تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے زیر اہتمام اجتماع عام میں سید مودودی نے شرکت فرمائی جہاں پر یہ نشست منعقد ہوئی ____ ۱۶ جون ۱۹۷۰ء
عزیز نوجوانو!
میں آپ کے سوالات کے جوابات دینے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ابھی آپ کے محترم رفیق نے آپ سے یہ کہا تھا کہ اس شخص سے اپنا پورا پورا حق وصول کرو۔ بلاشبہ آپ کا مجھ پر حق ہے لیکن آپ کو اپنا فرض بھی تو یاد رکھنا چاہیے۔ آپ کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آپ ایک بیمار آدمی سے اپنا حق وصول کر رہے ہیں۔
سوال: وہ کون سے عوامل ہیں جو طلباء کو اور عام لوگوں کو اسلامی تحریک سے قریب تر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں؟
جواب: سب سے پہلا عامل تو یہ ہے کہ طلباء بھی اور اس ملک کے عوام بھی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اسلامی نظام کے لئے جو کام ہو رہا ہو وہ اس کے قریب آئیں، اس سے تعاون کریں اور اس میں حصہ لیں۔ لیکن تعاون کا یہ جذبہ ان کے اندر اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انہیں یہ اعتماد ہو جائے کہ اسلامی نظام کے لئے جو گروہ اس ملک میں کام کر رہا ہے وہ واقعی مخلص اور دیانت دار لوگوں پر مشتمل ہے اور غلبہ اسلام کے سوا اس کی کوئی اور نیت نہیں ہے۔ اگر آپ طلباء میں اور عام لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ تحریک اسلامی کے بہت قریب آسکتے ہیں بلکہ اس کا دست و بازو بن سکتے ہیں۔
دوسرا عامل مسلمانوں کا جذبۂ ایمانی ہے۔ جن لوگوں کے اندر ایمان کی کچھ رمق بھی موجود ہے وہ موجودہ حالات میں چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر انہیں بتایا جائے کہ جابرانہ افکار و نظریات ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ملحدانہ تحریکیں اس ملک میں اسلام کے خلاف انتہائی گھناؤنی سازش کر رہی ہیں اور اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن اور اسلامی طرزِ زندگی کو سخت خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو مسلمانوں کے لئے حق و باطل کی اس کشمکش میں غیر جانبدار رہنا محال ہے۔ وہ ضرور ان لوگوں کا ساتھ دیں گے جو اسلامی نظام کے لئے کام کر رہے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ان کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے۔
بس یہی دو عامل لوگوں کو اسلامی تحریک سے قریب تر کرنے کے لئے کافی ہیں۔
سوال: اسلامی تحریک کے کارکن میں کون سے اوصاف ہونے ضروری ہیں؟
جواب: اس موضوع پر میں اس سے پہلے مدلل مضامین لکھ چکا اور تقریریں کر چکا ہوں۔ میرے لئے مشکل ہے کہ اب پھر ان تفصیلات کو دہراؤں۔ تاہم چند باتیں مختصر اً عرض کرتا ہوں:
کسی بھی تحریک کا کارکن ہونے کے لئے انفرادی حیثیت سے آدمی کے اندر اولین خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ جس عقیدے پر ایمان رکھتا ہے اور جس نظریے کو برحق سمجھتا ہے اس کے مطابق زندگی کو بھی ڈھالے اور اپنے عمل سے اس نظریے کی سچائی کا ثبوت پیش کرے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ مانتا تو کسی عقیدے کو ہو اور عمل اس کا کسی دوسرے عقیدے پر ہو۔ قول و عمل کا یہ تضاد خرابی کی جڑ ہے۔ آدمی کے اندر اپنے عقیدے سے بے خلوص کم اور منافقت بڑھتی چلی جائے تو یہ چیز بالآخر اسے تباہ کر کے چھوڑتی ہے۔ اس لئے اولین خصوصیت تو آپ کو اپنے اندر یہ پیدا کرنی چاہیے کہ آپ کے عقیدے اور عمل میں کوئی تضاد نہ ہو، مضبوط سیرت و کردار کے حامل افراد ہی تحریک اسلامی کے بہترین کارکن ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری اہم خصوصیت آپ کے اندر یہ ہونی چاہئے کہ جس مقصد و نصب العین کے لئے آپ کام کر رہے ہیں اسی مقصد و نصب العین کے لئے دوسرے کام کرنے والوں کے ساتھ آپ کا تعاون و اتحاد قائم رہے۔ خود قرآن کریم میں آتا ہے۔ <<إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ>> یعنی جو لوگ ایمان کے رشتے سے منسلک ہیں انھیں آپس میں بھائی بھائی ہونا چاہئے، انھیں ایک دوسرے کا رفیق و غمگسار اور ہمدرد ہونا چاہئے۔ ان کے درمیان کینہ، حسد اور چھین جھپٹ کے جذبات نہ پیدا ہونے پائیں۔ انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہئے۔ وہ یہ طے کر لیں کہ بیٹھیں گے تو مل کر بیٹھیں گے اور چلیں گے تو قدم سے قدم ملا کر چلیں گے۔ اس طرح تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود آپ ایک بڑی تعداد کی سی قوت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ان اوصاف کی عدم موجودگی میں اگر آدمیوں کی بڑی سے بڑی بھیڑ بھی اکٹھی ہو جائے تو وہ کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔
مضبوط سیرت و کردار کے حامل افراد کی تنظیم کی مثال اس عمارت کی سی ہے جس کی ایک ایک اینٹ اپنی جگہ پختہ ہوتی ہے اور آپس میں جڑی رہتی ہے۔ ایسی عمارت کو ڈھا دینا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کچی اینٹوں سے کوئی خوبصورت عمارت بنائی جائے تو وہ ذرا سی کوشش سے ڈھائی جا سکتی ہے۔
سوال: آپ کے اندر احیائے اسلام کے لئے ایک تحریک برپا کرنے کا خیال کیوں کر پیدا ہوا۔ براہ کرم ان حالات کی نشان دہی کیجیے؟
جواب: میرے عزیزو! آپ میری تقریریں سنتے رہتے ہیں اور میری تحریریں بھی آپ نے پڑھی ہیں میں نے کبھی اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس بات کو سمجھ لیجیے کہ قرآن وحدیث کے مطالعے کے بعد میرے ذہن میں اسلام کا جو صحیح تصور ابھرا اس کے مطابق میرے دل نے کہا کہ تمھیں اس کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔ میں اللہ کا نام لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور آج تک اسی کام میں لگا ہوا ہوں۔
سوال: کیا تحریک اسلامی کے لئے ضروری ہے کہ وہ حالات کے مطابق بدلتی رہے یا پھر اسے ایک ہی راہ پر گامزن رہنا چاہیے؟
جواب: اس سلسلے میں دو چیزوں کو ملحوظ رکھیے۔ ایک چیز تو اصول اور مقصد ہے اور دوسری چیز طریق کار ہے۔ اصول ہمیشہ ناقابل تغیر و تبدل ہونے چاہئیں۔ لیکن اصولوں کو روبہ عمل لانے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ موجودہ حالت میں کون سا طریق کار مناسب رہے گا؟ ہم خلا میں کام نہیں کر رہے ہیں کہ آنکھ بند کیے ایک لگے بندھے راستے پر چلتے چلے جائیں۔ ہمیں حالات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا پڑے گا اور اس کے مطابق اپنے کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ اگر ہم نے طریق کار میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے اصول اور مقصد میں بھی تبدیلی کر ڈالی تو تحریک ہی فنا ہو کر رہ جائے گی۔
سوال: ان دنوں اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف طلباء بڑی کثرت سے رجوع کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے ان کی تربیت کا مسئلہ پریشان کن بن گیا ہے۔ بتائیے کیا کریں؟
جواب: اصل میں معاملہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک کامیابی کی منزلوں کے قریب پہنچتی ہے تو عام لوگوں کی توجہ کثرت سے اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے اور وہ اس میں شامل ہونے لگتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے اور ہمیشہ ایسا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی تربیت کا انداز ان لوگوں سے مختلف ہوتا ہے جو پہلے سے اس تحریک کو چلانے والے ہوتے ہیں۔ یہی لوگ تحریک کا اصل جوہر ہیں، اگر ان کی تربیت صحیح بنیادوں پر ہوئی ہو، اور وہ اپنی اصول پرستی کے لحاظ سے بے لچک کردار کے مالک ہوں تو جو لوگ بھی ان کے گرد جمع ہوتے ہیں وہ آپ سے آپ ان کے کردار سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان میں بھی وہی سپرٹ پیدا ہو جاتی ہے جو تحریک کو چلانے والوں میں پائی جاتی ہے۔
عام لوگوں کی یہ خاصیت ہے کہ وہ جس اپیل یا تحریک سے متاثر ہوتے ہیں اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں کوئی وقت نہیں لگاتے۔ مثال کے طور پر ابھی چند دن پیشتر شوکتِ اسلام کے عظیم الشان مظاہرے میں شریک ہوئے۔ اُنھیں چونکہ اسلام کی شوکت کا مظاہرہ کرنے اور اللہ کا علم بلند کرنے کے نام پر جمع کیا گیا تھا اس لئے یک لخت لوگوں میں ایک ایسی اخلاقی سپرٹ پیدا ہو گئی، جس کی مثال اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ ان لاکھوں آدمیوں کی تربیت کسی کے بس کی بات نہ تھی، لیکن کلمہ طیبہ کی اپیل میں جو اخلاقی تربیت پوشیدہ تھی اس نے خود بخود انھیں اسلامی اخلاق کے پیکر بنا دیا تھا۔ پاکستان کے کسی گوشے سے بھی یہ شکایت سننے میں نہیں آئی کہ شوکت اسلام کے مظاہرے میں کوئی خلافِ اسلام نعرہ لگایا گیا ہو۔ کسی کو گالی دی گئی یا کسی کی جان و مال کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہو۔
بس یہی وہ چیز ہے جو آپ کے ساتھ شامل ہونے والوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ آپ اپنے عمل کو درست رکھیں، کسی ناروا کام کو نہ خود کریں نہ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس طرح جو دوسرے طلباء آپ سے ملیں گے وہ بھی اسی رنگ کو اپنا لیں گے۔
سوال: کراچی کی بعض درس گاہوں میں اشتراکی اساتذہ نئی نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس کا کیا علاج کیا جائے؟
جواب: یہ مسئلہ صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے پورے پاکستان میں یہی صورت ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں ہر جگہ ایک گروہ ایسا ہے جو نہ صرف غیر اسلامی نظریات رکھتا ہے بلکہ اسے اسلام سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔ وہ اپنے نظریات جہاں دوسرے ذرائع سے پھیلا رہا ہے وہاں تعلیم گاہوں کے ذریعے سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور ان کا اخلاق بگاڑنے میں مصروف ہے۔
بلا شبہ طلبہ اپنے اساتذہ کا احترام کریں۔ لیکن اگر کلاسوں میں نظریاتی بحثیں چھیڑی جائیں تو آپ بھی معقول دلائل کے ساتھ اپنے خیالات پیش کر سکتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ کثرت سے طلبہ میں اسلامی خیالات پھیلاتے جائیں۔ اشتراکی اساتذہ جب یہ محسوس کریں گے کہ طلبہ کی اکثریت ان کے خیالات کی ہمنوا نہیں ہے بلکہ سختی سے اسلامی نظریات پر قائم ہے۔ اور وہ ان نظریات کا دفاع کرنا بھی جانتی ہے تو ان کی کمر ہمت ٹوٹ جائے گی اور ان کے ساتھ صرف وہی طلبہ رہ جائیں گے جنھیں اشتراکی اصول اپیل نہیں کرتے بلکہ اشتراکیت کا اخلاقی بگاڑ اپیل کرتا ہے، اللہ کا فضل ہے کہ ہمارے طلبہ کی عظیم اکثریت اخلاقی بگاڑ کو پسند نہیں کرتی۔
سوال: نظریاتی ریاستوں میں آزادی صحافت کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: جو غیر اسلامی نظریاتی ریاستیں ہیں ان میں تو صحافت کی آزادی کا سرے سے کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ پریس پوری طرح حکومت کے قبضہ میں ہے، کوئی ادنیٰ سی بات بھی حکومت کی منشاء کے خلاف پریس میں نہیں آسکتی۔ اگر کوئی شخص چالاکی کے ساتھ اختلاف رائے کا اظہار کر جاتا ہے تو ان نام نہاد نظریاتی ریاستوں میں اس کی جگہ پاگل خانہ قرار پاتی ہے۔
اسلام کی نظریاتی ریاست میں اس جبر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس میں پریس پوری طرح آزاد ہوگا اور ہر شخص کو معقولیت کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی ہوگی ہاں گالی دینے کی اجازت نہیں ہوگی نہ مخالفین اسلام کو اور نہ ان لوگوں کو جو اسلام کے علمبردار ہیں۔
سوال: اسلامی نظام تعلیم کب آئے گا اور یہ انتظار کی گھڑیاں آخر کب ختم ہوں گی؟
جواب: نظام تعلیم میں اسلامی انقلاب تو اُسی وقت آسکتا ہے جب حکومت کی تبدیلی عمل میں آئے اور ریاست میں انقلاب برپا ہو۔ حکومت کی تبدیلی کے لئے یہ موقع آگیا ہے۔ چار پانچ ماہ میں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ ملک کے معاملات کن لوگوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔ جو لوگ بھی بر سر اقتدار آئیں گے وہ ملک کے معاشی، سیاسی، تعلیمی غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں میں اپنے نظریات کے مطابق تبدیلی کریں گے۔ اگر ان کے نظریات کے مطابق معاملات پہلے سے چل رہے ہوں گے تو وہ انھیں جوں کا توں برقرار رکھیں گے۔
میں نے طلبہ کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور عملی سیاسیات میں حصہ نہ لیں، لیکن یہ مشورہ عام حالت کے لئے ہے۔ بعض حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن میں قوم کے ہر فرد کو اپنے جان لڑا دینا پڑتی ہے۔ خود قائد اعظم طلبا کا عملی سیاست میں حصہ لینا پسند نہیں فرماتے تھے لیکن جب مطالبہء پاکستان کی تحریک اٹھی اور انھوں نے یہ محسوس کیا کہ اس وقت تحریک پاکستان میں مسلمان قوم کے ایک ایک فرد کو کام کرنے کی ضرورت ہے تو انھوں نے طلبا کو بھی مدد کے لئے پکارا اور انھیں تلقین کی کہ وہ تحریک پاکستان کے لئے قریہ قریہ، بستی بستی جا کر کام کریں۔ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے قیام میں طلبہ کی قربانیاں بے مثال ہیں۔
سوال: تحریک جمہوریت کے بعد طلبہ میں سیاسی رسائل اور اخبارات پڑھنے اور سیاسی مسائل پر گفتگو کرنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اپنے بنیادی لٹریچر سے بے تعلقی پیدا ہوگئی ہے۔ ہمیں اپنا یہ ذائقہ (Taste) کیسے بدلنا چاہیے؟
جواب: آپ یہ Taste نہ بدلیے ہاں اپنے مطالعہ میں توازن برقرار رکھیے۔ ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب ملک کے حالات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضرورت آپ کی اس ذمہ داری کو ساقط نہیں کرتی کہ آپ اپنے بنیادی افکار ہی سے بے خبر ہو جائیں اگر ایسا کریں گے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ آپ کی تحریک کسی غلط راستے پر چل پڑے گی اور آپ ملک کے حالات سے باخبر ہوتے ہوئے بھی کوئی مفید خدمت انجام نہیں دے پائیں گے۔
سوال: ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ اسلام کا نام بھی لیتے ہیں اور مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں کیا آپ کا اسلام آپ کو یہی سکھاتا ہے؟
جواب: معاشرے کے حالات بگڑے ہوئے ہوں تو جو لوگ بھی اس کی اصلاح کرنے کھڑے ہوں گے وہ لازماً اسی معاشرے میں رہ کر کام کریں گے اس سے بے تعلق ہو کر نہیں رہ جائیں گے۔
تعلیم یافتہ طبقے میں اصلاح کا کام کرنے کے لئے آپ کا تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری ہے اور اعلیٰ تعلیم آپ انہیں اداروں ہی میں حاصل کر سکتے ہیں جو اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں اور بد قسمتی سے جن میں مخلوط تعلیمی نظام رائج ہے۔ اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے کہ آپ جس حد تک بھی اپنے آپ کو بگاڑ سے بچا سکتے ہوں، بچائیں۔ شریعت جس چیز کو دیکھنا پسند نہیں کرتی اسے نہ دیکھیے خواہ وہ کتنی ہی جاذب نظر کیوں نہ ہو۔ غض بصر سے کام لیجیے۔ اس کے معنی اگرچہ نگاہ جھکائے رکھنے کے ہیں لیکن موجودہ حالات میں اس سے نگاہ بچانے کا مفہوم بھی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تقویٰ کی بہت بڑی ورزش ہے۔ جو حجرے میں بیٹھ کر نہیں کی جاسکتی۔ اس زمانے میں اگر کوئی شخص صرف نظر کو بچانے کا کام کر رہا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس آدمی سے بڑا متقی ہے جو حجرے میں بیٹھ کر یاد اللہ میں مصروف ہو۔ جو لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں انھیں بتائیے کہ اس بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ چین میں سوشلزم قائم ہونے کی وجہ سے حکومت نے ترقی کی ہے اگر ہمارے ہاں پاکستان میں بھی سوشلزم آجائے تو ملک خوب ترقی کرے گا ۔!
جواب: اگر کسی ملک کی ترقی ہی اس کے نظام کو اپنانے کی دلیل بن سکتی ہے تو ہم کیوں نہ چین کے بجائے جاپان کے نظام کو اختیار کریں کہ جاپان چین سے زیادہ ترقی یافتہ ہے، اسی طرح امریکہ چین سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ اس کے نظام کو کیوں نہ اپنائیں!
اس قسم کی باتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جن کا اپنا نظریہ حیات اور نظام زندگی کوئی نہیں ہوتا، پہلے یہ لوگ انگریز کی نقل کیا کرتے تھے، پھر امریکہ آیا تو اس کی پیروی کرنے لگے اور اب چین کی تقلید پر کمر بستہ ہیں۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کوئی دُم کٹی قوم نہیں ہیں، خدا کے فضل سے ہم مسلمان ہیں، قرآن جیسی بے مثال کتاب ہمارے پاس ہے، محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم جیسا اُسوہ حسنہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور اسلام جیسا مکمل دین ہمارا سرمایہ ہے۔ اگر ہم نے اس کے مطابق دنیا میں کام کیا ہوتا تو آج چین میں اسلام ہوتا ”ماؤزیت“ نہ ہوتی!
سوال: ملک کے اندر بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان سے طلبہ متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے اندر یہ غلط خیال پروان چڑھ رہا ہے کہ تشدد ہی سے ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اس غلط رجحان کا کیسے ازالہ ہو سکتا ہے؟
جواب: یہ صورت حال بڑی حد تک حکومتوں کی غلط روش سے پیدا ہوئی ہے۔ حکومتوں کی روش یہ رہی ہے کہ آپ معقول بات معقول دلیل سے پیش کریں تو اسے کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی اور یہ خیال کیا جائے گا کہ یہ امن پسند لوگ ہیں ان سے حکومت کے نظم و نسق کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا اس لئے ان کی بات قابلِ اعتنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر کچھ لوگ توڑ پھوڑ اور تشدد پر اتر آئیں تو حکومت سمجھتی ہے کہ ہاں یہ لوگ وزن رکھتے ہیں۔ ان کے طرز عمل سے ملک کا امن و امان خطرے میں پڑ سکتا ہے اس لئے ان کے معقول مطالبے تو الگ رہے غیر معقول مطالبوں کو بھی مان لو تاکہ جان چھوٹے۔ یہ روش حکمرانوں کی نا اہلی اور ان میں تدبر کی کمی کی دلیل ہے۔ اگر وہ معقول باتوں کو معقول طریقوں سے مان لیں تو غیر معقول باتوں کے ابھرنے کی نوبت ہی نہیں آسکتی۔ غیر معقول باتوں کے اٹھانے والے قوم کی اخلاقی تائید سے محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔
موجودہ حالات میں اگر چہ جبر و تشدد کے راستے کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں لیکن میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ معقولیت کے راستے کو بالکل نہ چھوڑیں کیونکہ بالآخر یہی چیز پوری قوم اور ملک کو تباہ کر دینے والی ہے۔ اگر آپ ملک کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتے تو غیر معقول راستے پر بالکل نہ چلیں۔ انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ اگر ملک میں ایک گروہ معقول راستے پر چلتا رہا اور اُس نے کبھی اس راستے کو نہ چھوڑا تو وہ ضرور کامیاب ہو کر رہے گا۔ غیر معقولیت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب معقولیت متحرک نہ ہو۔ لیکن معقولیت حرکت میں آجائے تو معقول اور نامعقول لوگوں کا تضاد کھل کر سامنے آجاتا ہے اور قوم جان لیتی ہے کہ کون سا راستہ اسے اختیار کرنا چاہیے اور کون سا چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ راستہ اگرچہ صبر آزما ہے لیکن یہی خیر و فلاح کی منزل کی طرف جاتا ہے۔
سوال: جب اسلام تمام انسانوں کو برابر کہتا ہے تو پھر غلام رکھنے کی کیوں اجازت دیتا ہے؟
جواب: اصل میں اسلام کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں عیسائی مشنریوں کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ یورپ کے یہ عیسائی افریقہ کے غلاموں کی تجارت خود کرتے رہے ہیں اور مطعون کر رہے ہیں اسلام کو۔ اصل میں ان کی یہ ساری باتیں اپنی چوری کو چھپانے کے لئے ہیں۔
حضورؐ کی بعثت سے قبل عرب کی پوری معاشی زندگی غلاموں پر چل رہی تھی۔ آپؐ نے آتے ہی جو انقلابی کام کیا وہ یہ تھا کہ غلام کو آزاد کرنا ایک نیکی قرار دیا۔ اگر کسی شخص کو کوئی کفارہ ادا کرنا تھا تو اسے بتایا گیا کہ غلام کو آزاد کرنا بہترین کفارہ ہے۔ چونکہ عرب کے وہ لوگ سچے دل سے ایمان لائے تھے۔ اس لئے اسلام لانے والوں نے غلاموں کو دھڑا دھڑ آزاد کرنا شروع کر دیا۔ تنہا عبدالرحمن بن عوفؓ نے تمیں ہزار غلام آزاد کیے۔ اسی طرح تمام صاحب حیثیت مسلمانوں نے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے غلام خرید خرید کر آزاد کر دیے۔ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانے کا ایک غلام بھی قیدی نہ رہا تھا۔
اب غلاموں کے متعلق فی نفسہ اسلام کا قانون سمجھ لیجیے۔ اسلام نے جن غلاموں کو قید رکھنا جائز قرار دیا وہ جنگی قیدی تھے۔ ان کے بارے میں تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ان کا تبادلہ کر لیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ان کا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ تیسری صورت ذرا پیچیدہ ہے۔ وہ یہ کہ اگر انھیں کوئی نہیں چھڑاتا، تو پھر ان کے انتظام کی کیا شکل ہو؟ اس کی جو عملی شکلیں ممکن ہیں وہ دو ہیں۔ یا تو Concentration Camps (مشقتی کیمپ) بنائے جائیں اور انھیں ان میں گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جائے یا پھر انھیں خاندانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اب آپ خود غور کیجیے ان میں سے کونسا راستہ بہتر ہے۔ انھیں مشقتی کیمپوں کے حوالے کرنے کا یا انسانوں میں تقسیم کر دینے کا۔ پچھلی جنگ عظیم میں جو جرمن قیدی پکڑے گئے تھے ان کا اب تک کوئی حساب نہیں کیا گیا اور نہ یہ ٹھیک ٹھیک معلوم ہو سکا کہ کس شخص کا کیا حشر ہوا۔ یہی معاملہ جاپانی قیدیوں کے ساتھ بھی ہوا اور یہی کچھ روس اور جرمنی بھی کرتا رہا ہے۔ جو لوگ اسلام پر غلامی کا طعن کرتے ہیں ان سے پوچھئے کہ کیا آج انسان انسان کو غلام بنا رہا ہے یا نہیں؟
سوال: اسلام دوست جماعتوں میں عموماً اختلاف و افتراق پایا جاتا ہے ان حالات میں ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟
جواب: اس سلسلے میں پہلا کام آپ کا یہ ہونا چاہیے کہ جو اختلاف و افتراق اسلام دوست جماعتوں میں پایا جاتا ہے وہ آپ کے طرزِ عمل سے اور نہ بڑھنے پائے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ پر چوٹیں ہوں۔ آپ کے خلاف طرح طرح کی باتیں کی جائیں اور نئے نئے الزامات آپ کے خلاف گھڑے جائیں۔ اگر آپ نے بھی چوٹوں کے جواب میں چوٹیں شروع کر دیں۔ باتوں کے جواب میں باتیں کرنے لگے اور نئے نئے الزامات کے جوابات میں آپ نے بھی دوسروں کے خلاف الزامات گھڑنے شروع کر دیے تو آپ افتراق و اختلاف کو اور پھیلانے کا سبب بنیں گے۔ آپ کا حال اس بچے کا سا نہیں ہونا چاہیے جو چھیڑے ہوئے کیڑے میں انگلی ڈال کر اسے اور پھاڑتا چلا جاتا ہے۔
آپ خاموشی اور خلوص کے ساتھ اپنا کام کرتے چلے جائیے اور پلٹ کر کسی کو جواب نہ دیجیے، آپ کے طرز عمل سے لوگوں میں دین سے جتنا زیادہ خلوص پیدا ہو گا توقع ہے کہ اختلاف و افتراق اسی قدر کم ہوتا چلا جائے گا۔
سوال: بعض لوگ یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ جماعت اسلامی کی شاخ ہے ہم اس کا کیا جواب دیں؟
جواب: اصل معاملہ یہ ہے کہ ایک مقصد کے لئے کام کرنے والوں کو ایک دوسرے سے پھاڑنے اور کاٹنے کے لئے مخالفین کی طرف سے جو چالیں چلی جاتی ہیں ان میں سے ایک چال یہ بھی ہے کہ انھیں ایک دوسرے کی شاخ اور دم چھلے قرار دے دیا جاتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ بعض لوگ الزام سے جھنجھلا کر اپنے اصل کام ہی سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔
اگر کچھ لوگ آپ کو جماعت اسلامی کو شاخ قرار دیتے ہیں تو آپ خاموشی سے اپنا کام کرتے جائے آپ کو ان سے الجھنے اور تردید میں وقت گنوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ جس شخص نے بھی اسلام کا نام لیا اسے ”مودودیہ“ قرار دے دیا جاتا ہے اور جو چرچہ اپنے اندر اسلام کا ذکر کرتا ہے وہ بلا توقف جماعت اسلامی کا آرگن قرار دیا جاتا ہے۔ وہ کون عقلمند ہے جو میری اور جماعت اسلامی کی حمایت کے الزام سے بچنے کے لئے اسلام سے دستبردار ہو جائے گا۔
سوال: اسلامی حکومت میں جرائم کا خاتمہ ہو گیا تو وکلاء کیا کریں گے؟ جب قانون کی تعلیم ہمارے روزگار کا بندوبست نہیں کر سکتی تو ہم تعلیم کیوں حاصل کریں؟
جواب: یہ سوال بہت دلچسپ ہے اگر اسے الٹ کر بات کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وکلاء کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے جرائم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ ایک مہذب معاشرے میں رہنے کے لئے قانون سے واقف ہونا ضروری ہے، اسلامی اصطلاح میں اسے ”فقہ“ کہتے ہیں۔ اسلامی حکومتوں میں فقہ کی تعلیم لاکھوں افراد حاصل کرتے تھے۔ آپ بھی قانون کی تعلیم حاصل کیجیے لیکن اس نیت سے نہیں کہ جرائم نہ ہوئے تو آپ کی روزی بند ہو جائے گی۔ ہمارے فقہاء بھی خدا کے فضل سے بھوکے نہیں مرتے تھے!