مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دارالاسلام کی ایک نئی تعریف:

سوال: میرے دو سوال حاضر خدمت ہیں،امید ہے کہ تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں گے۔

(۱) دارالکفر، دارالحرب اور دارالاسلام کی صحیح تعریف کیا ہے؟دارالکفراور دارالاسلام میں کس چیز کو ہم اصلی اور بنیادی قرار دے سکتے ہیں؟ مجھے اس مسئلے میں تردّد مولانا حسین احمد صاحب

مدنی ؒ کی حسب ذیل عبارت سے ہوا ہے؟

’’اگر کسی ملک میں اقتدار اعلیٰ کسی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہرحال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی ودینی شعائر کا احترام کیا جاتا ہو، تو وہ ملک حضرت شاہ صاحب [یعنی شاہ عبدالعزیز صاحبؒ] کے نزدیک بے شبہ دارالاسلام ہوگا اور ازروئے شرع مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھ کر اس کے لیے ہر نوع کی خیر خواہی اور خیر اندیشی کا معاملہ کریں۔ ‘‘

(نقش حیات جلد دوم صفحہ ا۱)

آپ اس مسئلے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

(۲) آیت وَيَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَo ابراہیم 25:14 میں لفظ لَعَلَّ آیا ہے جو شک کا کلمہ ہے، حالاں کہ اﷲ تعالیٰ کوہر چیز کا قطعی علم ہے۔ پھر اس کی کیا توجیہ کی جائے گی؟

جواب: آپ نے اپنا پہلا سوال مجھ سے کرنے کے بجائے مولانا حسین احمدصاحب ہی سے کیا ہوتا تو بہتر تھا۔ آپ ان سے پوچھیے کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت میں مسلمان جس درجہ شریک ہیں اور ان کے مذہبی ودینی شعائر کا جیسا کچھ احترام کیا جاتا ہے، اس سے تو بدرجہ ہا زیادہ وہ انگریزی دَور میں شریک حکومت تھے، اور اس سے بہت زیادہ ان کے شعائر مذہبی کا احترام انگریزی دور میں ہو رہا تھا۔ اگر کسی کو اس سے انکار ہو تو انگریزی دور کے مسلم وزرا اور ایگزیکٹو کونسل کے مسلم ممبروں اور فوجی اور سول محکموں کے مسلم ملازموں کی تعداد کا موجودہ بھارتی حکومت کے ہر شعبے میں حصہ پانے والے مسلمانوں کی تعداد سے مقابلہ کرکے ہر وقت اسے قائل کیا جاسکتا ہے۔ رہا شعائر مذہبی کا احترام، تو موجودہ ہندو اقتدار کے دور میں مساجد کی جتنی بے حرمتی ہوئی ہے، اس کامقابلہ انگریزی دور سے کرکے دیکھ لیا جائے۔ اس دور میں مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی عورتوں کی عصمت پر جتنے حملے ہوئے ہیں، ان کا مقابلہ انگریزی دور کے ایسے ہی حملوں سے کرلیا جائے۔ اور اس دور میں مسلمانوں کے پرسنل لا کا جو حشر ہوا ہے، اس کے مقابلے میں دیکھ لیا جائے کہ ڈیڑھ سو برس کے انگریزی دور میں اس پرسنل لا کا کیا حال رہا ہے۔ اب اگر’’ حضرت شاہ صاحب کی تعریف کے مطابق موجودہ بھارت بے شبہ دارالاسلام ہے‘‘ تو انگریزی دور کا ہندوستان کیوں نہ تھا؟آپ مولانا سے صاف صاف وہ وجہ فرق وامتیاز پوچھیں جس کی بِنا پر ان کو انگریزی دور کا ہندوستان تو دارالکفر نظر آتا تھا اور موجودہ ہندوستان دارالاسلام نظر آتا ہے۔ اس سوال کاجو جواب مولانا دیں،اس سے مجھے بھی مطلع فرمایے، تاکہ میں بھی اس نئی فقہی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکوں۔میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ موجودہ بھارت بھی اگر دارالاسلام ہے تو پھر دنیا میں کوئی ملک دارالکفر ہو بھی سکتا ہے یا نہیں؟

مولانا حسین احمد صاحب کے معتقدین چاہے کتنا ہی برا مانیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آج مولانا کی قیادت میں دیو بند اس مقام سے بھی بدرجہ ہا زیادہ فرو تر مقام پر کھڑا ہے جہاں انگریزی دور اقتدار کے آغاز میں علی گڑھ کھڑا ہوا تھا۔سرسیّد اور چراغ علی اور محسن الملک وغیر ہم نے انگریزی اقتدار کے ساتھ مصلحت کرنے میں اس تنزل کا عشر عشیر بھی اختیار نہیں کیا تھا جو اب مولانا حسین احمد اور ان کے ہم خیال علما نے ہند واقتدار کے ساتھ مصالحت میں اختیار کیا ہے۔ان نیچریوں نے اسلامی تصورات کو مسخ کرنے میں وہ جسارت کبھی نہ دکھائی تھی جس کا اظہار اب یہ سکہ بند علما کررہے ہیں، اور غضب یہ ہے کہ اپنے ساتھ خاندان شاہ ولی اﷲ اور اپنے دوسرے اکابر کو بھی لے ڈوبنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے تقدس پر آنچ نہ آنے دیں۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جن امور میں اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اختیار تفویض کیا ہے، ان میں اﷲ تعالیٰ انسان کی اصلاح کے لیے جو تدبیر اختیار فرماتا ہے،اس سے نتیجہ مطلوب کا برآمد ہونا اس پر موقوف ہے کہ انسان اپنے اختیار کو صحیح استعمال کرے۔ اور چوں کہ اﷲ تعالیٰ اسے ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہتا اس لیے اس نتیجہ ٔ مطلوب کے برآمد کرنے کا ذکر لَعَلَّ کے ساتھ کرتا ہے۔ یعنی اس نتیجے کا برآمد ہونا یقینی نہیں ہے، بلکہ اگر انسان صحیح طرز فکر اختیار کرلے تب ہی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ نتیجہ رونما ہو۔ (ترجمان القرآن۔جمادی الاوخریٰ ۳۷۶اھ، مارچ ۹۵۷اء)