تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طالبات پاکستان، کے چھٹے سالانہ اجتماع (لاہور) کی ایک نشست --- ۱۲ جنوری ۱۹۷۶ء
میری عزیز طالبات! مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ اسلامی جمعیت طالبات کو قائم ہوئے تھوڑی مدت گزری ہے لیکن اس نے اپنے نظم کو اچھی خاصی تقویت دے دی ہے اور سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ ۲۸ سال قبل یہ ایک بڑا مشکل کام نظر آتا تھا۔ یونیورسٹیاں اور کالج جو انسانوں کو خدا سے دور کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ انہوں نے (ان درسگاہوں کے ) انسانوں کے لئے اسلام کو ایک عجوبہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ (یہ بات سمجھ میں نہ آتی تھی کہ) ان میں کس طرح مومن اور صالح لوگ تیار کئے جا سکیں گے؟
۲۸ سال قبل جب (اسلامی جمعیت طلبہ کے نام سے ان تعلیمی اداروں میں) کام شروع کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت دی کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پانے والے نوجوان کثیر تعداد میں اسلام کے شیدائی بنے، انہوں نے اسلام کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس کو اختیار بھی کیا۔ اسلام سے محبت کی اور آج وہ اسلام کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ اس کے بعد یہ پوری امید تھی کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم اگر سب طالبات کو نہیں تو اکثریت کو اسلام کے سیدھے راستے پر ضرور لایا جا سکتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس طرح آپ کے دلوں میں اسلام کے لئے کشش پیدا ہوئی اسی طرح آپ دوسری طالبات کے دلوں میں بھی اسلام کی کشش پیدا کر سکیں۔ آپ بھی اسی طرح کامیابی حاصل کریں جس طرح اسلامی جمعیت طلبہ کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ ان مختصر باتوں کے بعد اب میں آپ کے سوالات کے جوابات دیتا ہوں۔
سوال: ہمارے نظام میں مرد ہی ”قوام“ کی حیثیت رکھتا ہے، عورت مکمل طور پر اس کے تابع ہوتی ہے، ایسے میں عورت اپنے گھر میں کس طرح فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہے؟
جواب: سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ ”قوام“ کی حیثیت سے مرد کا تعین فطری تقاضا ہے۔ خواہ کسی بھی نظام کا چھوٹے سے چھوٹا یونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ وہاں اس وقت تک نظم و ضبط قائم نہیں ہو سکتا جب تک کسی ایک فرد کو ناظم نہ بنایا جائے۔ مغربی معاشرہ میں مرد کی یہ حیثیت ختم کر دی گئی، جس کے بعد خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر گیا۔ آج وہاں اولاد، ماں باپ کی نہیں سنتی اور نہ ہی ماں باپ کو اولاد کی فکر باقی رہ گئی ہے۔ یہ وہاں کا عملی تجربہ ہے۔ رہی یہ بات کہ ”قوام“ کی حیثیت کے لئے مرد یا عورت میں سے کون موزوں ہوگا۔ تو جواب یہ ہے کہ مرد ہی موزوں ترین ہے نہ کہ عورت ..... کیونکہ مرد کم جذباتی ہوتا ہے، ذمہ داری کا احساس رکھتا ہے اور سوچ سمجھ کر کام کرتا ہے۔ بالعموم ایک خاندان میں نظم و ضبط اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب شوہر اور خاندان کو ذرائع و وسائل فراہم کرنے والا اس ذمہ داری کو اٹھائے۔ اہل مغرب میں خاندانی نظام درہم برہم ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں شوہروں کا گھروں پر اختیار قائم نہیں رہا۔ آج وہاں کے مفکرین بار بار یہ تجزیہ کر رہے ہیں کہ مغرب میں خاندانی نظام اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک باپ کی اتھارٹی کو قائم نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسی چیز کو قائم کیا جو فطری تھی۔ یعنی مرد کو ہی ”قوام“ بنایا۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت مکمل طور پر مرد کی تابع ہے اور عورت کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ ایسا سوچنا بھی غلط ہے۔ حدیث میں ہے کہ تم میں سے ہر فرد ذمہ دار ہے اور ہر فرد جواب دہ ہے۔ اس میں مرد اور عورت دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی گھر کی ملکہ ہے“ .... کوئی گھر اس وقت تک صحیح طور پر نہیں چل سکتا جب تک عورت کو اختیار حاصل نہ ہو اور وہ اپنی طرف سے کسی کام کی ابتداء کرنے کے اختیارات سے محروم ہو..... گھر باہمی تعاون سے ہی چلتا ہے۔ یہ بات غلط ہے کہ عورتوں کو بے بس کر کے مردوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ان عورتوں کو فوقیت حاصل ہو سکتی ہے اور وہ مردوں پہ اپنا تاثر چھوڑ سکتی ہیں جو اعلیٰ درجہ کا اخلاق رکھتی ہوں، عمدہ صلاحیتوں کی مالک ہوں، ان کے کردار اور سیرت پر حرف نہ رکھا جا سکتا ہو۔ عورتوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ معقول بات، حکمت، عقلمندی، دلیل اور موقع کی مناسبت سے کہہ سکیں۔ یہ تجربہ کی بات ہے کہ ان صلاحیتوں کی مالک عورتوں کے ہاتھوں بگڑے ہوئے شوہر درست ہو گئے۔ اپنے اندر یہ صلاحیت، یہ اوصاف پیدا کیجئے تاکہ اس کا اثر سب پر پڑے۔ بات ایسی اور معقول کہیے کہ آپ کی بات رد نہ کی جا سکے۔ یہ بات سامنے ذہنی چاہئے کہ فیصلہ کن اثر وہی شخص ڈال سکتا ہے جو عقل اور دانائی کے ساتھ معقول بات، مناسب موقع پر کہہ سکے۔
تاہم خواتین کو چاہئے کہ وہ دین کا علم حاصل کریں، اسے سمجھیں تاکہ وہ دوسروں کو دلائل کے ساتھ قائل کر سکیں، کہ اس کے بغیر ان کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی ملنے جلنے والی عورتوں ..... اولاد، شوہر، خاندان کے دیگر افراد کو قائل کریں دین کے راستے پر لائیں۔ خود کو بلاوجہ بے بس سمجھ کر مایوس ہونا صحیح نہیں ہے۔
سوال: مغربی تہذیب، نفس کی ترغیبات کی وجہ سے اس قدر پُرکشش ہے کہ لوگ اس کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کو کس طرح پُرکشش بنا کر پیش کیا جانا چاہئے؟
جواب: سب سے پہلے مغربی تہذیب کا تجزیہ کیجئے کہ کن ترغیبات سے متاثر ہو کر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گی کہ اس میں اعلیٰ انسانی قدریں موجود نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مغربی معاشرہ جس اخلاقی زوال سے آج دوچار ہے وہ نہ ہوتا۔ وہاں عریاں ناچ، عورت اور مرد کا اختلاط، مخلوط سوسائٹی، مخلوطہ میں مل کر باتیں کرنا، مردوں کو راغب کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ پرکشش بننا وغیرہ عام ہیں۔ دراصل یہی عوامل ان کی تباہی کا موجب ہیں۔ اسی بناء پر ان کا خاندانی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ وہاں لڑکے، لڑکیاں جلد ہی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بن جاتے ہیں۔ وہاں اگر کسی لڑکی کو لڑکا Dating پر نہ بلائے تو اس کی ماں کو فکر دامنگیر ہو جاتی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مغربی معاشرہ کس قدر خطرناک راستے پر جا رہا ہے۔ اسی بناء پر وہاں ہر پانچ شادیوں میں سے تین طلاق پر منتج ہوتی ہیں۔ لڑکے لڑکیاں جب تک شادی نہ ہو ایک دوسرے کو خوشنما پہلو دکھاتے ہیں۔ جذبات مشتعل ہوتے ہیں ...... تو شادی ہو جاتی ہے۔ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ چودہ چودہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے لڑکیاں شادیاں کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں زیادہ سے زیادہ عمر مقرر کر کے، اس سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ بہر حال جب گھر کی ذمہ داری سر پر پڑتی ہے تو مزاج کا فرق اُنہیں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں میں طبعی مناسبت موجود نہیں، اور طلاق ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں مغربی معاشرے میں کس احمق کے لئے کشش ہو سکتی ہے؟ جو ان بُرے سے نتائج کو نظر انداز کر دے جو یہ تہذیب پیدا کر رہی ہے۔ اسی بناء پر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں کے بگڑے ہوئے لوگوں نے جب مغربی تہذیب کے تباہ کن اثرات کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ اس سے دور ہو گئے اور سُدھر گئے۔
ایسے میں آپ کا جواب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ آپ اسلام میں ہی ایسی کشش پیدا کرنے لگیں، بلکہ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ مغربی محققین کی کتابوں کا مطالعہ کریں، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو ہم بڑی تیزی سے یونان اور روم کی تہذیبوں کی مانند تباہ ہو جائیں گے۔ اس زہریلی تہذیب کی ابتدا بے پردگی سے ہوتی ہے جو بظاہر معصوم حرکت نظر آتی ہے۔ جب ایک غلط کام، غلط طریقے سے شروع کر دیا جائے تو وہ آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے، کیونکہ شیطان مستعد ہوتا ہے کہ بُرے کام میں لوگوں کو مبتلا کرے۔
آپ کو چاہئے کہ ان تمام ضرر رسانیوں سے نوجوان لڑکیوں کو آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اسلام جیسا نظام دیا ہے جس کے ذریعہ ہم ان برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔
سوال: مخلوط تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کارکنوں کو دین کی دعوت دینے کے لئے کیا طریق کار اختیار کرنا چاہئے؟
جواب: ہمارے ملک پر مخلوط تعلیم کی لعنت مسلط کر دی گئی، اسے رائج کیا گیا اور اب اسے آگے ہی بڑھایا جا رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا ہے کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دیجئے، لیکن ان کے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں الگ بنائیے۔ مغربی ممالک میں جہاں یہ نظام رائج کیا گیا، وہاں یہ نظام اپنے بُرے نتائج ظاہر کر چکا ہے۔ جب تک آپ ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں وہاں آپ یہ ثابت کریں کہ آپ با عصمت، باحیا اور باعفت ہیں اور پھر .... قرآن کا بیان کیا ہوا طرزِ عمل اپنا ئیں .... ”اس طریقے سے دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ تم سے کوئی غلط امید وابستہ کرنے پائے۔“
اپنے رویّہ میں لچک پیدا نہ کریں۔ اگر آپ لڑکوں کے اقدامات کی حوصلہ افزائی نہ کریں گی اور انہیں اپنے رویّہ سے ابتدا ہی میں مایوس کر دیں گی تو پھر لوگ آپ کے ساتھ احترام کا برتاؤ کریں گے۔ اس کے بعد یہ بھی جان لیجئے کہ آپ نے لڑکوں میں نہیں لڑکیوں میں کام کرنا ہے، تاکہ ان کے دل اسی طرح کھلیں جس طرح آپ کے دل کھل چکے ہیں۔ وہ بھی اسلام کو سمجھ سکیں۔ اس کے لئے معقول رویّہ اختیار کیجئے۔ ........ دلیل سے کام لیجئے۔ اگر آپ نے سو میں سے ایک کو بھی اسلام کا گرویدہ کر لیا تو آپ کی عاقبت اور نجات کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ آپ اس سے مایوس نہ ہوں تاہم یہ کوشش جاری رکھیے کہ آپ سو میں سے سو افراد کو ہی اسلام کا گرویدہ بنا لیں۔
سوال: مخلوط تعلیمی اداروں میں طالبات اپنے حامی امیدواروں کی کنوینگ (انتخابی مہم) کس طرح کریں؟
جواب: آپ اپنے حامی امیدواروں کی حمایت صرف لڑکیوں میں ہی کیا کریں یا ان لڑکوں میں جو آپ کے بھائی ہیں، رشتہ دار ہیں، گھروں میں ان پر اثر ڈالیں اور انہیں قائل کریں۔
سوال: آج نوجوانوں میں فکری انقلاب تو نظر آتا ہے، لیکن عملی انقلاب بہت قریبی لوگوں میں بھی کم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے لئے کن ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے؟
جواب: اس وقت ہمارے معاشرہ کی جو حالت ہے وہ بگاڑ پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔ حکومت کے تمام ذرائع ابلاغ اس کام پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ لوگوں کو اسلامی اقدار و اخلاق سے دور لے جائیں۔ انہیں اخلاقی برائیوں اور فواحش میں مبتلا کر دیں، بے دین بنائیں۔ ان حالات میں اگر آپ محسوس کرتی ہیں کہ لوگوں میں ذہنی انقلاب پیدا ہوا ہے اور وہ اسلام کو ہی حق سمجھتے لگے ہیں، تو یہ سمجھ لیجئے کہ آپ نے آدھی جنگ جیت لی۔ جب بگاڑ پیدا کرنے والی طاقتیں زور آور ہوں تو ذہنی انقلاب ...... عملی انقلاب میں آہستہ آہستہ تبدیل ہوا کرتا ہے۔ اس لئے آپ مایوس نہ ہوں۔ وہ لوگ جن کے ذہنوں میں انقلاب آیا ہے وہ انشاء اللہ جلد یا بدیر عملی انقلاب کی طرف مائل ہوں گے اور محسوس کریں گے کہ آخر کب تک وہ اس منافقت پر عمل پیرا رہیں گے کہ ایک بات کو حق تو سمجھتے رہیں، لیکن اس پر عمل نہ کریں۔
سوال: والدین بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں لیکن انہیں اپنی تعلیم کو استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ کیا اس سے تعلیم بے مقصد نہیں جاتی؟
جواب: وہ والدین جن میں اسلامی اخلاق کے احساسات موجود ہیں وہ انہیں تعلیم دلانے کے بعد ملازمت کی شکل میں اپنی بچیوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی شادی اچھی جگہ ہو جائے ...... ایسے میں ان کے لئے کام کرنے کا بہترین مقام ان کے شوہر کا خاندان ہوگا۔ یہ بھی تعلیم کو با مقصد بناتا ہے۔
۔۔۔۔ البتہ جہاں والدین مناسب سمجھیں، انہیں ملازمت کی اجازت دے سکتے ہیں۔ وہ طالبات جو طبی تعلیم حاصل کریں۔ انہیں چاہئے کہ وہ زنانہ شفا خانوں میں جائیں۔ بصورت دیگر وہ گھروں میں کلینک قائم کر کے عورتوں کا علاج کرسکتی ہیں۔
سوال: اسلام میں جائیداد کی حد مقرر نہیں ہے۔ جماعت نے یہ حد مقرر کر دی ہے۔ کیا یہ شریعت میں ترمیم نہیں ہے؟
جواب: جس ملک میں مدت دراز سے غلط نظام رائج رہا ہو، ملکیتی نظام درہم برہم ہو چکا ہو، وہاں ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ اسلام میں یقیناً جائز ملکیت چھیننا جائز نہیں ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ یہاں مغلوں کے دور میں غلط بخشیاں ہوئیں۔ جائز حقوق چھین کر غیر مستحق لوگوں کو نوازا گیا۔ سکھوں کے دور میں جو کچھ ہوا وہ بھی آپ جانتی ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ان تمام لوگوں کو جو ملک و قوم کے حامی اور وفادار تھے۔ انہیں غداری کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان کی جائیدادیں ضبط کی گئیں اور ملک و ملت سے غداریاں کرنے والوں کو زمینیں دی گئیں۔ یہ بہت ہی بگڑا ہوا نظام ہے، جہاں بے جا اونچ نیچ ظلم و ستم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔
اس نظام کو درست کرنے کے لئے بہت غور کرنے کے بعد عارضی طور پر یہ طریقہ تجویز کیا گیا ہے کہ انگریزوں اور سکھوں کی جانب سے مسلم قوم سے غداری کے عوض بخشی جانے والی تمام جاگیروں کو ضبط کر لیا جائے گا اور نظام حق قائم ہونے کے بعد صحیح طریقے سے ملکیت حاصل کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ بگڑے ہوئے حالات میں ایسی ترمیمات کرنی پڑیں گی جن سے ظلم کا خاتمہ ہو۔
سوال: کیا حج کے موقع پر پردہ ضروری نہیں ہے؟
جواب: دراصل احرام کی حالت میں چہرے کو اس طرح نہیں ڈھانپنا چاہئے کہ کپڑا جلد کو چھوتا رہے۔ بہت سی خواتین نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ وہ چہرے کے آگے پنکھا رکھ لیتی ہیں کہ چہرہ چھپ جاتا ہے۔ بعض گھونگھٹ اس طرح نکال لیتی ہیں کہ چہرہ چھپ جائے اور کپڑا منہ سے نہ لگے۔ خود ازواج مطہرات جب حج کو جاتی تھیں تو جہاں مرد نہیں ہوتے تھے وہ چہرہ کھول لیتی تھیں، جہاں مرد ہوتے وہاں چہرہ ڈھانپ لیتیں۔ مزید برآں بعض موقعے ایسے بھی ہوتے ہیں جب یہ اہتمام نہیں کیا جاتا، مثلاً طواف کے دوران اگر منہ کھلا رہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وہاں مہلت نہیں ملتی کہ لوگ عورتوں کو دیکھتے رہیں۔
سوال: عموماً جماعت کے ارکان اپنے گھروں میں وہ ماحول پیدا نہیں کرتے جس کے لئے وہ گھروں سے باہر کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر اپنے بچوں کے معاملہ میں ان کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ گویا بادل نخواستہ شریعت کا کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں؟
جواب: یہ بات بارہا جماعت کے اجتماعات میں کہی گئی ہے کہ ارکان اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں، نہ کرنے میں ارکان کی کوتاہی بھی ہو سکتی ہے اور مجبوری بھی، کیونکہ کوئی شخص اس پر قادر نہیں ہو سکتا کہ وہ سب کو درست کر دے۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو اور حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیوی کو درست نہ کر سکے، بہر حال اللہ تعالیٰ ہماری مجبوریوں کو معاف کرے اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سوال: اسلام میں تصویر کھنچوانا منع ہے؟ آپ کی تصویر اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہے؟
جواب: اس سے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ اگر کوئی مجھے گولی مار دے تو میں اسے منع کرنے کے باوجود اسے باز نہیں رکھ سکتا۔ آج تصویر کھنچوانا بھی شونگ ہے، جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے میں تصویر کو ناجائز سمجھتا ہوں۔ باوجود روکنے کے اگر کوئی تصویر کھینچ لے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
سوال: رات کو یہاں فلم دکھائی گئی تھی..... کیا یہ ناجائز نہیں تھی؟
جواب: آپ کو جو فلم دکھائی گئی وہ سعودی عرب کی حج کے موقع پر دستاویزی فلم تھی، جس میں حج کے مناظر تھے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، نیز جو فلم فواحش اور گانوں سے خالی ہو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال: کیا بھنویں تراشنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر تو یہ صورت ہو کہ بال ضرورت سے زیادہ ہی ہوں تو انہیں اکھاڑنا جائز ہے لیکن اگر اپنے آپ کو جاذب نظر بنانے کے لئے یہ حرکت کی جائے تو جائز نہیں ہو گا یہ تو چہرے کا مثلہ ہے۔
آخر میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنا جائزہ لے کر دیکھتی رہیے کہ اپنا فرض کس حد تک ادا کر رہی ہیں۔ کوتاہی کو رفع کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ کوتاہی دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے علاوہ سورۃ بقرہ کا غور سے مطالعہ کریں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ یورپ نے تمام تر ڈھول پیٹنے کے باوجود عورت کو وہ حقوق نہیں دیئے جو اسلام نے اسے دیئے ہیں۔ بلکہ مغرب نے عورت پر ظلم کیا ہے کہ اسے مرد کے برابر لا کھڑا کیا ہے، جس سے عورت مرد تو نہ بن سکی اور نہ مردوں کے سے حقوق و اختیارات حاصل کر سکی، البتہ اپنی نسوانیت کھو کر عورت کے قابلِ احترام مقام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس سارے المیے کا آپ مطالعہ کریں تاکہ آپ دوسری عورتوں کو قائل کر سکیں۔