سلاجقہ
اشاعت: 1954ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تصنیف "سلاجقہ" اسلامی تاریخ کے اس اہم دور کا جامع، تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں عباسی خلافت کے انحطاط کے بعد سلجوقی ترکوں نے ایک نئی سیاسی، فوجی اور تہذیبی طاقت کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا۔ کتاب کا بنیادی مقصد صرف واقعات کی روایت نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسبابِ ظہور، عروج و زوال کے عوامل، اور اسلامی دنیا پر ان کے اثرات کو سمجھنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ سلجوقیوں کا ظہور محض ایک قبائلی حرکت نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی جس نے عباسی خلافت کو روحِ عملیت بخشی، سنی مسلک کو مضبوط کیا، اور مسلمانوں کو داخلی انتشار اور خارجی دشمنوں (خاص طور پر فاطمیوں اور صلیبیوں) کے مقابلے میں تنظیم دی۔
کتاب کا آغاز ادارتی نوٹ سے ہوتا ہے جو اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل نہیں ہو سکی، کیونکہ مصنف کی مصروفیات—خصوصاً تفسیر تفہیم القرآن کی تدوین—نے حصہ دوم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ پھر دیباچہ میں مصنف نے سلاجقہ کے تاریخی خاکے کو عباسی خلافت کے انحطاط، غزنویوں کے عروج، اور آلِ بویہ و فاطمیوں کے مقابلے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ماخذوں کا جائزہ لیتے ہیں اور تاریخ بیہقی، زین الاخبار، اور زبدۃ النصر جیسے معاصر ذرائع کو سلجوقی تاریخ کی درست سمجھ کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
مقدماتی مباحث کے بعد کتاب چار ابواب میں تاریخِ سلاجقہ بیان کرتی ہے۔ ابتدائی حصہ عباسی خلافت کے زوال کے دوران ابھرنے والی متعدد مقامی سلطنتوں—طاہریہ، طولونیہ، صفاریہ، سامانیہ، آلِ بویہ، فاطمیوں اور غزنویوں—کا خاکہ پیش کرتا ہے تاکہ سلجوقیوں کے ظہور کا سیاسی پس منظر واضح ہو۔ باب اول (دورِ ظہور) میں آلِ سلجوق کی نسلی اصل، ان کی ہجرت اور بلادِ اسلام میں آمد، اور محمود و مسعود غزنوی کے ساتھ ان کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ باب دوم (دورِ تاسیس) طغرل بک کے دورِ حکومت، بغداد کی فتح، باسا سیری کے فتنے کے استیصال اور خلافتِ عباسیہ سے رشتہ داری کے قیام پر مشتمل ہے۔
باب سوم (دورِ عروج) الپ ارسلان کے عہد میں سلطنت کی وسعت—ارمینیہ، ماوراء النہر اور روم کے خلاف مہمات—کو بیان کرتا ہے، اور باب چہارم ملک شاہ کے دور میں سلجوقی اقتدار کے دمشق تک پھیلاؤ اور خلافت سے مزید مصاہرت کے سیاسی نتائج پر ختم ہوتا ہے، جہاں مصنف کی مصروفیات کے باعث کتاب کا دوسرا حصہ (سلجوقی زوال اور صلیبی جنگوں کا دور) مکمل نہ ہو سکا۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سلطان کی شہادت
۴۶۵ھ کی ابتدا میں سلطان نے ماوراء النہر کا قصد کیا جہاں کا فرماں روا اس وقت شمس الملک تکین بن طغتاج خاں تھا۔ اس سفر سے سلطان کا مقصد یہ تھا کہ تمام بلادِ ترکستان کو اپنے زیر نگین لے آئے۔ چنانچہ دو لاکھ کی عظیم الشان جمعیت کے ساتھ روانہ ہوا اور صفر کی ابتدا میں جیحوں پہنچ کر پل بندھوایا جسے عبور کرنے میں سلطانی فوج اور لاؤ لشکر نے تقریباً ایک مہینہ صرف کیا۔ ربیع الاول کی ابتدائی تاریخوں میں خود سلطان دریا کو عبور کر کے دوسری جانب پہنچا تو اس کے سامنے ایک قلعہ کے کوتوال یا محافظ کا مقدمہ پیش کیا گیا جو قریر نامی ایک قصبہ سے متصل واقع تھا۔ [حمد اللہ مستوفی نے اس قلعہ کا نام بوزم لکھا ہے اور ابن الراوندی برزم لکھتا ہے۔ لیکن ابوالفداء اور ابن خلکان نے صرف یہ لکھا ہے کہ یہ قلعہ قریر نامی ایک قصبہ سے متصل تھا۔]اس قلعہ دار کا نام یوسف خوارزمی تھا [ابن الراوندی نے برزمی لکھا ہے۔]اور اس نے قلعہ کے معاملات میں کسی قسم کا جرم کیا تھا ۔ ۶ ربیع الاوّل کو یوسف دو غلاموں کی حراست میں سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔ سلطان نے اس سے دریافت حال کرنے کی کوشش کی، مگر اس نے بد زبانی کے ساتھ جواب دیا۔ اس پر سلطان نے بگڑ کر حکم دیا کہ چار میخیں گاڑ کر ان کے چاروں ہاتھ پاؤں اس سے باندھ دیے جائیں اور اسے عذاب دے کر قتل کیا جائے۔ یوسف کی گستاخی اس سے اور بڑھی۔ اس نے سلطان کو خطاب کر کے کہا کہ ”اے مخنث! کیا مجھ جیسا شخص اس طرح مارا جائے گا؟“ یہ فقرہ سنتے ہی سلطان جوش غضب سے وارفتہ ہو گیا۔ اس نے غلاموں کو حکم دیا کہ اسے چھوڑ دو، اور خود تیر کمان اٹھا کر اس پر نشانہ لگایا مگر وار خالی گیا۔ حالانکہ سلطان ایسا قادر انداز تھا کہ اس کا نشانہ کبھی خطا نہ کرتا تھا۔ ادھر سے یوسف اپنی بغل سے چھری نکال کر سلطان کی طرف جھپٹا۔ سلطان نے چاہا کہ تخت سے اتر کر اس کی طرف بڑھے مگر اتفاق سے اس کا دامن پاؤں تلے آگیا اور وہ اوندھے منہ نیچے گرا۔ اتنے میں یوسف سر پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے سلطان کی کمر میں چھری بھونک دی اور پھر پلٹ کر سعد الدولہ گوہر آئین کو جو سلطان کے پیچھے کھڑا تھا، زخمی کیا۔ اس اچانک حملے سے سارا دربار ہکا بکا رہ گیا۔ یوسف چاہتا تھا کہ اس ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر مارتا ہوا نکل جائے، مگر ایک ارمنی فراش [ابن الراوندی اور حمد الله مستوفی نے اس کا نام جامع نیسابوری لکھا ہے اور اس کا بیان ہے کہ وہ فراشوں کا افسر تھا۔ ابن الراوندی کا بیان ہے کہ ایک مدت بعد ملک شاہ کے زمانے میں اس فراش کے بیٹے کو خلیفہ کے خاص غلاموں میں سے ایک غلام نے قتل کر دیا اور حرم میں پناہ لی جہاں کوئی اس کو گرفتار نہ کر سکتا تھا۔ یہ صورت دیکھ کر فراش ملک شاہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ ”آپ میرے بیٹے کے قاتل کے ساتھ وہی کیجیے جو میں نے آپ کے والد کے قاتل کے ساتھ کیا تھا۔“ ملک شاہ اس کے اس طرز فریاد سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنے حاجب کو حکم دیا کہ قاتل جہاں ملے اسے گرفتار کیا جائے۔ خلیفہ مقتدی نے دس ہزار دینار تک خون بہا دینے کو کہا، مگر قاتل کو گرفتار کیا گیا اور قصاص لیا گیا۔ (ص ۸۲۲)]نے بڑھ کر اس کے سر پر ایسی چوب ماری کہ چکرا کر نیچے گرا اور اس کے بعد تر کی سپاہی اس پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
زخمی سلطان اسی وقت ایک دوسرے خیمے میں پہنچایا گیا اور علاج شروع کیا گیا۔ زخم کاری تھا۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ آخر ۱۰ ربیع الاول کو اس نے ۴۰ سال چند ماہ کی عمر میں انتقال کیا [اس کی یہ عمر ابن خلکان، ابن اثیر، عماد کا تب اور ابوالفداء نے بیان کی ہے۔ مگر ابن الراوندی، میر خوند اور حمد اللہ مستوفی ۴۳ سال بتاتے ہیں۔]اور مرو لا کر دفن کیا گیا۔ آخری وقت میں اس نے نظام الملک کو بلا کر وصیت کی کہ تم کاروبار مملکت کو بدستور سنبھالے رہنا اور میری جگہ میرے بیٹے ملک شاہ کو تخت پر بٹھانا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے بیٹے ایاز کو بلخ کی ریاست دی جو طغرل کے زمانے میں اس کے باپ داؤد کے پاس تھی، مگر بلخ کا قلعہ ملک شاہ کے سپرد کیا تاکہ ایاز بغاوت نہ کر سکے۔ اس نے ایاز کے لیے ۳۵ لاکھ دینار مقرر کیے اور اسے بتاکید کہا کہ ہمیشہ اپنے بھائی ملک شاہ کی مدد کرتے رہنا۔ اپنے بھائی قاورت کو اس نے فارس و کرمان کی حکومت پر برقرار رکھا اور وصیت کی کہ وہ اس کی بیوی سے نکاح کر لے۔ [ابن اثیر، ج ۱۰، ص ۳۱۔ زبدة النصره، ص ۴۷]
کہا جاتا ہے کہ حالت مرض میں سلطان نے کہا کہ تمام عمر میں نے اپنے دل میں غرور و خود پسندی کو جگہ نہ دی تھی۔ مگر کل جب میں نے ٹیلے پر سے اپنی عظیم الشان فوج پر نگاہ ڈالی تو دل میں خیال آیا کہ آج روئے زمین پر کوئی طاقت میرا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر جب یوسف میرے سامنے لایا گیا تو میں نے خدا کے بجائے اپنی قوت بازو پر بھروسا کیا اور اسے حقیر جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے ایک ادنیٰ قیدی کے ہاتھوں مجھے موت کے منہ میں پہنچا دیا۔ [الپ ارسلان کی وفات کے حالات کے لیے دیکھو: ابن اثیر، ج ۱۰، ص ۳۰۔ زبده، ص ۴۵۔ ۴۷۔ ابو الفداء، ج ۲، ص ۱۸۹۔ راحتہ الصدور، ص ۱۲۰۔ ۱۲۱۔ تاریخ گزیدہ، ص ۴۳۱۔ ۴۳۲۔ روضتہ الصفا، ج ۴، ص ۱۰۰۔ ابن خلکان، ترجمہ الپ ارسلان]