مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سلاجقہ

اشاعت: 1954ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تصنیف "سلاجقہ" اسلامی تاریخ کے اس اہم دور کا جامع، تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں عباسی خلافت کے انحطاط کے بعد سلجوقی ترکوں نے ایک نئی سیاسی، فوجی اور تہذیبی طاقت کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا۔ کتاب کا بنیادی مقصد صرف واقعات کی روایت نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسبابِ ظہور، عروج و زوال کے عوامل، اور اسلامی دنیا پر ان کے اثرات کو سمجھنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ سلجوقیوں کا ظہور محض ایک قبائلی حرکت نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی جس نے عباسی خلافت کو روحِ عملیت بخشی، سنی مسلک کو مضبوط کیا، اور مسلمانوں کو داخلی انتشار اور خارجی دشمنوں (خاص طور پر فاطمیوں اور صلیبیوں) کے مقابلے میں تنظیم دی۔

کتاب کا آغاز ادارتی نوٹ سے ہوتا ہے جو اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل نہیں ہو سکی، کیونکہ مصنف کی مصروفیات—خصوصاً تفسیر تفہیم القرآن کی تدوین—نے حصہ دوم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ پھر دیباچہ میں مصنف نے سلاجقہ کے تاریخی خاکے کو عباسی خلافت کے انحطاط، غزنویوں کے عروج، اور آلِ بویہ و فاطمیوں کے مقابلے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ماخذوں کا جائزہ لیتے ہیں اور تاریخ بیہقی، زین الاخبار، اور زبدۃ النصر جیسے معاصر ذرائع کو سلجوقی تاریخ کی درست سمجھ کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

مقدماتی مباحث کے بعد کتاب چار ابواب میں تاریخِ سلاجقہ بیان کرتی ہے۔ ابتدائی حصہ عباسی خلافت کے زوال کے دوران ابھرنے والی متعدد مقامی سلطنتوں—طاہریہ، طولونیہ، صفاریہ، سامانیہ، آلِ بویہ، فاطمیوں اور غزنویوں—کا خاکہ پیش کرتا ہے تاکہ سلجوقیوں کے ظہور کا سیاسی پس منظر واضح ہو۔ باب اول (دورِ ظہور) میں آلِ سلجوق کی نسلی اصل، ان کی ہجرت اور بلادِ اسلام میں آمد، اور محمود و مسعود غزنوی کے ساتھ ان کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ باب دوم (دورِ تاسیس) طغرل بک کے دورِ حکومت، بغداد کی فتح، باسا سیری کے فتنے کے استیصال اور خلافتِ عباسیہ سے رشتہ داری کے قیام پر مشتمل ہے۔

باب سوم (دورِ عروج) الپ ارسلان کے عہد میں سلطنت کی وسعت—ارمینیہ، ماوراء النہر اور روم کے خلاف مہمات—کو بیان کرتا ہے، اور باب چہارم ملک شاہ کے دور میں سلجوقی اقتدار کے دمشق تک پھیلاؤ اور خلافت سے مزید مصاہرت کے سیاسی نتائج پر ختم ہوتا ہے، جہاں مصنف کی مصروفیات کے باعث کتاب کا دوسرا حصہ (سلجوقی زوال اور صلیبی جنگوں کا دور) مکمل نہ ہو سکا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تاریخ سلاجقہ کے ماخذ

اس کتاب کی تالیف میں جن کتابوں سے مدد لی گئی ہے، ان سب کی فہرست درج کرنا غیر ضروری ہے، کیونکہ دورانِ تحریر میں حسب موقع ان کے حوالے دے دیے گئے ہیں۔ البتہ یہ بیان کرنے کی یقیناً ضرورت ہے کہ ہمارے پاس سلجوقیوں کی تاریخ معلوم کرنے کے اصلی ذرائع کون سے ہیں اور وہ کس حد تک قابلِ وثوق ہیں۔ اس نظر سے ذیل میں ماخذ اصلیہ پر ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے:

(۱) تاریخ بیہقی

یہ ابوالفضل بیہقی کی تصنیف ہے۔ سلجوقیوں کے دورِ ظہور کے متصل جو معلومات ہمیں اس سے حاصل ہوتی ہیں، کسی اور ذریعہ سے نہیں ہوتیں۔ اس کا مصنف خود اس عہد میں موجود تھا۔ اس کے اپنے بیان کے مطابق ۴۰۲ھ میں اس کی عمر ۱۶ سال کی تھی۔ [تاریخ بیہقی طبع کلکتہ ص ۴۶۴]اس لحاظ سے سلجوقیوں کے ظہور کا پورا زمانہ اس کی نگاہوں کے سامنے گزرا ہے۔ پھر وہ اس عہد کی سیاست سے براہ راست تعلق رکھتا تھا۔ سلطان مسعود غزنوی کے دربار میں اس کا استاد ابونصر صاحب دیوانِ رسالت [دیوان رسالت کا عہدہ اس زمانہ میں نہایت اہم تھا۔ بادشاہ سے اس کے عمال اور اہل مناصب اور شاہانِ ممالک غیر کی تمام مراسلت اسی کے واسطے سے ہوتی تھی۔ اس لحاظ سے یہ منصب موجودہ زمانہ کے چیف سیکرٹری اور ناظر خارجیہ دونوں کا جامع تھا۔]تھا، اور وہ ابونصر کے ماتحت ۹ سال تک مددگار کے طور پر کام کرتا رہا۔۴۳۱ھ میں ابو نصر کے انتقال کے بعد جب ابوسہل زوزنی صاحب دیوان رسالت ہوا تو مصنف کو اس کی نیابت کا عہدہ دیا گیا۔ [بیہقی ص ۵۳۷ - ۵۴۷]سلاجقہ اور مسعود غزنوی کے درمیان جو لڑائیاں ہوئیں، مصنف ان کا عینی شاہد ہے اور اپنے سرکاری عہدے کے لحاظ سے اس کو ان تمام جنگی، سیاسی اور سفارتی معاملات کو بلاواسطہ دیکھنے کا موقع ملا ہے جو اس زمانہ میں سلجوقیوں اور غزنویوں کے درمیان ہوئے۔ علاوہ بریں چونکہ وہ وزیر اعظم اور صاحب دیوان رسالت دونوں کا رازدار و معتمد علیہ تھا اس وجہ سے وہ ان تمام راز کے مشوروں میں شریک رہتا تھا جن کی خبر اس کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ غزنویوں کا متوسل ہونے کے باوجود نہایت صفائی کے ساتھ ان کی کمزوریوں کو بیان کرتا ہے اور ان تمام اسباب کو تفصیل کے ساتھ ظاہر کرتا ہے جن سے غزنویوں کو زوال اور سلجوقیوں کو عروج ہوا۔ اگر اس تاریخ کے تمام اجزاء محفوظ ہوتے تو ہمیں محمود غزنوی کے ساتھ سلجوقیوں کے ابتدائی معاملہ کے متعلق بھی بہت کچھ معلومات حاصل ہوتیں اور شاید وہ اختلاف بآسانی رفع ہوجاتا جو اس کے متعلق موجودہ تاریخوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ اس کا صرف وہی حصہ دستیاب ہوا ہے جو مسعود کے حالات پر مشتمل ہے۔

(۲) زین الاخبار

یہ ابوسعید عبدالملکی بن ضحاک بن محمود گردیزی کی تصنیف ہے اور سلجوقیوں کے ابتدائی عہد کے متعلق معاصرانہ شہادت بہم پہنچانے میں بیہقی کے بعد دوسرے درجہ پر ہے۔ مصنف خود سلطان محمود اور مسعود کے زمانہ میں موجود تھا، سلطان عبد الرشید غزنوی (۴۴۰ھ - ۴۴۴ھ) کے دربار کا متوسل تھا اور اسی کے زمانہ میں اس نے یہ کتاب لکھی تھی۔ بیہقی پر اس کو یہ ترجیح حاصل ہے کہ وہ صرف مسعود غزنوی کے زمانہ کے حالات بیان کرتا ہے اور یہ مسعود سے بھی پہلے محمود کے زمانہ میں سلجوقیوں کے ظہور کی کیفیت کا ناقل ہے جس کے متعلق کوئی اور معاصر شہادت اس وقت معلوم دنیا میں موجود نہیں ہے۔ یہ کتاب اسی سال بسلسلۂ یادگار مسٹر براؤن شائع ہوئی۔

(٣)زبدۃ النصر

یہ کتاب دراصل شرف الدین انوشروان بن خالد کی تصنیف ہے، جو سلطان محمد بن ملک شاہ ۴۹۸ھ/۱۱۰۴ء-۵۱۱ھ/۱۱۱۷ء کے زمانہ میں وزیر خزانہ اور نائب وزیر کے عہدوں پر سرفراز تھا، اور سلطان محمود بن محمد (۵۱۱ھ/۱۱۱۷ء-۵۲۵ھ/۱۱۳۱ء) کے زمانہ میں وزیر اعظم ہو گیا تھا۔[زبده، طبع لیڈن، ص ۹۷-۱۰۹-۱۳۹] اس نے فارسی زبان میں ”فتور زمان الصدور وصدور زمان الفتور“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں نظام الملک کے اواسط عہد سے لے کر طغرل بن محمد بن ملک شاہ (کے ۵۲۶ھ/۱۱۳۳ء) کے آخر عہد تک کے وزراء کے حالات بیان کیے گئے تھے۔ بعد میں عماد الدین کاتب اصفہانی (المتوفی ۵۹۷ھ) نے ”نصرة الفترة وعصرة الفطرة“ کے نام سے اس کو عربی میں منتقل کیا اور اس کو مکمل کرنے کے لیے ابتداء میں عمید الملک ابو نصر کُندری (وزیر طغرل بیگ) کے عہد سے نظام الملک کے اوسط عہد تک، اور آخر میں طغرل بن محمد کے زمانہ سے سلاجقۂ عراق کے آخر عہد تک کے وزراء کی تاریخ اور شامل کر دی۔ عماد کا تب خود بھی انوشروان کی طرح اس عہد کی سیاست سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ اس کا چچا عز الدین مُستَوفی سلطان محمود بن محمد بن ملک شاہ (۵۱۱ھ-۵۲۵ھ) کے زمانہ میں وزارت اور دیوان استیفا کی نیابت پر سرفراز تھا اور ایک وقت میں اس کو وزارت کا عہدہ بھی پیش کیا گیا تھا۔ [زبدہ، طبع لیڈن، ص ۱۲۹ ۔ ۱۳۶ ۔ ۱۳۱]اس کا باپ محمد، سلطان محمود کے وزیر الدرگزینی کا دوست تھا اور آخر میں درباری سازشوں کا شکار ہوا۔ [زبدہ، طبع لیڈن، ص ۱۳۱۔ ۱۵۳]خود عماد الدین خلیفہ مقتضی لامر الله کے زمانہ میں ابن ہبیرہ وزیر کا نائب تھا [زبدہ، ص ۲۹۰](۵۵۴ھ) ۔ عماد کا تب کے بعد ابوالفتح بنداری (المتوفی ۶۲۳ھ) نے ”زبدۃ النصرہ ونخبۃ العصرہ“ کے نام سے ایک کتاب کی تلخیص کی مگر اس التزام کے ساتھ کہ مطلب کی بات ایک نہ چھوٹنے پائے۔ یہی کتاب ہے جس کو مستشرق ہوتسما نے ایڈٹ کر کے لیڈن سے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں ہم کو سلاجقۂ عظام اور سلاجقۂ عراق کے متعلق نہایت بیش قیمت معلومات ملتی ہیں۔ چونکہ یہ دو ایسے مصنفوں کی محنت کا نتیجہ ہے جو سلجوقی سیاست کے محرم راز تھے اس لیے اس سے بہت سے ایسے اسرار کا پتہ چلتا ہے جو دوسرے مصنفوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں۔

(٤)را‌حتہ الصدور

یہ ابوبکر نجم الدین محمد بن الراوندی کی تصنیف ہے۔ ۵۹۹ھ/۱۲۰۲ء میں لکھی گئی۔ مصنف راوند کے ایک علمی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا ماموں تاج الدین احمد بن محمد بن علی الراوندی جو اس کا استاد اور سر پرست تھا، ہمدان میں جمال الدین اٰی آبہ کے مدرسہ کا مدرس تھا۔ مصنف ۵۷۰ھ سے ۵۸۰ھ تک تقریباً دس سال اس کی تربیت میں رہا۔ اسی کے ساتھ اس نے عراق کے بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کی۔ اس کا ایک اور ماموں زین الدین محمد بن محمد بن علی الراوندی عراق کے آخری سلجوقی فرمانروا طغرل بن ارسلان کا استاد تھا۔ اس شخص کی معرفت پہلی مرتبہ مصنف بحیثیت ایک نقاش کے سلطان طغرل تک پہنچا۔ [راحتہ الصدور ص ۴۴ ]رفتہ رفتہ اسے سلطان کے ہاں بہت تقرب حاصل ہو گیا اور خود اپنے بیان کے مطابق سلطان کے مزاج میں اس نے کافی دخل پیدا کر لیا۔ [مصنف نے ایک خاص واقعہ بیان کیا ہے جس سے اس کے تقرب کا اندازہ ہوتا ہے۔ ص ۴۴۔۴۳ ]۵۸۵ھ / ۱۱۸۹ء میں سلطان طغرل نے زین الدین کو شاہ مازندران کے پاس ایلچی بنا کر بھیجا اور مصنف بھی اس کے ساتھ گیا۔ [راحتہ الصدور ص ۳۵۷]۵۸۶ھ / ۱۱۹۰ء میں جب اتابک قزل ارسلان نے سلطان طغرل کو قید کیا تو اس وقت مصنف دار السلطنت میں موجود تھا۔ [راحتہ الصدور ص ۳۶۲]اپنے مربی کی گرفتاری کے بعد وہ ہمدان کے امیر سید فخر الدین علاء الدولہ عرب شاہ کے لڑکوں کا اتالیق ہو گیا۔ ۵۹۰ھ / ۱۱۹۴ء میں جب خوارزم شاہ کے مقابلہ میں طغرل مارا گیا اور ملک میں عام ابتری پھیلی تو مصنف گوشہ نشین ہو گیا۔ اس زمانہ کی حالت کو وہ نہایت دردناک لہجہ میں بیان کرتا ہے۔ [راحتہ الصدور ص ۳۸۰۔۳۸۱]اسی گوشہ نشینی کے زمانہ میں اس نے یہ کتاب لکھی اور اس عقیدت کی بنا پر جو اسے سلجوقی خاندان سے تھی اسے قونیہ کے سلجوقی فرمانروا غیاث الدین کیخسرو کے نام مَعْنُون کیا۔ اس کتاب میں اس نے سلجوقیوں کی ابتداء سے ۵۹۵ھ تک کے حالات لکھے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی حالات کے متعلق اس کا بیان چنداں معتبر نہیں ہے۔ اس نے زیادہ تر ظہیر الدین نیشاپوری کی کتاب سلجوق نامہ پر اعتماد کیا ہے۔ [راحتہ الصدور ص ۶۴-۶۵۔ ظہیر الدین مصنف کا رشتہ دار اور سلطان ارسلان کا استاد تھا۔]اور نہ صرف یہ کہ بہت مختصر لکھا ہے بلکہ جگہ جگہ غلطیاں بھی کی ہیں۔ مگر خود اپنے عہد کے جو حالات اس نے لکھے ہیں وہ نہایت معتبر اور مفید تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

(۵) تاریخ الکامل

مشہور مؤرخ ابن اثیر (المتوفی ۶۳۰ھ) کی تصنیف ہے اور اپنی وسعت اطلاع، محققانہ شان اور حسن ترتیب کے اعتبار سے تاریخ اسلام کے خاص مستند مآخذ میں شمار کی جاتی ہے۔ اگر چہ اس کا مصنف سلجوقیوں کا ہمعصر نہ تھا، مگر بہت قریب العہد تھا اور اس کے پاس حصول معلومات کے بہترین ذرائع تھے۔ اس نے زیادہ تر ہم عصر تاریخوں سے استفادہ کیا ہے اور اس کے ذریعہ سے ہم کو سلاجقۂ عظام اور سلاجقۂ عراق و شام کے متعلق نہایت مفید تفصیلات حاصل ہوتی ہیں۔ میرے پیش نظر اس کے مصری اور یورپین دونوں نسخے ہیں۔ جہاں یورپین نسخے کا حوالہ دیا گیا ہے وہاں ’’طبع یورپ‘‘ کی تصریح کر دی گئی ہے، اور جہاں مصری نسخے کا حوالہ دیا گیا ہے وہاں تصریح نہیں کی ہے۔

(۶) وفیات الاعیان

علامہ ابن خلکان (المتوفی ۶۸۱ ھ) کی مشہور تصنیف ہے۔ اس سے ہم کو عہد سلاجقہ کے اعیان و اکابر کی سیرتوں کے متعلق بیش قیمت معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ وہ اس پایہ کا محقق ہے کہ مؤرخین اسلام کی اولین صف میں اس کو جگہ دی گئی ہے، اس لیے اس کے بیانات ایسے عہد کے متعلق جو اس کے عہد سے قریب تر ہے، بہت قابل وثوق سمجھے جاتے ہیں۔

(۷) المختصر فی اخبار البشر

مشہور مؤرخ ابوالفدا (المتوفی ۷۳۲ھ) کی تصنیف ہے جسے اسلامی تاریخ کی مستند کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا خاندان سلجوقیوں کا متوسل رہ چکا تھا اور ان کے متعلق معاصر مورخین کے بیانات اس کی دسترس میں تھے۔ سیاسی معلومات کے علاوہ وہ علمی و اجتماعی معاملات کے متعلق بھی مفید معلومات دیتا ہے۔

(٨) تاریخ گزیدہ

حمد اللہ بن ابی بکر مستوفی قزوینی اس کا مصنف ہے۔ ۷۳۰ھ میں لکھی گئی۔ نہ زیادہ معتبر ہے نہ مفصل۔ تاہم اختصار کے ساتھ اس نے سلاجقہ کے تمام خاندانوں کا ذکر کیا ہے۔ جہاں اس کے بیانات قدیم ماخذ کے خلاف واقع نہیں ہوتے، وہاں ہم اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

(٩)روضتہ الصفا

میر خواند محمد ابن خاوند شاہ محمد (المتوفی ۹۰۳ھ) کی مشہور تصنیف ہے اور مشرق و مغرب میں خاص مقبولیت رکھتی ہے۔ اگرچہ تاریخ عرب کے متعلق اس کے بیانات اکثر ناقابل اعتبار ہیں۔ مگر عجم کی تاریخ میں اس نے زیادہ صحیح اور مستند مواد بہم پہنچایا ہے۔ اپنے ماخذ میں وہ تاریخ بیہقی، طبقات ناصری، زبدۃ التواریخ، تاریخ جہاں کشائی، تاریخ گزیدہ اور جامع التواریخ کے نام خصوصیت کے ساتھ لیتا ہے۔ سلاجقہ کے متعلق اکثر معاملات میں اس نے ایسی تفصیلات دی ہیں، جو کسی دوسری جگہ نہیں ملتیں۔ مگر بعض مواقع پر اس کے بیانات قدیم تر مورخین کے بیانات سے مختلف پائے جاتے ہیں۔ ایسے اختلافی مقامات کو چھوڑ کر میں نے عموماً اس پر اعتماد کیا ہے۔

(١٠) ‌حبیب السیر

میر خواند کا بیٹا غیاث الدین المدعو بخواند میر اس کا مصنف ہے۔ ۹۲۷ھ میں مصنف نے اسے دکن میں لکھا اور ایران کے شاہ اسماعیل صفوی کے نام معنون کیا۔ اس میں زیادہ تر روضۃ الصفا کی تلخیص ہے۔ تاہم بعض باتیں زائد بھی مل جاتی ہیں، اس لیے روضۃ الصفا کے باوجود اس کو دیکھ لینا مفید ہے۔

(١١) مختصر سلجوق بامہ

یہ کتاب دراصل ناصر الدین یحیی بن مجد الدین محمد ابن بی بی کی کتاب ”<<الاوامر العلانیہ فی امور العلائیہ>>“ کی تلخیص ہے۔ ناصر الدین کا باپ محمد سلاجقۂ روم کے دربار میں ترجمان تھا اور بسا اوقات ممالک غیر میں ایلچی گری کی خدمات بھی انجام دیتا تھا۔ اس نے ۶۷۰ھ / ۱۲۷۲ء میں انتقال کیا۔ اس کی ماں جس کی نسبت سے وہ ابن بی بی کہلاتا ہے، ستارہ شناسی میں ماہر تھی اور سلطان کیقباد اوّل (۶۱۶ھ / ۱۲۲۰ء ۔ ۶۳۴ھ / ۱۲۳۷ء) اس کا بہت معتقد تھا۔ ناصر الدین کی یہ کتاب خاص سلاجقۂ روم کے حالات میں ہے اور اس حیثیت سے بہت معتبر ہے کہ وہ خود ان سلاطین کا ہم عصر ہے۔ اصل کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔ ۱۹۰۲ء میں ہوتسما نے اس کی تلخیص کو جو کسی گمنام شخص کے قلم سے نکلی ہے، اپنے سلسلۂ تاریخ سلاجقہ میں شائع کیا ہے، اور وہی میرے پیشِ نظر ہے۔

(١٢)تاریخ سلاجقہ کرمان

یہ محمد ابن ابراہیم کی تصنیف ہے۔ مستشرق ہوتسما نے اس کو تواریخ آل سلجوق کے سلسلے میں لیدن سے شائع کیا ہے۔

(١٣)طبقات ناصری

منہاج الدین ابوعمرو عثمان بن سراج الدین محمد الجوزجانی کی تصنیف ہے۔ وہ سلاجقۂ عراق سے قریب العہد اور سلاجقۂ روم کا ہم عصر تھا۔ ۵۸۹ھ / ۱۱۹۳ء میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ سلطان بہاء الدین سام فرمانروائے بامیان و طخارستان کا قاضی تھا۔ ابھی اس کا عنفوان شباب تھا کہ اسلامی ممالک پر تاتاری سیلاب پھوٹ پڑا اور وہ خراسان، قہستان اور افغانستان میں مارا مارا پھرتا رہا۔ آخر ۵۶۲۵ میں شمس الدین التمش کے پاس دہلی پہنچا اور گوالیار کا قاضی، خطیب اور امام مقرر ہوا۔ آخر میں ترقی کرتے کرتے دہلی کا قاضی القضاۃ ہو گیا تھا۔ غیاث الدین بلبن کے عہد میں انتقال کیا۔ آدمی عالم اور ثقہ تھا مگر مؤرخ کی حیثیت سے اس کا درجہ کچھ زیادہ بلند نہیں ہے۔ سلاجقہ کے ابتدائی عہد کے بیان میں اس نے عام مورخین کا اتباع کیا ہے اور جو عہد اس سے قریب تر تھا اس کے متعلق چونکہ دوسروں کے بیانات موجود نہ تھے، اس لیے اس نے بلا تحقیق محض سنی سنائی باتیں لکھ دی ہیں جن میں بعض فاش غلطیاں بھی ہیں۔ حد یہ ہے کہ وہ سلاجقہ عراق اور سلاجقہ روم تک میں تمیز نہیں کر سکا ہے۔ بایں ہمہ اس کی تاریخ سے بعض مفید باتیں معلوم ہوتی ہیں، اور اسی لیے میں نے اس کو اپنے ماخذ میں شامل کیا ہے۔ میرے پیش نظر اس کی طبقات کا انگریزی ترجمہ ہے جو میجر راورٹی (Raverty) کے قلم سے نکلا ہے اور ۱۸۸۱ء میں لندن سے شائع ہوا ہے۔

سلجوقیوں کا وطن اصلی اور وہ ممالک جو ان کے دورِ ظہور سے متعلق ہیں

“نقشہ”