکن تیار کر سکتی ہیں۔ آپ ان سے بات چیت کےذریعے اپنی دعوت پہنچا سکتی ہیں۔ وہاں اسلامی لٹریچر سے دلچسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ بات آپ نگاہ میں رکھیں کہ سکولوں ہی سے ابتدا کر دی جائے۔
وفد: مشکل یہ ہے کہ سکولوں میں کبھی کبھار ایک آدھ لڑکی رجحان رکھتی ہے۔ اب سکول بھی سارے گورنمنٹ کے ہیں، کسی ٹیچر سے ہم تعاون نہیں لے سکتے۔
سید مودودی: دیکھئے ٹیچرز میں ایک اچھا خاصا عنصر ایسا موجود ہے جو تحریک اسلامی کا ہم خیال ہے، لیکن اس کے اوپر خوف غالب ہے۔ اگر آپ ہوشیاری سے کام لیں تو آہستہ آہستہ کچھ ٹیچرز ایسی مل جائیں گی جو آپ کی ہم خیال ہوں گی۔ پھر ان سے رابطہ قائم کر کے کام لیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ احتیاط سے کام کریں اور اپنی ملازمت بھی خطرے میں نہ ڈالیں تو اس طرح ان کو کام کے لئے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اب آخر لڑکوں کے جو مدرسے ہیں، ان میں ٹیچرز تحریک اسلامی کے بہت کافی ہم خیال ہیں، اور ان کے مثبت اثرات ہیں، اور انہوں نے بات کو چھپانے کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں سمجھی کہ ہمیں تحریکی کاموں سے کچھ دلچسپی ہے اور ان کا Organization (تنظیم اساتذہ پاکستان) قائم ہے جو اچھا خاصا چل رہا ہے۔ اب چونکہ مردوں میں پہلے سے کام ہو رہا ہے اس لئے وہ یہاں تک پہنچ گیا۔ آپ لوگوں نے دیر سے شروع کیا۔ ابھی آپ کے کام کی ابتدا ہے۔ ابتدائی کام میں دشواریاں زیادہ ہوا کرتی ہیں۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ بھی یہاں تک پچیس چھبیس سال میں پہنچی ہے۔ آپ کی جمعیت طالبات کو قائم ہوئے کتنی دیر ہوئی ہے؟
وفد: ابھی تو چار سال ہوئے ہیں۔
سید مودودی: چار سال ہوئے ، اب پچیس سال اور چار سال کا فرق تو آپ کو سمجھ میں آتا ہوگا۔ اسلامی جمعیت طلبہ دسمبر ۱۹۴۷ء میں قائم ہوئی تھی۔
وفد: یہ خوش قسمتی تھی کہ اس وقت قائم ہوگئی۔
سید مودودی: اللہ کا شکر ہے اور یہ اللہ کا فضل ہے کہ بروقت کام ہو گیا۔ یہ اُس وقت قائم ہو گئی اور اس کا نتیجہ آپ دیکھ ہی رہی ہیں۔ ہر جگہ یونین انتخابات میں ان کو زبردست کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں ، ابھی میرے پاس سرگودھا سے لڑکے آئے تھے۔ سرگودھا کے گورنمنٹ کالج میں یہ لوگ جیتے ہیں اور پوری پارٹی آئی تھی۔ یہ میرے پاس آتے ہیں اور بعض دفعہ مٹھائی کھائے بغیر نہیں مانتے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ بھئی جیتے تم ہو اور مٹھائی مجھ سے مانگ رہے ہو۔ مٹھائی لے کر آنی چاہئے آپ کو۔
وفد: ایک بات یہ ہے کہ لڑکوں اور مرد اساتذہ میں ہمت زیادہ ہوتی ہے۔ انتظامی کارروائیاں خاص طور پر ٹرانسفرز اور تبادلوں سے خواتین ٹیچرز بہت خوفزدہ ہوتی ہیں۔
سید مودودی: ہاں اسی مسئلہ کے لئے میں نے کہا کہ انہیں احتیاط زیادہ کرنی چاہئے۔ آپ کو خود بھی کہنا چاہئے کہ وہ احتیاط کریں، لیکن اپنے فرض کو تو نہ بھولیں جب آپ کو محسوس ہو جائے کہ یہ ہمارا فرض ہے۔ آخر عورت کو چھپ کر نماز پڑھنے کے لئے کہا گیا ہے، نماز اس کی ساقط نہیں کی گئی تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ لڑکیوں میں اس وقت عقائد کی خرابی، اخلاق کی خرابی اور عادتوں کی خرابی کی جو نئی ہوا چل رہی ہے، یہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے لڑکوں کی خرابی سے زیادہ تباہ کن ہے۔ یہ تباہی بالکل جڑ ہی کاٹ دے گی۔ یعنی اگر ہماری عورتیں بگڑ گئیں تو ہماری جڑ ہی کٹ جائے گی اور جو آئندہ نسل پیدا ہو گی تو ان کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بتانے والا کوئی نہ ہوگا۔ یہ نسل جس نے ملحد بنانے والی درسگاہوں میں تعلیم پائی ہے۔ اس نسل کے اندر آخر وہ لوگ کہاں سے آئیں گے جو خدا کے ماننے والے ہیں اور رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے ان ماؤں کی گود میں پرورش پائی ہے جو خدا اور رسول کو ماننے والی ہیں۔ سب سے پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔ اب اگر ماں کی گود بھی اس چیز سے خالی ہو جائے تو پھر سمجھ لیجئے کہ جڑ کٹ جائے گی۔ اس وجہ سے اس میدان میں آپ کو خاص طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عورت بھی عجیب آفت ہے۔ جس طرف جاتی ہے انتہاء پر پہنچ جاتی ہے۔ جہاں گویا الحاد کی طرف اس کا میلان ہوا ہے تو وہ مرد سے زیادہ ملحد ثابت ہوئی ہے اور جب اس پر مغرب پرستی کا غلبہ ہوا تو مرد اتنا مغرب پرست نہیں ہوا، جتنی وہ ہوگئی ہے۔ ایسی عورتیں بھی اس جدید طبقے میں موجود ہیں جن کے چہرے پر قرآن سن کر ناگواری کے آثار ابھر آتے ہیں۔
وفد: ہم لوگ کالج میں جہاں تقریباً ہر روز قرآن کلاسز کے دوران باقاعدہ تفہیم القرآن کا اجتماعی مطالعہ کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ آخری پارے کو پڑھنا شروع کیا۔ اس میں قیامت کا ذکر بار بار ہوتا ہے، تو ایک دو لڑکیوں کو جب دو تین دفعہ بلایا اور انہوں نے سنا تو ایک دن تنگ آکر آخر انہوں نے کہا کہ یہ کیا تم روز جنت دوزخ کا ذکر لے کر بیٹھ جاتی ہو؟
سید مودودی: اس آخری جلد میں آپ غور سے پڑھیں تو اس کے اندر میں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس میں جو بیشتر سورتیں ہیں وہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں اور اہل مکہ توحید کے معاملے میں بھی اس قدر الرجک نہیں تھے اور رسالت کے بارے میں بھی اس قدر الرجک نہیں تھے جتنے آخرت کے معاملے میں تھے۔ اس لئے قرآن کی جو ابتدائی سورتیں ہیں ان کے اندر آخرت کے تصور کو زیادہ زور سے پیش کیا گیا ہے۔ اب اگر یہ بات ان (طالبات) کو سمجھائی جاتی کہ بھئی قرآن کی جو ترتیب ہے وہ ان سورتوں کے اعتبار سے نہیں ہے تو اس وجہ سے تم لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں اس وجہ سے آخری سورتیں سناتے ہیں کہ نماز میں عام طور پر جو سورتیں پڑھی جاتی ہیں وہ آخری ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگ ان سے شروع کر رہے ہیں ورنہ اگر آپ چاہیں تو ہم پہلی سورتیں بھی لے سکتے ہیں۔ یعنی اس میں ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر مقدمہ (تفہیم القرآن) ان کو پہلے پڑھا دیا جائے تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ یہ کتاب ہے کس قسم کی؟ اس طرح ان کے ذہن میں یہ بات بھی آ جائے گی کہ یہ کتاب ان دوسری عام دنیا کی کتابوں کی طرح کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریکی کتاب ہے اور اس تحریک کے ساتھ ساتھ نازل ہوتی رہی ہے۔ جس وقت یہ کتاب نازل ہوتی رہی ہے اس وقت لوگوں کی ضروریات کچھ اور تھیں۔ مسلم سوسائٹی قائم ہونے کے بعد ضروریات کچھ اور ہو گئیں جن میں مدنی سورتوں کی ضرورت تھی۔ اس لئے وہ شروع میں رکھ دی گئی تھیں۔ یہ چیز ایک مرتبہ ان کی سمجھ میں آجائے تو ان کی گھبراہٹ ختم ہو جائے گی۔
وفد: فلموں کی کثرت سے اور ٹی وی کے جو پروگرام ہیں ان کی کثرت سے یہ باتیں اول تو سننے کو جی نہیں چاہتا اور اگر جی چاہے بھی تو دھیان نہیں ہوتا۔ دھیان اگر بمشکل ہو بھی جائے تو اس میں بھی یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کتنے اعتراض کئے جاسکتے ہیں؟ یہ ذہنوں کے اپ سیٹ ہونے کا سبب ہے؟
سید مودودی: جی ہاں، اس میں آپ لوگوں کو جدید لٹریچر پر بھی اچھی طرح سے نگاہ ڈالنی چاہئے۔ ابھی میں کل ہی پڑھ رہا تھا۔ ریڈرز ڈائجسٹ میں مضمون آیا ہے کہ اس ٹیلی ویژن نے امریکہ کے کمسن لڑکوں کے ذہنوں پر اتنا زیادہ اثر ڈالا کہ قتل تک کے واقعات میں اضافہ کر دیا۔ انہوں نے تمام معاملہ اعداد و شمار کے ساتھ دکھایا ہے۔ ماہر نفسیات ٹیسٹ نے کہا کہ (ان لڑکوں کو جن کو زیادہ تر ایسے مناظر دکھائے گئے، ٹی وی کے جن میں Violence (مار پیٹ، قتل) کے واقعات تھے اور جو دوسری سوشل قسم کے گروپوں پر مشتمل تھے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ پہلے گروپ کے اندر کئی فیصد لڑکے آخر کار مجرم بن کر رہے، اور دوسرے گروپ کے اندر (مجرم بننے والوں کا اتنا) کم Percent فیصد ہے تو ان کو بتائیے کہ یہ ٹیلی ویژن جس پر آپ مری جا رہی ہیں، اس پر یورپ اور امریکہ کے لوگ چیخ سمجھے کہتے ہیں۔ وہاں کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ کیا بلا آئی ہے۔) میں جس زمانے میں انگلینڈ علاج کے لئے گیا تو بستر پر ہسپتال میں وقت گزارنے کے لئے وہاں کے اخبارات پڑھتا رہتا تھا۔ میں نے ایک روز اخبار میں پڑھا کہ پانچ سال کے بچے نے ایک چار سال کی بچی کو قتل کر دیا۔ جس وقت اس بچے سے پوچھا گیا کہ تم نے کیوں قتل کیا تو اس نے کہا کہ ”میں نے ٹی وی میں آدمی کو قتل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں ذرا دیکھوں کہ قتل ہونے والے کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور مارنے والے کا کیا حال ہوتا ہے؟“
ان سے کہیے کہ یہ چیز جسے تم نعمت سمجھ رہی ہو، اس سے وہ ملک چیخ اٹھے ہیں جنہوں نے اسے جاری کیا ہے۔ وہاں شور مچ رہا ہے کہ یہ کیا آفت برپا ہو گئی ہے۔
یہ درست ہے کہ معاشرے میں لذت پرستی بڑھ گئی ہے، مگر ہمیں تو Reason سے اپیل کرنا ہے۔ ہمیں تو ان سے کہنا ہے کہ تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہاری بھلائی کس چیز میں ہے یا یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تم کو مزہ کس چیز میں آتا ہے۔
وفد: ویسے ذہن اس چیز میں کچھ اس قدر غرق ہو گئے ہیں کہ ان میں Reason سننے کا موڈ ہی نہیں رہتا۔
سید مودودی: نہیں ! سب کا یہ حال نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ طریقہ بتایا گیا ہے اصلاح کا۔ کہ قرآن مجید میں آتا ہے <<فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ>> ۔ ”نصیحت کرو اگر تمہیں نصیحت مفید ہوتی نظر آئے۔“ جس کو آپ دیکھیں کہ اپنے خیالات میں مستغرق ہے اور کوئی نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس کے پیچھے پڑنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں۔ جو سننے کے لئے تیار ہو اس کو سنائیے …… آہستہ آہستہ جو سننے کے لئے تیار ہیں، ان کی تعداد بڑھتی جائے گی اور وہ اثرات قبول کرتے چلے جائیں گے، تو آپ کی اتنی زیادہ Strength (قوت) بڑھے گی کہ پھر نہ سننے والے بھی آخر کار سننے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ پہلے اپنا زور نہ سننے والوں پر صرف نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان پر کرنا چاہئے جو سننے کے لئے تیار ہوں۔
وفد: بعض مقامات پر لڑکیوں کے کالج کی پرنسپل اگرچہ سوشلسٹ بھی نہیں ہوتیں لیکن خوف کی وجہ سے وہ اتنا بھی برداشت نہیں کرتیں کہ ہمیں قرآن پڑھنے کی اجازت دیں۔ عام طور پر اس کی وجوہات جو ہوتی ہیں وہ یہی کہ آپ جو تفہیم القرآن پڑھتی ہیں، مولانا مودودی کی لکھی ہوئی ہے تو ہم خواہ مخواہ پکڑے جائیں گے۔ تم لوگوں کو درس کی اجازت دی گئی تو تم سیاست میں حصہ لو گی۔ اس طرح قرآن کو بھی سیاست قرار دے دیا جاتا ہے۔ سید مودودی: فرض کیجئے کہ آپ کسی ایسے کالج میں ہیں جہاں اس طرح کی رکاوٹ ڈالی جاتی ہے تو آپ اپنے اجتماع کے لئے اپنی ساتھیوں میں سے کسی کے گھر کو تجویز کر لیجئے۔
وفد: اس میں یہ بات ہے کہ کالج میں ہم جتنی لڑکیوں سے Contact (رابطہ) کر سکتی ہیں اتنا گھروں میں آنا جانا مشکل ہے۔
سید مودودی: نہیں، کالج میں آپ جتنی لڑکیوں سے Contact کریں اس میں زبانی بات چیت کریں یہاں تک کہ جب وہ اس سطح پر آجائیں کہ وہ اس بات کو پسند کرنے لگیں ۔ تو ان سے کہیے کہ بھئی یہ کالج کے لوگ اس کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں مفید کام میں تو ہم نے فلاں جگہ تجویز کی ہے جہاں ہم سب جمع ہوتی ہیں اگر تم چاہو تو بڑی خوشی سے آؤ۔
وفد: لیکن یہ پوچھنے کی چیز تو نہیں، پتہ چل جاتا ہے کہ کہاں اجتماع ہوگا؟
سید مودودی: پتہ چل جائے تو اس کی پرواہ نہ کریں۔ یہ کوئی خفیہ کام تو نہیں ہے۔
وفد: تو پھر جو ہوسٹل کی لڑکیاں ہیں تو ان کے لئے اور رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
سید مودودی: ہوسٹل کی لڑکیوں کے لئے رکاوٹ کیا پیدا ہو جائے گی؟ یعنی ہوسٹل سے نکال دیا جائے گا۔
وفد: نکال نہ دیا جائے گا، لیکن وارڈن ان پر بے جا سختیاں کرتی ہیں۔
سید مودودی: بے جا سختیوں کو برداشت کرنا پڑے گا آپ کو۔
وفد: مثلاً جو جگہ ہم مخصوص کریں اجتماع کے لئے وہاں وہ جانے ہی نہ دیں؟
سید مودودی: دیکھئے، خدا کا نام لینے کے لئے آپ کا سختیوں سے بچ جانا، یہ تو اس زمانے میں ممکن نہیں۔ آپ کو سختیاں اٹھانی پڑیں گی لیکن آپ Resist کریں۔ آپ ان سے کہیے کہ آپ نے ہوٹل سے نکالا تو ہم آپ کے اوپر عدالت میں دعویٰ کریں گے۔ ایک دفعہ دھمکی دے دیجئے۔ ان سے کہیے کہ ہم رٹ داخل کر دیں گے۔
وفد: ایک اعتراض یہ ہے کہ قائد تحریک اسلامی نے جو اسلام کی یہ دعوت دے اور پھیلا رہے ہیں انہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔
سید مودودی: جن لوگوں نے مخالفت کی تھی، ان لوگوں کو تو پاکستان میں وزارتیں تک دی گئیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جن کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ وہ پاکستان کے آخر وقت تک مخالف رہے۔
وفد: لیکن آپ کا نام نمایاں طور پر کیوں آتا ہے؟
سید مودودی: جی! وہی تو بتا رہا ہوں کہ اصل قصہ کیا ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ میری کتاب (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم) تھی جواب ”تحریک آزادی ہند اور مسلمان“ حصہ دوم کے نام سے) موجود ہے جس پر وہ ساری بنیاد رکھتے ہیں۔ وہ کتاب آپ پڑھ لیجئے۔ دیکھ لیجئے جو باتیں میں نے اس وقت کہی تھیں ان میں سے کوئی ایک بات ایسی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔ وہ تو بالکل ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی آنکھوں دیکھ کر کہہ رہا ہو کہ ایسا ہونے والا ہے۔
وفد: ان لوگوں کی طرف آپ نے دوستانہ ہاتھ بڑھایا تھا جن لوگوں کی آپ نے مخالفت کی تھی یا سمجھانے کی کوشش کی تھی، پاکستان بننے سے پہلے؟
سید مودودی: بھٹی پاکستان بننے سے پہلے یہ کچھ سننے کے موڈ میں تھے کب؟ ان پر تو ایک جنوں سوار تھا۔ ہم ان سے کہہ رہے تھے کہ آپ کن Elements (عناصر) کو جمع کر رہے ہیں۔ سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کو بھی آپ جمع کر رہے ہیں جو جاگیردار اور سرمایہ دار ہیں۔ اور اسی طرح کے بڑے بڑے لوگوں کے گھر آپ جائیں تو ان کے گھر سے جائے نماز تک نہ ملے جن کے گھر میں کوئی بتانے والا نہیں ملتا کہ قبلہ کا رُخ کدھر ہے۔ کیا ان کے ہاتھ سے اسلامی حکومت قائم ہوگی؟
میں نے ان لوگوں کو واضح طور پر کہا تھا کہ اگر پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنی ہے تو اس تحریک (آزادی) کو اس طرح چلائیے جس سے پاکستان میں واقعی اسلامی حکومت قائم ہو سکے۔ اس طرح یہ لوگ ملک تو حاصل کر لیں گے لیکن اسلامی حکومت نہیں چلا سکیں گے۔ اب اگر ایک آدمی یہ سمجھائے کہ جس طریقے سے تم کام کر رہے ہو وہ طریقہ اس مقصد کے لئے مفید نہیں ہے جسے تم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہو تو اس کو یہ کہنا کہ تم پاکستان کی ہی مخالفت کر رہے ہو۔ یہ سراسر زیادتی ہے لیکن جو پاکستان کے واقعی مخالف تھے ان کو تمہارے ہاں وزارتیں اور سفارشیں دی گئیں۔
وفد: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بڑھتی ہوئی مخالفتوں اور مخالفین کے متحدہ دانہ طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ہم اپنی طالبات کو دفاعی طرز کی تربیت دیں۔ طالبات کو دفاعی طرز کی تربیت دینا کس حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اس سلسلے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
سید مودودی: (حیرت زدہ لب ولہجہ میں) دفاعی تربیت؟
وفد: جیسے سول ڈیفنس، رائفل ٹریننگ اور جوڈو قسم کی چیزیں۔
سید مودودی: اس کا انتظام کرنا اس وقت تو آپ کے لئے مشکل ہوگا۔ آگے چل کر شاید کچھ ہو سکے۔ جماعت نے اب تک خود مردوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس لئے اگر اس طرح کے ہم کچھ بھی انتظامات کرتے تو ہمارے اوپر فوراً یہ الزام لگا دیا کہ یہ لوگ Violence (تشدد) کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے سر دست آپ اس معاملے کو چھوڑ دیں۔ اس کا وقت بعد میں آئے گا۔ مشرقی پاکستان میں جب (۱۹۷۱ء کا) انقلاب برپا ہوا تو فوراً ہمارے رضا کار (البدر) تیار ہو گئے اور (ان کو خود حکومت پاکستان نے) تمام ہتھیار اور فوجی ٹریننگ دی اور آخر کار ہندوستان سے لڑائی میں انہوں نے پوری طرح بلکہ فوج سے بھی آگے بڑھ کر (ملکی دفاع اور سالمیت پاکستان کے لئے) کام کیا۔
وفد: ہماری طالبات بہنیں تعلیم میں بھی بہتر ہیں اور کالج میں جمعیت کے لئے سٹوڈنٹس یونین کا کام بھی کرتی ہیں۔
سید مودودی: بالکل یہ ضروری ہے کہ تعلیم میں بھی آپ لوگ ان سے آگے رہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ یہ مثلاً قسم کی لڑکیاں نہیں ہیں اور جن علوم کے اوپر لوگوں کو ناز ہے ان علوم میں بھی یہ فائق ہیں۔
وفد: کئی طالبات آپ کا نام دیکھ کر کتاب چھوڑ دیتی ہیں تو اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے کہ وہ آپ سے بہت خار کھاتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ یہ کتاب نہیں پڑھیں گے اور کتاب پڑھ لیں گے؟
سید مودودی: آپ انہیں میرے نام کا ٹائٹل پھاڑ کر کتاب دیجئے اور ان سے کہیے ذرا دیکھو تو کچھ کام کی چیز ہے یا نہیں؟ جس وقت وہ معترف ہو جائیں تو کہیے کہ یہ اسی نالائق آدمی کی کتاب ہے۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ یہی کیا گیا ہے۔
وفد: ٹیچرز سٹاف عموماً ان لوگوں کی حمایت کرتا ہے جو ہمارے مخالف ہوتے ہیں مگر اللہ کا شکر ہے پھر بھی ہمیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔
سید مودودی: جی ہاں! ہر جگہ یہی ہوتا ہے، اس کی پروا نہ کیجئے، ابھی آپ کا کام شروع ہوا ہے، اگر آپ کو کامیابیاں حاصل نہ ہوں تو اس پر گھبرانا نہیں چاہئے۔