مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج:

سوال: رسائل ومسائل حصہ اوّل میں صفحہ ۵۳ پر آپ نے لکھا ہے کہ ’’یہ کانا دجال وغیرہ تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ ان الفاظ سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ آپ سرے سے دجال ہی کی نفی کررہے ہیں۔ اگرچہ اسی کتاب کے دوسرے ہی صفحے پر آپ نے توضیح کردی ہے کہ جس چیز کو آپ نے افسانہ قرار دیا ہے وہ بجائے خود دجال کے ظہور کی خبر نہیں بلکہ یہ خیال ہے کہ وہ آج کہیں مقید ہے،لیکن کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ آپ مقدم الذکر عبارت ہی میں ترمیم کردیں،کیوں کہ اس کے الفاظ ایسے ہیں جن پر لوگوں کو اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جواب: جس عبارت کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے، وہ کوئی مستقل مضمون نہیں ہے بلکہ ایک سوال کا جواب ہے، اور ہر صاحب عقل آدمی جانتا ہے کہ جب کوئی بات کسی سوال کے جواب میں کہی جائے تو سوال سے قطع نظر کرکے محض جواب سے ایک مطلب نکال لینا صحیح نہیں ہوسکتا۔سائل کا سوال یہ تھا کہ کانا دجال کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں مقید ہے، تو آخر وہ کون سی جگہ ہے؟آج تو دنیا کا کونہ کونہ انسان نے چھان مارا ہے،پھر کیوں کانے دجال کا پتا نہیں چلتا؟(رسائل ومسائل حصہ اوّل،صفحہ ا۵) اس کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا،اس کا تعلق لازماًاسی بات سے تھا جو سوال میں پیش کی گئی تھی،یعنی یہ کہ دجال آج کہیں مقید ہے، اور بعد میں دوسرے ہی صفحے پر خود میں نے اپنی مراد کی صراحت بھی کردی تھی ۔مگر اس پر بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو فتنہ پردازی پر اصرار ہے، وہ خدا کے خوف اور خلق کی شرم سے بے نیاز ہوکر اس عبارت کو غلط معنی پہنائے چلے جارہے ہیں۔اب کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ آج میں اس عبارت میں ترمیم کردوں تو یہ لوگ اپنی اس روش سے باز آجائیں گے؟ آپ کے مشورے کی میں قدر کرتا ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ رسائل ومسائل کے آئندہ ایڈیشن میں یہ عبارت بدل دی جائے گی۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ مریض القلب لوگ اس ترمیم کا کوئی نوٹس نہ لیں گے اور سابق عبارت ہی سے مطلب براری کرتے رہیں گے۔ (ترجمان القرآن،ربیع الاوّل ۳۷۵اھ، نومبر ۱۹۵۵ء)