مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خواب میں زیارتِ نبویؐ:

سوال: براہِ کرم مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں اپنی تحقیق تحریرفرما کر تشفی فرمائیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو درحقیقت اس نے مجھے ہی دیکھا۔کیوں کہ شیطان میری تمثال میںنہیں آسکتا،او کما قال۔

اس حدیث کی صحیح تشریح کیا ہے؟کیانبیؐ کو جس شکل وشباہت میں بھی خواب میں دیکھا جائے تو یہ حضورؐ ہی کو خواب میں دیکھنا سمجھا جائے گا؟کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو یورپین لباس میں دیکھنا بھی آپ کو دیکھنا سمجھا جائے گا؟ اور کیا اس خواب کے زندگی پر کچھ اثرات بھی پڑتے ہیں؟

جواب: اس حدیث کی صحیح تشریح یہ ہے کہ جس نے نبیؐ کو حضورؐ کی اصلی شکل وصورت میں دیکھا،اس نے درحقیقت آپ ؐ ہی کو دیکھا۔ کیوں کہ شیطان کو یہ قدرت نہیں دی گئی ہے کہ وہ آپؐ کی صورت میں آکر کسی کو بہکا سکے۔ اس کی یہی تشریح حضرت محمد بن سیرینؒ نیکی ہے۔ امام بخاریؒ کتاب التعبیر میں ان کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اذ راٰہ فی صورتہٖ (جب کہ دیکھنے والے نے آپؐ کو آپؐ ہی کی صورت میں دیکھا ہو) علامہ ابن حجر صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص ابن سیرین سے کہتا کہ میں نے خواب میں نبیؐ کو دیکھا ہے تو وہ اس سے پوچھتے تھے کہ تو نے کس شکل میں دیکھا۔ اگر وہ آپ کی کوئی ایسی شکل بیان کرتا جو آپ کے حلیے سے نہ ملتی تھی تو ابن سیرین کہہ دیتے تھے کہ تو نے حضو رصلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے۔ یہی طرزِ عمل حضرت ابن عباسؓ کا بھی تھا، جیسا کہ حاکم نے بسند نقل کیا ہے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ خود حدیث کے الفاظ بھی اسی معنی کی توثیق کرتے ہیں۔ جن مختلف الفاظ میں یہ حدیث صحیح سندوں سے منقول ہوئی ہے ان سب کا مفہوم یہی ہے کہ ’’شیطان نبیؐ کی شکل میں نہیں آسکتا۔‘‘ نہ یہ کہ شیطان کسی شکل میں آکر آدمی کو یہ دھوکا نہیں دے سکتا کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی جان لینی ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں نبیؐ کو دیکھے اور آپ سے کوئی امر یا کوئی نہی کا حکم سنے، یا دین کے معاملے میں کسی قسم کا ایما آپ سے پائے، تو اس کے لئے اس خواب کی پیروی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس تعلیم یا ایما کے مطابق کتاب وسنت ہونے کا اطمینان نہ کر لے۔اﷲ اور اس کے رسولؐ نے ہمارے لیے دین کا معاملہ خوابوں اور کشفوں اور الہاموں پر نہیں چھوڑا ہے ۔حق اور باطل اور صحیح اور غلط کو ایک روشن کتاب اور ایک مستند سنت میںپیش کردیا گیا ہے جسے بیداری میں اور پورے شعور کی حالت میں دیکھ کر راہ راست معلوم کی جاسکتی ہے۔اگر کوئی خواب یا کشف یا الہام اس کتاب اور اس سنت کے مطابق ہے تو خدا کا شکر ادا کیجیے کہ اﷲ نے حضورؐ کی زیارت نصیب کی،یا کشف والہام کی نعمت سے نوازا۔ لیکن اگر وہ اس کے خلاف ہے تو اسے ردکر کیجیے اور اﷲ سے دعا مانگیے کہ وہ ایسی آزمایشوں سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھے۔

ان دو باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بکثرت لوگ گمراہ ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں۔ متعدد آدمی میرے علم میں ایسے ہیں جو صرف اس بِنا پر ایک گمراہ مذہب کے پیرو ہوگئے کہ انہوں نے خواب میں نبیؐ کو اس مذہب کے بانی کی توثیق کرتے یا اس کی طرف التفات فرماتے دیکھا تھا۔ وہ اس گمراہی میں نہ پڑتے اگر اس حقیقت سے واقف ہوتے کہ خواب میں کسی شکل کے انسان کو نبیؐ کے نام سے دیکھ لینا درحقیقت حضورؐ کو دیکھنا نہیں ہے۔ اور یہ کہ خواب میں واقعی حضورؐ ہی کی زیارت نصیب ہو، تب بھی کوئی حکم شرعی اور امر دینی ایسے خواب سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر شیطان کے فریب سے تحفظ صرف اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی اصلی شکل میں دیکھے تو اس کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوسکتا تھا جنہوںنے آپ کو بیداری میں دیکھا تھا۔ بعد کے لوگ آخر کیسے جان سکتے ہیں کہ جو شکل وہ خواب میں دیکھ رہے ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے یا کسی اور کی؟ ان کو اس حدیث سے کیا تسلی ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے لوگ اس بات کا اطمینان تو نہیں کرسکتے کہ انہوں نے جو شکل خواب میں دیکھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شکل تھی،مگر یہ تو معلوم کرسکتے ہیں کہ خواب کے معنی اور مضمون کی مطابقت قرآن و سنت کی تعلیم سے ہے یا نہیں۔ مطابقت پائی جاتی ہوتو پھر زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ انہوں نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت کی ہے،کیوں کہ شیطان کسی کو راہِ راست دکھانے کے لئے تو بہروپ نہیں بھرا کرتا۔

(ترجمان القرآن، ذی القعدہ ۳۷۵اھ، جولائی ۹۵۶اء)