رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی ریاست میں شاتم رسول ؐ ذمی کی حیثیت:
سوال: راقم الحروف نے پچھلے دنوں آپ کی تصنیف’’الجہاد فی الاسلام‘‘کا مطالعہ کیا۔ اسلام کا قانون صلح وجنگ کے باب میں صفحہ ۲۴۰ ضمن(۶) میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ:
’’ذمی خواہ کیسے ہی جرم کا ارتکاب کرے اس کا ذمہ نہیں ٹوٹتا، حتیٰ کہ جزیہ بند کر دینا، مسلمانوں کو قتل کرنا، نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنا، یا کسی مسلمان عورت کی آبرو ریزی کرنا اس کے حق میں ناقض ذمہ نہیں ہے۔ البتہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں عقد ذمہ باقی نہیں رہتا۔ ایک یہ کہ وہ دارالاسلام سے نکلے اور دشمنوں سے جاملے۔ دوسرے یہ کہ حکومت اسلامیہ کے خلاف علانیہ بغاوت کرکے فتنہ وفساد برپا کرے۔‘‘
فدوی کو اس امر سے اختلاف ہے او رمیں اسے قرآن وسنت کے مطابق نہیں سمجھتا۔ میری تحقیق یہ ہے کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنا اور دوسرے امور جن کا آپ نے ذکر فرمایا ہے،ان سے ذمی کا عقد ذمہ ٹو ٹ جاتا ہے۔آپ نے اپنی رائے کی تائید میں فتح القدیر جلد ۴ اور بدائع صفحہ ۳اا کا حوالہ دیا ہے۔لیکن دوسری طرف علامہ ابن تیمیہ نے ’’الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے۔ زاد المعاد،تاریخ الخلفاء، عون المعبود، نیل الاوطار جیسی کتابوں میں علمائے سلف کے دلائل آپ کی رائے کے خلاف ہیں۔یہاں ایک حدیث کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں: عن علیؓ ان یھودیۃ کانت تشتم النبی ﷺ وتقع فیہ فخنقھا رجل حتی ماتت فابطل النبیﷺ دمھا حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ ایک یہودیہ نبیؐ کے خلاف بدزبانی کرتی تھی اور آپؐ پر باتیں چھانٹتی رہتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ نبی ؐنے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔
( ابو دائود، ملاحظہ ہو،مشکوٰۃ ،باب قتل اہل الردۃ والافساد صفحہ ۳۰۸)
ضمناً یہ بھی بیان کردوں کہ یہاں کے ایک مقامی اہل حدیث عالم نے آپ کی اس رائے کے خلاف ایک مضمون بعنوان’’ مولانا مودودی کی ایک غلطی‘‘ شائع کیا ہے اور اس میں متعدد احادیث اور علما کے فتوویٰ درج کیے ہیں۔
جواب: یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اس میں آپ یا دوسرے حضرات جو رائے بھی رکھتے ہوں، رکھیں اور اپنے دلائل بیان کریں۔ دوسری طرف بھی علما کا ایک بڑا گروہ ہے اور اس کے پاس بھی دلائل ہیں۔اصل اختلاف اس بات میں نہیں ہے کہ جزیہ نہ دینا،یا سبِّ نبیؐ ،یا ہتک مسلمات قانونی جرم مستلزم سزا ہیں یا نہیں ،بلکہ اس امر میں ہے کہ یہ جرائم آیا قانون کے خلاف جرائم ہیں یا دستور مملکت کے خلاف۔ ایک جرم وہ ہے جو رعیت کا کوئی فرد کرے تو صرف مجرم ہوتا ہے۔ دوسرا جرم یہ ہے جس کا ارتکاب وہ کرے تو سرے سے رعیت ہونے ہی سے خارج ہوجاتا ہے۔حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ذمی کے یہ جرائم پہلی نوعیت کے ہیں۔بعض دوسرے علما کے نزدیک ان کی نوعیت دوسری قسم کے جرائم کی سی ہے۔ یہ ایک دستوری بحث ہے جس میں دونوں طرف کافی دلائل ہیں۔ اس میں کسی کے ناراض ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔جن صاحب نے مضمون لکھا ہے،انہوں نے انصاف نہیں کیا کہ اسے صرف میری غلطی قرار دیا۔ یہ اگر غلطی ہے تو سلف میں بہت سے اس کے مرتکب ہیں۔میرا تو صرف یہ قصور ہے کہ کسی مسئلے میں مسلک حنفی کی تائید کرتا ہوں تو اہل حدیث خفا ہوجاتے ہیں اور کسی مسئلے میں اہل حدیث کی تائید کرتا ہوں تو حنفی پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔ذی القعدہ ۳۷۴اھ، جولائی ۹۵۵اء)