مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تخلیق زر:

میرا تیسرا اور آخری سوال کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ فقہی استفسار ہے۔کیا اسلامی بنکنگ میں تجارتی بنکوں کو تخلیق زر کی اجازت ہوگی یا نہیں؟…اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اگر اس کی اجازت نہ ہوگی تو اعتباری نظام میں لچک کس طرح پیدا کی جائے گی؟

امید ہے کہ آپ میرے اعتراضات کے تشفی بخش جواب دے کر میرے ذہن کواطمینان بخشیں گے۔

جواب: آپ کے سوالات کا مختصر جواب حاضر ہے۔ تفصیلی بحث کی فرصت نہیں۔ صرف اشارات پر اکتفا کرتا ہوں۔

آپ کا پہلا اعتراض دو مفروضوں پر مبنی ہے۔ایک یہ کہ’’ صرف کرو‘‘ کی تبلیغ فوراً یہ نتیجہ دکھادے گی کہ لوگ بے تحاشا صرف کرنا شروع کردیں گے اور روپیا بچانے یا کام پر لگانے کے سارے رجحانات بھی ختم ہوجائیں گے۔دوسرے یہ کہ ’’صرف کرو‘‘ سے مراد اپنے اوپر ہی صرف کرنا اور ضروریات سے گزر کر تعیشات پر صرف کردینا ہے۔حالاں کہ یہ دونوں ہی باتیں درست نہیں ہیں۔ صرف کرنے کا رجحان بتدریج بڑھے گا۔ اس دوران میں اگر ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کے لیے بھی کوشش جاری رہے تو اس کام کے لیے روپیا ملتا رہے گا اور ان دونوں چیزوں کی متوازن نشو ونما سے جیسے جیسے صنعتیں بڑھیں گی،ان کے پیدا کردہ مال کی کھپت بھی بڑھتی اور صنعتوں کے لیے مزید ترقی کا سامان لاتی چلی جائے گی۔پھر صرف کردینے سے ہماری مراد صرف اپنی ہی ذات پر صرف کرنا نہیں،بلکہ انفاق فی سبیل اﷲ بھی ہے، اس لیے روپے کا ایک بڑا حصہ ان طبقوں میںجائے گا جن کی قوت خرید بحالت موجودہ بہت گھٹی ہوئی ہے اور وہ قوت خرید پیدا ہوجانے کے بعد اپنی ہر قسم کی ضروریات لینی شروع کردیں گے، جن سے تمام مختلف قسم کی صنعتوں کی آبیاری ہوگی۔ میرے ان دونوں بیانات کے پیچھے یہ بات بنیادی مفروضے کے طور پر کام کررہی ہے کہ ملک کا نظام ایسے دانش مند لوگوں کے ہاتھوں چل رہا ہو جو ایک طرف اخلاق عامہ کی اصلاح اور صحت مند ذہنیت کی تخلیق کررہے ہوں، اور دوسری طرف تمام ان ذرائع کو جو ملک کے اندر فراہم ہوسکتے ہوں،ترقی کے کاموں پر ہوشیاری کے ساتھ لگاتے چلے جارہے ہوں۔

بنکنگ کے سلسلے میں ،میں نے جو کچھ لکھا ہے،اس میں پہلے جدید بنکنگ کی ابتدا بتائی گئی ہے اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ رفتہ رفتہ نشو ونما پاکر اب یہ کاروبار کس طرح چل رہا ہے۔اس میں میرے پیش نظر بجائے خود بنکنگ پر فنی بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ دراصل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سسٹم میں قباحت کا پہلو کیا ہے اور اس قباحت کے پہلو کو اس سے خارج کرکے وہ اصل ضرورت کیسے پوری کی جاسکتی ہے جس کے لیے ایک بنکنگ سسٹم درکار ہے۔اسی لیے میں زیادہ تفصیلی بحثوں میں نہیں گیا ہوں۔ آپ نے اپنا اعتراض اٹھاتے وقت اس بات کا لحاظ نہیںرکھا کہ میں نے بنکنگ کی پیدائش اور نشو ونما کو تین مرحلوں میں بیان کیا ہے اور آپ نے ساری بحث کو ایک ہی مرحلہ بنا کر وہ باتیں جو ابتدائی دور سے متعلق تھیں،موجودہ صورت حال کے متعلق سمجھ لی ہیں۔نیز موجودہ صورت حال کو بھی آپ ایک مجرد مفروضے کی صورت میں پیش کررہے ہیں،حالاں کہ میں تیسرے مرحلے کے عنوان سے جو بحث کررہا ہوں،وہ بنکوں کے اس عملی طریق کار سے تعلق رکھتی ہے جس پر اب فی الواقع کام چل رہا ہے۔آپ کے پاس اگر کتاب وہاں موجود ہو تو میری ساری بحث کو اس تقسیم کے مطابق پڑھیںجس طرح میں نے اپنے ذیلی عنوانات قائم کرکے کی ہے۔پھر آپ کو یہ محسوس ہوجائے گا کہ اس پر وہ اعتراض نہیں اٹھتے جو آپ نے اٹھائے ہیں۔آپ کا یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ میں تخلیق زر(creation of money) کو بنکنگ کی تاریخ کا محض ایک پرانا باب سمجھ رہا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ عمل ابھی جاری ہے۔لیکن میں نے تیسرے مرحلے کی بحث میں اس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ جس مدعا کی خاطر میں ساری بحث کررہا ہوں،اس سے یہ چیز براہِ راست متعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں،میری بحث کا مقصد بنکنگ پر فنی گفتگو نہیں ہے، بلکہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے نقصان دہ پہلوئوں کو واضح کرکے اصلاح کی شکل پیش کرنا ہے۔

آپ کے آخری سوال کاجواب یہ ہے کہ تخلیق زر کی پشت پر اگر سود اور فریب نہ ہو تو اس میں کوئی حرمت کا پہلو نہیں ہے۔اب یہ دیکھنا آپ لوگوں( یعنی اہل فن) کا کام ہے کہ معاشی ضرورت کے لیے ایک صحت مند تخلیق زر کا نظام کیسے قائم ہوسکتاہے جو قباحت کے پہلوئوں سے پاک ہو۔ (ترجمان القرآن۔ شعبان،رمضان۱۳۷۶ھ۔ جون ۹۵۷اء)