تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے تربیتی کیمپ برائے ناظمین منعقد 4 -اے ذیلدار پارک، اچھرہ،لاہور میں ۔۔۔ 27 جنوری 1973ء
سوال: آج کل عام طور پر لوگ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہیں کہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہے، یہ خیال عام ہے کہ آئندہ چند سال بعد پاکستان صفحہ ہستی پر نہ رہے گا۔ اس صورت میں آئندہ تحریک اسلامی کا لائحہ عمل کیا ہوگا اور نو جوانوں کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں؟
جواب: یہ احساس جو لوگوں میں اب پیدا ہوا ہے کہ ملک کا مستقبل تاریک ہے۔ ۲۵ سال سے پیدا کیا جا رہا تھا۔ لوگ پھر بھی مایوس نہیں ہوئے تھے۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک ایک بچہ اس ملک کے مستقبل کے تاریک ہونے کے بارے میں شبہ کا اظہار کرنے لگا، ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا سامان برسوں سے کیا جا رہا تھا۔ جب ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تب لوگوں کو احساس ہوا۔ حالانکہ دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ ٹکڑے کرنے کا سامان ہو رہا ہے اور یہ ملک کسی نہ کسی وقت ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اس کا جواب یا تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا اس کا جواب دینے کی جرات کوئی منجم کر سکتا ہے۔ میرا کام مستقبل کے فیصلے کرنا نہیں۔ مستقبل کے بارے میں میرا کام آپ سے یہ کہنا ہے کہ اس بات پر ڈٹ جائیں کہ اس ملک کے مستقبل کو تاریک کرنے کی جو کوشش کی جائے گی اس کے مقابلے میں آپ جان لڑا دیں گے لیکن کسی کو یہ کام نہیں کرنے دیں گے۔
اس ملک کے مستقبل اور اس کی آفرینش کا انحصار ایک ہی چیز پر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ تحریک پاکستان کے دوران میں کیا گیا تھا اسے ایمان داری کے ساتھ پوراکیا جائے۔ وعدہ یہ تھا کہ اس سرزمین کو اسلام کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ اس میں اسلام کا قانون نافذ کیا جائے گا۔ یہی وعدے تھے کہ جن کی بناء پر رحمت الہی متوجہ ہوئی۔ انہی وعدوں کی وجہ سے ایک معجزے کے طور پر پاکستان وجود میں آیا۔ ورنہ ۱۹۴۷ء کے آغاز تک کسی کو یہ توقع نہ تھی کہ پاکستان بن جائے گا۔ لیکن پاکستان بنا تو اس کے ساتھ ہی ان وعدوں کو فراموش کر دیا گیا۔ خدا سے باندھا گیا عہد توڑا گیا۔ قانون فطرت ہے کہ خدا سے بے وفائی کر کے آج تک اس کی سزا سے کوئی نہیں بچ سکا تو ہم کیسے بچ سکتے تھے۔ اب اگر اس سزا سے بچنا ہے تو اس عہد کو تازہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنا اس سے انحراف کریں گے اتنا ہی ملک کا مستقبل تاریک ہوتا جائے گا۔
پاکستان کے قیام کے وقت کسی شخص نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم پنجابی کی حیثیت سے آزادی چاہتے ہیں یا بنگالی، بلوچ، پٹھان یا سندھی کی حیثیت سے، اس وقت سب کے سب مسلمان تھے اور مسلمان بن کر ایک مسلم مملکت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد تمام تر کوششیں اس بات کی کی گئیں کہ مسلمانوں کی اسلام کے اوپر وحدت نہ ہو اور وہ اسلام کے نام پر جمع نہ ہونے پائیں، بلکہ بنگالی، پنجابی، بلوچی اور پٹھان میں تقسیم ہو جائیں۔ یہ کوششیں اب بھی ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کر لو کیونکہ وہ اپنی مرضی سے الگ ہوا ہے۔ حالانکہ وہ الگ نہیں ہوا بلکہ زبردستی الگ کیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے مان لو کہ مغربی پاکستان میں چار قومیں آباد ہیں جبکہ ہندوستان میں پچیس سے بھی زیادہ قومیں آباد ہیں لیکن وہاں انہیں مان لینے پر زور نہیں دیا جاتا۔ بلوچستان کی کل آبادی ۳۰ لاکھ ہے۔ یہاں بھی کئی قومیں بلوچ، پٹھان اور بروہی آباد ہیں اگر اسی طرح قومیت کا نعرہ بلند کیا جاتا رہا تو ایک بلوچستان کے بھی چار پانچ حصے بن جائیں گے اور ایسا ہی حشر باقی حصوں کا بھی ہوگا۔ اب رہا ملک کے بارے میں سوال کہ اس کا مستقبل کیا ہے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو مستقبل بنایا جا رہا ہے اسے ہرگز نہیں بننے دیں گے۔ مسلمان کی حیثیت سے فیصلہ کیجئے کہ اس کا مستقبل خراب نہیں ہونے دیں گے، جس کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
سوال: موجودہ سائنسی اور مادہ پرستی کے دور میں مادہ پرستوں کا غلبہ ہے۔ تحریک اسلامی کے کارکن کی حیثیت سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں رہنمائی فرمائیے کہ میں جماعت اسلامی کا با قاعدہ کارکن بنوں یا سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے دنیا میں غلط سائنسی نظریات کا ابطال پیش کر کے اسلام کی فوقیت ثابت کروں؟
جواب: یہ دونوں کام اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور برابر اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ جب تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، خواہ کسی شعبے میں ہوں اس میں کمال پیدا کیجئے۔ مقلدوں کا سا کمال نہیں بلکہ مجتہدوں کا سا کمال پیدا کیجئے۔ اس علم کو بھی حاصل کیجئے لیکن آنکھیں بند کر کے نہیں۔ ان کا تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کریں۔ خواہ سائنس ہو، خواہ سوشل سائنسز ہوں، انہیں تنقید کی نگاہ سے دیکھیں کہ حق کیا ہے؟ اور باطل کیا؟ حق کو الگ کریں اور باطل کو الگ۔ اعلیٰ درجے کے سائنسدان بنئے لیکن وہ سائنس دان نہیں جو خدا کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ سائنس دان بنیں جن کے علم سے خدا پر اور زیادہ یقین پیدا ہو جائے۔ سوشل سائنسز میں بھی حقائق کو حاصل کیجئے، مگر مغربی نظریات کو آنکھیں بند کر کے قبول نہ کیجئے۔ اجتماعی زندگی کے طریق مغرب سے سیکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں سکھانے کی ضرورت ہے۔ معاشرتی زندگی کے اصولوں کے بارے میں ان پر واضح کریں کہ تمہارے اصول تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں اور اسلام کے اصول سلامتی کے ضامن ہیں۔ اسی طرح سے آپ عالم بنیں اور مجتہد عالم بنیں۔ لیکن چونکہ وقت ایسا ہے کہ سکون کے ساتھ محض تعلیم حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ ساتھ ساتھ اس ملک کے اندر جو بے دینی جڑ پکڑ رہی ہے اسے اکھاڑنے کی بھی کوشش ضروری ہے۔ جس دینداری کو دم توڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کی جدوجہد اور علم کا حصول دونوں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ ایسا نہیں ہے کہ آپ سکون کے ساتھ صرف علم ہی حاصل کریں۔ اس کے ساتھ آپ کو اپنے دین کو قائم کرنے کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔ دونوں ضرورتیں آپ کی سعی کی یکساں طالب ہیں اور آپ کو ان کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔
سوال: کیا موجودہ دور میں کسی بیرونی طاقت کی مدد کے بغیر کوئی انقلاب لایا جا سکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو تحریکِ اسلامی کیوں کسی بیرونی طاقت کی مدد حاصل نہیں کرتی؟
جواب: اس سوال کا پہلا حصہ غلط ہے۔ اس لئے دوسرے حصے کا جواب بھی کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن ایک بات یاد رکھئے کہ کسی ملک میں انقلاب بیرونی طاقتوں کی مدد سے برپا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ملک کے رہنے والوں کے عزم اور ارادے سے انقلاب برپا ہوتا ہے۔ اگر ان کے اندر کسی چیز کے بارے میں عزم پیدا ہو جائے، خواہ وہ وطنیت کا عزم ہو، خواہ خدا پرستی کا عزم ہو، خواہ قوم پرستی کا عزم ہو، تو وہ قوم اس مقصد کے لئے لڑنے مرنے اور کٹنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اور انقلاب برپا ہو کر رہتا ہے۔ خواہ بیرونی طاقتیں انقلاب روکنے کی کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کریں۔
جب یہ حقیقت ہے تو تحریک اسلامی کو کسی طاقت سے معاہدہ، معاملہ اور مدد طلب کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں اور اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ آخر وہ کون سی بیرونی طاقت ہے جو کسی ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لئے تحریک اسلامی کی مدد کرے گی۔ کیا امریکہ اس سلسلے میں مدد کرے گا جس پر یہودی سوار ہیں۔ کیا روس اس سلسلے میں مدد دے گا جو پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کے خلاف نفرت کا اظہار کرنے لگا تھا اور جو پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کیا ہندوستان اس سلسلے میں مدد کرے گا؟ ان ساری بڑی طاقتوں سے بھی بڑی طاقت اللہ کی ہے ہم اگر اس کے ساتھ معاہدہ اور اس کی مدد طلب کریں تو خواہ امریکہ، روس، ہندوستان اور چین بھی مزاحمت کریں گے تو پھر بھی اسلامی انقلاب برپا ہو کر رہے گا۔ انشاء اللہ۔
سوال: ہم کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عورتوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن ہمارے دل اسے ناگوار سمجھتے ہیں۔ کیا ہم ایسی حالت میں ان سے مل جل کر تعلیم حاصل کریں یا نہ کریں؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اس مخلوط تعلیم کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتے رہیں اور آئینی حدود میں یہ مطالبہ کرتے رہیں کہ اس غلط تعلیمی نظام کو ختم کیا جائے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ انتظام کیا جائے۔ لیکن جب تک آپ کو اس میں کامیابی نہیں ہوتی اور یہ لوگ مخلوط تعلیم کو درس گاہوں میں جاری رکھتے ہیں، اس وقت تک آپ یوں سمجھیں کہ جیسے آپ ریل میں یا کسی جہاز میں سفر کر رہے ہیں۔ اس میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ آپ نظریں بچا کر رکھیں، اسی طرح آپ اپنے تعلیمی اداروں میں بھی اس حکم شرعی کی تعمیل کریں۔ ....... غض بصر، جس کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا ہے، ایسے ہی حالات کے لئے ہے۔ آپ حتی الامکان نظریں بچائیں، غض بصر کے معنے نظر نیچے رکھنے کے نہیں ہیں لوگ غلطی سے اس کا ترجمہ نگاہیں نیچی رکھنا کرتے ہیں۔ شریعت کا مقصود ہر وقت زمین کو دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ آپ نگاہ جما کر انہیں دیکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی نظر کو انہیں دیکھنے سے بچائیں۔ اس وقت اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور اگر آپ اپنے کالجوں میں یہ رویہ اختیار کریں گے تو انشاء اللہ ہر روز آپ کو اس کا ثواب ملتا رہے گا۔
سوال: بعض والدین جمعیت کے کام کے مخالف ہوتے ہیں اور اپنے بچوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اسے چھوڑ دیں، ایسے طالب علموں کا کیا فرض ہے کہ جنہیں ایسی مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
جواب: ان کا فرض ہے کہ والدین کی اطاعت بھی کریں اور جمعیت کا کام بھی کریں۔ میں کسی طالب علم یا طالبہ کو یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی کرے یا انہیں چھوڑ دے۔ اسلام نے ہمیں اس بات کا پابند کیا ہے کہ اولاد والدین کی اطاعت کرے، انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرے اور ان کی نافرمانی نہ کرے۔ دوسری طرف جہاں تک میں نے جمعیت کے مقاصد کا مطالعہ کیا ہے، وہ کوئی ایسا کام نہیں ہے جو کوئی گناہ یا برائی ہو۔ بلکہ ایک صحیح مقصد کے لئے، جو ہر مسلمان کا مقصد ہے، وہ ایمانداری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ والدین اگر کسی طالب علم کو روکتے ہیں تو کسی غلط فہمی کی بنا پر روکتے ہیں۔ ان کے علم میں نہیں ہوتا کہ یہ جمعیت کیا ہے اور کیا کام کر رہی ہے اور اس میں خود ان کے بچوں کی کیا بھلائی مضمر ہے۔ وہ یہ حقائق نہ جاننے کی وجہ سے اپنے بچوں کو روکتے اور مخالفت کرتے ہیں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ اپنے والدین کو سمجھائیں اور بتائیں کہ ہماری جمعیت کیا ہے؟ انہیں بتائیے کہ ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے ہیں جو آپ کی ناراضی کا سبب بنے۔ ہم خدا کا کام ایمانداری کے ساتھ کر رہے ہیں اور دین پر عمل کر رہے ہیں۔ ...... اگر بعض والدین اس کے باوجود نہ سمجھیں تو جاننا چاہئے کہ کچھ انسانی تعلقات ایسے ہوتے ہیں جنہیں قانون کنٹرول کرتا ہے اور کچھ انسانی تعلقات وہ ہوتے ہیں جو قانون سے بالاتر ہوا کرتے ہیں۔ آخر بعض والدین ایسے بھی تو ہیں جن کی اولاد چوری کی عادت میں مبتلا ہو گئی ہے، یا آوارہ ہو گئی ہے۔ سینماؤں میں بھٹکتی پھرتی ہے، جوئے کھیلتی ہے، آخر ان کے والدین بھی تو اپنی اولاد کو برداشت کر رہے ہیں، تب آپ کو کیوں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آپ مضبوطی کے ساتھ اپنا کام بھی جاری رکھیں اور والدین کو راضی رکھنے کی کوشش بھی کریں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ والدین جھڑکیں گے تو جھڑکی کھا لیجئے، ماریں گے تو پٹ لیجئے۔ انشاء اللہ آپ کبھی نہ کبھی ان کا دل جیت ہی لیں گے۔ آپ کی راست روی اتنا کام ضرور کر دکھائے گی۔
اگر اخلاقی بدحالی اسی رفتار سے بڑھتی رہی اور زیادہ سے زیادہ لوگ برائیوں میں ملوث ہو گئے تو کیا کچھ عرصہ بعد لوگ اسلامی نظام سے خائف نہ ہونے لگیں گے؟
جواب: میں خود بھی اپنی تقریروں میں بار بار یہ کہتا رہا ہوں کہ معاشرے میں اخلاقی فساد اگر اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو وہ اسلامی نظام کے لئے غیر موزوں ہو جائے گا۔ لیکن جو بات یہاں سمجھ لینے کی ہے وہ یہ ہے کہ جس حد تک آپ کے بس میں ہو آپ اصلاح خلق کی کوشش کرتے رہیں۔ جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہے، آپ اس کے بارے میں جوابدہ بھی نہیں ہیں۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ ملک کی دولت اور وسائل اور اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ بگاڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ یہاں بھلائی نہ پھیلے برائی ہی پرورش پائے۔ اب ظاہر ہے کہ ہم ..... جن کے پاس نہ دولت ہے اور نہ وسائل و اختیارات ..... ان کو کیسے روک سکتے ہیں؟ جو ہمارے بس میں نہیں ہے ہم پر اس کی جوابدہی بھی نہیں ہے، ہم جوابدہ اس بات کے ہیں کہ جو چیز ہمارے امکان میں تھی اس کے انجام دینے میں ہم نے کہاں تک اس کا حق ادا کیا ہے یا اس میں کمی کی ہے؟ چنانچہ آپ اپنی جدو جہد جاری رکھیں اور مسلسل اصلاح احوال اور اصلاح خلق کے لئے کام کرتے رہیں۔
یہ تو تھی اصولی بات لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کے لئے اسلامی نظام کا گہوارہ بننا مقدر فرما دیا ہے۔ گزشتہ ۲۵ سال کے حالات کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہاں اسلامی نظام نافذ ہو کر رہے گا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ پاکستان بنا سکیں۔ حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور معجزہ تھا کہ اس نے ہندوستان کے ایک حصے کو پاکستان بنایا اور ایسی شکل میں بنایا جو کسی سکیم میں نہیں تھا۔ سکیم تو یہ تھی کہ ملک تقسیم ہو گا اور ہندو اکثریت کے علاقے ہندوستان میں اور مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ نقل آبادی کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اگر ایسی شکل ہی قائم رہتی تو یہاں اسلامی نظام کا نام بھی نہیں لیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ اللہ کی مشیت تھی کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہجرت کرنا پڑی اور اس طرح یہ علاقہ واضح مسلم اکثریت کا علاقہ بنا۔ گویا فسادات کے شر سے اللہ نے خیر کا یہ پہلو اسلامی نظام کے لئے مقدر فرمایا، اور اسلامی نظام کے امکانات واضح فرمائے۔
دوسرے یہ کہ آپ نے خود دیکھ لیا کہ یہاں جو بھی اسلامی نظام کی راہ میں مزاحم بنا ہے وہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ نہ اس سے پہلے اسلامی نظام کے راستے میں رکاوٹ بننے والے زیادہ دیر تک ٹھہر سکے ہیں اور نہ انشاء اللہ آئندہ ٹھہر سکیں گے۔ میرا دل اس پر پوری طرح مطمئن ہے اور میں یہ سوچ کر کبھی پریشان نہیں ہوتا کہ یہ لوگ جو اس قدر بگاڑ پیدا کر رہے ہیں تو شاید یہاں اسلامی نظام قائم نہ ہو سکے۔
بہر حال یہ صورت حال قوم کے لئے آزمائش کا درجہ رکھتی ہے خدا کرے کہ ہم اس آزمائش پر پورا اتریں۔
پھر میرا مشاہدہ یہ ہے کہ جتنی کوششیں اس قوم کو بگاڑنے کے لئے ہو رہی ہیں ان کے تناسب سے لوگوں میں برائی نہیں پھیل رہی۔ اس قوم میں خیر اب بھی موجود ہے۔ اب جس حد تک خیر موجود ہے آپ اس سے استفادہ کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی جب آپ لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلانے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی بات سنتے ہیں وہ آپ سے نفرت نہیں کرتے بلکہ غلط راستے پر چلنے والوں اور چلانے والوں کو ہی برا سمجھتے ہیں۔ اصل میں مسلمانوں کی قدریں نہیں بدلیں، ان کی عادتیں بگڑی ہوئی ہیں اور یہ مرض لاعلاج نہیں ہے۔