سلاجقہ
اشاعت: 1954ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تصنیف "سلاجقہ" اسلامی تاریخ کے اس اہم دور کا جامع، تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں عباسی خلافت کے انحطاط کے بعد سلجوقی ترکوں نے ایک نئی سیاسی، فوجی اور تہذیبی طاقت کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا۔ کتاب کا بنیادی مقصد صرف واقعات کی روایت نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اسبابِ ظہور، عروج و زوال کے عوامل، اور اسلامی دنیا پر ان کے اثرات کو سمجھنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ سلجوقیوں کا ظہور محض ایک قبائلی حرکت نہیں بلکہ ایک تاریخی ضرورت تھی جس نے عباسی خلافت کو روحِ عملیت بخشی، سنی مسلک کو مضبوط کیا، اور مسلمانوں کو داخلی انتشار اور خارجی دشمنوں (خاص طور پر فاطمیوں اور صلیبیوں) کے مقابلے میں تنظیم دی۔
کتاب کا آغاز ادارتی نوٹ سے ہوتا ہے جو اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب مکمل نہیں ہو سکی، کیونکہ مصنف کی مصروفیات—خصوصاً تفسیر تفہیم القرآن کی تدوین—نے حصہ دوم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ پھر دیباچہ میں مصنف نے سلاجقہ کے تاریخی خاکے کو عباسی خلافت کے انحطاط، غزنویوں کے عروج، اور آلِ بویہ و فاطمیوں کے مقابلے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ماخذوں کا جائزہ لیتے ہیں اور تاریخ بیہقی، زین الاخبار، اور زبدۃ النصر جیسے معاصر ذرائع کو سلجوقی تاریخ کی درست سمجھ کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
مقدماتی مباحث کے بعد کتاب چار ابواب میں تاریخِ سلاجقہ بیان کرتی ہے۔ ابتدائی حصہ عباسی خلافت کے زوال کے دوران ابھرنے والی متعدد مقامی سلطنتوں—طاہریہ، طولونیہ، صفاریہ، سامانیہ، آلِ بویہ، فاطمیوں اور غزنویوں—کا خاکہ پیش کرتا ہے تاکہ سلجوقیوں کے ظہور کا سیاسی پس منظر واضح ہو۔ باب اول (دورِ ظہور) میں آلِ سلجوق کی نسلی اصل، ان کی ہجرت اور بلادِ اسلام میں آمد، اور محمود و مسعود غزنوی کے ساتھ ان کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ باب دوم (دورِ تاسیس) طغرل بک کے دورِ حکومت، بغداد کی فتح، باسا سیری کے فتنے کے استیصال اور خلافتِ عباسیہ سے رشتہ داری کے قیام پر مشتمل ہے۔
باب سوم (دورِ عروج) الپ ارسلان کے عہد میں سلطنت کی وسعت—ارمینیہ، ماوراء النہر اور روم کے خلاف مہمات—کو بیان کرتا ہے، اور باب چہارم ملک شاہ کے دور میں سلجوقی اقتدار کے دمشق تک پھیلاؤ اور خلافت سے مزید مصاہرت کے سیاسی نتائج پر ختم ہوتا ہے، جہاں مصنف کی مصروفیات کے باعث کتاب کا دوسرا حصہ (سلجوقی زوال اور صلیبی جنگوں کا دور) مکمل نہ ہو سکا۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
توسیع نفوذ و اثر# — تسلسل 1 — ذیلی حصہ 1
سلاجقہ کے اخراج کی تدبیریں
۱۱ رجب کو مسعود گرگان سے نیشا پور پہنچا۔ اس دوران میں باور د اور نسا سے خبریں آتی رہیں کہ سوری کے جواب نے سلجوقیوں کو ایک حد تک مطمئن کر دیا ہے، اب تک ان کا رویہ پُر امن ہے، کسی کو نہیں چھیڑتے،[زین الاخبار(ص١٠٠)میں لکھا ہے کہ نیساپور پہنچ کر سلطان نے ترکمانوں کے ظالم و ستم کی سخت شکایات سنیں۔مگر بیہقی کا بیان اس سے مختلف ہے اعر میں نے اسی پر اعتماد کیا ہے] مگر سلطان کے نیشا پور آنے سے خوف زدہ ہیں اور ہر وقت گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتے ہیں گویا کہ اس وقت ان کی حالت صلح اور جنگ کے مابین ہے۔[بیہقی ،ص ٥٩١] یہ خبریں ایک حد تک باعث اطمینان تھیں۔ مگر دس ہزار ترکوں کا مملکت میں موجود رہنا کسی طرح خطرے سے خالی نہ تھا۔ لہٰذا ان کے حق میں یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ یا تو انھیں ملک سے نکال دیا جائے یا مطیع کر کے سرکاری خدمت میں لے لیا جائے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے وزراء و اعیانِ سلطنت کی ایک مجلس منعقد ہوئی اور ان کے اس مسئلے پر خوب غور کیا گیا۔ اربابِ سیاست کی رائے یہ تھی کہ جو قوم خود اطاعت و بندگی پر آمادہ ہے اسے چھیڑنا ٹھیک نہیں۔ مناسب یہ ہے کہ استمالتِ قلب سے اس کو مطیع کر لیا جائے۔ مگر فوجی گروہ جنگ چاہتا تھا۔ اس کی طرف سے سپاہ سالار فوج حاجب بُکتغدی نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور جوش کے ساتھ کہا:
”معلوم ہے کہ امیر سابق جب اپنی رائے سے ترکمانوں کے ایک گروہ کو خراسان لائے تھے تو انھوں نے کیسا فساد برپا کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔ ان کے آنے سے دوسروں کو بھی یہاں آنے کی خواہش ہوئی ہے۔ دشمن ہرگز دوست نہیں ہوتا۔ ان کے لیے تلوار چاہیے۔ارسلان جاذب نے بھی کہا تھا، مگر نہ سُنی گئی۔ آخر جو ہونا تھا سو ہوا۔”
دوسرے اعیانِ سلطنت نے بھی اس خیال کی تائید کی اور فیصلہ کیا گیا کہ دس بڑے بڑے سالاروں کو پندرہ ہزار فوج کے ساتھ بھیجا جائے جن کا سردار حاجب بُکتغدی اور کدخدائی پر خواجہ حسین علی میکائیل کو مامور کیا جائے۔ بُکتغدی نے کہا کہ ایک فوج میں کئی سالاروں کے موجود ہونے سے اختلاف رائے اور پراگندگی کا اندیشہ ہے، سالار صرف ایک ہونا چاہیے۔ مگر مسعود نے منظور نہ کیا اور اپنی رائے کے موافق فوج کو مرتب کیا۔ [بیہقی ،ص ٥٩٨-٥٩٦]
۹ ؍ شعبان ۴۲۶ھ؍ ۱۰۳۴ء کو یہ فوج بڑے ساز و سامان کے ساتھ نیشاپور سے روانہ ہوئی۔ بہت سا زرِ نقد اور سامانِ فاخر ساتھ کیا گیا تاکہ جن لوگوں سے کارہائے نمایاں صادر ہوئے ان کی ہمت افزائی کی جائے [بیہقی ،ص ٥٩٩]۔ سپہند انقان میں سلجوقیوں کی جانب سے ایلچی آئے اور بگتغدی کے پاس حاضر ہو کر کہا کہ ”ہم غلام اور مطیع ہیں۔“ مگر بگتغدی نے ان کو سختی کے ساتھ ڈانٹ کر کہا کہ ”ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے۔ اگر تم مطیع ہو تو شاہ مسعود کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے اپنا عذر پیش کرو اور ہمارے پاس وہاں سے فرمان لے کر آؤ تاکہ ہم تم سے باز آجائیں۔ ورنہ ہم ہرگز واپس نہ ہوں گے۔[زین الاخبار ،ص١٠١] آخر ایلچی مایوس ہو کر واپس گئے، غزنوی فوج آگے بڑھی اور فراوہ و شہرستانہ کے درمیان ایک میدان میں فریقین کا مقابلہ ہوا۔
۲۱ رشعبان کو میدان جنگ سے اطلاع آئی کہ پہلے ہی حملہ میں سلجوقیوں کو شکست فاش ہوئی، ان کے سات آٹھ سو آدمی مارے گئے، بہت سے قید ہوئے اور مال اسباب لوٹ لیا گیا۔ اس خبر سے مسعود کو بڑی خوشی ہوئی۔ کئی روز سے پریشانی کے مارے شراب نہیں پی تھی۔ فوراً محفل نشاط گرم کی گئی اور خوب جام پر جام لنڈھائے گئے۔ لیکن دوسرے ہی دن صبح سویرے ایک اور قاصد یہ پیغام لایا کہ لشکر کو شکست فاش ہوئی، تمام ساز و سامان دشمن نے لوٹ لیا، سپاہ سالار فوج بمشکل جان بچا کر بھاگا اور خواجہ حسین علی میکائیل (کدخدا) گرفتار ہو گیا۔ اس خبر نے وزراء میں ہلچل ڈال دی، گھبرا کر سلطان کی بارگاہ کا رخ کیا، مگر معلوم ہوا کہ رات بھر شراب پی کر اب بے خبر سو رہا ہے اور کسی طرح جگانا ممکن نہیں ہے۔
اس شکست کا حال خود اس فوج کے دو سپاہیوں کی زبان سے سننا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ سارا فساد اس وجہ سے برپا ہوا کہ سالار فوج ایک نہ تھا، کئی تھے اور ہر شخص اپنی بات ور رکھنا چاہتا تھا۔ فوج پوری ترتیب کے ساتھ چلی جارہی تھی کہ دفعۃ سلجوقیوں کے ڈیرے نیچے نظر آئے اور ایک قلیل جماعت ان کی نگرانیپر مامور پائی گئی۔ سالاراعظم (بلکتدنی) نے کہا کہ ہوشیار رہو، دشمن کمین گاہوں میں چھپ گیا ہے۔ صف بندی نہ ٹوٹنے پائے۔ جب تک ہمارا طریقہ یہ ہے کہ اچھی طرح حال نہ معلوم کرلے، سب اپنی اپنی جگہ جمے رہیں۔ مگر کسی نے یہ حکم نہ سنا، سب ان کا مال لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ اور جو آدمی وہاں ملے انہیں مار ڈالا۔ یہ وہ”فتح“ تھی جس کی پہلے خبر پہنچی تھی۔ جب سلجوقیوں نے دشمن کی فوج کو اس طرح پراگندہ اور منتشر پایا تو دفعہ حملہ کر دیا اور سخت جنگ برپا ہوئی۔ اس حالت میں چندبا تجربہ کار افراد فوج کے ایک حصّے کو لے کر پانی لینے کے لیے چلے۔ بقیہ فوج نے یہ حال دیکھا تو سمجھی کہ یہ بھاگے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے پاؤں اُکھڑ گئے اور اتنے عظیم الشان لشکر کا وہ انجام ہوا جو اوپر بیان کیا گیا۔[بیہقی، ص ۵۹۹ - ۶۰۳ - ابن اثیر، ابوالفدا، میرخوند، ابن الراوندی وغیرہ نے اس جنگ کا مختصر حال لکھا ہے، مگر بیہقی کا بیاننہایت مفصل ہے۔]
بخت سلطانِ بخار آلود نیند سے بیدار ہوا تو یہ خبریں سنیں جن سے سارا
نشاط فور ہوگیا۔ امراء و اعیان اور مصاحبین جمع ہوئے اور دل دہلی کی باتیں
کرنے لگے۔ مگر ان میں ایک بوڑھا وزیر ابونصر بھی تھا جس کا دل جلا ہوا تھا۔ اس
نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا:
خداوند کی عمر دراز ہو، چند روز کے لیے عیش و طرب سے ہاتھ کھینچے، لشکر کا خود جائزہ لیجئے اور یہ دل خوش کن باتیں جن کو خواجہ عارض اپنے زعم میں سلطنت کی خدمت سمجھ رہے ہیں، بند کیجئے۔ لشکر کا دل ہاتھ میں لینا چاہیے اور آدمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ امیر سابق کے مال و دولت نے کام کے آدمی فراہم کیے ہیں۔ اگر ان کی نگہداشت نہ ہوگی تو العیاذ باللہ دوسرے آئیں گے اور مال لے جائیں گے اور ہر طرف سے خطرات رونما ہوں گے۔‘‘[بیہقی ۲۰۳ ۔ ۲۰۴ ]
یہ پہلی شکست تھی جو سلجوقیوں کے ہاتھ سے غزنوی طاقت نے اٹھائی۔
عارضی صلح
اس کے بعد سلجوقیوں اور غزنویوں میں صلح ہو گئی۔ اس صلح کے واقعات میں اختلاف ہے۔ ابن اثیر کہتا ہے کہ شکست کے بعد مسعود نے سلجوقیوں کو ایک خط لکھا جس میں نافرمانی کے برے نتائج سے ڈرایا اور فرمانبرداری کے اچھے نتائج کا لالچ دیا۔ مگر طغرل نے اپنے امام صلوٰۃ کو حکم دیا کہ اس کے جواب میں صرف یہ لکھ دے کہ[ابن الراوندی کہتا ہے کہ یہ جواب طغرل نے خلیفہ بغداد کو لکھا تھا۔ (راحۃ الصدور ص ۶۵) ]
<<قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ>>
اس خط کے پہنچنے پر مسعود نے ان کو خلعتیں بھیجیں، داؤد کو دہستان، طغرل کو نسا اور بیغو کو فراوہ عطا کیا۔ ہر ایک کو دہقان (یعنی زمیندار یا تعلقہ دار) کا لقب دیا اور شر و فساد سے منع کیا۔[ابن اثیر، ج۹، ص ۱۹۸۔۱۹۹]مگر یہ قصہ بعد کی تصنیف معلوم ہوتا ہے۔ میری رائے میں اصل واقعہ وہ ہے جو بیہقی نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جنگ کے بعد سلجوقی سردار سر جوڑ کر بیٹھے اور آپس میں کہا کہ ہماری اس فتح کی وجہ صرف ان کی بے تدبیری اور ہماری خوش تدبیری ہے۔ اس سے ہم کو اپنی قوت کا غلط اندازہ نہ کرنا چاہیے، کیونکہ مسعود ایک بڑا بادشاہ ہے اور اس کے پاس ایسے ایسے بہت سے لشکر اور سالار ہیں۔ ان امور پر غور کرنے کے بعد ایک بخاری پیر مرد کو، جو بہت چرب زبان تھا، اپنا سفیر بنا کر نیشا پور روانہ کیا اور اس کے ہاتھ وزیر اعظم کے نام ایک خط بھیجا جس میں تواضع و انکسار کے ساتھ لکھا تھا کہ
”ہم نے سوری کو متوسط و شفیع اور مددگار بنانے میں غلطی کی۔ وہ جلد باز آدمی ہے، صلاح و عاقبت کو اچھی طرح نہ سمجھا اور سلطان کو خواہ مخواہ لشکر بھیجنے پر آمادہ کیا۔ معاذ اللہ، ہماری کہاں یہ مجال کہ لشکر منصور پر شمشیر کشی کریں۔ مگر جب وہ ہم پر اس طرح ٹوٹ پڑے جیسے بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ پر، اور ہم پناہ گزینوں کے گھر بار اور زن و فرزند پر حملہ آور ہوئے تو مدافعت کے بغیر کیا چارہ تھا، کہ جان سب کو پیاری ہے۔ ہم اب بھی اسی بات پر قائم ہیں جو پہلے عرض کی تھی۔ یہ چشم زخم جو پہنچا ہے ہم سے بلا ارادہ پہنچا۔ خواجہ بزرگ خوارزم شاہ التونتاش کے زمانہ میں ہم کو دیکھ چکے ہیں۔ اگر مناسب سمجھیں تو اس معاملہ میں دخل دیں اور ہمارے مددگار بن کر سلطان کے دل کو خوش کریں تاکہ ہمارا عذر قبول ہو اور ہمارے اس آدمی کو ایسے جواب کے ساتھ واپس کیا جائے کہ ہمارے دلوں کو قرار ہو اور قصہ کوتاہ ہو۔ اگر خواجہ بزرگ خود اپنی طرف سے بھی اس کے ساتھ کسی آدمی کو بھیجیں تو بہتر ہوگا، وہ ہماری بات سن لے گا اور تحقیق کرے گا کہ ہم بندے ہیں، صلاح کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔“‘[بیہقی ٤٠٧-٤٠٨ ]
یہ پیغام ایک گونہ اطمینان کے ساتھ لیا گیا۔ ایلچی کو اچھی طرح ٹھہرایا گیا اور مجلس عالی میں بحث و مشاورت کے بعد طے پایا کہ ابو نصر حبشی [یہ ابو نصر بڑا تیز اور چالاک آدمی تھا۔ سلطان محمود غزنوی نے اس کے باپ سے قرآن پڑھا تھا۔ اس نے ترکستان میں محمود کے لیے بڑے بڑے خفیہ کام کیے جن کا ذکر بیہقی نے کیا ہے۔]کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان کے حالات کو بچشم خود دیکھ کر اندازہ کرے کہ وہ دل سے اطاعت کرنا چاہتے ہیں یا یہ محض ایک چال ہے۔ اس قرارداد کے مطابق وزیر اعظم نے سلجوقیوں کے ایلچی کو بلا کر ظاہر کیا کہ سلطان کو بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا گیا ہے اور اس نے تمہارے عذر کو قبول کر کے اپنے معتمد ان درگاہ میں سے یہ سفیر مقرر کیا ہے، اب جو کچھ بات کرنی ہو اس سے کر لینا۔
۲ رمضان ۴۲۶ھ کو یہ سفارت نیشا پور روانہ ہوئی اور ۳۰ رشوال کو واپس آئی۔ اس کے ساتھ بیغو، طغرل اور داؤد کی جانب سے تین ایلچی بھی آئے۔ دیوان رسالت میں ان سے ایک دن مسلسل مفاوضات صلح جاری رہے۔ آخر اس پر صلح ہوئی کہ نسا، فراوہ اور دہستان کا علاقہ ان کو دیا جائے گا۔ سلطان کی طرف سے خلعت و منشور ولواء عطا ہوگا، ابو نصر حبشی جا کر ان تینوں سے اس امر کا حلف لے گا کہ سلطان کے مطیع رہیں گے اور جب سلطان بلخ پہنچیں تو ان میں سے ایک شخص حاضر خدمت ہو کر ہمیشہ ملازم بارگاہ رہے گا۔ ۲۱ رشوال کو صلح نامہ کے مطابق داؤد کے نام دہستان، طغرل کے نام نسا، اور بیغو کے نام فراوہ کی حکومت کے منشور لکھے گئے [یہ منشور خود بیہقی نے لکھے تھے اور تمام مفاوضات صلح میں وہ موجود تھا۔]جن میں ان تینوں کو دہقان کے لفظ سے خطاب کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہر ایک کو خلعت بھی دی گئی جس میں غزنوی طرز پر کلاہ دو شاخہ اور جامہ تھا اور ترکوں کے طرز پر سب و ستام و کمر بند۔ اس کے ساتھ ہر ایک کو تیس تیس تھان الگ دیے گئے۔ [بیہقی، ص ]۶۰۱ - ۶۱۱
دوسرے روز غزنوی سفیر حلف لینے کے لیے نسا کی جانب روانہ ہوگیا۔
صلح کا اثر
عام ملکی سیاست پر اس صلح کا یہ اثر ہوا کہ گرد و نواح کے امراء کی جراتیں بڑھ گئیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ غزنویوں کا اقبال روبہ ادبار ہے۔ چناںچہ بُغرا خان نے سلجوقیوں کی پیٹھ ٹھونکی۔۴۲۳[ھ میں قدر خان کے مرنے پر سلطنت اس کے دو بیٹوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ کاشغر، ختن اور بلا ساغون ایک حصے میں آئے جس کا نام ابو شجاع ارسلان خاں تھا]، اور طرز و اسیجاب کا علاقہ دوسرے کو ملا جس کا نام بُغرا خاں تها]علی تگین خاں کے لڑکوں نے خراسان پر چھاپے مارنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ [بیہقی، ص ۶۱۱ - ٦٥٢] اسماعیل بن التونتاش خوارزم شاہ سلجوقیوں سے سازباز کرنے لگا۔ [بیہقی، ص ۶۲١] خود سلجوقیوں پر اس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے حوصلے جو پہلے ہی فتح سے بڑھے ہوئے تھے، اور بڑھ گئے۔ جب ان سے اتنی اچھی شرائط پر صلح کی گئی تو انہیں غزنویوں کی کمزوری اور خوف زدگی کا پورا اندازہ ہوگیا اور انہوں نے شوخ چشمی کا اظہار شروع کر دیا۔ غزنوی سفیر جو حلف لینے گیا تھا اس نے اپنی آنکھوں سے ان کا یہ رنگ دیکھا تو کھنک گیا۔ واپس آکر اس نے کہا کہ ”ہر چند انہوں نے عہد کرلیا ہے، مگر مجھے ان پر ذرا اعتماد نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے اپنی خلتیں میں ہمارا استخفاف کیا اور کلاہِ دوشاخہ کو پاؤں میں پہنا سلطان کو ہرگز ہرات جانے کا قصد نہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی خلل برپا ہو تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔“
ان حالات میں مقتضائے عقل و دانش یہ تھا کہ سلطان کچھ مدت اور فتنے کے سر پر بیٹھا رہتا اور سلطنت کے رعب و داب کو از سر نو قائم کرتا۔ مگر اس کو عیش و نشاط اور شراب و شکار کی یاد ستا رہی تھی، اس لیے اس نے کسی مصلحت کی پروا نہ کی۔ صلح کو پورا ایک مہینہ بھی نہ ہوا تھا کہ نیشا پور سے چل کھڑا ہوا۔ محرم ۴۲۴ھ میں بلخ پہنچا اور کچھ مدت قیام کر کے غزنین چلا گیا۔ [بیہقی ص ۲۱۲]
شورش کا اعادہ
چند مہینے سلجوقیوں نے غنیم کو غافل کرنے اور اپنی قوت مضبوط کرنے کے لیے صبر و سکون سے گزارے۔ اس مدت میں انھوں نے ارسلان کی جمعیت کے بچے کھچے ترکمانوں کو، جو نواحی خراسان میں پھیلے ہوئے تھے، اپنے ساتھ ملا کر ایک زبردست جمعیت فراہم کر لی اور اس کے بعد بُست، گوزگانان اور سرخس وغیرہ علاقوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے۔ ربیع الاول ۴۲۴ھ/۱۰۳۵ء میں ہر طرف سے ان کی دراز دستیوں کی شکایتیں آنے لگیں جن سے مسعود اور اس کے امراء کو بڑی تشویش ہوئی۔ آخر مشورے کے بعد طے ہوا کہ حاجب بزرگ سباشی دس ہزار سوار اور پانچ ہزار پیادہ فوج کے ساتھ جائے، اور اس کی پشت پر کمک کے لیے ابوسعد عراقی کردوں اور عربوں کا لشکر لیے ہوئے موجود رہے۔ چنانچہ اسی مہینہ یہ فوج گراں اس ہدایت کے ساتھ خراسان کی طرف دی گئی کہ ملک کو سلجوقیوں اور ترکمانوں کے وجود سے خالی کر دے۔ [بیہقی، ص ۲۱۸]پھر شوال میں ایک اور فوج بڑے ساز و سامان کے ساتھ ابوالحسن عراقی کی قیادت میں اس کی مدد کو بھیجی گئی۔ [ بیہقی، ص ۶۲۲] لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فوجیں دوران سال میں کوئی خاص کارروائی نہ کر سکیں، کیونکہ اس زمانہ میں ان کا کوئی کارنامہ یا اس اقدام کا کوئی اثر ہمارے سامنے نہیں آتا۔
مزید مطالبات
محرم ۴۳۸ھ میں جبکہ مسعود بست میں مقیم تھا، سلجوقیوں کی جانب سے دو آدمی حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ پیغام لاکر دیا کہ خراسان میں جو کچھ شورش ہے اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے، یہاں دوسرے ترکمان بھی ہیں اور باہر سے برابر آرہے ہیں، کیونکہ جیحوں اور بلخان کوہ کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ درخواست بھی پیش کی کہ
نہوں نے یہ درخواست بھی پیش کی کہ ”یہ ولایت جو ہم کو دی گئی ہے، تنگ ہے اور ان آدمیوں کو جو ہمارے پاس ہیں کافی نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ خواجہ بزرگ درمیان میں پڑ کر خداوندِ سلطان سے درخواست کریں کہ یہ اطراف بیابان سے متصل چھوٹے چھوٹے شہر ہیں، جیسے مرو، سرخس، باور، نسا، یہ بھی ہم کو دے دیے جائیں، اس طرح کہ صاحب برید، قضاۃ اور صاحب دیوان خداوند کے رہیں، وہی مال گزاری وصول کریں، اور یہ سوا ان حصے لے کر باقی ہم کو دے دیں، تاکہ ہم خداوند کا لشکر ہوں، خراسان کو مفسدوں سے پاک کریں، اور اگر عراق میں یا کہیں اور کوئی خدمت ہو تو اسے انجام دیں، اور ہر کار دشوار کو بجا لانے کے لیے کمر بستہ رہیں۔ نیز یہ کہ سباشی حاجب اور فوجیں نیشاپور و ہرات میں مقام کریں۔اگر انہوں نے ہمارا قصد کیا تو ناچار ہم کو ان کے دفع کرنے میں مشغول ہونا پڑے گا اور حرمت درمیان سے اٹھ جائے گی۔“
اس پیغام سے سلطان سخت برافروختہ ہوا۔ خلوت میں وزراء سے کہا کہ اس قوم کی جراتیں تو دیکھو، ایک طرف خراسان کو پھلنے مارتے ہیں اور دوسری طرف یہ لچھے دار گفتگوئیں کرتے ہیں۔ ان سے صاف کہہ دینا چاہیے کہ ہمارے تمہارے درمیان تلوار ہے۔ وزیر اعظم نے پھر اس رائے سے اختلاف کیا اور یہ مشورہ دیا کہ ان کو صلح جویانہ جواب دے کر ٹال دیا جائے اور سلطان ہرات میں جا کر قیام کرے۔ پھر اگر جنگ کی ضرورت ہوئی تو بآسانی اس کا انتظام ہو سکے گا۔ سلطان نے اس کو منظور کر لیا اور اسی کے مطابق جواب دیا گیا۔ [بیہقی، ص ٦٢٨-٦٢٦]
غزنوی امراء کی غفلت
لیکن خرابی یہ تھی کہ جب کبھی کوئی خاص واقعہ پیش آتا تو مسعود آگ کی طرح بھڑک اٹھتا اور جب وہ وقت گزر جاتا تو پھر خواب غفلت میں محو ہو جاتا۔ جب خود بادشاہ کا یہ حال تھا تو ظاہر ہے کہ امراء کو اس سے زیادہ غافل ہونا چاہیے تھا۔ سلجوقی قاصدوں کو واپس کرنے کے بعد چاہیے تھا کہ ان کے تدارک کی فکر کی جاتی۔ مگر وہاں تین چار مہینے تک کچھ نہ کیا گیا۔ ربیع الاول میں خبر آئی کہ ترکمان نواحی خراسان میں پھیل گئے ہیں، شہر تُون کو لوٹ لیا ہے، غزنوی سپہ سالار ابوالحسن عراقی شب و روز شراب میں بدمست رہتا ہے، ناتجربہ کار غلاموں کو کردی و عربی فوجوں کے ساتھ لڑنے بھیجتا ہے جو شکست کھا کھا کر آجاتے ہیں، حکام اور اعیان ہرات اس کی حرکات سے سخت نالاں ہیں۔
ان خبروں نے مسعود کو پھر چونکا دیا۔ مگر اس کا اثر یہ نہیں ہوا کہ سلطان خود موقع پر پہنچتا۔ بلکہ اس نے ایک فوج کے ساتھ وزیر اعظم کو ہرات روانہ کر دیا اور خود سیر و شکار میں مشغول ہو گیا۔ [بیہقی، ص ٦٤٦-٦٤٤]ہراۃ پہنچ کر وزیر نے تمام حالات سے اس کو مطلع کیا اور پیہم درخواستیں کیں کہ زبردست فوجی کارروائیوں سے ترکمانوں کو مرعوب کر دیا گیا ہے، اگر سلطان خود خراسان پہنچ کر جنگ کریں تو سارا ملک ان سے خالی کرا لیا جائے گا۔ لیکن سلطان نے ہرات کے بجائے التاغز نہیں کا رخ کیا اور وہاں پہنچ کر وزیر کو بھی واپس بلا لیا۔ [بیہقی، ص٦٥١-٦٤٩]
ہندوستان پر حملہ اور اس کے نتائج
ذی الحجہ ۴۲۸ ھ میں سلطان نے اپنی مجلس شوریٰ کے سامنے یہ خیال ظاہر کیا کہ اس سال جب میں بست میں بیمار ہوا تھا تو میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر مجھے شفا حاصل ہوئی تو ہندوستان جا کر قلعہ ہانسی کو فتح کروں گا، لہٰذا اب میں نے وہاں جانے کا ارادہ مصمم کر لیا ہے۔ وزیر اعظم اور ابو نصر مشکاں نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اگر محض ہانسی کا فتح کرنا مقصود ہے تو ایک سپہ سالار جا کر اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔ اور اگر خود سلطان نذر ادا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خراسان کا قصہ پاک کر لیں، اس کے بعد نذر ادا کریں۔ ایسی خطرناک حالت میں اس ولایت کو چھوڑ کر ہندوستان کا رخ کرنا ہرگز دانشمندی نہیں ہے۔ لیکن سلطان نے کسی کی نہ سنی اور محرم ۴۲۹ھ میں ہندوستان چلا آیا۔[ بیہقی، ص ٦٦٤-٦٦٠.ابن اثیر،ج٩،ص١٩٩.زین الاخبار،ص١٠٣]
اس جنگ کا سلسلہ جمادی الاخریٰ تک جاری رہا۔ اس چار مہینے کی مدت کا ایک ایک لمحہ بیش قیمت تھا جس کو غزنویوں نے کھویا اور سلجوقیوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ ہندوستان کے جہاد اور ہانسی کی فتح کے بعد غزنین واپس پہنچ کر مسعود نے سنا کہ سلجوقیوں نے طالقان و فار یاب کو لوٹ لیا، رے اور جبال کو فتح کر لیا، سپہ سالار تتاش فراش کو قتل کیا، بڑے بڑے آدمیوں کو پکڑ کر لے گئے اور اب مرد پر مسلط ہیں۔ دوسری طرف اس نے یہ بھی سنا کہ سالار اعظم حاجب سباشی، جس کی ذمہ داری پر خراسان کو چھوڑا گیا تھا، نیشا پور میں شرابیں پیتا ہے، کنیزوں کے ساتھ گرم اختلاط رہتا ہے، جس جگہ کے من فی درہم گیہوں کا نرخ ہے، وہاں سے ہزار ہزار اونٹ لاد کر اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں ایک من فی درم نرخ ہے اور وہاں اس کو لشکر کے ہاتھ فروخت کرتا ہے۔ اپنی عیش پسندی اور ذاتی منفعت کی خاطر لشکر کو ادھر ادھر پھرا رہا ہے اور لڑنے سے جی چراتا ہے۔ [بیہقی، ص ۶۶۶ - ۶۶۷]اب مسعود کو معلوم ہوا کہ ہانسی کی فتح کن داموں پڑی ہے۔ اپنی غلطی پر سخت نادم ہوا، مگر ندامت سے حماقت کی تلافی ہونی ممکن نہ تھی۔
فیصلہ کن لڑائی
سلطان کے واپس آنے سے حاجب اور اس کے صلاح کار خواب سے بیدار ہوئے اور دربار سے نامہ و پیام کرنے کے بعد ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔ ابوالفضل سوری اور ابوسہلی حمدوی نے نیشا پور کے خزانے اور شاہی محلات کا سارا مال اور خود اپنا ذاتی مال و متاع جمع کر کے قلعہ میکالی میں منتقل کر دیا اور حاجب سباشی ہر طرف سے لشکر جمع کر کے سرخس کی جانب روانہ ہوا۔ ادھر سلجوقیوں نے بھی اپنا سارا مال اسباب مرو کے بیابان میں بھیج دیا اور جریدہ مقابلہ میں رہ گئے تاکہ اگر کوئی بری صورت پیش آئے تو سیدھے رے کی طرف بھاگ جائیں۔ سرخس کے میدان میں فریقین کی جنگ ہوئی۔ بڑے معرکے کا رن پڑا۔ سلجوقی جریدہ تھے اور غزنوی اپنے ساتھ ساز و سامان ہی نہیں بلکہ عورتوں اور بچوں کو بھی لائے تھے۔ اس نامساوی مقابلہ کا جو طبعی نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہی ہوا۔ غزنوی فوج شکست کھا کر سخت انتشار کے ساتھ بھاگی۔ سپہ سالار زخمی ہو کر صرف میں غلاموں کے ساتھ ہراۃ میں پناہ گزین ہوا اور بے شمار مال غنیمت سلجوقیوں کے ہاتھ پڑا۔بیہقی، ص ٦٧٩-٦٧٨.ابن اثیر،ج٩،ص١٩٠]
یہ واقعہ شعبان کے آخر کا ہے۔ مسعود کو جب اس کی خبر پہنچی تو سخت رنجیدہ ہوا، صرف شربت سے روزہ افطار کیا اور کھانا تک نہ کھایا۔[بیہقی، ص ٦٧٩] وزیر اعظم نے ہرات سے خط لکھا کہ یہ طبرستان اور ہندوستان پر فوج کشیوں کا نتیجہ ہے۔ اب دشمنوں کی قوت اس حد سے گزر چکی ہے کہ سالار اور امراء اس سے عہدہ برآ ہو سکیں۔ اگر خداوند چاہتے ہیں کہ خراسان کو بچائیں، تو عیش و نشاط سے ہاتھ کھینچیں اور خود آ کر فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لیں۔بیہقی، ص ٦٨٣]
نیشاپور میں طغرل کی تخت نشینی
سرخس کی فتح کے بعد ابراہیم اینال]یہ ماں کی طرف سے طغرل بک کا بھائی ہوتا تھا(راحتہ الصدور،ص١٠٤.ابن اثیر ج٩،ص١٩١)دوسو سواروں کے ساتھ نیشاپور کے سامنے پہنچا[ابن اثیر نے لکھا ہے کہ طغرل نے داود کو نیشاپور بھیجا تھا (ج٩ص١٩٠)مگر بیہقی نت سرکاری اطلاع کی بنا پر ابراہیم کا نام لکھا ہت اور ظاہر ہت کہ وہ زیادہ مستند ہے] اور اہل شہر کو پیغام دیا کہ اگر اطاعت کرتے ہو تو دروازہ کھول دو اور اگر جنگ منظور ہے تو تیار رہو کہ ایک لشکر گراں کے ساتھ طغرل، داؤد اور بیغو آ رہے ہیں۔ اس پیغام سے لشکر میں کھلبلی مچ گئی۔ تمام اعیان شہر قاضی صاعد کے پاس جمع ہوئے اور کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں، جو جواب مناسب ہو دیجیے۔ انہوں نے لوگوں کی رائے پوچھی تو سب نے کہا کہ جس فوج نے حاجب سباشی کے لشکر گراں کو شکست دے دی، اس کے مقابلہ میں یہ بے پناہ و بے سلاح شہر کیونکر ٹھہر سکتا ہے۔ قاضی صاحب نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہم رعیت ہیں، ہمارا کام بادشاہوں سے لڑنا نہیں ہے، جو قوی تر ہوگا، ہم اس کی اطاعت کریں گے اور خراج دیں گے۔ آخر ابراہیم کا ایلچی مجلس میں بلایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ ہم اطاعت کے لیے آمادہ ہیں، مگر تم لوگوں نے دوسرے شہروں میں جو لوٹ مار اور غارت گری کی ہے اس سے اہل شہر خوف زدہ ہیں، بہتر ہے کہ تم اس عادت کو ترک کر دو۔ ابراہیم اینال نے اس جواب پر اہل شہر کی تحسین کی اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کی جان و مال سے تعرض نہ کیا جائے گا۔
دوسرے روز اعیانِ شہر ابراہیم کے استقبال کو نکلے۔ نصف فرسنگ پر ابراہیم نمودار ہوا۔ دو تین سو سوار، ایک علم اور دو آراستہ کوتل گھوڑے، بس یہ ’افسردہ و دریدہ بَجَل‘ تھا۔ اہل شہر جنھوں نے محمود و مسعود کی شانیں دیکھی تھیں، اس کو کبۂ بے رونق دیکھ کر دیکھ کر ہنستے تھے۔ ابراہیم نرم زبان اور خندہ پیشانی سے استقبال کرنے والوں کے ساتھ پیش آیا اور باغِ خُرَّمک میں جا کر ٹھہرا جسے اہل شہر نے اس کے لیے خوب آراستہ کیا تھا۔ جمعہ کے روز مسجد جامع میں طغرل بک کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔
وسط رمضان ۴۲۹ھ میں خود طغرل نیشاپور پہنچا۔ اہل شہر بڑی تیاریوں کے ساتھ استقبال کو نکلے تھے۔ دیکھا کہ فاتح امیر تین ہزار زرہ پوش سواروں کے ساتھ، اس شان سے چلا آ رہا ہے کہ کمر میں چوبۂ تیر، بازو میں کمان، بدن پر قبائے ملحم، سر پر عصابہ توزی اور پاؤں میں موزۂ نمدین ہیں اور تمام اسلحہ سے مسلح ہے۔ اعیان شہر نے بڑھ کر پیشوائی کی اور باغ شادیاخ میں لے جا کر ٹھیرایا جہاں کبھی مسعود ٹھیرتا تھا۔ دوسرے روز طغرل تختِ مسعودی پر بیٹھا اور دربار عام منعقد ہوا۔ [بیہقی، ص ٦٩١،٦٨٧]
اس اثنا میں سلجوقی لشکر تمام ملک میں پھیل گئے اور بلخ کے سوا کل نواحی خراسان پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ ابن اثیر ،ج٩ص١٩١]