تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے کارکنوں کی نشست میں_______ ۱۳، اگست ۱۹۵۵ء
سوال: آپ مطالعہ کس طرح کرتے ہیں؟
جواب: اس سلسلے میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ میں مطالعہ محض طلب علم کے لئے کرتا ہوں، تفریحاً نہیں کرتا۔ لہٰذا میرا یہ قاعدہ ہے کہ جب کچھ پڑھتا ہوں تو پنسل ساتھ رکھتا ہوں، کام کی چیزوں پر نشان لگاتا ہوں اور حاشیے پر نوٹ کرتا رہتا ہوں۔ علاوہ ازیں میں اس بات کی بھی کوشش کرتا ہوں کہ اہم باتیں میرے حافظے میں رہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص غور اور دلچسپی سے پڑھے تو یاد رکھنا مشکل نہیں ہے۔ آپ لوگ بھی پڑھتے وقت یہ دیکھا کریں کہ اس کتاب میں کونسی چیز کام کی ہے اور جو کام کی چیزیں ملیں انہیں نوٹ کر لیں۔ مطالعہ ہمیشہ نظم کے ساتھ کیجئے اور منتشر مطالعہ نہ کیجئے۔ ایک فن کی معتد بہ چیزیں پڑھیے اور جب تک اس فن کا اچھا خاصا علم حاصل نہ کرلیں آگے نہ بڑھیں۔
سوال: آپ جمعیت کے کارکنوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟
جواب: توقعات تو میری اتنی لمبی چوڑی ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے وقت چاہئے، مختصراً یوں سمجھئے کہ وہ مضبوط کیریکٹر کے مالک ہوں اور کردار کی یہ مضبوطی ان کی اپنی زندگی تک ہی محدود نہ ہو بلکہ ان میں دوسروں کو متاثر کرنے کی بھی بے پناہ صلاحیت ہو۔
سوال: اخلاق کی نشاۃ ثانیہ کے لئے آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟
جواب: یہ بڑا اہم سوال ہے۔ اس سلسلے میں میرا پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ آپ اجتماعی زندگی کو مضبوط کیجئے۔ ہمیشہ یہ ہوتا آیا ہے کہ اجتماعی فساد کا مقابلہ اجتماعی اصلاح سے کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اجتماعی فساد کو انفرادی اصلاح سے دبایا جاسکے۔ ایک تنہا کسی سیلاب کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ اس میں تو اتنی قدرت بھی نہیں ہوتی کہ وہ اس سیلاب میں اپنے آپ کو بہہ جانے سے بچا سکے۔ — لہذا سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ تمام ہم خیال افراد کو اکٹھا کر کے ایک اجتماعی طاقت پیدا کی جائے اور اس اجتماعی طاقت کو منتشر کرنے والی طاقتوں کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ نتیجہ جو معاشرہ قائم ہو گا اس کا ہر فرد ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہو گا۔ ہر فرد دوسرے پر نظر رکھے گا اور اس کی اصلاح میں کوشاں ہوگا — یہ سب سے پہلی ضرورت ہے۔ دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہر شخص خود اپنی زندگی کا جائزہ لے کہ وہ کس حد تک اجتماعی فساد سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں آپ اپنے آپ کو نہ تو Over-estimate کیجیے اور نہ Under-estimate کیجیے، بلکہ صحیح صحیح اندازہ لگائیے کہ آپ فسادِ ماحول سے کس حد تک متاثر ہو رہے ہیں اور پھر اپنے اندر سے اس کسر کو نکالنے کی پوری پوری کوشش کیجیے۔ — اگر آپ کی تنظیم میں ہمدردانہ تنقید کا جذبہ موجود ہو گا (معاندانہ تنقید کا نہیں) تو آپ کے دوست خود آپ کی کوتاہیوں کے بارے میں بتائیں گے اور اس طرح آپ میں سے ہر شخص اپنی اصلاح کر سکے گا۔
تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ آپ کے اندر مضبوط ارادہ موجود ہونا چاہیے۔ مضبوط ارادے سے میری مراد یہ ہے کہ آپ کے اندر جھجک نہ ہو، کمزوری نہ ہو، ایک ایک شخص جس سے آپ کو سابقہ پیش آئے اس پر اثر ڈالنے کی کوشش کیجیے۔ اس طرح اگر آپ میں سے ایک ایک فرد اس کی طرف متوجہ ہو گا۔ تو آپ اجتماعی فرض سے عہدہ برآ ہو سکیں گے۔
سوال: تمام عالمِ اسلام کی اسلامی تحریکوں کو متحد کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟
جواب: اس وقت بد قسمتی سے تمام مسلمان ملکوں میں قومیت پرستی (Nationalism) کا دور دورہ ہے جس کی وجہ سے یہ بات ممکن نہیں ہے۔ کم و بیش تمام ممالک کے سربراہ اپنے اپنے ملک میں تحریک اسلامی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس صورت میں وہ متحد ہو کر تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا فی الوقت اتنا ہی کافی ہے کہ یہ تحریکیں صحیح خطوط پر چلتی رہیں اور ایک دوسرے سے صرف واقفیت اور ہمدردی رکھیں۔
سوال: طلبہ کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں؟
جواب: طلبہ کو سیاست بازی سے پرہیز کرنا چاہیے البتہ اپنے ملک کی سیاست سے دل چسپی لینا چاہیے۔ سیاسی مسائل کے بارے میں اپنی رائے رکھنی چاہیے اپنے آپ کو آئندہ عملی زندگی میں حصہ لینے کے لئے تیار کرنا چاہیے لیکن عملی سیاست سے علیحدہ رہنا چاہیے۔ البتہ اگر کبھی کوئی خاص حالت در پیش ہو اور جب ساری قومی قوت کو ایک مقصد کے لئے استعمال کرنا ناگزیر ہو جائے تب بہر حال طلبہ کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔
سوال: آپ کو جو دعوت مباہلہ دی گئی تھی اس کو آپ نے کیوں منظور نہیں کیا؟
جواب: اصل میں میں کوئی پیشہ ور پہلوان تو ہوں نہیں کہ ہر وقت تیار رہوں جب کوئی دعوت مباہلہ دے جھٹ میدان میں کود پڑوں۔ پھر اس مباہلے کے طریقے کو جو اپنایا گیا ہے، کتاب وسنت اور سیرت صحابہ و تابعین و تبع تابعین میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی بجز اس ایک واقعہ کے جس کے بارے میں میں آگے بتاؤں گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۳ برس کی نبوت میں ہزاروں لوگوں کو دعوت اسلام دی مگر بجز ایک خاص صورت کے آپ نے کبھی دعوت مباہلہ نہ دی۔ صحابہ کرام نے بھی اس طریقے کو اختیار نہیں کیا حالانکہ ان میں بڑے بڑے اختلافات بھی رونما ہوئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کا اختلاف ہوا۔ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ اور حضرت علیؓ کا اختلاف ہوا۔ حضرت عثمانؓ اور ان کے مخالفین میں جھگڑا ہوا۔ مگر ان سارے موقعوں پر کبھی اس طریقے کو استعمال نہیں کیا گیا اور آگے چلیے تو تابعین اور تبع تابعین اور آئمہ میں بڑے بڑے اختلاف ہوئے مگر ان کے حل کے لئے کبھی ایسی صورت اختیار نہیں کی گئی کہ مباہلہ کیا گیا ہو۔ بعد میں چل کر کچھ لوگوں نے اس کو پیشہ بنا لیا کہ ہر اختلاف پر کہنے لگے کہ تم اپنے بیوی بچوں کو لے آؤ ہم اپنے بیوی بچوں کو لے آتے ہیں اور اللہ کی لعنت اور غضب کو دعوت دیتے ہیں۔
اس قسم کی نظیر پوری اسلامی تاریخ میں صرف ایک ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ نجران کا وفد اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صحیح کہہ رہے ہیں۔ اس موقعہ پر اس بات کی دعوت دی گئی لیکن کبھی صحابہ اور نہ تابعین اور تبع تابعین نے اس کو نظیر یا سنت نہیں بنایا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلافات کے حل کا یہ طریقہ نہیں بتایا کہ اس طرح ایک دوسرے پر لعنت بھیجی جائے۔
پھر یہ سوچئے کہ اس طریقے سے تصفیہ کس چیز کا ہوگا؟ ایک فریق یہ کہتا ہے کہ اگر میں غلط ہوں تو مجھ پر لعنت اور دوسرا کہتا ہے کہ اگر میں غلط ہوں تو مجھ پر لعنت ۔ آخر تصفیہ کس چیز کا ہوا؟ کیا بات طے ہوئی؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص موقع پر دعوتِ مباہلہ اس لئے دی تھی کہ آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ اس بات کی جرات نہیں کر سکتے لیکن اب لوگوں نے اسے اختلافات کے ”حل“ کی ایک صورت قرار دے دیا ہے۔
سوال: موسیقی کی حرمت میں آپ کوئی نص پیش کر سکتے ہیں؟
جواب: ایک حدیث ہے کہ ”میں مزامیر (آلات موسیقی) کو توڑنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔“
گویا آپ کی بحث کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث ملتی ہیں۔ اکابر صوفیاء نے ہمیشہ اس سلسلہ میں احتیاط برتی ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ دف سے آگے نہیں بڑھے۔ جب کبھی سماع کی محفل ہوتی تھی تو اس کے لئے کچھ شرائط بھی تھیں۔ مثلاً یہ کہ متبع شریعت لوگ جمع ہوں، توحید وغیرہ کے مضامین گائے جائیں گانے والے سن رسیدہ لوگ ہوں وغیرہ۔
سوال: موسیقی کی حرمت کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ ایک فطری جذبہ نہیں؟
جواب: تاریخ انسانی کے آغاز سے موسیقی، شراب اور زنا ان تین چیزوں کے درمیان ایک ایسا تعلق رہا ہے گویا یہ سگی بہنیں ہیں۔ جہاں ایک پہنچی ہے وہاں دوسری دو بہنیں بھی پہنچ گئی ہیں۔ اس وجہ سے اسلام نے ان تینوں پر پابندی عائد کی ہے اور انسانی فطرت کے لئے صحیح حدود مقرر کر دی ہیں۔ زنا کو فوجداری جرم قرار دیا ہے۔ شراب کے لئے انسان میں کوئی فطری جذبہ نہیں ہے اس لئے اس کو قطعاً حرام قرار دیا ہے۔ البتہ انسان کے دل میں موسیقی کے لئے اس حد تک فطری جذبہ موجود ہے کہ وہ خوش آوازی کو پسند کرتا ہے مگر اس کو اس حد تک بڑھانا کہ دن بھر اس کے سوا کوئی کام نہیں، اسلام میں جائز نہیں۔ محض گا لینا ممنوع نہیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اونٹ چراتے ہوئے گانے والے حدی خوان کہلاتے تھے۔ قرآن پاک کے لئے بھی حکم دیا گیا ہے کہ اس کو خوش الحانی سے پڑھا جائے۔
سوال: داڑھی یہودی بھی رکھتے ہیں اور مسلمان بھی۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟
جواب: اس میں آپ ایک اور گروہ کو نظر انداز کر گئے ہیں[اشارہ سکھوں کی طرف ہے۔]۔ دراصل داڑھی یہودیوں میں بھی انبیاء علیہم السلام کی سنت سے آئی ہے۔ ان کے یہاں یہ روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ مسلمانوں اور یہودیوں کی داڑھی میں فرق اتنا ہے کہ یہودی بالکل بے ہنگم طریقے پر داڑھی مونچھ رکھنے کے عادی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی سنت نہیں ہے۔ اس کے برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کو سلیقہ سے رکھنے کو کہا ہے۔
سوال: ننگے سر پھرنا یا نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: اسلام نے نہ تو سر ڈھانکنے کا حکم دیا ہے اور نہ سر کھولنے کا۔ لہٰذا اگر کوئی سر ڈھانک کر پھرے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر سر کھول کر پھرے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں مگر ہمارے یہاں ایک بہت پرانی قومی تہذیب بھی ہے جو ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ننگے سر پھریں۔ ۱۹۲۹ء میں جب میں نے دہلی چھوڑا تو اس وقت کوئی مہذب خاندان سے تعلق رکھنے والا فرد ایسا نہ تھا جو ننگے سر پھرتا ہو لیکن ۱۹۱۲ء میں جب دوبارہ دہلی آیا تو تقریباً تمام نوجوانوں میں یہ عادت پڑ چکی تھی۔ یہ تغیر جو پچھلے بیس سالوں میں ہوا ہے ہماری قومی روایات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتا۔
جہاں تک نماز کا تعلق ہے میری قطعی رائے یہ ہے کہ جان بوجھ کر ننگے سر نماز نہ پڑھی جائے۔ اس لئے کہ یہ آداب نماز کے خلاف ہے۔ قرآن میں ہے کہ ”اپنی پوری زینت کے ساتھ نماز پڑھو۔“ اور اس زینت میں سر کا لباس شامل ہے۔
سوال: مغربی لباس کا اختیار کرنا کیسا ہے؟
جواب: اس سوال کا جواب میں تفہیمات حصہ دوم میں ایک مضمون میں دے چکا ہوں۔ اس کے پڑھنے کے بعد کسی شخص کے ذہن میں کوئی شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ مختصراً اتنی بات سمجھ لیجئے کہ ایک قوم کا کسی دوسری قوم کے لباس کو اختیار کرنا بہت بڑی نفسیاتی کمزوری ہے کیونکہ یہ محض ایک لباس کو اختیار کرنا نہیں بلکہ تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اپنی شکست خوردگی اور مغلوبیت کا اعتراف ہے۔ جہاں تک مغربی ممالک کے لوگوں کا تعلق ہے اگر وہ اسلام لانے کے بعد اپنا ملکی لباس اختیار کرنا چاہیں تو ان کو کوئی نہ کوئی علامت اپنے لباس میں ضرور اختیار کرنی چاہیے جس سے یہ معلوم ہو کہ وہ مسلمان ہیں۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ یورپ میں جو لوگ نو مسلم (Convert) ہوتے ہیں۔ وہ خود اس بات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی مسلمان ملک میں رہتے ہیں ان کے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ وہ ایسا لباس پہنیں جس سے معلوم نہ ہو سکے کہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں۔
سوال: مغربی لباس کے پہننے میں کیا حرج ہے؟
جواب: ہر شخص یہ جانتا ہے کہ یہ لباس آپ کی قوم کا نہیں بلکہ باہر سے آئی ہوئے ایک قوم کا ہے جسے دیکھ کر آپ نے اختیار کیا ہے۔ کسی قوم کا اپنے لباس کو ترک کر کے کسی دوسری قوم کے لباس کو اختیار کرنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ فلاں قوم (ترقی یافتہ) (Developed) ہے اور ہم پسماندہ (Back-ward) اس کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ کوئی امریکن یا برطانوی ایسا نہیں ہے جس نے سالہا سال تک یہاں رہ کر بھی یہاں کا لباس اختیار کر لیا ہو! الا یہ کہ Fancy Dress وغیرہ کے لئے ہو تو ہو اور یہاں حالت یہ ہے کہ کالجوں میں جو لوگ شیروانی پہن کر جاتے ہیں ان کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے گویا اگر ایک شخص اپنے ہی ملک میں اپنا تمدن اختیار کرتا ہے تو اس کا اس کے ہم قوم مذاق اڑاتے ہیں۔ بعض سرکاری افسروں کا خیال ہے کہ اگر وہ کوٹ پتلون کے بجائے شیروانی پہن کر جائیں تو ماتحتوں پر رعب قائم نہیں ہوتا گویا ہم آزاد ہونے کے بعد بھی انگریزوں کے لباس کے غلام رہے۔
سوال: جو لوگ ڈاڑھی رکھے ہوئے ہوں اور وہ فوج کے کمشنڈ آفیسرز کے انٹرویو میں جائیں تو ایسے لوگوں کی ناکامی قریب قریب یقینی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: یہ تو آدمی خود ہی فیصلہ کرے کہ وہ فوج میں کمیشن لینا چاہتا ہے یا ڈاڑھی رکھنا چاہتا ہے۔ ایک ڈاڑھی پر ہی موقوف نہیں، عام طور پر صورت یہ ہے کہ جہاں انٹرویو سے فیصلہ کیا جاتا ہے وہاں ایسے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں۔ جن سے یہ پتہ چلے کہ اس کم بخت کے اندر ایمان کی کوئی رمق تو نہیں پائی جاتی؟ ڈاڑھی تو کھلی علامت ہے کسی کے ”خطرناک آدمی“ ہونے کی! لیکن یہ نہ بھی ہو تو وہ ایسے ایسے سوالات کرتے ہیں جن سے معلوم ہو جائے کہ یہ شخص دین سے کس حد تک لگاؤ رکھتا ہے۔ مثلاً پردے اور شراب وغیرہ کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ تم اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو، تاکہ اگر اس میں رتی برابر ایمان ہے تو اسے نہ لیا جائے۔ کئی ایسی پابندیاں لگارکھی ہیں کہ کوئی مسلمان نہ آنے پائے۔ ڈاڑھی کے متعلق ایسا کوئی حکم خواہ بظاہر نہ ہو، لیکن عملاً یہی ہوتا ہے۔ پھر جو لوگ ملازم ہو جانے کے بعد ڈاڑھی رکھتے ہیں انہیں بھی خاصی کشمکش اور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کم از کم ان کی ترقی میں تو مانع ہوتی ہے۔ اور یہ چیز ان لوگوں کے دائرہ اختیار کے اندر ہو رہی ہے جنھوں نے سکھوں کے ماتحت ملازمتیں کی ہیں!
باقی رہی یہ بات کہ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ صبر کیجئے اور ساتھ ساتھ ان حالات کو بدلنے کے لئے اپنی طاقت صرف کیجئے۔ میرے لئے یہ کہنا تو کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ اس مجبوری سے تم احکام شرعیہ کو چھوڑ دو۔ اگر کوئی شخص چھوڑنا چاہے تو اپنی ذمہ داری پر چھوڑئے، مجھے اس ذمہ داری میں کیوں شریک کرتا ہے۔ اسے تو عہدہ ملے گا مگر میں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں پکڑا جاؤں گا۔ اس لئے میں کسی شخص سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں مصلحت کے تحت تم فلاں حدود شرعی کی خلاف ورزی کرو۔
سوال: کیا کسی ایک امام کی تقلید جائز ہے؟ قرآن و حدیث کی موجودگی میں فقہ کی کیا ضرورت ہے اور کسی ایک فقہ کو کیوں اختیار کیا جائے؟
جواب: یہ بیچ کا سوال بہت دلچسپ ہے کہ قرآن و حدیث کی موجودگی میں فقہ کی کیا ضرورت ہے؟ ۔۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ فقہ کہتے ہیں سمجھ بوجھ کو ۔۔۔۔ اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں؟
جب آدمی قرآن اور حدیث پر غور کرے اور اس کا مدعا سمجھنے کی کوشش کرے اور اس سے وہ یہ معلوم کرے کہ اللہ اور اس کا رسول فی الواقع ہم سے کیا چاہتے ہیں اور ہمارے لئے راہ عمل کیا ہے تو اسی چیز کا نام فقہ ہے _____ یہ پوچھنا کہ فقہ کی کیا ضرورت ہے بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے کہ قرآن کو سمجھنے کی کیا ضرورت ہے اور حدیث پر غور کرنے کی کیا حاجت ہے؟
اب دیکھئے کہ اصطلاحاً فقہ کس چیز کو کہتے ہیں۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ عام لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر شخص قرآن و حدیث میں اتنی نظر پیدا کر لے کہ وہ خود مسائل کا استنباط کر سکے۔ نہ ہر ایک کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ ہر ایک میں اتنی صلاحیت ہے ____ اللہ کے کچھ بندوں نے دین کا فہم حاصل کرنے اور پھر اسے ایک مفصل اور مرتب صورت میں پیش کرنے میں عمریں کھپا دیں۔ اُنھوں نے قرآن پر غور کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر اور آپ کے زمانے کے جملہ احوال پر غور کر کے صحابہؓ کے زمانہ میں جو عمل تھا اسے معلوم کر کے اور تابعین نے جو فتوے دیے تھے ان سب کو جمع کر کے شریعت کے جملہ احکام و مسائل منقح کر کے نکالے اور انہیں ایک جامع شکل میں پیش کر دیا۔ یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے جو انھوں نے انجام دیا اور اس طرح انھوں نے محنت کر کے بے شمار لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں۔ آج بعض لوگ ان کی ان عظیم الشان خدمات کا صلہ یہ دیتے ہیں کہ ان پر تنقید اور اعتراضات کرتے ہیں۔ اب ظاہر بات ہے کہ جو شخص خود علم نہ رکھتا ہو اور اس کے اندر اتنی صلاحیت نہ ہو کہ براہ راست قرآن و حدیث سے مسائل معلوم کر سکے اسے بہرحال کسی نہ کسی پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اس کا کام ہے کہ جو شخص علم رکھنے والا ہے وہ اس سے پوچھے۔ خود قرآن مجید کہتا ہے کہ جو لوگ علم رکھنے والے ہیں ان سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے، اس میں کوئی حرج اور گناہ کی بات نہیں ہے البتہ ایک آدمی جس کے اندر احکام مستنبط کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ قرآن و حدیث پر غور کر سکتا ہے اس کے پاس مسائل معلوم کرنے کے ذرائع ہیں اس کے لئے اس طرح کی تقلید درست نہیں ہے جس طرح کی تقلید عوام کے لئے ہے۔ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ کسی فقہ کے کسی مسئلے کو ماننے سے پہلے یہ اطمینان کر لے کہ اس کے دلائل کیا وزن رکھتے ہیں اور وہ کہاں تک قرآن وحدیث کے مطابق ہیں۔ اگر دلائل سے اسے یہ محسوس ہو کہ فلاں مسئلہ میں فلاں فقہ کے دلائل کمزور ہیں تو اس کے بعد جان بوجھ کر اگر وہ اسی کی پیروی کرے گا تو غلط کام کرے گا۔ آپ دیکھیے کہ جو علماء آج مقلد گروہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایک مسئلے میں اپنی تقلید کے دلائل دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس فقہ کا یہ مسئلہ اس بنا پر درست ہے۔ یہ دلیل دینا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اندھے مقلد نہیں بلکہ تبع ہیں۔ پھر کیا فرق پڑتا ہے اس بات سے کہ کوئی شخص امام ابو حنیفہؒ کی تقلید کرے یا مولانا شاہ اللہ کی تقلید کرے یا امام بخاری یا ابن تیمیہؒ یا مولانا ابراہیم سیالکوٹی کی تقلید کرے۔ بہر حال جو شخص علم نہیں رکھتا اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ کسی صاحب علم کی بات سنے اور اس پر عمل کرے۔