مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا زکوٰۃ کے علاوہ انکم ٹیکس عائد کرنا جائز ہے؟

سوال: کیا اسلام میں زکوٰۃ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس عائد کرنا بھی جائز ہے؟

جواب: جی ہاں ،اسلامی ریاست میں یہ دونوں چیزیں جائزہوسکتی ہیں۔زکوٰۃ کے مصارف بالکل متعین ہیں جو سورۂ توبہ میں بیان کردیے گئے ہیں۔اسی طرح اس کا نصاب اور اس کی شرح بھی نبیؐ نے متعین فرما دی ہے۔ان امور میں کوئی ترمیم وتنسیخ جائز نہیں ہے۔اب ظاہر ہے کہ ریاست کو اگر دوسری مزید ضروریات در پیش ہوں تو ان کے لیے وہ قوم سے مالی مدد حاصل کرسکتی ہے۔اگر یہ وصولی جبری ہوتو ٹیکس ہے،اگر رضا کارانہ ہو تو چندہ ہے، اور واپسی کی شرط ہو تو قرضہ (loan)ہے۔زکوٰۃاور یہ دوسری قسم کی وصولیاں نہ ایک دوسرے کی جگہ لے سکتی ہیںاور نہ ۱یک دوسرے کو ساقط کرسکتی ہیں۔ یہ تو اس مسئلے کا اصولی جواب ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں آپ کو یہ اطمینان بھی دلاتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک میں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم ہوجائے اور دیانت داری سے اس کا نظام چلایا جائے تو اتنے ٹیکسوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی جتنے آج موجود ہیں۔موجودہ زمانے میں ٹیکسوں کے معاملے میں جتنی بدعنوانیاں اور بددیانتیاں ہوتی ہیں،وہ آپ خوب جانتے ہیں۔ایک طرف تو جس مقصد کے لیے ٹیکس لگایا جاتا ہے،اس کا بمشکل دس فی صد اس مقصد کے لیے صرف ہوتا ہے۔دوسری طرف ٹیکس سے بچنے(evasion) کی ایک عام ذہنیت پیدا ہوگئی ہے۔اگر نظام درست ہوجائے تو موجودہ ٹیکسوں کا ایک چوتھائی حصہ بھی کفایت کرے گا اور افادیت چارپانچ گنا زیادہ ہوجائے گی۔(ترجمان القرآن،ذی الحجہ ۳۷۳اھ، ستمبر ۱۹۵۴ء)