مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

سلاجقہ

اشاعت: 1954ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تصنیف "سلاجقہ" اسلامی تاریخ کے اس اہم دور کا جامع، تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں عباسی خلافت کے انحطاط کے بعد سلجوقی ترکوں نے ایک نئی سیاسی، فوجی اور تہذیبی طاقت کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا۔ کتاب کا بنیادی مقصد صرف واقعات کی روایت نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسبابِ ظہور، عروج و زوال کے عوامل، اور اسلامی دنیا پر ان کے اثرات کو سمجھنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ سلجوقیوں کا ظہور محض ایک قبائلی حرکت نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی جس نے عباسی خلافت کو روحِ عملیت بخشی، سنی مسلک کو مضبوط کیا، اور مسلمانوں کو داخلی انتشار اور خارجی دشمنوں (خاص طور پر فاطمیوں اور صلیبیوں) کے مقابلے میں تنظیم دی۔

کتاب کا آغاز ادارتی نوٹ سے ہوتا ہے جو اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل نہیں ہو سکی، کیونکہ مصنف کی مصروفیات—خصوصاً تفسیر تفہیم القرآن کی تدوین—نے حصہ دوم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ پھر دیباچہ میں مصنف نے سلاجقہ کے تاریخی خاکے کو عباسی خلافت کے انحطاط، غزنویوں کے عروج، اور آلِ بویہ و فاطمیوں کے مقابلے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ماخذوں کا جائزہ لیتے ہیں اور تاریخ بیہقی، زین الاخبار، اور زبدۃ النصر جیسے معاصر ذرائع کو سلجوقی تاریخ کی درست سمجھ کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

مقدماتی مباحث کے بعد کتاب چار ابواب میں تاریخِ سلاجقہ بیان کرتی ہے۔ ابتدائی حصہ عباسی خلافت کے زوال کے دوران ابھرنے والی متعدد مقامی سلطنتوں—طاہریہ، طولونیہ، صفاریہ، سامانیہ، آلِ بویہ، فاطمیوں اور غزنویوں—کا خاکہ پیش کرتا ہے تاکہ سلجوقیوں کے ظہور کا سیاسی پس منظر واضح ہو۔ باب اول (دورِ ظہور) میں آلِ سلجوق کی نسلی اصل، ان کی ہجرت اور بلادِ اسلام میں آمد، اور محمود و مسعود غزنوی کے ساتھ ان کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ باب دوم (دورِ تاسیس) طغرل بک کے دورِ حکومت، بغداد کی فتح، باسا سیری کے فتنے کے استیصال اور خلافتِ عباسیہ سے رشتہ داری کے قیام پر مشتمل ہے۔

باب سوم (دورِ عروج) الپ ارسلان کے عہد میں سلطنت کی وسعت—ارمینیہ، ماوراء النہر اور روم کے خلاف مہمات—کو بیان کرتا ہے، اور باب چہارم ملک شاہ کے دور میں سلجوقی اقتدار کے دمشق تک پھیلاؤ اور خلافت سے مزید مصاہرت کے سیاسی نتائج پر ختم ہوتا ہے، جہاں مصنف کی مصروفیات کے باعث کتاب کا دوسرا حصہ (سلجوقی زوال اور صلیبی جنگوں کا دور) مکمل نہ ہو سکا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قیصر روم سے جنگ

اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ سلطان طغرل بک اور سلطان الپ ارسلان نے کس طرح رومی سلطنت پر پیہم حملے کر کے اس سے بہت سے وہ علاقے چھین لیے تھے جن پر سلاجقہ کی آمد سے پہلے رومیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان پے در پے شکستوں نے رومیوں کی آنکھیں کھول دیں۔ ۱۰۶۸ء میں قیصرہ یوڈوسیا (Eudocia) نے ایک بہادر جنرل رومانس دیوجانس (Romanus Diogenes) سے شادی کر کے اسے تخت و تاج سپرد کر دیا اور اس نے عنانِ اقتدار ہاتھ میں لیتے ہی زبردست جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔ ۱۰۶۹ھ میں وہ الجزیرہ کی طرف بڑھا اور مَنبج (Hicrapolis) تک لوٹتا مارتا چلا گیا۔[ابن اثیر، ج ۱۰، ص ۳۴۔ ۳۶۔ تاریخ زوال و سقوط سلطنت روم۔ مصنفہ گبن ج ۶، ص ۲۵۴ (ورلڈ کلاسکس ایڈیشن)]دوسرے سال اس نے ارمینیہ کا رخ کیا۔ اس کے ساتھ مقدونیہ، بلغاریا، مالڈیویا اور خلفائے یورپ (Allies of Europe) کی فوجیں تھیں، فرنچ اور نارمن رسالے تھے۔ اور ان کے علاوہ روس، بجاناک، قپچاق، ابخاز اور ارمن قوموں کی بھی جمعیتیں تھیں۔ ابن اثیر اس کی فوج کی تعداد دو لاکھ بتاتا ہے۔ صاحب روضۃ الصفا تین لاکھ کہتے ہیں۔ گبن کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ کم از کم ایک لاکھ فوج تھی۔ اور ابن الراوندی چھ لاکھ سواروں کی تعداد بتاتا ہے۔ ان مختلف بیانات سے اس کی زبردست جنگی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس تیاری کے ساتھ وہ ارمینیہ میں اعمال خلاط کی طرف بڑھا اور ملاذگرد پر خیمہ زن ہوا۔ الپ ارسلان کو اس اچانک حملے کی خبر اس وقت ہوئی جب وہ حلب سے واپس ہو کر آذربیجان میں شہر خوی پر مقیم تھا۔ دشمن کے اس طرح عین سر پر پہنچ جانے کی خبر سن کر کوئی دوسرا ہوتا تو سراسیمہ ہو جاتا۔ مگر الپ ارسلان کا جوش شجاعت اس سے اور بھڑک اٹھا۔ اس نے خیال کیا کہ یہ توقف کا مقام نہیں ہے۔ اگر لشکر اور سامان جنگ کی فراہمی کا انتظار کیا گیا تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور دشمن کی کامیابی کے امکانات قوی تر ہو جائیں گے۔ لہذا اس نے اسی حالت میں جنگ پر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ نظام الملک کو شاہزادوں اور خواتین حرم سمیت تبریز ( اور بقول ابن اثیر ہمدان) روانہ کیا۔ امراء کو جمع کر کے وصیت کی کہ اگر میں زندہ رہوں تو خدا کی مہربانی ہے اور اگر مارا جاؤں تو میرا بیٹا ملک شاہ میرا جانشین ہو۔ اس کے بعد اپنی فوج کے پندرہ [الپ ارسلان کی فوج کے شمار میں اختلاف ہے۔ گبن چالیس ہزار بتاتا ہے اور دوسرے یورپین مصنفین ۳۰ ہزار، ۱۲ ہزار اور ۱۵ ہزار لکھتے ہیں۔ رومی مورخین اس بارے میں بالکل خاموش ہیں۔ اور اسلامی مورخین میں ابن اثیر اور عماد کا تب ۱۵ ہزار لکھتے ہیں۔ میر خوند دس ہزار اور حمد الله مستوفی اور ابن الراوندی ۱۲ ہزار۔ ان مختلف بیانات سے اس کی فوج کا ایک معتدل اندازہ کیا جا سکتا ہے۔]ہزار بہادروں کو لے کر دشمن کی طرف پوری سرعت کے ساتھ کوچ کر دیا۔ منگل کے دن ۴ ذیقعدہ ۴۶۳ھ ۱۰۷۱ء کو خلاط کے قریب رومیوں کا ہراول (جس میں بقول ابن اثیر ۱۰ ہزار اور بقول عماد کاتب ۲۰ ہزار سوار تھے) ایک رومی جنرل کے زیر قیادت آگے بڑھا اور اس نے ترکوں کی پیش قدمی کو روکنا چاہا۔ مگر الپ ارسلان کے ہراول نے ایک ہی حملے میں اس کی فوج کے پرخچے اڑا دیے اور خود اسے گرفتار کر کے سلطان کے سامنے پیش کر دیا۔ غضب ناک سلطان اس موقع پر جنگ کے مہذب اسلامی آئین کو بھول گیا اور اس نے مفتوح جنرل کی ناک کٹوا کر اسے اسیران جنگ اور اموال غنیمت سمیت نظام الملک کے پاس بطور بشارت بھیج دیا۔ اس دوران میں رومی فوجیں ملاذگرد کو فتح کر کے پامال کر چکی تھیں۔ سلطان کی پیش قدمی کا حال سنتے ہی قیصر نے ان سب منتشر فوجوں کو یکجا کر لیا اور ملاذ گرد اور خلاط کے درمیان مقام الزہرہ پر جماؤ کیا۔ جمعرات کے دن سلطان بھی اس مقام پر پہنچ گیا اور رومی لشکر سے دو فرسنگ کے فاصلے پر خیمہ زن ہوا۔ یہاں پہنچ کر اس نے سب سے پہلے قیصر کے پاس صلح کا پیغام بھیجا۔ مگر قیصر نے اس کا جو جواب دیا وہ گبن کے الفاظ میں یہ تھا:[ابن اثیر اور عماد کاتب نے صرف اتنا جواب نقل کیا ہے کہ ’’اب رے میں صلح کی بات ہوگی]

’’اگر وہ وحشی صلح کا خواہش مند ہے تو اپنے اس مقام کو جہاں اس وقت وہ مقیم ہے رومی فوج کے پڑاؤ کے لیے خالی کر دے اور اپنا شہر رے اور اپنا محل اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمارے حوالے کر دے۔‘‘

اس جواب کے بعد جنگ ناگزیر تھی۔ مگر سلطان کے امام صلوٰۃ اور فقیہ ابونصر محمد بن عبدالملک بخاری حنفی نے مشورہ دیا کہ ’’آج توقف کیجیے۔ کل جمعہ کے دن جس وقت تمام دنیا کے مسلمان نماز میں پڑھ کر آپ کی نصرت کے لیے دعا کر رہے ہوں، اس وقت حملہ کیجیے گا تاکہ بندگان خدا کی دعائیں مجاہدین کی تلواروں کے ساتھ ہوں۔‘‘ سلطان نے اس مشورہ کو قبول کر کے جمعہ کے لیے جنگ ملتوی کر دی۔ دوسرے روز اس نے تمام مسلمانوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی اور درگاہ الہی میں دعا کر کے خوب رویا اور اس کے ساتھ تمام فوج بھی روئی۔ پھر اس نے فوج کو خطاب کر کے کہا کہ ’’جو شہادت چاہتا ہے وہ ٹھہر جائے اور جو واپس جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے، کیونکہ اب یہاں کوئی سلطان اور کوئی بادشاہ نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے تیر کمان پھینک دی، تلوار اٹھائی، اپنے ہاتھ سے گھوڑے کی دم باندھی، سفید کپڑے پہنے اور حنوط مل کر کہا کہ ’’اگر میں شہید ہوا تو یہی میرا کفن ہے۔” ان باتوں نے تمام سپاہیوں کے دل جوش شہادت و شوق شہادت سے گرما دیے۔ اور جنت کے لیے بے تاب فوج تلملا کر رومی فوج پر ٹوٹ پڑی۔ فوجوں کی بھیڑ کے وقت سلطان کو پھر خدا یاد آیا جس کے بھروسے پر وہ اپنے سے دس گنی طاقت کے مقابل آیا تھا۔ اس نے گھوڑے سے اتر کر پھر فرش خاک پر سجدہ کیا اور اللہ سے تائید و نصرت کی دعا مانگی۔ اس کے بعد وہ اٹھا اور بجلی کی طرح لشکر مخالف پر حملہ آور ہوا۔ [عجیب لطف ہے کہ رومی مورخین اس جنگ میں سرے سے سلطان کی موجودگی ہی کے منکر ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ کوئی خواجہ سرا سلجوقی فوجوں کی کمان کر رہا تھا (گبن، ج ۶، ص ۲۵۶)۔ مگر یہ صرف اس لیے ہے کہ فتح کا سہرا سلطان کے سر سے اتار لینا چاہتے ہیں، حالانکہ اسے سلطان کے سر سے اتار کر ایک خواجہ سرا کے سر باندھنے میں قیصر روم کی گردن کا طوق ذلت اور زیادہ بھاری ہو جاتا ہے۔ ]پہلے ہی حملہ میں نامور رومی جنرل باسیلاسیوس (Basilacius) شکست کھا کر پیچھے ہٹا۔ اس سے متصل مالڈیو یا کا اوزی (Uzi) رسالہ تھا۔ اس نے بھی میدان خالی کر دیا۔ ایک دوسری فوج پر شاہزادہ انڈرونیکوس (Andronicus) قائد تھا اور اس سے قیصر کی قلبی عداوت تھی۔ وہ عین گھمسان کی لڑائی میں اس بے ترتیبی کے ساتھ پسپا ہوا کہ پوری صف بندی ٹوٹ گئی۔ اتفاق یہ کہ اسی موقع پر گرمی کی شدت سے پریشان ہو کر قیصر اپنے خیمہ کی طرف مڑا تاکہ تھوڑی دیر سائے میں آرام لے۔ شاہی علم کو اس طرح پیچھے ہٹتے دیکھ کر فوج کی ہمت ٹوٹ گئی اور اس نے راہِ فرار اختیار کی۔ ناچار قیصر پھر میدان میں آیا اور قلب کے چیدہ دستوں کو لے کر ترکوں کے مقابلہ میں ڈٹ گیا۔ مگر اب ہوا کا رخ بدل چکا تھا۔ فوج کا بڑا حصہ بھاگ گیا تھا جسے ترکی سوار مارتے دباتے ہوئے بڑھے چلے جا رہے تھے۔ باقی ماندہ فوج بد دل ہو چکی تھی اور طاقتور دشمن نے ہر طرف سے اسے گھیر لیا تھا۔ دیوجانس کی بہادری اس حالت کا کب تک مقابلہ کرتی۔ آخر کار جب اس کے اردگرد فوج کٹ گئی، وہ خود زخمی ہو گیا اور اس کا گھوڑا بھی مارا گیا تو میدان چھوڑ کر بھاگا۔ مگر ایک غلام نے بڑھ کر اس کے پاؤں میں کمند ڈال دی اور اس طرح اسے گرفتار کر کے لشکر میں لے آیا کہ اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ اس کی قید میں کون ہے۔ [کہا جاتا ہے کہ یہ غلام سعد الدولہ گوہر آئین کا مملوک تھا۔ جس وقت سلطان کے ساتھ بھیجے کے لیے فوج چھانٹی جا رہی تھی تو سعد الدولہ نے اس کو نظام الملک کے سامنے پیش کیا۔ نظام الملک نے پہلے تو اس کمزور اور حقیر جثہ کے غلام کو لینے میں پس و پیش کیا، مگر جب سعد الدولہ نے اس کی بہت سفارش کی تو اس نے کہا کہ اچھا لے لو، شاید یہی شاہ روم کو گرفتار کر لے۔ یہ فقرہ محض بر سبیلِ تعریض تھا، مگر اتفاق دیکھیے کہ جو الفاظ وزیر کے منہ سے نکلے تھے وہ حرف بحرف پورے ہوئے۔]چاہتا تھا کہ اسے قتل کر دے، مگر اس نے خود جان کے خوف سے (یا بقول ابن اثیر کسی دوسرے رومی قیدی نے) یہ راز کھول دیا کہ وہ قیصر ہے۔ [گبن کا بیان ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت نہیں پہچانا گیا اور رات بھر معمولی قیدیوں کے ساتھ بند رہا۔ صبح جب سلطان کے سامنے قیدی پیش ہوئے تو ان سلجوقی سفراء نے جو رومی دربار میں جاچکے تھے اسے پہچانا اور رومی جنرل باسیلاسیوس نے بڑھ کر اس کے قدم چومے، تب جا کر یہ راز کھلا۔ (گبن، ج ۶، ص ۳۵۸)]آخر کار وہ لشکرِ سلطانی میں لایا گیا۔ رات اس نے لشکر میں گزاری اور صبح سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اسے بساطِ سلطانی کو بوسہ دینے کا حکم دیا گیا جس کی اس نے مجبوراً تعمیل کی۔ پھر سلطان اٹھا اور اس نے قیدی بادشاہ کی گردن پر پاؤں رکھا۔ مگر گبن اس روایت کو مشکوک قرار دیتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ”اگرچہ قومی رواج کے مطابق اس نے بساط ادب کو بوسہ تو ضرور دلوایا تھا، مگر اس کے علاوہ اس نے کوئی تذلیل نہیں کی، بلکہ اس کا سلوک ایسا شریفانہ تھا کہ خود اس کے متعصب دشمنوں کو بھی اس کی تعریف کرنی پڑی ہے اور جدید زمانے کے مہذب لوگوں کے لیے بھی اس میں ایک سبق ہے۔ [گبن ج ۶، ص ۲۵۸۔ انگریز مصنف کا یہ قول بالکل صحیح ہے۔ ابھی پچھلی صدی ہی کی تو بات ہے کہ خود گبن کی قوم نے دہلی کے بادشاہ کو گرفتار کر کے نہایت ذلت کے ساتھ فوجی عدالت میں پیش کیا تھا اور مقدمہ چلا کر اسے عمر قید کی سزا دی تھی۔]ابن اثیر نے گردن پر پاؤں رکھنے کا ذکر نہیں کیا ہے، مگر وہ کہتا ہے کہ ”سلطان نے اپنے ہاتھ سے اس کو تین چھڑیاں ماریں اور کہا کہ کیا میں نے تجھ کو صلح کا پیغام نہیں دیا تھا جسے تو نے رد کر دیا۔“ میر خوند چھڑیاں مارنے کا بھی ذکر نہیں کرتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ سلطان نے پہلے صرف زجر و توبیخ اور ملامت کی، پھر جب قیصر نے عفو کی درخواست کی تو وہ اسے معاف کر کے بہت عزت کے ساتھ پیش آیا۔ مگر عماد کا تب زجر و توبیخ کا بھی ذکر نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس کہتا ہے کہ <<ثم تعطف عليه السلطان واحضره بين يديه>> (پھر سلطان اس پر مہربان ہوا اور اسے اپنے سامنے بلایا)۔ یہ تمام اختلافات صرف اس امر میں ہیں کہ قیدی بادشاہ کے ساتھ ابتداءً سلطان نے کیا سلوک کیا۔ باقی رہا بعد کا برتاؤ، سو اس کے متعلق تمام مؤرخین بالا تفاق بیان کرتے ہیں کہ وہ نہایت فیاضانہ تھا۔ سلطان نے قیصر کو عزت کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا اور اس سے پوچھا کہ تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ ”یا تو آپ مجھے قتل کر دیں گے، یا بلاد اسلام میں میری تشہیر کریں گے، اور بعید امکان اس کا بھی ہے کہ شاید معاف کر دیں۔“ سلطان نے پوچھا کہ اگر تم فتح یاب ہوتے اور میں تمہارے پاس قیدی بن کر آتا تو تم میرے ساتھ کیا کرتے؟ قیصر نے جواب دیا کہ ”میں آپ سے بہت برا سلوک کرتا۔‘‘[گبن نے قیصر کا یہ جواب نقل کیا ہے کہ اگر میں کامیاب ہوتا تو تیرے جسم پر بہت سے کوڑے لگاتا۔]سلطان نے کہا کہ اب تو مجھے تمہارے فسادِ نیت کا حال معلوم ہو گیا، لہذا مجھے بھی تمہارے ساتھ یہی کرنا چاہیے۔ قیصر نے جواب دیا کہ ”آپ نے میرے فسادِ نیت کا انجام بھی تو دیکھ لیا۔“ اس گفتگو کے بعد سلطان نے قیصر کو عزت کے ساتھ ایک الگ خیمے میں اتارا، اس کی فوج کے بہت سے بطریقوں [بطریق (Patrician) رومی فوج کا ایک اعلیٰ عہدہ تھا جس کے ماتحت دس ہزار فوجی سپاہی ہوتے تھے۔ (کتاب الخراج، قدامہ بن جعفر، ص ۲۵۵]کو اس کے ساتھ رکھا، اسے خرچ کے لیے دس ہزار دینار دیے اور آٹھ دن تک روزانہ اس سے دوستانہ ملاقاتیں کرتا رہا۔ گبن کہتا ہے کہ ان ملاقاتوں میں سلطان نے قیصر کو اس کی جنگی غلطیوں پر متنبہ کیا اور اسے بتایا کہ کن خامیوں کی بدولت وہ اتنی زبردست طاقت کے باوجود اتنی قلیل فوج کے مقابلے میں شکست کھا گیا۔ نیز اس نے اُن جرنلوں کو بھی سخت ملامت کی جنھوں نے اپنے بادشاہ کی خدمت میں کوتاہی کی تھی۔ ان ہی ملاقاتوں میں فریقین کے درمیان گفتگوئے صلح بھی ہوتی رہی اور آخر حسبِ ذیل شرائط پر تصفیہ ہوا:

(۱) پندرہ لاکھ دینار فدیہ[یہ ابن اثیر کا بیان ہے۔ مگر گبن دس لاکھ بتاتا ہے۔ ]

(۲) تین لاکھ ساٹھ ہزار دینار سالانہ خراج [ابن اثیر نے خراج کا ذکر نہیں کیا۔ ابن الراوندی اس کا راوی ہے اور گبن اس کی تائید کرتا ہے، مگر رومی مورخین خراج اور فدیے کے معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔]

(۳) ضرورت کے وقت فوجی امداد [یہ صرف ابن اثیر کی روایت ہے۔]

(۴) تمام ان مسلمانوں کی رہائی جو رومی قید میں ہیں۔[یہ ابن اثیر کی روایت ہے اور گبن اس کی تائید کرتا ہے۔]

(۵) رومی شاہزادی سے سلطان کے بیٹے کی شادی۔[گبن نے صرف مجملًا اس شرط کا ذکر کیا ہے اور وہ اس پر کچھ زیادہ اعتبار نہیں کرتا۔ میر خوند صرف اتنی تفصیل بیان کرتا ہے کہ وہ شاہزادی قیصر رومانوس ہی کی بیٹی تھی اور اس کی شادی سلطان کے بیٹے ملک ارسلان سے کی گئی۔ مگر نہ تو کسی دوسرے مورخ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نہ تاریخوں سے اس شہزادی کا کچھ حال معلوم ہوتا ہے۔]

ابن اثیر کی روایت کے مطابق یہ صلح ۵۰۵ھ سال کے لیے منعقد ہوئی تھی۔ اس کے بعد سلطان نے قیصر کو شاہی خلعت دیا، دونوں فرماں روا بغل گیر ہوئے، قیصر نے بغداد کی جانب سر جھکا کر خلیفہ کو تعظیم دی، خود سلطان اسے ایک کوس تک چھوڑنے گیا اور رومی سرحد تک سلطانی فوج نے اپنی حفاظت میں اسے پہنچا دیا۔ مگر رومی علاقے میں جانے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اس شکست کی خبر سنتے ہی سلطنت میں انقلاب ہو گیا اور میکائیل نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ اس اطلاع نے رومانوس کا دل توڑ دیا۔ اس نے سلطان کو اس کیفیت سے مطلع کیا اور دو لاکھ دینار اور ایک سونے کی کشتی جس میں ۹۰ ہزار کے جواہر تھے، بھیج کر اس سے معافی چاہی کہ اس سے زیادہ میں کچھ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ گبن کہتا ہے کہ سلطان نے چاہا کہ اس کی مدد کر کے اسے تخت پر بٹھا دے۔ مگر اس کے بعد ہی معلوم ہوا کہ اس نے شکست کھائی، گرفتار ہوا اور مر گیا۔ برعکس اس کے ابن اثیر کہتا ہے کہ رومانوس نے انقلابِ سلطنت کی خبر سنتے ہی رہبانیت اختیار کر لی اور میکائیل کو کہلا بھیجا کہ سلجوقی سلطان سے یہ شرائط طے پائی ہیں، اگر چاہو تو ان پر قائم رہو اور چاہو تو انھیں رد کر دو۔ میکائیل نے انھیں قبول کر لیا اور رومانوس ہی سے درخواست کی کہ وہ اپنی وساطت سے اس کے اور سلطان کے تعلقات قائم کرا دے۔ [ابن اثیر، ج ۱۰، ص ۴۶۔ زبدۃ النصرہ، ص ۴۸۔ روضۃ الصفا، ج ۴، ص ۹۶-۹۷۔ راحۃ الصدور، ص ۱۱۹-۱۲۰۔ تاریخ گزیدہ، ص ۴۴۱۔ گبن، ج ۶، ص ۲۵۴۔]

اس جنگ سے سلجوقی سلطنت کے حدود میں تو کوئی اضافہ نہ ہوا مگر اس کے علاوہ اسے بے شمار فوائد حاصل ہوئے۔ مالِ غنیمت جو ہاتھ آیا اس کی کثرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ صرف بار برداری کی گاڑیاں ۳ ہزار تھیں، بہت سی منجنیقیں تھیں جن میں سے ایک اتنی بڑی تھی کہ ۱۲ سو آدمی اس پر کام کرتے تھے اور ۱۲۰ رطل (تقریباً ۳ من) کا پتھر پھینکتی تھی۔ اس کے علاوہ اسلحہ اور دوسرے سامان اس کثرت سے ہاتھ آئے کہ سپاہیوں نے ایک ایک دینار میں ۲۷ خود، پنچ ڈالے اور ایک ایک دینار کی تین تین زرہیں بک گئیں۔ [زبدہ، ص ۴۲-۴۳۔]ان مادی فوائد کے علاوہ دنیائے اسلام میں سلجوقی سلطنت کی جو قدر و منزلت قائم ہوئی اور ہمسایہ سلطنتوں میں جو دھاک بیٹھی اس کی قیمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔