مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی حکومت میں معاشرے کی اصلاح وتربیت:

سوال: کیا اسلامی حکومت خواتین کی بڑھتی ہوئی آزادی کو سختی سے روکے گی؟جیسے ان کی زیبایش اور نیم عریاں لباس زیب تن کرنے اور فیشن کا رجحان، اور جیسے آج کل نوجوان لڑکیاں نہایت تنگ ودل فریب سینٹ سے معطر لباس اور غازہ وسرخی سے مزین اپنے ہر خدوخال اور نشیب و فراز کی نمایش برسر عام کرتی ہیں اور آج کل نوجوان لڑکے بھی ہالی وڈ کی فلموں سے متاثر ہوکر ٹیڈی بوائز بن رہے ہیں۔تو کیا حکومت قانون(legislation) کے ذریعے سے ہر مسلم وغیر مسلم لڑکے اور لڑکی کے آزادانہ رجحان کو روکے گی؟خلاف ورزی پر سزا دے گی؟والدین وسرپرستوں کو جرمانہ کیا جاسکے گا؟ تو اس طرح کیا ان کی شہری آزادی پر ضرب نہ لگے گی؟ کیا گرلز گائیڈ، اپوا (APWA)، یا دیگر وائی ،ایم ،سی ،اے (YMCA) اور وائی، ڈبلیو، سی، اے (YWCA) جیسے ادارے اسلامی نظام میں گوارا کیے جاسکتے ہیں؟کیا خواتین اسلامی عدلیہ سے خود طلاق لینے کی مجاز ہوسکیں گی؟ اور مردوں پر ایک سے زیادہ شادی کی پابندی آج جائز ہوگی؟یا خواہ اسلامی عدالت کے روبر وہی سہی،ان کو اپنی پسند سے(civil marriage) کرنے کا حق حاصل ہو سکتا ہے؟ کیا خواتین کو یوتھ فیسٹیول، کھیلوں، نمایش، ڈراموں، ناچ، فلموں یا مقابلہ حسن میں شرکت یا (air hostess) وغیرہ بننے کی آج بھی اسلامی حکومت مخالفت کرے گی۔ ساتھ ہی قومی کردار تباہ کرنے والے ادارے مثلاً سینما، فلمیں، ٹیلی ویژن، ریڈیو پر فحش گانے، یا عریاں رسائل ولٹریچر، موسیقی، ناچ ورنگ کی ثقافتی محفلوں وغیرہ کو بند کردیا جائے گا یا فائدہ اٹھانا ممکن ہوگا؟

جواب: اسلام معاشرے کی اصلاح وتربیت کا سارا کا م محض ڈنڈے سے نہیں لیتا، تعلیم، نشرواشاعت او ررائے عام کا دبائو اس کے ذرائع اصلاح میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تمام ذرائع کے استعمال کے بعد اگر کوئی خرابی باقی رہ جائے تو اسلام قانونی وسائل اور انتظامی تدابیر استعما ل کرنے میں بھی تامل نہیں کرتا۔عورتوں کی عریانی اور بے حیائی فی الواقع ایک بہت بڑی بیماری ہے جسے کوئی سچی اسلامی حکومت برداشت نہیں کرسکتی۔یہ بیماری اگر دوسری تدابیر اصلاح سے درست نہ ہو یا اس کا وجود باقی رہ جائے تو یقینا اس کو ازروئے قانون روکنا پڑے گا۔ اس کا نام اگر شہری آزادی پر ضرب لگانا ہے تو جواریوں کو پکڑنا اور جیب کتروں کو سزائیں دینا بھی شہری آزادی پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ اجتماعی زندگی لازماً افراد پر کچھ پابندیاں عائد کرتی ہے۔افراد کو اس کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا کہ وہ اپنے ذاتی رجحانات اور دوسروں سے سیکھی ہوئی برائیوں سے اپنے معاشرے کو خراب کریں۔

گرل گائیڈز (girl guides) کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ اپوا(APWA) قائم رہ سکتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے دائرہ عمل میں رہ کر کام کرے اور قرآن کا نام لے کر قرآن کے خلاف طریقے استعمال کرنا چھوڑ دے۔ (YMCA) عیسائی عورتوں کے لیے رہ سکتا ہے مگر کسی مسلمان عورت کو اس میں گھسنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مسلمان عورتیں چاہیں تو (YWMA) بنا سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ اسلامی حدود میں رہیں۔

مسلمان عورت اسلامی عدلیہ کے ذریعے سے خلع حاصل کر سکتی ہے۔ فسخ نکاح (nullification) اور تفریق(judicial separation) کی ڈگری بھی عدالت سے حاصل کرسکتی ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ان میں سے کوئی ڈگری عدالت سے حاصل کرنے کی مجاز ہو۔ لیکن طلاق(divorce) کے اختیارات قرآن نے صریح الفاظ میں صرف مرد کو دیے ہیں او رکوئی قانون مردوں کے اس اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ قرآن کا نام لے کر قرآن مجید کے خلاف قوانین بنائے جانے لگیں۔ پوری اسلامی تاریخ عہد رسالت ؐ سے لے کر اس صدی تک اس تصور سے نا آشنا ہے کہ طلاق دینے کا اختیار مرد سے سلب کرلیا جائے اور کوئی عدالت یاپنچایت اس میں دخل دے۔ یہ تخیل سیدھا یورپ سے چل کر ہمارے ہاں درآمد ہوا ہے اور اس کے درآمدکرنے والوں نے کبھی آنکھیں کھول کر یہ نہیں دیکھا ہے کہ یورپ میں قانون طلاق کا پس منظر (background) کیا ہے اور وہاں اس کے کتنے برے نتائج رونما ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں جب گھروں کے سکینڈل نکل کر بازاروں میں پہنچیں گے تو لوگوں کو پتا چلے گا کہ خدا کے قوانین میں ترمیم کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔

مردوں پر ایک سے زیادہ شادی کے معاملے میںازروئے قانون پابندی عائد کرنے کا یا اس میںرکا وٹ ڈالنے کا تخیل بھی ایک بیرونی مال ہے جسے قرآن کے جعلی پرمٹ پر درآمد کیا گیا ہے۔ یہ اس سوسائٹی میں سے آیاہے جس میں ایک ہی عورت اگر منکوحہ بیوی کی موجودگی میںداشتہ کے طور پر رکھی جائے تو نہ صرف یہ کہ وہ قابل برداشت ہے بلکہ اس کے حرامی بچوں کے حقوق محفوظ کرنے کی بھی فکر کی جاتی ہے (فرانس کی مثال ہمارے سامنے ہے) لیکن اگر اسی عورت سے نکاح کرلیا جائے تو یہ جرم ہے۔ گویا ساری پابندیاں حلال کے لیے ہیں،حرام کے لیے نہیںہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کی ابجد سے بھی واقف ہو تو کیا وہ یہ اقدار(values) اختیار کرسکتا ہے؟ کیا اس کے نزدیک زنا قانوناً جائز اور نکاح قانوناً حرام ہونے کا عجیب وغریب فلسفہ برحق ہوسکتا ہے؟ اس طرح کے قوانین بنانے کا حاصل اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں زنا کا رواج بڑھے گا۔ گرل فرینڈز اور داشتائیں(mistresses) فروغ پائیں گی او ردوسری بیو ی ناپید ہوجائے گی۔ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہوگی جو اپنے خدوخال میں اسلام کی اصل سوسائٹی سے بہت دُور اور مغربی سوسائٹی سے بہت قریب ہو گی۔ اس صورت حال کے تصور سے جس کا جی چاہے، مطمئن ہو۔ مسلمان کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔

سول میرج کا سوال ظاہر ہے کہ مسلمان عورت کے ساتھ تو پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سوال اگر پیدا ہوتا ہے تو کسی مشرک عورت سے شادی کرنے کے معاملے میں یا کسی ایسی عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کے معاملے میں جو اسلامی قانون کے تحت کسی مسلمان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہ ہو اور مسلمان مرد اس کے عشق میں مبتلا ہوکر اس اقرارکے ساتھ شادی کرے کہ وہ کسی مذہب کا پابند نہ ہوگا۔یہ کام اگر کسی کو کرنا ہی ہو تو اسے اسلام سے فتویٰ لینے کی کیا ضرورت ہے؟اور اسلام کیوں اپنے ایک پیرو کو اس کی اجازت دے ؟اور ایک اسلامی عدالت کا یہ کام کب ہے کہ مسلمانوں کی اس طریقے پر شادیاں کروائے۔

اگر ایک اسلامی حکومت بھی یوتھ فیسٹیول(youth festival) اور کھیلوں کی نمائشوں اور ڈراموں اور رقص وسرود اور مقابلۂ حسن میں مسلمان عورتوں کو لائے یا ایئر ہوسٹس (air hostess)بنا کر مسافروں کے دل موہنے کی خدمت ان سے لے، تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی حکومت کی آخر ضرورت کیا ہے۔ یہ سارے کام تو کفر اور کفار کی حکومت میں بآسانی ہوسکتے ہیں بلکہ زیادہ آزادی کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔

سینما، فلم، ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ تو خدا کی پیدا کردہ طاقتیں ہیں، جن میں بجائے خود کوئی خرابی نہیں۔ خرابی ان کے اس استعمال میں ہے جو انسانی اخلاق کو تباہ کرنے والا ہے۔ اسلامی حکومت کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان ذرائع کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرے اور اخلاقی فساد کے لیے استعمال ہونے کا دروازہ بند کر دے۔ (ترجمان القرآن۔ جلد ۵۷، عدد۴، جنوری ۹۶۲اء)