تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ا- اے ذیلدار پارک اچھرہ، لاہور میں ارکان کے تربیتی کیمپ میں یہ سوال و جواب ہوئے ------۲۰ مارچ ۱۹۷۵ء
سوال: ۸۰ فیصد ان پڑھ لوگوں کو دعوت اسلامی سے کیسے روشناس کرایا جائے؟
جواب: اسلام کی دعوت جب عرب میں پیش کی گئی تھی، اس وقت اس کی مخاطب آبادی تقریباً سو فیصدی ان پڑھ تھی۔ قریش جیسے ترقی یافتہ قبیلے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں صرف سترہ افراد پڑھے لکھے تھے۔ مدینے میں اس سے بھی کم لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ اور باقی عرب کی حالت کا اندازہ آپ ان دو بڑے شہروں کی حالت سے کر سکتے ہیں۔ قرآن مجید اس ملک میں لکھ کر نہیں پھیلایا گیا تھا، بلکہ وہ لوگوں کو زبانی سنایا جاتا تھا۔ صحابہ کرام اس کو سن کر ہی یاد کرتے تھے اور پھر زبانی ہی اسے دوسروں کو سناتے تھے۔ اسی ذریعہ سے پورا عرب اسلام سے روشناس ہوا۔ درحقیقت لوگوں کا اَن پڑھ ہونا کوئی ایسی دشواری نہیں ہے جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ نہ ہو سکتی ہو۔ آغازِ اسلام میں اس دین کی تبلیغ ان پڑھ لوگوں ہی میں کی گئی تھی اور یہ محض زبانی تبلیغ و تلقین ہی تھی جس سے ان کو اس قدر بدل دیا گیا ، ایسا زبردست انقلاب ان کے اندر برپا کر دیا گیا کہ وہ دنیا کے مصلح بن کر کھڑے ہو گئے۔ اب آپ کیوں یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ۸۰ فیصد اَن پڑھ آبادی میں اسلام کی دعوت نہیں پھیلائی جا سکتی؟ آپ کے اندر ۲۰ فیصد تو پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں۔ وہ پڑھے لکھے اسلام کو سمجھیں اور پھر باقی ۸۰ فیصد لوگوں کو زبانی تبلیغ و تلقین سے دین سمجھائیں۔ پہلے کی بہ نسبت اب یہ کام زیادہ آسان ہو گیا ہے، البتہ فرق جو کچھ وہ صرف یہ ہے کہ اس وقت جو شخص بھی اسلام کی تعلیمات کو سن کر ایمان لاتا تھا وہ ایمان لا کر بیٹھ نہیں جاتا تھا، بلکہ آگے دوسرے بندگانِ خدا تک ان تعلیمات کو پہنچانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اس کی تمام حیثیتوں پر مبلغ ہونے کی حیثیت غالب آجاتی تھی۔ وہ ہمہ تن ایک مبلغ بن جاتا تھا۔ جہاں جس حالت میں بھی اسے دوسرے لوگوں سے سابقہ پیش آتا تھا وہ ان کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ وہ ہر وقت اس تلاش میں لگا رہتا تھا کہ کس طرح اللہ کے بندوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے۔ جتنا قرآن بھی اسے یاد ہوتا اسے لوگوں کو سناتا اور اسلام کی تعلیمات جتنی کچھ بھی اسے معلوم ہوتیں ان سے وہ لوگوں کو آگاہ کرتا تھا۔ وہ انہیں بتاتا تھا کہ صحیح عقائد کیا ہیں جو اسلام سکھاتا ہے اور باطل عقیدے اور خیالات کون سے ہیں جن کی اسلام تردید کرتا ہے۔ اچھے اعمال اور اخلاق کیا ہیں جن کی اسلام دعوت دیتا ہے، اور برائیاں کیا ہیں جن کو وہ مٹانا چاہتا ہے۔ یہ سب باتیں جس طرح پہلے سنائی اور سمجھائی جاتی تھیں اسی طرح آج بھی سنائی اور سمجھائی جا سکتی ہیں۔ ان کے لئے نہ سنانے والے کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے نہ سننے والے کا۔ یہ ہر وقت بیان کی جا سکتی ہیں اور ہر شخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں۔ اسلام نے کوئی ایسی نرالی چیز پیش ہی نہیں کی ہے جس سے انسانی طبائع مانوس نہ ہوں۔ اور جن کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بڑے فلسفے بگھارنے کی ضرورت ہو۔ یہ تو دین فطرت ہے۔ انسان اس سے بالطبع مانوس ہے۔ اسے پڑھے لکھے لوگوں کی بہ نسبت ان پڑھ لوگ زیادہ آسانی سے قبول کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ فطرت سے قریب تر ہوتے ہیں اور ان کے دماغ میں وہ پیچ نہیں ہوتے جو جاہلیت کی تعلیم نے ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کے دماغوں میں ڈال دیئے ہیں۔ لہٰذا آپ ان پڑھ آبادی کی کثرت سے ہرگز نہ گھبرائیں۔ ان کی ناخواندگی اصل رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ آپ کے اندر جذبۂ تبلیغ کی کمی اصل رکاوٹ ہے۔ ابتدائے اسلام کے مسلمانوں کی طرح ہمہ تن مبلغ بن جائیے اور تبلیغ کی وہ لگن اپنے اندر پیدا کر لیجئے جو ان کے اندر تھی۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اسلام کی دعوت پھیلانے کے بے شمار مواقع آپ کے منتظر ہیں جن سے آپ نے آج تک اس لئے فائدہ نہیں اٹھایا، کہ آپ اپنے ملک کی آبادی میں سو فیصد خواندگی پھیل جانے کے منتظر رہے۔
سوال: آئندہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی انتخابی پالیسی کیا ہونی چاہئے؟
جواب: اس سوال کا جواب میں آپ کو یہاں نہیں دے سکتا۔ اس کے متعلق اگر مجھے کچھ کہنا ہوگا تو امیر جماعت سے کہوں گا، یا جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ مجھ سے دریافت کرے گی تو اس کے سامنے بیان کروں گا، یا مجلس شوریٰ مجھ سے پوچھنا چاہے گی تو اس کے اجلاس میں پیش کروں گا۔ میں ایک عام رکن جماعت ہوں۔ نہ امیر جماعت ہوں، نہ مجلس عاملہ کا رکن ہوں، نہ مجلس شوریٰ کا رکن، میرا یہ کام نہیں ہے کہ یہاں بیٹھ کر جماعت کی پالیسی طے کروں۔ پالیسی طے کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو دستور کی رو سے اس کے مجاز ہیں۔ کسی معاملہ میں میری جو رائے بھی ہوگی اسے ان تک پہنچا دوں گا، پھر یہ ان کی صواب دید پر موقوف ہے کہ جو پالیسی چاہیں بنائیں۔
اس موقع پر ایک صاحب نے کہا: ”لیکن مولانا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ سب کچھ ہیں۔“
جواب: میں اس تصور کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہوں۔ یہ جماعت ایک دستور اور ایک نظام پر قائم ہے۔ اس میں مجھ سمیت کوئی شخص بھی اپنی ذاتی حیثیت میں ”سب کچھ“ نہیں ہو سکتا۔ جس روز جماعت کی تاسیس ہوئی تھی اسی روز میں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ دعوت تو بلاشبہ میں نے دی ہے، مگر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ جو شخص داعی ہے اسی کو آپ سے آپ امیر جماعت بھی ہونا چاہئے۔ میرا کام آپ کو اقامت دین کے لئے جمع کر دینا تھا سو وہ میں نے کر دیا۔ اب یہ طے کرنا آپ کا کام ہے کہ یہ ذمہ داری کس کے سپرد کریں۔ اُس وقت چونکہ ارکان جماعت نے امارت کا بار میرے اوپر ہی رکھ دیا اس لئے میں نے اسے اٹھا لیا۔ اب میری خرابی صحت نے مجھے اس قابل نہیں چھوڑا ہے کہ اس ذمہ داری کا حق ادا کر سکوں، اس لئے میں نے ایمانداری کے ساتھ اپنے آپ کو اس سے سبکدوش کرالیا ہے۔ اس کے بعد پھر وہی ذمہ داری میں اپنے سر کیسے لے لوں جبکہ نظام جماعت کی رُو سے اب میں اس کا حامل نہیں رہا ہوں؟ البتہ خادم جماعت ہونے کی حیثیت سے میرا جو فرض ہے اسے جب تک زندہ ہوں انشاء اللہ ادا کرتا رہوں گا۔
سوال: کیا اقامت دین ایک فرض ہے جسے ہر زمانے اور ہر حال میں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ اور کیا قرآن وحدیث میں کہیں یہ بات ملتی ہے کہ ظہور مہدی سے قبل اسلامی نظام قائم ہو سکے گا؟
جواب: قرآن میں تو خیر ظہور مہدی کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے البتہ احادیث میں اس کا ذکر ضرور آیا ہے مگر وہ بس اسی حد تک ہے کہ مہدی آئیں گے اور دنیا کو، جو ظلم سے بھر چکی ہو گی، عدل سے بھر دیں گے۔ اس خوشخبری سے آخر یہ مطلب کیسے نکل آیا کہ جب تک وہ نہ آئیں اس وقت تک دنیا ظلم سے بھرتی رہے اور ہم اس کا تماشا دیکھتے رہیں۔ شیاطین کے نظام قائم ہوتے رہیں اور اللہ کا دین قائم کرنے کے لئے ہم امام مہدی کی تشریف آوری کے انتظار میں بیٹھے رہیں۔ یہ تعلیم نہ اللہ نے دی ہے نہ اللہ کے رسول نے اور قرآن وحدیث میں یہ بھی کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ امام مہدی کی آمد سے پہلے اللہ کا دین کبھی قائم نہ ہو سکے گا، یا اسے قائم کرنے کی کوشش کا فریضہ مسلمانوں کے ذمہ سے ساقط رہے گا۔ یہ بات ایک بشارت تو ضرور ہو سکتی ہے کہ آئندہ کسی زمانے میں کوئی ایسی عظیم شخصیت اٹھے گی جو تمام عالم میں اسلام کا جھنڈا بلند کر دے گی، مگر یہ شخصیت کوئی حکم امتناعی نہیں ہو سکتی کہ ہم دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے کچھ نہ کریں۔ رہا یہ سوال کہ اقامت دین فرض ہے یا نہیں، تو کوئی ایسا شخص جو قرآن وحدیث کو جانتا ہے، اس بات سے ناواقف نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے انبیاء بھی بھیجے ہیں اپنا دین قائم کرنے ہی کے لئے بھیجے ہیں۔ کوئی ایک نبی بھی لوگوں کو یہ سکھانے کے لئے نہیں بھیجا کہ وہ غیر اللہ کا دین قائم کرنے والوں کے ماتحت بن کر رہیں۔ سورۂ شوریٰ دیکھئے، اس میں حضور سمیت تمام انبیاء کا فرض یہ بیان کیا گیا ہے کہ <<أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ>> ۔ ”اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔“ سورۂ توبہ، سورۂ فتح اور سورۂ صف میں دیکھئے۔ تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ <<هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ>> ”وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ پورے دین پر اسے غالب کر دے۔“ اب کون یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ اُمت مسلمہ کا مقصد وجود نبی برحق کی مقصدیت سے مختلف بھی کچھ ہو سکتا ہے۔
سوال: پاکستان کے موجودہ حالات میں عوام کے رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک اسلامی کی سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟
جواب: پاکستان کے موجودہ حالات میں عوام کے رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری سیاسی پالیسی کیا ہونی چاہئے، میں اس کا ایک اصولی جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ہمارے رفقاء کسی غلط طرز فکر میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہم جس ملک میں، جس قوم میں، جس زمانے میں اور جن حالات میں کام کر رہے ہیں، ہمیں کوئی پروگرام بناتے ہوئے ان سب کو ملحوظ رکھنا پڑے گا لیکن ہماری اصولی دعوت لازماً ایک ہی رہے گی۔ ہمارا بنیادی مقصد بھی قطعاً ناقابلِ تغیر ہوگا اور اپنا عملی پروگرام بناتے ہوئے ہم ان چیزوں کو صرف اس حیثیت سے ملحوظ رکھیں گے کہ اس ملک میں اس زمانے کے حالات میں ہم اپنی دعوت کو کس طریقے سے فروغ دیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس قوم کے اچھے رجحانات سے کس طرح فائدہ اٹھائیں اور اس کے بُرے رجحانات کو کس طرح بدلیں کہ وہ ہمارے مقصد کی راہ میں کم از کم رکاوٹ تو نہ بن سکیں۔ اس نقطۂ نظر سے ان چیزوں کو ملحوظ رکھنا تو عین تقاضائے حکمت ہے۔ لیکن اگر ہم زمان و مکان کے حالات اور لوگوں کے رجحانات کو دیکھ کر اپنی دعوت اور اپنے مقصد ہی پر نظر ثانی کرنے بیٹھ جائیں تو یہ سراسر گمراہی ہے جس کا خیال تک ہمارے ذہن میں نہ آنا چاہئے۔ طریق کار حالات کے لحاظ سے بدلا جا سکتا ہے۔ حکمت عملی میں لوگوں کے اچھے یا برے رجحانات کے لحاظ سے تغیر کیا جا سکتا ہے۔ مگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور اس کی دعوت کے جو اصول مقرر کر دیئے ہیں، ان میں ذرہ برابر کوئی ردو بدل لوگوں کے رجحانات یا زمانے کے حالات کو دیکھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اور اس کے رسول نے جس چیز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہمیں ہر حال میں اسی کو قائم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم جس ملک میں کام کر رہے ہوں اس کے حالات کا لحاظ کرتے ہوئے ہم اس مقصد کے لئے سعی و جہد کے ایک طریقے کو موزوں پا کر اختیار کر لیں اور دوسرے طریقے کو ناموزوں سمجھ کر ترک کر دیں۔ اسی طرح جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول مٹانا چاہتے ہیں ان کو مٹانا ہی ہماری کوششوں کا ہمیشہ مقصود رہے گا، یہ اور بات ہے کہ ہم اپنی استطاعت اور ملک کے حالات اور عوام کی مزاجی کیفیات کو دیکھ کر یہ طے کریں کہ کن چیزوں کو مٹانے کی کوشش مقدم اور کن کے مٹانے کی کوشش مؤخر رکھی جانی چاہئے۔ نیز یہ کہ اس غرض کے لئے ہم کون سی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں اور کن تدابیر کا اختیار کرنا غیر ممکن، غیر مفید، یا غیر مناسب ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق کاذب، ظالم اور خبیث قسم کے حکمرانوں [ ان دنوں پاکستان پر پیپلز پارٹی کی فسطائی حکومت (۱۹۷۱ء-۱۹۷۷ء) نے سیاسی اختلاف رکھنے والوں پر ظلم و تشدد کا بدترین بازار گرم کر رکھا تھا۔] کو شریف اور خدا ترس لوگوں پر زیادتیاں کرنے، دین حق کا راستہ روکنے، عوام کو ذلیل و خوار کرنے اور قومی وسائل کو اپنی ذات کے مفاد میں استعمال کرنے کا موقع کس حد تک عطا فرماتا ہے۔ بچے کھچے پاکستان میں ایسے حالات جاری رہنے کے کس حد تک امکانات ہیں اور نظام اسلامی کے غلبہ کے بارے میں یہاں کیا توقعات ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ اپنی مصلحتوں اور اپنی حکمتوں کو خود ہی جانتا ہے۔ ہمارے پاس ان کو جاننے اور سمجھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس نے مختلف جابروں اور مختلف ظالم قوموں کی ریتی چٹنی چبائی دراز کی ہے اور جب چبایا ہے ان کو اٹھا کر اس طرح پھینکا ہے کہ وہ عبرت بن کر رہ گئے ہیں۔ بہرحال اپنی زمین کا مستقل پٹہ اس نے کسی شخص یا قوم یا مجموعہ اقوام کو کبھی لکھ کر نہیں دے دیا ہے۔ یہ معاملہ چونکہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اس لئے خدا کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے ہمیں اس فکر میں نہیں پڑنا چاہئے کہ جو طاقتیں اس راہ میں مزاحم ہیں ان کی رسی خدا نے کتنی دراز یا کتنی کوتاہ رکھی ہے۔ ہمیں اپنا فرض صبر و حکمت کے ساتھ بہر صورت ادا کئے چلے جانا چاہئے۔ خواہ اس کے نتائج ہماری آنکھیں دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں۔
باطل کے لئے کام کرنے والوں کی طرح حق کے لئے کام کرنے والوں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا معاملہ مختلف رہا ہے۔ کبھی ان کے حصے میں صرف جان و مال اور وقت و محنت کی قربانی ہی آتی ہے۔ دنیوی کامیابی انہیں عطا نہیں کی جاتی۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اللہ ان سے ناراض اور ظالموں سے راضی ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جس قوم میں وہ کام کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق نہیں بناتی کہ اللہ اسے نیک رہنما اور عادل فرمانروا دے، بلکہ اس کے برعکس اس کی شقاوت اور دنایت اپنے رب سے گمراہ کن رہنما اور جابر و ظالم فرمانروا ہی مانگتی ہے اور وہی اسے دیئے جاتے ہیں۔ مگر اس صورت میں اہل حق کا کیا ہوا کام ضائع ہرگز نہیں ہوتا۔ آخرت میں تو ان کا اجر بہرحال محفوظ ہے ہی، دنیا میں بھی جو بیچ وہ بو جاتے ہیں وہ کبھی نہ کبھی پھل لا کر رہتے ہیں، خواہ ان کے بار آور ہونے میں صدیاں لگ جائیں۔
پھر کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اہل حق کو کامیابی نصیب ہوتی ہے، مگر آسانی کے ساتھ نہیں بلکہ بڑی تکلیفیں اٹھا کر اور ہر طرح کے ظلم و ستم کی چکی میں پس کر ہوتی ہے۔ اس کی نمایاں ترین مثال آپ کے سامنے خود ان بندگان حق کی موجود ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر حضورؐ کی رہنمائی میں وہ دین قائم کیا جسے قائم کرنے کے لئے آج آپ اٹھے ہیں۔ ان کے ساتھ یہ معاملہ تو نہیں ہوا تھا کہ انہوں نے خوب دل لگا کر فرائض و نوافل ادا کئے ہوں اور ایک روز فرشتوں نے آکر ان سے کہا ہو کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عبادت اور ذکر و فکر سے بہت خوش ہوا ہے، چلیے اب تخت سلطنت آپ کے لئے تیار ہے۔ یا کفر و فسق کے زیر سایہ وہ ٹھنڈی ٹھنڈی تبلیغ کرتے رہے ہوں اور ایک وقت اچانک ایسا آگیا ہو کہ کفار و فساق آپ ہی آپ ان کے حق میں اقتدار سے دستبردار ہو گئے ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مکہ معظمہ میں (ابتدائی خفیہ دعوت کا زمانہ چھوڑ کر) مسلسل دس سال تک حضورؐ اور آپ کے ساتھیوں پر سخت سے سخت ظلم کئے گئے، کسی کو تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر گھسیٹا گیا۔ کسی کو آگ کے انگاروں پر ڈال کر اوپر سے پتھر رکھ دیئے گئے۔ کسی کو الٹا لٹکا کر اور چٹائی میں لپیٹ کر دھونی دی گئی۔ کسی کو مار مار کر ادھ موا کر دیا گیا۔ کسی کو پانی میں غوطے دیئے گئے۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر بے سروسامانی کے عالم میں حبش کی طرف نکل جانا پڑا۔ پے در پے مصائب کے یہ دس سال گزارنے کے بعد جب مدینے میں پناہ کی ایک جگہ اور حامیوں کی ایک جماعت ملی تو وہاں بھی کوئی پھولوں کی سیج تیار نہ تھی۔ ۹ سال تک وہاں گھر کے منافقوں، پڑوس کے یہودیوں اور پورے عرب کے مشرکوں سے ایک شدید جانگسل کشمکش برپا رہی جس میں کبھی ایک دن کے لئے بھی چین نصیب نہ ہوا۔ غار ثور کی انتہائی خطرناک پناہ گزینی سے لے کر غزوۂ تبوک کے جیش عسرت تک سارا زمانہ ایسی حالت میں گزرا جس کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ <<وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ>>۔ ”ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے اور کچھ مال اور جان اور پیداوار کے نقصانات سے۔“ یہ مراحل جب صبر واستقامت کے ساتھ گزار لئے گئے تب کہیں دین حق کے علمبردار اور اس کے مجاہد ساتھیوں کی آنکھیں <<يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللهِ اَفْوَاجًا>> کا منظر دیکھ کر ٹھنڈی ہوسکیں۔
یہ سب کچھ کس لئے تھا؟ کیا ظالموں کے ظلم سے اللہ راضی تھا، اس وجہ سے وہ ان کو اپنے نیک بندوں پر زیادتیاں کرنے کی کھلی چھوٹ دیئے جا رہا تھا؟ کیا اللہ رحیم و رحمن کو یہ پسند تھا کہ اس کے باغی عیش کریں اور اس کے وفادار بھوکے مریں؟ مار کھائیں؟ گھر سے بے گھر کئے جائیں؟ اور میدان جنگ میں صرف قتل ہی نہ کئے جائیں بلکہ ان کے کلیجے تک چبا ڈالے جائیں؟ اگر آپ یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ اصل بات یہ نہیں ہے تو پھر خوب سمجھ لیجئے کہ اللہ جل شانہ اسلام کی دعوت لے کر اٹھنے والوں کے لئے آزمائشوں کی بھٹی ضرور گرم کرتا ہے، تاکہ کوئی بودا اور خام آدمی اس میدان میں قدم نہ رکھنے پائے۔ اور جو لوگ بھی ایمان کا اقرار کر کے اس راہ پر آئیں وہ لازماً اسی بھٹی سے گزارے جائیں، تاکہ حق و صداقت کے ساتھ ان کا عشق اور دین کی سربلندی کے لئے ان کا عزم اور اقامت دین کے لئے ان کا کردار پختہ اور قابل اعتماد ہو جائے۔ اس کے بغیر ان کو اللہ اور اس کے دین کے نام پر دنیا میں حکومت و فرمانروائی کا موقع دے دیا جاتا، تو نتیجہ یہ ہوتا کہ کافروں کی جگہ مسلمان خلق خدا پر ظلم کرتے اور ان کی خیانتیں اور بد کرداریاں دیکھ کر دین اور اہل دین کی ساکھ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی۔
اس حقیقت کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں تو کبھی آپ کے ذہن یہ سوچ سوچ کر پریشان نہ ہوں کہ اللہ کب تک ظالموں کو ظلم کی چھوٹ دیئے رکھے گا؟ اور ان حالات میں اسلامی نظام کے قائم ہونے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ خوب جان لیجئے کہ اس سرزمین میں اسلام کا غلبہ اگر ہو سکتا ہے تو اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اس مقصد کے لئے کام کرنے والے اسی بھٹی سے گزریں جس سے دورِ اول کے اہل ایمان گزرے تھے۔ اس کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ ہر قربانی دینے، ہر مشقت اٹھانے، ہر نقصان بھگتنے اور ہر خطرہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جب تک یہ امتحان وہ پاس نہ کر لیں گے ان پر ایک دارالاسلام کے انتظام کی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ وہ اس بوجھ کو سہار نہ سکیں گے۔ اسلام کے نام پر کسی نیم پختہ گروہ کو اگر حکومت دے دی جائے اور پھر اس کے لائے ہوئے حاکم خائن نکلیں، اختیارات کا ناجائز استعمال کریں، اپنی اغراض و خواہشات کے بیجا تقاضوں سے مغلوب ہو کر انصاف اور امانت کا خون کرنے لگیں، قوم کے مال میں ناروا تصرف کریں، اپنے آپ کو قانون سے بالاتر قرار دے لیں اور اقتدار کا بار پڑتے ہی ان کے اخلاق جواب دے جائیں۔ تو پھر ہمیشہ کے لئے یہاں اسلام کے غلبے کا امکان ختم ہو جائے۔ اس ملک ہی کی آبادی نہیں بلکہ پوری دنیا اسلام سے مایوس ہو جائے گی۔ اس لئے اس کو اللہ کی رحمت سمجھئے کہ وہ آپ کو پختہ کرنے کے لئے آزمائشوں کی بھٹی سے گزار رہا ہے اور قبل از وقت آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ڈال رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہوگا کہ یہاں ایک ایسی جماعت بن گئی ہے جس میں کھر اسونا ہی پایا جاتا ہے اور کھوٹ سے وہ صاف ہو گئی ہے، جس کی دیانت و امانت اور خدا ترسی قابل اعتماد ہے، جو کبرونخوت اور انانیت و نفسانیت سے پاک ہے، جو اپنی بڑائی کے لئے نہیں اٹھی ہے بلکہ فی الواقع اللہ کے دین ہی کی بالاتری قائم کرنا چاہتی ہے، تب اللہ کے فضل سے یہ پوری امید ہے کہ وہ ایسی جماعت کو دنیوی کامیابی بھی عطا فرمائے گا، جس طرح اس کے پیشروؤں کو وہ عطا کر چکا ہے۔ اس لئے صبر اور ہمت و استقامت کے ساتھ آزمائشوں سے گزریے اور اللہ سے دعا مانگتے رہیے کہ وہ آپ کو اقامت دین کے کام کی اہلیت و صلاحیت عطا فرمائے۔ یہی بات ہے جو حضرت خبابؓ بن ارت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ جب انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو ظلم کی حد ہو گئی ہے تو آپ کا چہرہ مبارک تمتما اٹھا اور آپؐ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو اہل ایمان گزر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ سختیاں توڑی گئی تھیں۔ یقین جانو کہ اللہ اس کام کو پورا کر کے رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا جب ایک شخص صنعا سے حضرموت تک بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا، مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو۔
سوال: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلبۂ اسلام سے پہلے تمام صحابہ کرامؓ سے رضاکارانہ تعاون حاصل فرمایا اور صرف اسلامی نظام کے قیام کے بعد ہی کارکنوں کو فارغ کیا گیا تو کیا جماعت اسلامی اس سنت کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہی ہے؟
جواب: دراصل اس کے لئے لفظ سنت کا استعمال صحیح نہیں ہے۔ یہ تو تدبیر کا معاملہ ہے جس میں حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کوئی مناسب طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مکہ معظمہ میں جب تک حضورؐ رہے، طریق کار یہ تھا کہ جو لوگ کچھ مال رکھتے تھے وہ ان لوگوں کی مدد کرتے تھے جو اپنا بار آپ نہ اٹھا سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وہ سارا مال اللہ کی راہ میں صرف فرمایا جو نبوت سے پہلے آپ کے پاس تھا۔ حضرت ابو بکرؓ اور دوسرے خوشحال مسلمانوں نے بھی اپنی دولت اس کام میں صرف کی۔ اسلام قبول کرنے والوں میں ایسے اصحاب بھی تھے جن کے ذرائع معیشت ظالموں نے ختم یا تنگ کر دیئے تھے‘ اور ایسے نوجوان بھی تھے جنہیں ان کے گھر والوں نے نکال دیا تھا اور وہ بے سہارا رہ گئے تھے۔ ان سب لوگوں کے لئے چاہے باقاعدہ مشاہرے نہ مقرر کئے گئے ہوں، لیکن ان کی کفالت کسی نہ کسی طرح کی جاتی تھی، ورنہ ظاہر بات ہے کہ وہ خوراک اور لباس کے بغیر تو نہیں رہ سکتے تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں بھی ایک مدت تک یہ صورت رہی کہ جو لوگ کفالت کے محتاج تھے‘ اور خود اپنی روزی نہ کما سکتے تھے‘ ان کی کفالت دوسرے اصحابؓ اپنی استطاعت کے مطابق کرتے رہتے تھے۔ سورۂ بقرہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف مسلمانوں کو یہ بتایا گیا کہ ان غریب لوگوں کی مدد کی جائے جو ”اللہ کی راہ میں ایسے گھر گئے ہیں جو اپنے ذاتی کسب معاش کے لئے زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔“ <<الَّذِيْنَ أُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ>> ان غریبوں کے اللہ کی راہ میں گھر جانے کا مطلب دین کے کام میں ان کا اس طرح مشغول ہو جانا تھا کہ وہ چل پھر کر اپنی روزی کمانے کی فرصت نہ رکھتے تھے اور ایسے ذرائع بھی ان کو حاصل نہ تھے کہ وہ گھر سے کما کر خدا کا کام کر سکیں۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے غنیمت اور فَے کے اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما دیئے تو ان کا ایک مصرف ایسے خادمانِ دین کی کفالت بھی تھا۔ پھر جن لوگوں کو حضورؐ نے امیر یا عامل، یا محصل زکوٰۃ وغیرہ مناصب پر مقرر کیا تو ان کے باقاعدہ مشاہرے بھی مقرر فرمائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے مختلف زمانوں میں مختلف حالات کے لئے جو تدبیر موزوں سمجھی وہ اختیار فرمائی۔ ان میں سے کسی تدبیر کو بھی ایسی سنت قرار نہیں دیا جا سکتا جس کی پابندی ہر حال میں لازم ہو۔ جماعت اسلامی میں فارغ کارکن صرف اسی صورت میں مقرر کئے جاتے ہیں جبکہ جز وقتی کارکنوں کی رضاکارانہ خدمات سے باقاعدگی کے ساتھ کام نہ چل سکتا ہو، اور ہمہ وقتی خدمات کے لئے ایسے کارکن بھی نہ مل سکتے ہوں جو گھربار سے کھا کر اپنا سارا وقت خدا کے کام میں صرف کرسکیں۔
سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی جماعت جن کے ہاتھوں اسلامی انقلاب برپا ہوا، ان کے تقویٰ، قناعت، کفایت شعاری، جانی و مالی ایثار، توکل علی اللہ اور شوق شہادت کا معیار اتنا اونچا تھا کہ جس کا نمونہ موجودہ تحریک اسلامی کے کارکنوں میں پایا جانا تو درکنار اس کا سوال حصہ بھی نایاب ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ہم سری کی جاسکے جو صحابہ نے سر کی تھی۔ پھر ایسے بلند مرتبہ رہنماؤں اور کارکنوں کے ہاتھوں جو اسلامی انقلاب برپا ہوا، وہ بھی معیاری صورت میں ۳۰ سال ہی چل سکا۔ صرف اس لئے کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے درمیان پہلے صحابہ جیسے لوگ نہ تھے۔ اب جس معیار کے رہنما اور کارکن تحریک اسلامی میں ہیں ان کے ہاتھوں وہ انقلاب برپا ہونا اوّل تو سخت مشکل ہے اور اگر وہ برپا ہو بھی جائے تو شاید ۳۰ دن بھی نہ چل سکے گا۔“
جواب: یہ سوال تو ایک پورا خطبہ ہے، تحریک اسلامی کے کارکنوں کو اپنے نصب العین سے مایوس کر دینے کے لئے۔ اگر اس کا مقصد خود مایوس ہونا اور دوسروں میں مایوسی پیدا کرنا نہیں ہے تو اس معاملے پر اچھی طرح سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے اعلیٰ درجے کے مربی تھے اور جیسا بلند ترین نمونہ حضور نے اپنی زندگی کا لوگوں کے سامنے پیش کیا، اس طرح کا کوئی رہنما قیامت تک مسلمانوں کو میسر نہیں آسکتا۔ اسی طرح حضور کی تعلیم و تربیت کی بدولت جیسے اعلیٰ درجے کے کارکن دعوتِ اسلامی کی خدمت انجام دینے کے لئے اس وقت تیار ہوئے تھے، اس پائے کے کارکن بھی تیار کر لینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ اب کیا اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہم دین حق قائم کرنے کی کوشش ہی نہ کریں؟ اگر اس کام سے رک جانے کے لئے یہی دلیل استعمال کی جائے تو اس کے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں۔ یا تو دین باطل دنیا میں قائم ہو اور ہم اس کے تابع بن کر، رہیں یا پھر خود بھی دین باطل کے قائم کرنے میں لگ جائیں تاکہ دنیوی لذات اور فوائد و منافع سے تو اچھی طرح شاد کام ہوسکیں۔ اس کے لئے کسی قسم کی بھی اخلاقی بلندی درکار نہیں۔ صرف پستی کی طرف گرنا ہی ہے جو کسی محنت اور کوشش کے بغیر بآسانی ہو سکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ وہ غلط طرز فکر اختیار کرتے ہیں جو اس سوال کے اندر مضمر ہے۔ انہوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ یہ طرز فکر آخر کار ہمیں کہاں پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ صحیح طور پر سوچتے تو سیدھی راہ ان کے سامنے خود بخود واضح ہو جاتی۔ ایک مومن کے لئے سیدھی راہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام جس بلندی پر پہنچے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کی طرف چڑھنے کے لئے وہ جتنی کوشش کر سکتا ہے کرے اور عمر بھر کرتا چلا جائے اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ اس بلندی پر چڑھتے ہوئے اگر کوئی شخص تھک کر راستے میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو وہ کامیاب ہے۔ لیکن اگر ایک آدمی یہ دیکھ کر کہ چڑھائی بہت اونچی ہے، کھڈ کی طرف جانا شروع کر دے تو جائے گا بڑی آسانی سے لیکن گرے گا بھی ایسی جگہ جہاں اس کا پرزہ پرزہ بکھر کر رہ جائے گا۔ قرآن پاک کو آپ غور سے پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ انسان کو سیرت و اخلاق کی بلندیوں پر چڑھنے سے مایوس نہیں کرتا بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ <<فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ>> ”جس نے راہِ خدا میں مال دیا اور خدا کی نافرمانی سے پرہیز کیا اور بھلائی کو سچ مانا اس کو ہم آسان راستے کی سہولت دیں گے۔“ بلکہ اللہ تعالیٰ کا صریح وعدہ ہے کہ <<وَالَّذِينَ جَهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا>> ۔ ”جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ان کو اپنے راستوں کی ہدایت ہم خود دیں گے۔“ لہٰذا آپ اللہ کی راہ میں جان لڑائیں اور اس سے توفیق مانگتے رہیں۔ اپنی ایک ایک کمزوری کو سمجھیں اور اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اندر جو بہتر صلاحیتیں پائیں ان کو بھی اچھی طرح سمجھیں اور ان کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔ اس تزکیۂ نفس میں قرآن و حدیث اور سیرت پاک اور صحابہؓ و اخبار امت کی سیرتیں پڑھنے سے بھی بڑی مدد مل سکتی ہے، اور اگر جماعت کے سب افراد اس کوشش میں لگے ہوئے ہوں تو وہ سب بھی ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔ اس طرح اپنے آپ کو پستیوں سے اٹھانے اور بلندیوں کی طرف لے جانے کی جتنی کوشش بھی آپ اللہ کے بھروسے پر کریں گے اتنے ہی بلند مراتب پر اللہ تعالیٰ آپ کو پہنچا دے گا، کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لیجئے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کرنا بجائے خود بھی انسان کی اصلاح و ترقی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اسلام میں جو اخلاقی بلندی مطلوب ہے وہ باطل کے مقابلے میں لڑنے اور حق قائم کرنے کی کوشش میں جان لڑانے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کی جس بلندی مدارج کو دیکھ کر آپ پر حیرت اور مایوسی کا عالم طاری ہونے لگتا ہے وہ کسی گوشۂ عزلت میں چلے کاٹنے کا ثمرہ نہ تھی، بلکہ اللہ کی راہ میں مار کھانے، اذیتیں سہنے، قیدیں برداشت کرنے، بھوکے مرنے، نقصانات اٹھانے، خطرات کا سامنا کرنے اور جان و مال کی قربانیاں دینے سے حاصل ہوئی تھی۔ آدمی کو اللہ اور اس کے دین سے عشق نہ ہو تو وہ اس وادی پُر خطر میں اتر ہی نہیں سکتا اور جب وہ اس میں اترتا ہے تو ہر چوٹ کھا کر اس کا عشق بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی عشق ان بندگان حق کو اتنی بلندیوں پر اٹھا لے گیا۔ آپ باطل سے لڑنے اور اس کی جگہ حق قائم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا ئیں گے تو اللہ آپ کے ساتھ کئی بغل سے کام نہ لے گا۔
اب رہا یہ خیال کہ ہم جیسے کمزور لوگوں کے ہاتھوں اسلامی نظام کا برپا ہو جانا ہی سخت مشکل ہے، اور اگر وہ ہو بھی جائے تو ہمیں سال کجا، ہمیں دن بھی قائم نہ رہ سکے گا، تو اس کے متعلق میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے اوپر اسلامی نظام برپا کر دینے کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے، بلکہ اس کے لئے جان لڑانے کی ذمہ داری ہی ڈالی گئی ہے۔ اس کا برپا ہونا نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے اور یہ بھی اللہ کی مشیت ہی پر منحصر ہے کہ وہ قائم ہو تو کب تک چلے اور کب تک نہ چلے۔ لہذا ان باتوں کو سوچ سوچ کر تھرڈولی میں مبتلا ہو جانا درست نہیں ہے۔ آپ کے کرنے کا جو کام ہے اسے اپنی حد تک زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کریں اور اللہ کے کرنے کا جو کام ہے اسے اللہ پر چھوڑ دیں۔
سوال: جماعت اسلامی کے فارغ کارکن بالعموم اس الجھن کو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے روز مرہ کے کام کا نتیجہ محسوس طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دن بھر میں ایک ہی ملاقات ہوتی ہے یا سفر کر کے دور دیہات میں جانے کے بعد مجوزہ پروگرام نہیں بنتا یا آدمی نہیں ملتا۔ تحریک کے رفقاء توقع رکھتے ہیں کہ جب ایک کارکن فارغ کر دیا گیا ہے تو کام کا نتیجہ محسوس طور پر اعداد و شمار میں آنا چاہئے۔ اس الجھن کا علاج کیا ہے؟
جواب: اس الجھن کے دو پہلو ہیں اور دونوں پہلوؤں کا علاج ہونا چاہئے۔ ایک پہلو تو ہے اس شخص کی الجھن کا جو فارغ کارکن ہے اور ایک پہلو ہے ان لوگوں کی الجھن کا جو اس کارکن کو تحریک کا کام کرنے کے لئے فارغ کرتے ہیں، اس کی کفالت کے لئے مال فراہم کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کام کر رہا ہے یا نہیں، اور اگر کر رہا ہے تو کس طرح کر رہا ہے؟
جہاں تک پہلی چیز کا تعلق ہے سب سے پہلے ہر فارغ کارکن کو خود اپنا بے لاگ محاسبہ کر کے دیکھنا چاہئے کہ جب میں اسلام کے کام کے لئے فارغ کیا گیا ہوں اور میری ضروریات کا بوجھ جماعت نے اپنے ذمے لے لیا ہے تو کیا میں اس کا حق ادا کر رہا ہوں؟ یہ محاسبہ اسے عند اللہ اپنی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے کرنا چاہئے۔ اگر اس کا اپنا ضمیر یہ محسوس کرے کہ ادائے حق میں وہ کوتاہی کر رہا ہے تو اسے خود اپنی اصلاح کرنی چاہئے، خواہ جماعت اس کا محاسبہ کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ کوئی اور جانے یا نہ جانے، وہ خدا تو اس کی کوتاہی کو جانتا ہے جو عالم الغیب والشہادة ہے۔ جماعت کو وہ بڑے معقول دلائل دے کر مطمئن کر سکتا ہے، مگر خدا کو تو کسی طرح دھوکا نہیں دے سکتا۔ اسے اس سارے معاملہ پر اس لحاظ سے سوچنا چاہئے کہ اس وقت وہ کیا جواب دے گا۔ جب اس سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے بندے تیرے لئے ضروریات زندگی فراہم کرنے کا انتظام بھی کر دیا گیا تھا اور ہمارے کام کے لئے تجھے فکر معاش سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا، پھر بھی تو نے اس کام میں جان نہ لڑائی! اس طرح اپنا محاسبہ کر کے ہر فارغ کارکن اپنی الجھن کو خود دور کر سکتا ہے۔
رہی ان لوگوں کی الجھن جو اسے فارغ کرتے ہیں تو ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ کوئی معیار کا کام تو ہے نہیں کہ روز آپ آکر گن لیں کہ آج کتنی اینٹیں رکھی گئیں۔ اس حساب سے اگر آپ نے دیکھنا شروع کیا تو ظاہر بات ہے کہ کوئی فارغ کارکن بھی، امیر جماعت سمیت، اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنے کام سے آپ کو مطمئن کر سکے۔ آپ کو صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ فارغ کارکن اپنا وقت اور اپنی محنت فرض شناسی اور دل کی لگن کے ساتھ اسی کام میں صرف کر رہا ہے یا نہیں جس کے لئے اسے فارغ کیا گیا ہے؟ وہ فضول کاموں میں تو اپنا وقت ضائع نہیں کر رہا ہے؟ وہ جماعت سے معاوضہ لے کر اپنے ذاتی مقاصد کے لئے دوڑ دھوپ کرنے میں تو لگا نہیں رہتا؟ ایسی کوئی شکایت اس سے نہ ہو تو آپ اس لحاظ سے اس کے کام کو نہ جانچیں کہ اس کی کوششوں سے نتائج کس قدر برآمد ہوئے ہیں۔ یہ کام تو ایسا ہے کہ بسا اوقات ہفتوں اور مہینوں ہی نہیں، برسوں ایک شخص اپنی جان کھپاتا رہتا ہے اور پھر بھی ایسے نتائج برآمد نہیں ہوتے جنہیں ناپ کر اور تول کر دیکھا جا سکے۔ دعوت ہزار ہا آدمیوں تک پہنچائی جاتی ہے مگر صرف چند آدمی اسے قبول کرتے ہیں، اور ان کے بارے میں بھی یہ ضمانت کسی کے پاس نہیں ہوتی کہ وہ کتنے مخلص ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے انبیاء کو بھی ان کی مساعی کے نتائج اور ماحصل کے لحاظ سے نہیں جانچا ہے بلکہ صرف اس لحاظ سے جانچا ہے کہ انہوں نے اپنا فرض کما حقہ ادا کر دیا ہے یا نہیں۔ نتائج کے لحاظ سے جانچا جاتا تو معاذ اللہ وہ انبیاء تک ناکام قرار پاتے جن کی کوششوں سے کوئی ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ حضرت لوطؑ ہی کی مثال دیکھ لیجئے جن کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ <<فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ>> ”ہم نے وہاں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔“ اور یہ گھر خود حضرت لوطؑ کا تھا جس میں ان کی بیوی تک عذاب کی مستحق پائی گئی۔
سوال: ایک طرف تحریک اسلامی پورے عالم میں تیزی کے ساتھ متعارف ہو رہی ہے حتیٰ کہ کمیونسٹ ممالک میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے، دوسری طرف پاکستان میں یہ بات بہت بری طرح کھٹکتی ہے کہ یہاں جماعت کے لوگوں اور خصوصاً ارکان کے اندر جمود کی کیفیت طاری ہے اور
اکثر حضرات کی کیفیت بالکل ویسی ہو چکی ہے جیسی نسلی مسلمانوں کی ہے۔ یہ بات تحریک کے مستقبل کے بارے میں کسی لحاظ سے حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اس رجحان کو بروقت روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو خدانخواستہ آج تک کی تمام کوششوں پر پانی پھر جانے کا خطرہ ہے۔ آپ کے نزدیک اس کیفیت کے طاری ہونے کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں اور اس کے مداوا کے لئے کون سی تدبیر مؤثر ہو سکتی ہے؟
جواب: اس سوال میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں جو باہم متناقض ہیں۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ تحریک اسلامی پورے عالم میں تیزی کے ساتھ متعارف ہو رہی ہے اور دوسری بات یہ کہ پاکستان میں جماعت پر جمود طاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہاں جمود طاری ہے تو سارے عالم میں تحریک اسلامی تیزی کے ساتھ کیسے پھیل رہی ہے اور کون پھیلا رہا ہے۔ میں آغاز ہی میں اس تناقض کی طرف اس لئے توجہ نہیں دلا رہا ہوں کہ آپ کو کسی غلط قسم کی خود اعتمادی میں مبتلا کروں، بلکہ میرا مدعا آپ لوگوں کو صرف یہ احساس دلانا ہے کہ اپنے کام کا جائزہ لیتے وقت نہ مثبت پہلو میں مبالغہ سے کام لینا چاہئے اور نہ منفی پہلو میں۔ بسا اوقات آدمی خود جامد ہوتا ہے اور اپنا جمود اسے ساری جماعت میں نظر آنے لگتا ہے۔ بسا اوقات آدمی بہت زیادہ پرجوش ہوتا ہے اور جماعت کو جب وہ اپنی توقعات اور تمناؤں کے مطابق تیز رفتار نہیں پاتا تو کہتا ہے کہ اس پر جمود طاری ہے۔ بسا اوقات ایک شخص اپنے ذہن میں کام کا کوئی خاص نقشہ یا تصور رکھتا ہے اور جب جماعت اس نقشہ یا تصور پر کام کرتی نظر نہیں آتی تو وہ خیال کرتا ہے کہ جماعت کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔
اس طرح کے مبالغوں سے بچتے ہوئے جماعت کے ہر فرد کو بھی اور پوری جماعت کو بھی بے لاگ جائزہ لینا چاہئے کہ کیا فی الواقع وہ جمود میں مبتلا ہے؟ اور اگر ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا ایک سبب یہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کے لوگ اس عہد ہی کو فراموش کر گئے ہوں جو جماعت میں داخل ہوتے وقت انہوں نے اپنے خدا سے کیا تھا۔ یہ سبب اگر خدانخواستہ واقعی موجود ہے تو ہم سب کو اور ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اپنے رب کے ساتھ یہ عہد ہم نے کسی مجبوری سے کیا تھا یا برضا و رغبت؟ بے سوچے سمجھے کیا تھا یا خوب سوچ سمجھ کر پورے شعور کے ساتھ؟ کسی دنیوی غرض کے لئے کیا تھا یا اپنے ایمان کا تقاضا سمجھ کر خالص اللہ کی رضا کے لئے؟ میں نہیں سمجھتا کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا ہو گا جس نے برضا و رغبت، پورے شعور کے ساتھ اور محض اللہ کی رضا کے لئے اپنے ایمان کا تقاضا سمجھ کر یہ عہد نہ کیا ہو۔ پھر جب واقعہ یہی ہے تو اس راہ میں جمود کیسا؟ کیا ہمارے ایمان کے تقاضے اب بدل گئے ہیں؟ کیا اللہ کی رضا ہمیں اب مطلوب نہیں رہی؟ یا ہماری رائے اب یہ نہیں رہی کہ اللہ کی زمین پر اس کے دین کو قائم کرنا ہمارا مقصد ہے؟ ان سوالات کو اپنے ذہن میں رکھ کر ہم میں سے ہر شخص اگر روزانہ ایک مرتبہ بھی اپنے نفس کا جائزہ لیتا رہے تو جمود تو درکنار، اس کا تصور اور اس کا اندیشہ تک باقی نہ رہے گا۔
جمود کا دوسرا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کو درست رکھنے کے لئے ابتداء سے محاسبہ و تنقید اور اصلاح و تطہیر کا جو طریقہ رکھا گیا تھا اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس طریقے کو مقرر کرنے کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ جماعت میں جہاں بھی کوئی خرابی پیدا ہو رہی ہو اس کا بروقت نوٹس لیا جائے اور اسے رفع کئے بغیر نہ چھوڑا جائے۔ جو شخص بھی ست پڑ رہا ہو یا غلط روش پر چل پڑا ہو، بلا تاخیر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور اصلاح نہ ہو سکے تو اسے رخصت کر دیا جائے۔ اگر یہ کام برابر ہوتا رہے تو جماعت میں ہمیشہ تطہیر کا عمل جاری رہے گا اور اس کے اندر غلط قسم کے آدمی نہ رہ پائیں گے۔ غلط قسم کے آدمیوں کا جماعت میں موجود ہونا بہر صورت نقصان دہ ہے۔ وہ اگر فعال نہ بھی ہوں تو ان کی چھوت رفتہ رفتہ دوسروں کو لگتی چلی جاتی ہے اور اگر غلط ہونے کے ساتھ فعال بھی ہوں تو ان کی ساری سرگرمیاں اس کام میں صرف ہوتی ہیں کہ جس بیماری میں خود مبتلا ہیں اسے ساری جماعت میں پھیلا دیں۔ اس طرح کے آدمی جہاں بھی موجود ہوں فوراً ان کا محاسبہ کیجئے۔ پھر یا تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے یا انہیں جماعت سے نکلنا پڑے گا۔ جماعت کو صحت مند رکھنے کے لئے یہ عمل جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اس میں آپ تساہل سے کام لیں گے تو آئے دن آپ کو پریشان کن مسائل سے سابقہ پیش آتا رہے گا۔
سوال: قانون قدرت ہے کہ اصلاح کا کام کرنے والوں کو عذاب سے بچا لیا جاتا ہے، مگر مشرقی پاکستان میں تحریک اسلامی کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ اقامت دین کے لئے کام کرنے والے کبھی زخمی نہیں ہوں گے، کبھی شہید نہیں ہوں گے اور کبھی انہیں کسی قسم کی گزند نہ اٹھانی پڑے گی۔ اگر ایسا وعدہ اللہ تعالیٰ کر چکا ہوتا تو اس کے دین کا کام کرنے کے لئے لاکھوں کروڑوں آدمی بڑے اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ حق و باطل کی کشمکش میں اگر اہل حق کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑے، یا وہ شکست کھا جائیں اور اہل باطل کو غلبہ نصیب ہو جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اہل حق پر عذاب الٰہی نازل ہوا ہے۔ تحریک اسلامی کے جو لوگ مشرقی پاکستان میں تھے انہوں نے جب دیکھا کہ ان کا ملک صریحاً کفر کی گود میں جا رہا ہے تو انہوں نے اسے روکنے کے لئے اپنی جانیں لڑا دیں، ہزاروں شہید ہوئے، ہزاروں زخمی ہوئے۔ کثیر تعداد گرفتار ہوئی جسے سخت اذیتیں برداشت کرنی پڑیں اور مالی مصائب سے تو کوئی بھی نہ بچا۔ اس کے باوجود وہ کفر کے غلبے کو نہ روک سکے۔ یہ ان کے حق میں ہرگز عذاب الٰہی نہیں ہے، بلکہ ان کا اجر خدا کے ہاں ثابت ہے اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ان کا عمل خدا کے ہاں ضائع نہیں ہوا، بلکہ اپنی محنتوں اور قربانیوں سے انہوں نے جو بیج بوئے ہیں وہ دنیا میں بھی ضائع نہیں ہوئے۔ وہ پھل لا رہے ہیں اور آگے جانے والوں کے پیچھے جو لوگ بچے رہ گئے ہیں وہ خدا کے فضل سے اس فصل کو کاٹنے اور مزید فصل بونے میں لگے ہوئے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وہاں لوگوں کی آنکھیں کھلنی شروع ہو گئیں اور بڑے بڑے پرجوش بنگلہ دیشیوں کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اب وہ تحریک اسلامی کے لوگوں سے مل کر صاف صاف یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم دھوکا کھا گئے اور صحیح بات وہی تھی لیکن آج بھی تحریک اسلامی کے لوگ موجود ہیں اور وہ برابر اپنا فرض انجام دیئے جا رہے ہیں۔ آج وہاں کے لوگوں کا رجوع ان کی طرف پہلے سے زیادہ ہے کیونکہ تجربے نے ان کو کھوٹے اور کھرے کا فرق اچھی طرح بتا دیا ہے۔
میں مشرقی پاکستان کے بارے میں یہ باتیں صرف آپ کے اطمینان کے لئے بیان نہیں کر رہا ہوں، بلکہ اس سے بڑھ کر میرا مقصد عذاب الٰہی کے اس غلط تصور کو آپ کے ذہن سے مٹانا ہے جو اس سوال میں پایا جاتا ہے۔ خدانخواستہ اگر کبھی ایسا وقت آ جائے کہ کفر کے ہجوم کا خطرہ پاکستان کے اس حصے کو بھی لاحق ہو جائے تو آپ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ اصلاح کا کام کرنے والے تو عذاب الٰہی سے بچا ہی لئے جاتے ہیں، پھر جہاد کی کیا ضرورت؟ اور یہ غلط فہمی بھی آپ کو لاحق نہ ہو کہ اس سرزمین کو کفر کی گود میں جانے سے بچانے کے لئے اگر تحریک اسلامی کو اپنے مشرقی پاکستانی رفقاء کی طرح قربانیاں دینی پڑیں تو یہ گویا خدا کے عذاب میں مبتلا ہونا ہوگا۔ یہ دونوں باتیں سراسر غلط ہیں۔ اسلام کے گھر کو بچانے کے لئے ہمیں اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینا ہوگا اور یہ یقیناً جہاد فی سبیل اللہ ہوگا جس میں جان دینا شہادت ہے نہ کہ عذاب اور ہمیں خدا کے فضل سے پورا اطمینان ہے کہ اگر اس راہ میں پوری تحریک اسلامی بھی کٹ مرے تو خدا پرستی کے جو بیج یہاں بوئے گئے ہیں وہ ہر گز ضائع نہ ہوں گے۔
سوال: موجودہ حالات میں جب کہ جمہوریت کے نام پر تمام جمہوری اداروں کی مٹی پلید کر دی گئی ہے، ہر قسم کی آزادی سلب کر لی گئی ہے، بنیادی حقوق کچل کر رکھ دیئے گئے ہیں، جماعت اسلامی محض جمہوری طریقوں سے اسلامی نظام کیسے قائم کر سکے گی؟ کیا اس کے سوا اور کوئی طریقہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اختیار نہیں کیا جا سکتا؟
جواب: جن حالات کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے، ان کو دیکھ کر فی الواقع کثرت لوگ اس الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ آیا جمہوری طریقوں سے یہاں کوئی تبدیلی لائی جا سکتی ہے یا نہیں، اور ایک اچھی خاصی تعداد یہ سمجھنے لگی ہے کہ ایسے حالات میں غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بجائے خود ہمارے حکمرانوں کی بہت بڑی نادانی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس طرح سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن ہم اس پوری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور اس کی پیدا کردہ تمام صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بھی اپنی اس رائے پر قائم ہیں کہ اسلامی نظام جسے بر پا کرنے کے لئے ہم اٹھے ہیں، جمہوری طریقوں کے سوا کسی دوسری صورت سے بر پا نہیں ہو سکتا اور اگر کسی دوسرے طریقے سے بر پا کیا بھی جا سکے تو وہ دیر پا نہیں ہو سکتا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ جمہوری طریقوں کا مطلب واضح طور پر جان لیں۔ غیر جمہوری طریقوں کے مقابلے میں جب جمہوری طریقوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ نظام زندگی میں جو تبدیلی بھی لانا ہو اور ایک نظام کی جگہ جو نظام بھی قائم کرنا مطلوب ہو، اسے زور زبردستی سے لوگوں پر مسلط نہ کیا جائے، بلکہ عامۃ الناس کو سمجھا کر اور اچھی طرح مطمئن کر کے انہیں ہم خیال بنایا جائے اور ان کی تائید سے اپنا مطلوبہ نظام قائم کیا جائے۔ اس کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ عوام کو اپنا ہم خیال بنا لینے کے بعد غلط نظام کو صحیح نظام سے بدلنے کے لئے ہر حال میں صرف انتخابات ہی پر انحصار کیا جائے ۔ انتخابات اگر ملک میں آزادانہ و منصفانہ ہوں اور ان کے ذریعے سے عام لوگوں کی رائے نظام کی تبدیلی کے لئے کافی ہو تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ لیکن جہاں انتخابات کے راستے سے تبدیلی کا آنا غیر ممکن بنا دیا گیا ہو وہاں جباروں کو ہٹانے کے لئے رائے عامہ کا دباؤ دوسرے طریقوں سے ڈالا جا سکتا ہے اور ایسی حالت میں وہ طریقے پوری طرح کارگر بھی ہو سکتے ہیں جبکہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھاری اکثریت اس بات پر تل جائے کہ جباروں کا من مانا نظام ہرگز نہ چلنے دیا جائے گا اور اس کی جگہ وہ نظام قائم کر کے چھوڑا جائے گا جس کے صحیح و برحق ہونے پر لوگ مطمئن ہو چکے ہیں۔ نظام مطلوب کی مقبولیت جب اس مرحلے تک پہنچ جائے تو اس کے بعد غیر مقبول نظام کو عوامی دباؤ سے بدلنا قطعاً غیر جمہوری نہیں ہے، بلکہ ایسی حالت میں اس نظام کا قائم رہنا سراسر غیر جمہوری ہے۔
اس تشریح کے بعد آپ کے لئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہ رہے گا کہ ہم اسلامی نظام برپا کرنے کے لئے جمہوری طریقوں پر اس قدر زور کیوں دیتے ہیں۔ کوئی دوسرا نظام مثلاً کمیونزم لوگوں پر زبر دستی ٹھونسا جا سکتا ہے بلکہ اس کے قیام کا ذریعہ ہی جبر اور جباریت ہے اور خود اس کے ائمہ علانیہ یہ کہتے ہیں کہ انقلاب بندوق کی گولی ہی سے آتا ہے۔ استعماری نظام سرمایہ داری نظام اور فسطائی نظام بھی رائے عام کی تائید کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ رائے عام کو طاقت سے کچل دینا اور اس کا گلا گھونٹ دینا ہی ان کے قیام کا ذریعہ ہے۔ لیکن اسلام اس قسم کا نظام نہیں ہے۔ وہ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بغیر لوگ خلوص کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے راستوں پر نہیں چل سکتے۔ پھر وہ اپنے اصولوں کا فہم اور ان کے برحق ہونے پر اطمینان بھی عوام کے اندر ضروری حد تک اور خواص (خصوصاً کار فرماؤں) میں کافی حد تک پیدا کرنا لازم سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر اس کے اصول و احکام کی صحیح تحقیق ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وہ عوام و خواص کی ذہنیت، انداز فکر اور سیرت و کردار میں بھی اپنے مزاج کے مطابق تبدیلی لانے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ یہ نہ ہو تو اس کے پاکیزہ اور بلند پایہ اصول و احکام اپنی صحیح روح کے ساتھ نافذ نہیں ہو سکتے۔ یہ جتنی چیزیں میں نے بیان کی ہیں، اسلامی نظام کو برپا کرنے کے لئے سب کی سب ضروری ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی جبراً لوگوں کے دل و دماغ میں نہیں ٹھونسی جاسکتی، بلکہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ناگزیر ہے کہ تبلیغ، تلقین اور تفہیم کے ذرائع اختیار کر کے لوگوں کے عقائد و افکار بدلے جائیں، ان کے سوچنے کے انداز بدلے جائیں، ان کی اقدار (Values) بدلی جائیں، ان کے اخلاق بدلے جائیں۔ اور ان کو اس حد تک ابھار دیا جائے کہ وہ اپنے اوپر جاہلیت کے کسی نظام کا تسلط برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ جمہوری طریقوں کے سوا اس کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی نظام کو عملاً برپا کر دینے کے لئے کوئی اقدام اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس مقصد کے لئے کام کرنے والوں کو اس نوعیت کی عوامی تائید حاصل نہ ہو جائے۔
شاید آپ میری یہ باتیں سن کر سوچنے لگیں گے کہ اس لحاظ سے تو گویا ابھی ہم اپنی منزل کے قریب ہونا تو درکنار، اس کی راہ کے صرف ابتدائی مرحلوں میں ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اپنے آج تک کے کام کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ جمہوری طریقوں سے کام کرتے ہوئے آپ پچھلے ۲۴ سال میں تعلیم یافتہ طبقے کی بڑی اکثریت کو اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں اور یہ لوگ ہر شعبۂ زندگی میں موجود ہیں۔ نئی نسل، جو اب تعلیم پا کر اٹھ رہی ہے اور جسے آگے چل کر ہر شعبۂ زندگی کو چلانا ہے، وہ بھی جاہلیت کے علمبرداروں کی ساری کوششوں کے باوجود زیادہ تر آپ کی ہم خیال ہے۔ اب آپ کے سامنے ایک کام تو یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے میں اپنے ہم خیالوں کی تعداد اسی طرح بڑھاتے چلے جائیں اور دوسرا کام یہ ہے کہ عوام کے اندر بھی نفوذ کر کے ان کو اسلامی نظام بر پا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تیار کرنے کی کوششیں کریں۔ پہلے کام کے لئے لٹریچر کا پھیلانا آج تک جتنا مفید ثابت ہوا ہے اس سے بدر جہا زیادہ آئندہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، اگر آپ اپنے ہم خیال اہل علم کے حلقے منظم کر کے مختلف علوم کے ماہرین سے مسائل حیات پر تازہ ترین اور محققانہ لٹریچر تیار کرانے کا انتظام کریں اور دوسرے کام کے لئے تبلیغ و تلقین کے دائرے وسیع کرنے کے ساتھ اصلاح خلق اور خدمت خلق کی ہر ممکن کوشش کریں۔ آپ صبر کے ساتھ لگا تار اس راہ میں جتنی محنت کرتے چلے جائیں گے اتنی ہی آپ کی منزل قریب آتی چلی جائے گی۔
رہا یہ سوال کہ جب تمام جمہوری اداروں کی مٹی پلید کر دی گئی ہے، شہری آزادیاں سلب کر لی گئی ہیں اور بنیادی حقوق کچل کر رکھ دیئے گئے ہیں، تو جمہوری طریقوں سے کام کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کا کام کرنے کے لئے کھلی ہموار شاہراہ تو کبھی نہیں ملی ہے۔ یہ کام تو جب بھی ہوا جبر و ظلم کے مقابلے میں ہر طرح کی کڑیاں جھیل کر ہی ہوا۔ اور وہ لوگ بھی یہ کام نہ کر سکے جو یہ سوچتے رہے کہ جاہلیت کے علمبرداروں کی اجازت، یا ان کی عطا کردہ سہولت ملے تو وہ راہِ خدا میں پیش قدمی کریں۔ آپ جن برگزیدہ ہستیوں کے نقش پا کی پیروی کر رہے ہیں، انہوں نے ایسے ماحول میں یہ کام کیا تھا جہاں جنگل کا قانون نافذ تھا، اور کسی شہری آزادی یا بنیادی حق کا تصور تک موجود نہ تھا۔ اس وقت ایک طرف دل موہ لینے والے پاکیزہ اخلاق، دماغوں کو مسخر کر لینے والے معقول دلائل اور انسانی فطرت کو اپیل کرنے والے اصول اپنا کام کر رہے تھے، اور دوسری طرف جاہلیت کے پاس ان کے جواب میں پتھر تھے، گالیاں تھیں، جھوٹے بہتان تھے اور کلمہ حق کہتے ہی انسانوں کی شکل میں درندے خدا کے بندوں پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ یہی چیز در حقیقت اسلام کی فتح اور جاہلیت کی شکست کا ذریعہ بنی۔ جب ایک معقول اور دل لگتی بات کو عمدہ اخلاق کے لوگ لے کر کھڑے ہوں اور سخت سے سخت ظلم و ستم سہنے کے باوجود اپنی بات ہر حالت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے چلے جائیں، تو لازمی طور پر اس کے تین نتائج رونما ہوتے ہیں۔ ایک نتیجہ یہ کہ اس صورت حال میں بہت سے باہمت اور اولوالعزم لوگ ہی اس دعوت کو علانیہ قبول کرتے ہیں، اور وہ اس کے لئے اپنا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتے ہیں جو کسی دوسری صورت میں بہم نہیں پہنچ سکتا۔ دوسرا نتیجہ یہ کہ ظالموں کی پیدا کردہ اس خوفناک فضا میں کثرت ، بلکہ بے اندازہ لوگ اس دعوت کو دل میں مان لیتے ہیں مگر آگے بڑھ کر اس میں شامل نہیں ہوتے۔ مخالف طاقت آخر کار اس کا خود نقصان اٹھاتی ہے۔ اسے قطعی اور حتمی شکست ہوئے تک کبھی یہ پتہ ہی نہیں چلنے پاتا کہ جس دعوت کو مٹادینے کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اس کے حامی کہاں کہاں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اس کی اپنی صفوں تک میں موجود ہوتے ہیں اور وہ ان سے بے خبر رہتی ہے۔ تیسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی برتری اور دعوت کی معقولیت و صداقت اپنی فطری طاقت سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کے دشمن اس کے پیروؤں پر جتنا زیادہ ظلم کرتے ہیں اتنے ہی وہ ہر شریف النفس اور نیک طبع انسان کی نظر سے گرتے جاتے ہیں۔ اس کے پیرو جتنی ہمت اور ثابت قدمی کے ساتھ ظلم برداشت کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنی حق پرستی سے بال برابر بھی نہیں ہٹتے، اتنی ہی ان کی قدرومنزلت عام دیکھنے والوں ہی میں نہیں، بلکہ خود دشمنوں کی صفوں میں بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اور پھر جب فیصلہ کن مقابلوں کا وقت آتا ہے تو قدم قدم پر ان لوگوں کی ہمدردیاں طرح طرح سے کام آتی ہیں جو دشمنوں کے جبر کی وجہ سے خاموش بیٹھے ہوئے تھے مگر دل سے اس دعوت کے حامی تھے، یہاں تک کہ آخر کار چند مٹھی بھر ہٹ دھرم دشمن ہی میدان میں رہ جاتے ہیں جن کا ساتھ دینے والا تو درکنار ان کے پیچھے رونے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ ظلم و جور کا ماحول جہاں بھی ہو اس کے مقابلے میں حق پرستی کا علم بلند کرنے اور بلند رکھنے سے یہ تینوں نتائج لازماً رونما ہوں گے۔ اس لئے یہ تو حق کی کامیابی کا فطری راستہ ہے۔ آپ اسلامی نظام برپا کرنے کے لئے جمہوری اداروں کی مٹی پلید ہونے اور شہری آزادیاں سلب ہو جانے اور بنیادی حقوق کچل دیئے جانے کا رونا خواہ مخواہ روتے ہیں۔
(اس نشست میں صرف جماعت اسلامی کے ارکان شامل تھے۔ مرتب)