رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دور جدید کی رہنما قوت،اسلام یا عیسائیت؟
سوال: بیسیویں صدی کے اس مہذب ترقی یافتہ دورکی رہنمائی مذہبی نقطۂ نظر سے اسلام کرسکتا ہے یا عیسائیت؟ کیا انسان کو سیکولرزم یا دہریت روحانی یا مادّی ترقی کی معراج نصیب کرا سکتی ہے؟ بالخصوص کمیونزم کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے اور ختم کرنے کی صلاحیت کس میں ہے؟
جواب: یہ سوال کئی سوالات کا مجموعہ ہے۔اس لیے ایک ایک جز پر علیحدہ علیحدہ بحث ہو گی۔
الف۔ جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے،اس دور کی رہنمائی سے وہ پہلے ہی دست بردار ہوچکی ہے۔بلکہ درحقیقت وہ کسی دور میں بھی انسانی تہذیب وتمدن کی رہنمائی نہیں کرسکی ہے۔ عیسائیت سے مراد اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ تعلیمات ہیں جو اب عیسائیوں کے پاس ہیں، تو بائبل کے عہد جدید کو دیکھ کر ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب وتمدن کے متعلق کیا رہنمائی اور کتنی رہنمائی کرتی ہے؟اس میں چند مجرد(abstract) اخلاقی اصولوں کے سوا سرے سے کوئی چیز موجود نہیںجس سے انسان اپنی معاشرت اور اپنی معیشت اور سیاست اور عدالت اور قانو ن کے متعلق کوئی ہدایت حاصل کرسکے۔ لیکن اگر عیسائیت سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو عیسائی پادریوں نے بنایا تھا، تو سب کو معلوم ہے کہ یورپ میں احیائے علوم کی نئی تحریک کے رونما ہونے کے بعد وہ ناکام ہوگیا اور مغربی قوموں نے اس کے بعد جتنی کچھ بھی مادی ترقی کی، وہ عیسائیت کی رہنمائی سے آزاد ہوکر ہی کی ہے،اگرچہ اسلام کے خلاف عیسائیت کا تعصب اور عیسائیت کے ساتھ ایک جذباتی تعلق اُن میں اس کے بعد بھی موجود رہا اور اب بھی ہے۔
ب۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ،وہ اپنے آغاز ہی سے تمدن وتہذیب کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ رہنمائی کرتا ہے بلکہ اس نے خود اپنا ایک مستقل تمدن اور اپنی ایک خاص تہذیب بھی پیدا کی ہے۔انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق قرآن مجید نے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو ہدایت نہ دی ہو اور ان ہدایات کے مطابق عملی ادارے قائم نہ کردیے ہوں۔ یہ چیزیں جس طرح ساتویں صدی عیسوی میں قابل عمل تھیں،اسی طرح بیسویں صدی میں بھی قابل عمل ہیں اور ہزاروں برس آیندہ بھی ان شاء اﷲ قابل عمل رہیں گی۔ اس ’’ترقی یافتہ دور‘‘ میں کسی ایسی چیز کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی جس کی وجہ سے اسلام آج نہ چل سکتا ہو یا انسان کی رہنمائی نہ کر سکتا ہو۔ جو شخص اس معاملے میں اسلام کو ناقص سمجھتاہو،اس کا کام ہے کہ کسی ایسی چیز کی نشان دہی کرے جس کے معاملے میں اسلام اس کو رہنمائی سے قاصر نظر آتا ہو۔
ج۔ سیکولرزم یا دہریت درحقیقت نہ کسی روحانی ترقی میں مدد گار ہیں اور نہ مادی ترقی میں۔معراج نصیب کرنے کا ذکر ہی کیا ہے؟میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے کے اہل مغرب نے جو ترقی مادی حیثیت سے کی ہے ،وہ سیکولرزم یا مادہ پرستی یا دہریت کے ذریعے سے نہیں کی، بلکہ اس کے باوجود کی ہے۔ مختصراً میری اس رائے کی دلیل یہ ہے کہ انسان کوئی ترقی اس کے بغیر نہیں کرسکتا کہ وہ کسی بلند مقصد کے لیے اپنی جان ومال کی،اپنے اوقات اور محنتوں کی اور اپنے ذاتی مفاد کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ لیکن سیکولرزم اور دہریت ایسی کوئی بنیاد فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کی بِنا پر انسان یہ قربانی دینے کو تیار ہوسکے۔اسی طرح کوئی انسانی ترقی اجتماعی کوشش کے بغیر نہیں ہوسکتی، اور اجتماعی کوشش لازماً انسانوں کے درمیان ایسی رفاقت چاہتی ہے جس میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور ایثار ہو۔ لیکن سیکولر زم اور دہریت میں محبت وایثار کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے۔اب یہ ساری چیزیں مغربی قوموں نے مسیحیت سے بغاوت کرنے کے باوجود ان مسیحی اخلاقیات ہی سے لی ہیں جو ان کی سوسائٹی میں روایتاً باقی رہ گئی تھیں۔ان چیزوں کو سیکولرزم یا دہریت کے حساب میں درج کرنا غلط ہے۔سیکولرزم اور دہریت نے جو کام کیا ہے،وہ یہ کہ مغربی قوموں کو خدا اور آخرت سے بے فکر کرکے خالص مادہ پرستی کا عاشق اور مادی لذائذ فوائد کا طالب بنا دیا ہے۔ مگر ان قوموں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جن اخلاقی اوصاف سے کام لیا، وہ ان کو سیکولرزم یا دہریت سے نہیں ملے بلکہ اس مذہب ہی سے ملے جس سے وہ بغاوت پر آمادہ ہو گئے تھے۔ اس لیے یہ خیال کرنا سرے سے غلط ہے کہ سیکولرزم یا دہریت ترقی کی موجب ہیں۔وہ تو اس کے برعکس انسان کے اندر خود غرضی، ایک دوسرے کے خلاف کش مکش اور جرائم پیشگی کے اوصاف پیدا کرتی ہیں، جو انسان کی ترقی میں مددگار نہیں بلکہ مانع ہیں۔
د۔ کمیونزم کے سیلاب کو روکنے کی صلاحیت کسی ایسے ہی نظام زندگی میں ہوسکتی ہے جو انسانی زندگی کے عملی مسائل کو اس سے بہتر طریقے پر حل کرسکے اور اس کے ساتھ انسان کو وہ روحانی اطمینان بھی بہم پہنچا سکے جس کا کمیونزم میں فقدان ہے۔ایسا نظام اگر بن سکتا ہے تو صرف اسلام کی بنیاد پر بن سکتا ہے۔ (ترجمان القرآن، جلد ۵۷،عدد ا۔اکتوبر ا۹۶اء)