مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

انسانیت کے مورث ِ اعلیٰ ،حضرت آدم علیہ السلام:

سوال: (الف) قرآن مجید نے حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر جس انداز سے کیا ہے،وہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ نوع بشری کے یہ سب سے پہلے رکن بڑے ہی مہذب تھے۔اس سلسلے میں جو چیز میرے ذہن میں خلش پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس متمدن انسان کی صلب سے وحشی قبائل آخر کس طرح پیدا ہو گئے۔ تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ قبائل اخلاق اور انسانیت کی بالکل بنیادی اقدار تک سے ناآشنا ہیں۔ نفسیات بھی اس امر کی تائید کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وحشی انسانوں اور حیوانوں کے مابین کوئی بہت زیادہ فرق نہیں سوائے اس ایک فرق کے کہ انسان نے اپنی غور وفکر کی قوتوں کو کافی حد تک ترقی دے دی ہے۔ یہ چیز تو مسئلۂ ارتقا کو تقویت پہنچاتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری اس معاملے میں رہنمائی فرما کر میری اس خلش کو دور کریں گے اور اس امر کی وضاحت فرمائیں گے کہ ابتدائی انسان کی تخلیق کی نوعیت کیا تھی اور اس کے جبلی قویٰ کس سطح پر تھے؟

(ب) حضرت آدم علیہ السلام تاریخ کے کس دور میں پیدا ہوئے؟اس ضمن میں مذہب جو معلومات ہمیں فراہم کرتا ہے،نفسیاتی اور ارضیاتی حقائق ان کی تائید نہیں کرتے۔کیا آدم علیہ السلام اور حوا کا یہ قصہ ایک تمثیل اور مجازی چیزنہیں؟

جواب: (الف) میں حضرت آدم علیہ السلام کو نوع انسانی کا پہلا فردسمجھتا ہوں اور میرا یہ بھی خیال ہے کہ پہلے فرد کی براہِ راست تخلیق(direct creation) کی گئی تھی،اور یہ کہ اس فرد کو پیدا کرکے یوں ہی چھوڑنہیں دیا گیا کہ خود ہاتھ پائوں مار کر فکری اور عملی تہذیب کی جانب پیش قدمی کرے،بلکہ اسے خدا وندتعالیٰ کی رہنمائی ونگرانی میں وہ ابتدائی تربیت بھی دی گئی جو تہذیب انسانی کی داغ بیل ڈالنے کے لئے لازماً درکار تھی۔ آپ غور کریں تو خود سمجھ سکتے ہیں کہ ہر نوع کے افراد کو زندگی کا آغاز کرنے کے لئے کچھ بنیادی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ حیوانات کے افراد کو یہ رہنمائی بہت کم اور محدود پیمانے پر درکار ہوتی ہے اور وہ ہر بچۂ حیوان کو بالعموم اس کے ماں باپ یا دوسرے افراد نوع سے ملتی ہے۔ انسان کا بچہ اس سے بہت زیادہ اور بڑے پیمانے پر نگرانی ورہنمائی کا محتاج ہوتا ہے،جو اگر نہ ملے تو وہ یا تو زندہ ہی نہیں رہ سکتا یا بچہ انسان کی حیثیت سے نشوونما نہیں پا سکتا۔ یہ ابتدائی اور ضروری رہنمائی میرے نزدیک پہلے نوع کے ہر فرد کو اور اسی طرح نوع انسانی کے بھی اوّلین فرد کو اس کی ضرورت کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی۔

یہ بات کہ انسان کبھی تہذیب سے بالکل عاری اور اپنی حالت میں پوری طرح حیوانات کی سطح پر تھا،محض ایک مفروضہ ہے جو اس دوسرے مفروضے پر قائم کیا گیا ہے کہ انسان حیوانات میں سے ترقی کرتا ہوا حالت انسانی کو پہنچا ہے۔اس وقت تک کے مشاہدات میں کوئی چیز ان دونوں مفروضات کی تائید کرنے والی ،تائید اس معنی میں کہ انہیں ثابت کردے،نہیں ملی ہے۔ اس کے برعکس قدیم ترین آثار میں بھی جہاں کہیں انسان(نہ کہ کوئی خیالی مفقود حلقہ، missing link) ملا ہے، وہیں تہذیب کے بھی نشانات ملے ہیں، چاہے وہ کیسے ہی ابتدائی مرحلے کے ہوں۔ خالص غیر مہذب وغیر متمدن انسان مثل حیوان، اب تک کہیں نہیں پایا گیا ہے۔ جن کو آپ غیر متمدن (savage) کہتے ہیں، ان میں اور حیوانی زندگی کی برتر صورتوں میں اگر واقعی تقابل کیا جائے تو ایسے بنیادی فرق پائے جائیں گے کہ حیوان کی کسی اونچی سے اونچی قسم کو انسان کی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ وحشیانہ حالت سے بھی کوئی نسبت نہ ہوگی۔یہ دراصل ارتقا خولیا ہے جس کی وجہ سے کچھ سطحی تشابہات کو انسان وحیوان میں مماثلت کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔بالکل ابتدائی حالت میں بھی چند چیزیں ایسی ہیں جو قطعی طور پرانسان اور حیوان میں فرق کردیتی ہیں۔ مثلاً حیا، جس کا اظہار اعضائے جنسی کو چھپانے اور مباشرت میں اخفا سے کام لینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ الفاظ اور اشارات کی شکل میں اظہار خیال جو حیوانات کی آوازوں سے بالکل بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے۔ قوت ایجاد جو حیوانات کی جبلت کے تحت لگی بندھی صنعتوں سے کلیتاً اپنی نوعیت میں بالکل ایک مختلف چیزہے۔ ارادی اور غیر ارادی افعال میں فرق کرنا اور ارادی افعال پر اخلاقی احکام لگانا جو حیوانات کی کسی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ شکل میں بھی موجود نہیں ہے۔مذہبی حس جو حیوانات میں مفقود ہے مگر انسانوں کا کوئی گروہ انتہائی وحشت کی حالت میں بھی اس سے خالی نہیں پایا گیا ہے۔

(ب) آدم علیہ السلام کا زمانۂ وجود متحقق کرنے کا ابھی تک کوئی ذریعہ نہیں ملا ہے۔ کوئی علم اس معاملے میں یقینی یا قریب بہ یقین معلومات فراہم نہیں کرتا۔ یہ علم صرف انبیا علیہم السلام اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے۔ البتہ علم تناسل اور قیاس عقلی کی مدد سے دو نظریے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یا تو یہ کہ موجودہ انسانی نسل متعدد انسانی مورثوں کے نطفے سے نکلی ہو، یا پھر یہ کہ اس کا ایک ہی مورث ہو اور اس سے حیات انسانی ان بے شمار افراد تک منتقل ہوئی ہو۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ان میں سے کون سا نظریہ زیادہ قرین عقل ہے۔ (ترجمان القرآن،جلد ۵۳،عدد ۲، نومبر ۹۵۹اء)