رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پاکستان میں شرعی سزائوں کے نفاذ کا مسئلہ:
سوال: پاکستان میں جماعت اسلامی کے مخالف حضرات پھر اس مہم کو چلانے کی تیاریاں کررہے ہیں جو مارشل لا سے قبل اس کے چلانے میں سرگرمی دکھا رہے تھے۔ یعنی یہ کہ آپ اور جماعت اسلامی کو بدنام کیا جائے۔چنانچہ بعض خاص جرائد کے دیکھنے سے بخوبی واضح ہے۔ ان حضرات کی تقریروں میں بھی اس قسم کی باتیں عام اجتماعات اور اجلاسوں میں سنی جاتی ہیں اور منظر عام پر یہ باتیں آگئی ہیں۔
اس سلسلے میں وہ سب سے زیادہ زور اس مسئلے پر دیتے ہیں کہ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پاکستان میں حدود و قصاص اور شرعی سزائوں کو ’’ظلم‘‘ کہتے ہیں، حالاں کہ یہ قرآن کی تجویز کردہ سزائیں ہیں۔ حال ہی میں ایک ممتاز عالم نے قومی اسمبلی میں آپ کے متعلق اس قسم کا بیان دیا ہے جو بعض جرائد میں شائع ہوچکا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں جب ہم جرائم کے انسداد کی غرض سے شرعی سزائوں کے نفاذ کے لیے کوئی بل پیش کرتے ہیں تو الحاد پرست ممبروں کی طرف سے ہماری مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ مولانا مودودی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ پاکستان کی مخلوط سوسائٹی میں حدود اور شرعی سزائوں کا نفاذ ظلم ہے۔ اور مولانا کی تحریریں پڑھ کر ہمیں سنائی جاتی ہیں۔ یہ حضرات اسمبلیوں سے باہر آکر لوگوں سے کہا کرتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام اور حدودو قصاص اور شرعی سزائوں کے نفاذ کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ وہی لوگ ڈالتے ہیں جو خود اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، یعنی آپ اور جماعت اسلامی۔
اس قسم کی بحثیں اب عام وخاص کی مجلسوں میں شروع ہوئی ہیں اور عام طور پر ان بحثوں اور مباحثوںکا اثر عوام اور خواص دونوں پر اچھا نہیں پڑ رہا ہے۔بلکہ وہ نئی نئی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں میں پڑ رہے ہیں۔جس کے نتائج دُور رس اور اسلام اور عامۃ المسلمین کے حق میں خطرناک ثابت ہوں گے۔ اور جماعت کے کارکنوں کو بھی اس سے ہر جگہ مشکلات پیش آنے کا قوی اندیشہ ہے۔
اس سلسلے میں آپ کا وضاحتی بیان یا کوئی ایسا مضمون میری نظر سے نہیں گزرا ہے جو پاکستان میں بحالت موجودہ شرعی سزائوں کے نفاذ کے بارے میں آپ کے موقف کی وضاحت کے لیے کافی ہو۔
جواب: آپ کی نصح وخیر خواہی کی میں دل سے قدر کرتا ہوں۔ مگر آپ نے اس بات پر غور نہیں فرمایا کہ یہ حضرات جو کھیل کھیل رہے ہیں ،اس کی تہ میں کیا ہے۔شرعی سزائوں کے متعلق میری ایک عبارت کو خاص معنی پہنا کر اچھالنے اور جگہ جگہ اس کو پھیلانے کی جو خدمت وہ انجام دے رہے ہیں، یہ کام کیا فی الواقع کسی ایسے شخص ہی کے کرنے کا تھا جو پاکستان میں حدود شرعیہ کے اجرا کا دل سے خواہاں ہو؟ اخلاص کے ساتھ اس بات کی خواہش رکھنے والا انسان تو یہ کوشش کرے گا کہ اجرائے حدود کے معاملے کوتمام اہل دین کے متفق علیہ مسئلے کی حیثیت سے پیش کرے۔ لیکن یہ حضرات ایک ایسے خادم دین کو، جوبرسوں سے اسلامی قانون کے نفاذ کی خاطر لڑ رہا ہے اجرائے حدود کے مخالف کی حیثیت دے رہے ہیں اور اس کا نام اچھال اچھال کر دنیا کے سامنے یہ یقین دلانے کے لیے پیش کررہے ہیں کہ وہ پاکستان میں حدودِ شرعیہ کے نفاذ کو ظلم کہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اُس عبارت کا مفہوم ومدعا میں نے بیان کیا تھا یا وہ اس میں یہ مفہوم داخل کررہے ہیں؟ اس عبارت کی اشاعت عام میں کرر ہا ہوں یا وہ کر رہے ہیں؟ اس کو اجرائے حدود کے معاملے میں رکاوٹ ڈالنے کا ذریعہ میںبنارہا ہوں، یا وہ بنا رہے ہیں؟آج یہ لوگ نہایت مکاری کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’جب ہم شرعی سزائوں کے نفاذ کے لیے کوئی بل پیش کرتے ہیں تو الحاد پرست ممبروں کی طرف سے ہماری مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ مولانا مودودی نے یہ اور یہ فتویٰ دیا ہے۔‘‘ ان سے ذرا پوچھیے کہ مودودی کا یہ فتویٰ ان الحاد پرست ممبروں کے علم میں آپ لوگوں کے سوا اور کون لایا ہے؟ آپ لوگ ہی تو ہیں جو مودودی سے انتقام لینے کے لیے اس کی ایک عبارت کو زبردستی شرعی سزائوں کے خلا ف فتویٰ بنا کر اچھال رہے ہیں اور ہرروز اچھالے جارہے ہیں تاکہ کوئی الحاد پرست اس کو اپنی اغراض کے لیے ہتھیار بنائے۔
اور معاملہ صرف ایک عبارت ہی کا نہیں ہے۔آئے دن میری کتابوں اور عبارتوں میں سے ایک نئی چیز نکالی جارہی ہے اور ایک نیا الزام مجھ پر چسپاں کیا جارہا ہے۔میرے ساتھ ان لوگوں کا معاملہ وہی ہے جو اکابر دیو بند کے ساتھ بریلوی کرتے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہوچکا ہے کہ یہ لوگ خدا اور آخرت سے بالکل بے فکر ہیں۔بلکہ ان کے انداز گفتگو میں دیانت تو درکنا ر شرافت تک کے آثار نہیں پائے جاتے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کی کسی بات کی طرف التفات نہ کروں گا اور صبر کے ساتھ اپنا کام کرتا رہو ں گا۔ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَo الشعرائ 227:26
سوال: تفہیمات کا مضمون( قطع ید اور دوسرے شرعی حدود)ایک عرصے سے عنوان بحث بنا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جناب مفتی صاحب سے رجوع کیا گیا۔ انہوں نے مضمون متذکرہ کو غور سے مطالعہ کرنے کے بعد حکم دیا ہے کہ مندرجہ ذیل استفسار آںجناب سے کیا جائے:
۱۔ اسلام کے قانون واصول قطعی طورپر ناقابل تجزیہ ہیں؟یا کچھ گنجایش ہے؟ مثلا ً:اگر حکومت اجرائے حدود کا قانون پاس کردے اور جج حضرات ان قوانین کے عملی نفاذ کے مجاز ہوجائیں لیکن معاشرے کی حالت یہی رہے جو اب ہے اور اصلاح معاشرہ کے لیے کوئی قانون نافذہی نہ کیا جائے، تو اس صورت میں شرعی ثبوت کے بعد رجم اور جَلد کی سزا ظلم ہوگی یا نہیں؟
۲۔ آپ نے تفہیما ت میں لکھا ہے کہ نکاح، طلاق اور حجاب شرعی کے اسلامی قوانین اور اخلا ق صنفی کے متعلق اسلام کی تعلیمات سے ان حدود کا گہرا ربط ہے جسے منفک نہیں کیا جاسکتا۔حالاں کہ مندرجہ بالا صورت میں یہ ربط ٹوٹ جائے گا۔جو لوگ اس فعل کے ذمہ دارہوں گے(پارلیمنٹ یا حکومت) یقینا ان کا یہ فعل نامناسب ہوگا۔ مگر کیا ان قوانین کی رو سے عدالت جو حکم اور حد جاری کرے گی کیا یہ حکم اور حد جاری کرنا ظلم ہوگا؟
۳۔ کیا حکومت کو اصلاح معاشرہ کے لیے اجرائے حدود کو کچھ مدت کے لیے ملتوی رکھنا چاہیے اور احکام اسلامی کے اجرا میں کسی خاص ترتیب کو ملحوظ رکھنا چاہیے؟
جواب: میرے اس مضمون کے متعلق سوال کرنے سے پہلے اچھا ہوتا کہ اسی مضمون کے آخر میں اس کی جو تاریخ تحریر درج کی گئی ہے،اسے بھی دیکھ لیا جاتا اور یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی کہ مضمون کا اصل موضوع زیر بحث کیا تھا۔ تفہیمات حصہ دوم میں جہاں یہ مضمون درج ہے، وہیں آخر میں یہ نوٹ بھی موجود ہے کہ یہ مارچ ۹۳۹اء میں لکھا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت کوئی حکومت ایسی موجود نہیں تھی جس میں یہ سوال درپیش ہوتا کہ اب یہاں حدود شرعیہ جاری کی جائیں یا نہیں۔ پھر مضمون کا موضوع بھی یہ نہیں تھا کہ یہاں اجرائے حدود کی کیا صورت ہو۔ اس کا موضوع تو ان لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینا ہے جو زنا اور قذف اور سرقے کی شرعی سزائوں کو انتہائی سخت قرار دیتے تھے اور وحشیانہ سزا کہنے سے بھی نہ چوکتے تھے۔ اس کے جواب میں ان کو سمجھایا گیا تھا کہ اسلام محض ان جرائم پر سزا ہی نہیں دیتا بلکہ ان کے ساتھ معاشرے میں ان اسباب کی روک تھام بھی کرتا ہے جن کی وجہ سے لوگ ان جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم اسلام کی اس اصلاحی اسکیم کو نظر انداز کرکے معاشرہ تو وہ فرض کرتے ہو جس میں فسق وفجور کو بڑھانے کے لیے تمام اسباب فراہم کردیے گئے ہیں اور پھر یہ تصورکرکے چیخ اٹھتے ہو کہ اس صورت حال کو باقی رکھتے ہوئے اسلام کا محض قانو ن تعزیرات نافذ کردیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تمہیں یہ سزائیں حد سے زیادہ سخت نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بحث میں سے جن لوگوں نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ میں اجرائے حدود شرعیہ کا مخالف ہوں وہ کس حد تک نیک نیت ہیںاور ان کی نکتہ آفرینیاں کہاں تک قابل التفات ہیں؟
اب جو سوالات مفتی صاحب نے اٹھائے ہیں، ان کا مختصر جواب حاضر ہے:
اس وقت اگر کوئی مسلمان حکومت اسلام کے تمام احکام وقوانین اور اس کی ساری اصلاحی ہدایات کومعطل رکھ کر اس کے قوانین میں سے صرف حدود شرعیہ کو الگ نکال لے اور عدالتوں میں ان کو نافذ کرنے کا حکم دے دے تو جو قاضی یا جج کسی زانی یا سارق یا شارب خمر پرحد جاری کرنے کا حکم دے گا وہ تو ظالم نہیں ہوگا،البتہ وہ حکومت ضرور ظالم ہوگی جس نے شریعت الٰہیہ کے ایک حصے کو معطل او ردوسرے حصے کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں ایسی حکومت کو اس آیت قرآنی کا مصداق سمجھتا ہوں جس میں فرمایا گیا ہے:
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۰ۚ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۰ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ۰ۭ [ تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل وخوار ہو کررہیں اور روز قیامت وہ شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں گے]۔
البقرہ 85:2
میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جو حکومت خود شراب بنانے اور بیچنے کے لائسنس دیتی ہو اور جس کی تقریبات میں خود حکومت کے کارفرما اور ان کے معزز مہمان شراب سے شغل کرتے ہوں،ان کے قانون میں اگر شارب خمر کے لیے ۸۰ کوڑے لگانے کی سزا مقرر کردی جائے تو اسے ہم اسلامی قانون نافذ کرنے والی حکومت کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ میں یہ نہیں مانتا کہ ایک طرف عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط کو رواج دینا، لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ کالجوں میں پڑھانا، عورتوں سے سرکاری دفاتر میں مردوں کے ساتھ کام لینا، ننگی تصویروں اور عریاں فلموں اور فحش لٹریچر کی بے روک ٹوک اشاعت جاری رکھنا، ۶ا سال سے کم عمر کی لڑکی اور ۸ا سال سے کم عمر کے لڑکے کا نکاح قانوناًممنوع ٹھیرانا،اور دوسری طرف زنا پر رجم اور کوڑوں کی سزا دینا فی الواقع اسلامی قانون کا اجرا ہے۔مجھے یہ ہرگز تسلیم نہیں ہے کہ سود اور قمار کو حلال کرنے والی اور ان محرمات کو خود رواج دینے والی حکومت چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ کرکے اسلامی قانون نافذ کرنے والی حکومت قرار دی جاسکتی ہے۔اگر کوئی عالم دین اس متضاد طرز عمل کے جواز کے قائل ہوں اور ان کے نزدیک شریعت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اس کے اجزا میں سے بعض کو ترک اور بعض کو اخذ کرلینا ظلم نہیں بلکہ ایک نیکی ہو تو اپنے دلائل ارشادفرمائیں۔
دراصل یہ مسئلہ محض اس سادہ سے قانونی سوال پر بحث کرکے حل نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ حالات میں شرعی حدود کا نفاذ جائز ہے یا نہیں۔اﷲ اور اس کے رسولؐ نے ہم کو محض احکام ہی نہیں دیے ہیں بلکہ ان کے ساتھ کوئی حکمت بھی سکھائی ہے، جس سے کام لے کر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ایک مدت دراز تک کفر وفسق کی فرماں روائی کے تحت رہنے کے بعد ہمارے ملک میں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں،ان میں اقامت دین کا کام اب کس طرح ہونا چاہیے۔ جہاں تک میں نے شریعت کو سمجھا ہے، اس کے نظام میں اصلاح،سد باب ذرائع اور تعزیر کے درمیان ایک مکمل توازن قائم کیا گیا ہے۔ ایک طرف وہ ہر پہلو سے تزکیۂ اخلاق اور تطہیر نفوس کی تدابیر ہمیں بتاتی ہے، دوسری طرف وہ ایسی ہدایات ہمیں دیتی ہے جن پر عمل درآمد کرکے ہم بگاڑ کے اسباب کی روک تھام کرسکتے ہیں، اور تیسری طرف وہ تعزیرات کا ایک قانون ہمیں دیتی ہے تاکہ تمام اصلاحی وانسدادی تدابیر کے باوجود اگر کہیں بگاڑرونما ہوجائے تو سختی کے ساتھ اس کا تدارک کردیا جائے۔ شریعت کا منشا اس پوری اسکیم کو متوازن طریقے سے نافذ کرکے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس کے کسی جز کو ساقط اور کسی کو نافذ کرنا حکمت دین کے بالکل خلاف ہے۔ اس کے جواز میں یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ جس جز کو ہم نافذ کررہے ہیں اس کے نفاذ کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ اس استدلال کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک حکیم کا مرتب کردہ نسخہ کسی اناڑی کے ہاتھ آجائے اور وہ اس کے بہت سے اجزا میں سے صرف دوچار اجزا نکال کر کسی مریض کو استعمال کرائے اور اعتراض کرنے والے کا منہ بند کرنے کے لیے یہ دلیل پیش کرے کہ جو اجزا میں استعمال کرا رہا ہوں، وہ سب حکیم کے نسخے میں درج ہیں۔ اس کی اس دلیل کا جواب آخر آپ یہی تو دیں گے کہ بند ۂ خدا، حکیم کے نسخے میں جو مصلحات اور بدرقے درج تھے، ان سب کو چھوڑ کر تو صرف سمیات مریض کو استعمال کرارہا ہے اور نام حکیم کا لیتا ہے کہ میں اس کے نسخے سے علاج کررہا ہوں۔حکیم نے تجھ سے یہ کب کہا تھا کہ تو میرے نسخے میں سے جس جز کو چاہے چھانٹ کر نکال لے اور جس مریض کو چاہے کھلا دے۔
اس کے ساتھ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ شریعت آیا اپنے نفاذ کے لیے مومن ومتقی کارکن چاہتی ہے یا فاسق وفاجر لوگ اور وہ لوگ جو اپنے ذہن میں اس کے احکام کی صحت کے معتقد تک نہیں ہیں؟ اس معاملے میں بھی محض جواز اور عدم جواز کی قانونی بحث مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مجرد قانونی لحاظ سے ایک کام جائز بھی ہوتو یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ حکمت دین کے لحاظ سے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ کیا حکمت دین کا یہ تقاضا ہے کہ احکام شرعیہ کا اجرا ایسے حکام کے ذریعے سے کرایا جائے جن کی اکثریت رشوت خور، بدکردار اور خدا و آخرت سے بے خوف ہے اور جن میں ایک بڑی تعدادعقیدتاً مغربی قوانین کو برحق اور اسلامی قوانین کو غلط اور فرسودہ سمجھتی ہے؟ میرے نزدیک تو اسلام کو دنیا بھر میں بدنام کردینے اور خود مسلم عوام کو بھی اسلام سے مایوس کردینے کے لیے اس سے زیادہ کارگر نسخہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کے ہاتھوں احکام شریعت جاری کرائے جائیں۔اگر چند بندگان خدا پر بھی جھوٹے مقدمات بناکر سرقے اور زنا کی حد جاری کردی گئی تو آپ دیکھیں گے کہ اس ملک میں حدود شرعیہ کا نام لینامشکل ہوجائے گا اور دنیا میں یہ چیز اسلام کی ناکامی کا اشتہار بن جائے گی۔اس لیے اگر ہم دین کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں ،اس سے دشمنی نہیں کرنا چاہتے، تو ہمیں پہلے اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ ملک کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجائے جو دین کی سمجھ بھی رکھتے ہوں اور اخلاص کے ساتھ اس کو نافذ کرنے کے خواہش مند بھی ہوں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہو گا کہ اسلام کی پوری اصلاحی اسکیم کو ہر جہت سے ہمہ گیر طریقے پر نافذ کیا جائے اور اسی سلسلے میں حدود شرعیہ کا اجرا بھی ہو۔ یہ کام بڑا صبر اور بڑی حکمت چاہتا ہے۔یہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا نہیں ہے کہ آج مجلس قانون ساز میں ایک دو نشستیں ہاتھ آگئیں اورکل حدود شرعیہ جاری کرنے کے لیے ایک مسود ۂ قانون پیش کردیا گیا۔
اس سلسلے میں ایک بات اور بھی سمجھ لینی چاہیے۔ایک حالت تو وہ ہوتی ہے جس میں پہلے سے ملک کے اندر اسلامی قانون نافذ چلا آرہا ہو اور بعد میں بتدریج انحطاط رونما ہوتے ہوتے یہ نوبت آگئی ہو کہ شریعت کے بعض حصے متروک ہوگئے ہوں اور جن حصوں پر عمل ہو بھی رہا ہو،ان کونافذ کرنے والے بدکردار لوگ ہوں۔ اس حالت میں حکمت دین کا تقاضا یہ نہ ہوگا کہ شریعت کے جو حصے نافذ ہیں،ان کوبھی چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ یہ ہوگا کہ عام اصلاح کی کوششیں کرکے ایک طرف صالح عناصر کو برسر اقتدار لایا جائے اور دوسری طرف شریعت کے باقی ماندہ حصوں کو نافذ کیا جائے۔ دوسری حالت وہ ہے جس میں کفر وفسق کا سیلاب سب کچھ بہا لے گیا ہو اور اب ہم کو نئے سرے سے تعمیر کا آغاز کرنا ہو۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ بنیادوں سے تعمیر شروع کرنی ہوگی نہ کہ اوپر کی منزلوں سے۔ (ترجمان القرآن۔ جلد ۵۹،عدد ا۔ اکتوبر ۹۶۲اء)