رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
امارتِ شرعیہ بہار کا سوال نامہ اور اس کا جواب:
سوال: دارالافتا امارت ِ شرعیہ بہار واڑیسہ (ہند) کے پاس جماعت اسلامی سے متعلق سوالات آتے رہتے ہیں جن میں اس طرف زیادتی ہے۔ سوالات میں زیادہ جماعت اسلامی اور اس کے ممبروں کی دینی حیثیت کے متعلق دریافت کیا جاتاہے۔ہم نے مناسب سمجھا کہ جماعت اسلامی کے ذمہ داروں سے براہِ راست ذیل کے دفعات(جن کے متعلق سوالات آتے ہیں) سے متعلق استفسار کرایا جائے اور آپ حضرات سے ان کے جوابات طلب کرلیے جائیں، تاکہ ان جوابات کی روشنی میں ہمیں جماعت اسلامی اور ا س کے ممبروں اور ہم دردوںکی دینی حیثیت کے متعلق رائے قائم کرنے میں اور شرعی حکم بتلانے میں سہولت ہو۔ ہمارے خیال میں اس طرح اطمینان حاصل کیے بغیر کوئی شرعی حکم لگانا احتیاط کے خلاف ہوگا۔آپ سے عرض ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جواب پورے اختصار کے ساتھ حتی الامکان محض نفی واثبات میں اس طرح تحریر فرمائیں کہ ہمیں واضح طور پر معلو م ہوجائے کہ اس مسئلے میں جماعت اور اس کے ذمہ داروں کا مسلک اور رائے یہ ہے۔ یہ خیال رہے کہ بعض دفعہ تطویل سے بات واضح ہوجانے کے بجائے اور مشتبہ ہوجاتی ہے۔ ہمارا مقصد آپ پر کوئی اعتراض کرنا نہیں ہے بلکہ جماعت کے متعلق مندرجہ ذیل مسائل میں تشفی کرنا ہے،اور جماعت اور اس کے ممبروںکی دینی حیثیت بتلانے میں اپنے لیے سہولت مہیا کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ ہم درد کے سوالات سمجھ کر جواب تحریر فرمائیں گے۔
۱۔ آپ حضرات کے خیال میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اجماع شرعی طور پر حجت ہے یا نہیں؟
۲۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو برا بھلا کہنے والا، ان کی طرف ایسی باتوں کو منسوب کرنے والا جو دین داروں کی شان سے بعید ہیں،فاسق وگنہگار ہے یا نہیں؟
۳۔ فرائض کا تارک اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب آپ حضرات کے خیال میں مسلمان ہے یا نہیں؟
۴۔ تصوف( مروّجے نہیں) جس کی دوسری تعبیر احسان وسلوک بھی ہے،جس کی تعلیم اکابر نقشبندیہ،چشتیہ،سہروردیہ قادریہ وغیرہ نے دی ہے،جیسے حضرت شیخ شہاب الدین محمد نقشبند، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، حضرت شیخ محیی الدین عبدالقادر جیلانی اس تصوف کو آپ حضرات دین کے لیے مفید سمجھتے ہیں یامضر؟
۵۔ کسی روایت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف انتساب کرنے میں اوّل درجہ صحت روایت کو ہے یا درایت کو۔ وہ درایت جو حدیث کی صحت کی جانچ کے لیے مدار بنے،آپ کے نزدیک اس کی تعریف کیا ہے؟
۶۔ جماعت اسلامی کے ممبروں اور ہم دردوں کے سوا ہندوستان کے عام مسلمان جو اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں اور جو آپ کی اصطلاح میں محض نسلی مسلمان ہیں،وہ شرعی اعتبار سے دائرۂ اسلام میں ہیں یا اس سے خارج؟
۷۔ آپ کے نزدیک معیار حق ہونے کا مطلب کیا ہے اور اس مطلب کے مطابق صحابۂ کرام معیار حق ہیں یا نہیں؟
۸۔ ایک مسلمان کے لیے مسلمان ہونے کی حیثیت سے نفس تقلید فرض ہے یا نہیں؟ اور تقلید شخصی کا درجہ آپ کے نزدیک کیا ہے؟ اور آپ کے نزدیک تقلید شخصی کو واجب کہنے والے لائق تحسین ہیں یا قابل ملامت؟
۹۔ کیا آپ اس کے قائل ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے بالارادہ انبیائے کرام سے لغزش کرائی ہے؟
۰ا۔ نماز،روزہ،زکوٰۃ ،حج اور جہاد ان عبادات میں شرعاً مقصود بالذات کون سی عبادت ہے اور اولیٰ درجہ کس کو حاصل ہے؟ کیا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اسلام میں مقصود نہیں بلکہ ان کی حیثیت ذرائع اور وسائل کی ہے،مقصود دراصل جہاد ہے؟یہ عقیدہ آپ کا ہے یا نہیں؟
۱۱۔ کلمۂ شہادت پر اقرار کے چارپانچ روز یا چار پانچ گھنٹے بعد ایک شخص کی وفات ہوگئی اور باوجود استطاعت کے اس نے ایک مسلمان قرض خواہ کے قرض کو ادا نہیں کیا۔ کیا آپ اس کو مسلمان سمجھتے ہوئے جنازہ کی نما ز پڑھیں گے یا نہیں؟
۱۲۔ ایسے مسلمان جو سرکاری دفاتر میں ملازم ہیں یا گورنمنٹ کی عدالتوں میں جج اور مجسٹریٹ ہیںاور ان کے ہاتھوں قانو ن ہند کا نفاذ ہوتا ہے، یا مجالس قانون سازکے رکن ہیں اور قانون سازی میں حصہ لیتے ہیں،یہ لوگ آپ کے نقطۂ نظر سے دائرۂ اسلام میں داخل ہیں یا نہیں؟ اور آپ حضرات کے نزدیک شرعی نقطۂ نظر سے ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟
جواب: یاد فرمائی کا شکریہ!میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دوسروں کے متعلق فتوے دینے کی ذمہ داری آپ حضرات خواہ مخواہ اپنے ذمے لیتے ہی کیوں ہیں۔اگر کوئی شخص آپ لوگوں کے متعلق مجھ سے دریافت کرے تو میں پہلے ہی معذرت پیش کردوں گا اور کوئی سوال نامہ مرتب کرکے آپ کے پاس نہ بھیجوں گا۔تاہم چوں کہ آپ نے یہ سوالات بھیجنے کی تکلیف اٹھائی ہے اس لیے مختصر جوابات حاضر ہیں۔
۱۔ جی ہاں!میرے نزدیک صحابۂ کرام ؓ کا اجماع حجت ہے۔
۲۔ صحابۂ کرام ؓکو برا کہنے والا میرے نزدیک صرف فاسق ہی نہیں ہے،بلکہ اس کا ایمان بھی مشتبہ ہے۔ من ابغضھم فببغضی ابغضھم۔
۳۔ ہم اسے مسلمان مانتے ہیں،مگر اس کی اصلاح کے لیے کوشش کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔
۴۔ ہمارے نزدیک ہر وہ چیز جو کتاب اﷲ وسنت رسول اﷲ سے مطابقت رکھتی ہے وہ مفید ہے اور جو مطابقت نہیں رکھتی وہ مضر ہے۔ اسی کلیے میں تصوف بھی آجاتا ہے۔ تصوف میں بھی کتاب وسنت کے مطابق جو کچھ ہے، حق ہے، اس کا مفید ہونا شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ لیکن جو آمیزش بھی کتاب وسنت سے ہٹی ہوئی ہے، اس سے ہم اجتناب کرتے ہیں، اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
۵۔ احادیث کی تحقیق میں دیکھنے کی پہلی چیزحدیث کی سند ہے۔ اس کے بعد درایت کا درجہ آتا ہے۔درایت سے مراد یہ ہے کہ حدیث کے مضمون پر غو رکرکے دیکھا جائے کہ وہ قرآن مجید اور سنت ثابتہ کے خلاف تو نہیں پڑتی؟ اس کی تائید کرنے والی دوسری روایات موجود ہیں یا نہیں؟ کوئی بات اگر فرمائی گئی ہے یا کوئی عمل اگر کیا گیا ہے تو کس موقع پر کیا گیا ہے اور اس موقع سے اس کی مناسبت کیا ہے، وغیرہ۔
۶۔ جماعت اسلامی میں شامل ہونا ہمارے نزدیک مسلمان ہونے کے لیے شرط نہ کبھی تھا نہ اب ہے، نہ ہم اس حماقت میں ان شاء اﷲ کبھی مبتلا ہوسکتے ہیں کہ جو اس جماعت میں نہیں ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ جماعت سے باہر کے تمام مسلمانوں کو ہم نے ’’نسلی مسلمان‘‘ نہیں کہا ہے، بلکہ ان لوگوں کو کہاہے جو دین کے علم وعمل سے بے بہرہ ہیں اور اپنے اخلاق وعادات اور اعمال میں اسلام کی کھلی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
۷۔ ہمارے نزدیک معیار حق سے مراد ہے وہ چیز جس سے مطابقت رکھنا حق ہو اور جس کے خلاف ہونا باطل ہو۔ اس لحاظ سے معیار حق صرف خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت ہے۔صحابۂ کرامؓ معیار حق نہیں ہیں بلکہ کتاب وسنت کے معیار پر پورے اترتے ہیں۔کتاب وسنت کے معیارپر ہی جانچ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ گروہ برحق ہے۔ان کے اجماع کو ہم اس بِنا پر حجت مانتے ہیں کہ ان کا کتاب وسنت کی ادنیٰ سی خلاف ورزی پر بھی متفق ہوجانا ہمارے نزدیک ممکن نہیں ہے۔
۸۔ مسلمان کے لیے مسلمان ہونے کی حیثیت سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید فرض ہے۔رہی ائمۂ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید تو ہم ایسے مسلمانوں کے لیے اس کو ضروری سمجھتے ہیں جو خود مسائل شرعیہ کی تحقیق کرنے کے اہل نہ ہوں۔ رہے تحقیق کی قابلیت رکھنے والے لوگ،تو اگر وہ کسی اما م مجتہد کے اقوال کی صحت پر مطمئن ہوں تو ہمارے نزدیک ان کا اتباع قابل اعتراض نہیں ہے۔لیکن اگر تحقیق سے وہ کسی مسئلے میں اپنے امام کے سوا کسی دوسرے امام کے قول کو اوفق بالکتاب والسنہ سمجھتے ہوں، لیکن قصداً اپنے امام ہی کی تقلید کریں تو یہ ہمارے نزدیک جائزنہیں ہے۔
۹۔ جی نہیں! میرا خیال یہ ہے کہ انبیا علیہم السلام چوں کہ اﷲ تعالیٰ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں، اس لیے ان سے لغزش کا صدور اس بِنا پر نہیں ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نعوذ باﷲ، کسی وقت ان سے غافل ہوگیا تھا،بلکہ اس بِنا پر ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے وہ لغزش ان سے صادر ہوجانے دی، تاکہ دنیا پر یہ بات بھی واضح ہوجائے کہ وہ بندے اور بشر ہی ہیں، خدائی صفات کے حامل نہیں ہیں۔
۰ا۔ میرے نزدیک مقصود دراصل اقامت دین ہے۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوافیہ۔ نماز، روزہ، حج اورزکوٰۃ اس دین کے ارکان ہیں جن پر یہ دین قائم ہوتا ہے اس لیے ان کو قائم کرنا اقامت دین کے لیے مطلوب ہے‘ اور جہاد چوں کہ دین کو اس کے پورے نظام کے ساتھ قائم کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے وہ بھی اقامت دین ہی کے لیے مطلوب ہے۔ سوال کے آخری حصے کا جواب حضرت معاذ بن جبل والی حدیث میں موجود ہے۔ الا ادلک برأس الامر و عمودہ وذروۃ سنامہ؟ قال بلی یارسول اللّٰہ، قال راس الامر الاسلام وعمودہ الصلٰوۃ وذروۃ سنامہ الجھاد۔
۱۱۔ یقیناً میں اس کی نماز جنازہ پڑھوں گا۔
۱۲۔ میرے نزدیک وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں۔میں ان کو مسلمان سمجھتے ہوئے ہی یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ تم وہ کام کررہے ہو جو مسلمان کے کرنے کا نہیں ہے۔
( ترجمان القرآن۔اگست ا۹۶اء)
……٭٭٭……