مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی نظریۂ جہاد سے متعلق ایک شبہ:

سوال: آپ نے ایک مضمون’’جہاد فی سبیل اﷲ‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے جو کہ تفہیمات حصہ اول اور ’’حقیقت جہاد‘‘ میں چھپ چکا ہے۔اس مضمون میں ایک جگہ پر آپ نے ذیل کی عبارت تحریر کی ہے:

’’مسلم پارٹی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی ایک خطے میں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنے پر اکتفا نہ کرے، بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں، اس نظام کو اطراف عالم میں وسیع کرنے کی کوشش کرے۔یہی پالیسی تھی جس پر رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔ عرب،جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی،سب سے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول ومسلک کی طرف دعوت دی، مگر اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں،بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کردیا۔‘‘

اس عبارت پر بعض لوگ یہ اعتراض وارد کرتے ہیں کہ یہ تعلیم اسلام اور تاریخ اسلام کی صحیح نمایندگی نہیں ہے اور اس سے اس الزام کو تقویت پہنچتی ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔ آپ ترجمان میں توضیح فرمائیں کہ اس عبارت سے آپ کا مدعا کیا ہے اور اس کے لیے دلیل کون سی ہے؟

جواب: میں نے اس عبارت میں ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا ہے جس کی پشت پر نبیؐ کا اسوۂ حسنہ اور خلفائے راشدین کا عمل موجود ہے۔ حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے مجھے اس امر کا کوئی ثبو ت نہیں مل سکا کہ سلاطین روم وعجم کے خلاف فوج کشی سے پہلے ان ممالک میں صحابۂ کرام کو عام تبلیغی مہمات پر روانہ کیا گیا ہو اور پھر اس دعوت وتبلیغ کے نتائج کا انتظار کیا گیا ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سلاطین کو خطوط بھیجنے پر اکتفا فرمایا۔ اس کے ساتھ آپ نے یہ ضروری نہیں سمجھا کہ براہِ راست باشندگان روم وایران ومصر کو خطاب کریں اور ان کے جواب کا انتظار فرمائیں۔ خلفائے راشدین کے عہد میں بھی صورت حال یہی رہی ہے۔ روم کی طرف سے پہلے غزوۂ موتہ، پھر غزوۂ تبوک اور آخر میں جیش اسامہ کی مہم اس کی بیّن دلیل ہے۔ ایران کے خلاف حضرت ابو بکرؓ کی جنگ اور مصر پر حضرت عمرؓ کی چڑھائی بھی اسی کا ثبوت ہے۔

اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس کی وجہ بھی بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ ان ممالک کے عوام کو مخاطب کرنے کے بجائے صرف ان کے حکمرانوں سے کیوں خطاب کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ممالک میں شخصی حکومتیں قائم تھیں اور مستبد فرما نروا اقتدار پر قابض تھے۔ ان کا برسر اقتدار ہونا ہی اشاعت اسلام کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ان کی موجودگی میں نہ تو اس امر کا امکان تھا کہ دعوت عام باشندگان ملک میں پھیلائی جاسکے اور نہ عوام کو اتنی آزادی رائے اور آزادی عمل حاصل تھی کہ اگر وہ اس دعوت کو حق پائیں تو اسے قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔ ان حالات میں حکمرانوں سے نمٹے بغیر نہ اسلام کی اشاعت کماحقہ سرانجام پا سکتی تھی اور نہ اس کے نتائج و ثمرات رونما ہوسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سلاطین کے نام اپنے مکتوبات مبارکہ میں رسول اﷲؐ نے فرمایا تھا کہ اگر تم یہ دعوت قبول نہ کرو گے یا ہماری اطاعت تسلیم نہ کرو گے تو اپنی رعایا کی گمراہی کا وبال بھی تمہارے سر ہو گا۔

نبیؐ اور صحابہ کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی ملک میں ایسی حکومت قائم ہو جس کے ہوتے ہوئے عوام کے لیے یہ عملاً ناممکن ہو کہ وہ دعوت اسلام کو سن کر قبول کرسکیں تو ایسی حکومت کو رستے سے ہٹانا ضروری ہے۔اس حکومت کو ہٹانا دراصل عوام الناس کو عقیدہ وعمل کی آزادی بخشنے کا ہم معنی ہے۔ اس کا مقصود یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، بلکہ اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ ملک کے سیاسی نظام سے ان تمام موانع کا خاتمہ کردیا جائے جو حق کے ادراک اور اس کے اتباع میں مزاحم ہوتے ہیں۔

یہاں اس بات کی صراحت بھی مناسب ہوگی کہ آپ جس عبارت کے متعلق سوال کررہے ہیں، اس میں اسلامی دعوت وتبلیغ اور قانون صلح وجنگ کا کوئی مکمل اور جامع ضابطہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔وہ تو ایک بڑے مسئلے کی طرف محض ایک سرسری اشارہ ہے۔ میں نے خاص اس موضوع پر اپنی کتابوں میں جو مفصل بحثیں کی ہیں،ان سب کو چھوڑ کر ایک ضمنی بحث کے چند فقرات چھانٹ لینا کسی آئین ِ انصاف وتحقیق کی رو سے بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔

( ترجمان القرآن۔ شوال ۳۷۵اھ۔ جون ۱۹۵۶ء)