مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

شیطان کی حقیقت:

سوال: لفظ شیطان کی ماہیت کیا ہے جو قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور یوں بھی عام فہم زبان میں استعمال ہوتا ہے۔کیا شیطان ہم انسانوں جیسی کوئی مخلوق ہے جو زندگی وموت کے حوادث سے دوچار ہوتی ہے اور جس کا سلسلہ توالد وتناسل کے ذریعے قائم ہے؟کیا یہ بھی ہماری طرح ہم آہنگی میں مربوط ہوتی ہے جس طرح سے ہم کھانے کمانے اور دیگر لوازمات زندگی میں مشغول رہتے ہیں؟اس کے انسان کو دھوکا دینے کی کیا قدرت ہے؟کیا یہ اعضائے جسمانی میں سرایت کرجانے کی قدرت رکھتی ہے اور اس طرح انسان کے اعصاب ومحرکات پر قابو پالیتی ہے اور بالجبر اسے غلط راستے پر لگا دیتی ہے؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دھوکا کیسے دیتی ہے۔

یا شیطان عربی زبان کی اصطلاح میں محض ایک لفظ ہے جو ہر اس فرد کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو تخریبی پہلو اختیار کرلے۔ یا یہ انسان کی اس اندرونی جبلت کا نام ہے جسے قرآن نفس امارہ یا نفس لوامہ کے الفاظ سے تشبیہ دیتا ہے۔یعنی نفس جو غلط کاموں کی طرف اُکساتا ہے۔چوں کہ شیطان کا حربہ بڑا خطرناک ہوتا ہے اس لیے اس سے بچنے کی خاطر یہ سوال پوچھا جارہا ہے۔

جواب: شیطان کے متعلق میرے پاس کوئی ذریعۂ معلومات قرآ ن اور حدیث کے سوا نہیں ہے۔ اس ذریعے سے جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ شیطان محض کسی قوت کا یا انسان ہی کے کسی رجحان کا نام نہیں ہے بلکہ وہ جنوں میں سے ہے اور جن ہماری طرح ایک مستقل مخلوق ہے جس کا ہر فرد،فرد انسان کی طرح ایک شخصیتpersonality) (رکھتا ہے۔ اس کی معیشت اور اس کے مشاغل اور توالد وتناسل وغیرہ کے متعلق ہم کچھ زیادہ نہیں جانتے۔اس کو ہمارے جسم پر قبضہ کرکے ہم سے بالجبر کوئی کام کرا لینے کے اختیارات نہیں دیے گئے ہیں۔وہ صرف ہمارے نفس کو ترغیب دینے،اُکسانے اور برے کاموں کی طرف مائل کرنے یا وساوس اور شبہات ڈالنے کا کام کرسکتا ہے۔ اور ہم چاہیں تو اس کی ترغیبات کو رد کرکے اپنے ارادے سے ایک راہ اختیار کرسکتے ہیں۔

(ترجمان القرآن،جلد ۵۲، عدد۵ ۔اگست ۹۵۹اء)

سوال: جب بھی کسی برائی کے سرز د ہوجانے کے بعد مجھے مطالعۂ باطن کا موقع ملا ہے،تو میں نے یوں محسوس کیا ہے کہ خارج سے کسی قوت نے مجھے غلط قدم اٹھانے پر آمادہ نہیں کیا بلکہ میری اپنی ذات ہی اس کی ذمہ دار ہے۔جب میری جبلی خواہش میرے فکر پر غالب آجاتی ہے اور میری روح پر نفسانیت کا قبضہ ہوجاتا ہے تو اس وقت میں گناہ کا ارتکاب کرتا ہوں۔باہر سے کوئی طاقت میرے اندر حلول کرکے مجھے کسی غلط راہ پر نہیں لے جاتی۔ مگر جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ان فکری اور عملی گمراہیوں کا محرک شیطان ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔یہ دشمن انسانیت کبھی خارج سے اور کبھی انسان کے اندر گھس کر اسے غلط راستوں پر لے جاتا ہے۔اس سلسلے میں دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ آپ بھی شیطان کو ایک مستقل وجود رکھنے والی ایسی ہستی تسلیم کرتے ہیں جو انسان کو بہکاتی اور پھسلاتی ہے۔

جواب: شیطان کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ وہ جن کی نوع کا ایک فرد ہے ،اور اس نوع کے بہت سے افراد نوع انسانی کی طرح مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔نیز شیاطین جن انہی کافروں میں سے ہیں۔اسی طرح قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جنوں کی نوع ناری الخلقت ہے۔ مجھے اس نوع کے وجود میں کوئی اشکال محسوس نہیں ہوتا۔ مادّہ اور قوت (energy) کے متعلق ہماری معلومات درحقیقت ابھی بالکل ابتدائی ہیں۔ قوت کے مادّی صورت اختیار کرنے کے بعد کی حالتوں کے متعلق تو ہم نسبتاً کچھ زیادہ جانتے ہیں مگر مادّی صورت اختیار کیے بغیر محض قوت رہنے کی حالت میں وہ کیا کیا کچھ ہوسکتی ہے ،اس علم کی سرحد سے ابھی ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے ،اور آخر کیوں ممکن نہیں ہے کہ محض توانائی ہونے کی حالت میں بھی مختلف انواع کی موجودات اس کائنات میں ہوں؟ اور ان میں بعض قسم کی موجودات ایسی بھی ہوں جن کے افراد شعور وارادہ اور حرکت وعمل کی قدرت کے ساتھ اپنی ایک مستقل ذات رکھتے ہوں؟شیطان میرے نزدیک اسی نوعیت کی ایک مخلوق ہے اور یہ مخلوق بھی ہماری طرح اس کرۂ زمین میں پائی جاتی ہے۔

رہا ہمارے نفس کے ساتھ اس کا ربط(contact)اور اس کا ہمارے اندر کے معرکۂ خیر وشر میں شرکے رجحانات کو تقویت پہنچانا،تو یہ بھی کوئی ناقابل یقین یا ناقابل تعقل بات نہیں ہے۔اپنے نفس کے متعلق ابھی ہماری معلومات بہت کم ہیںاور اس کی ترکیب کی گتھیوں کو ہم سلجھا نہیں سکے ہیں۔ یہ بات بعید نہیں کہ جس وقت ہم اپنے اندر ایک کش مکش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ آخری فیصلہ ابھی ہم نے نہیں کیا ہوتاہے کہ خیر اور شر میں سے کس پہلو کو اختیار کریں ،اس وقت کوئی غیر محسوس خارجی موثر ہمارے رجحاناتِ شر کو تقویت پہنچاتا ہو،اور اسی طرح کوئی دوسرا غیر محسوس خارجی موثر(یعنی فرشتہ) ہمارے رجحانات خیر کو مدد دے رہا ہو،بغیر اس کے کہ ہم اس کے عمل اور طریق عمل کا ادراک کر سکیں۔ اگرچہ اس کا ادراک ہمیں نہیں ہوتا، لیکن اگر ایسی کش مکش کے مواقع پر بہت زیادہ غور سے اپنی اندرونی حالت کا جائزہ لیا جائے تو ایک دھند لا سا خیال ضرور آتا ہے کہ خارج سے بھی کوئی چیز ہمارے داخلی عوامل کے ساتھ کام کررہی ہے۔ میں نے خود کبھی کبھی اس کو محسوس کیا ہے۔ بہرحال کسی غیر مادّی صاحب تشخص ہستی کا ہمارے قوائے نفسانی سے براہِ راست ربط قائم کرنا اور ان کو متاثر کرنا کوئی بعید ازامکان بات نہیں ہے اور نہ اس کا تصور کرنا کچھ مشکل ہے۔ الا یہ کہ ہم پہلے ہی سے یہ فرض کر بیٹھیں کہ اس کائنات میں ہماری موجودات کے سوا اور کسی قسم کی موجودات نہیں ہیں۔ (ترجمان القرآن، جلد ۵۳، عدد ۲۔ نومبر۹۵۹اء)