مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ڈاڑھی اور فوجی ملازمت:

سوال: میں نے ایئر فورس میں پائلٹ کے لئے امتحان دیا تھا۔ میڈیکل ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد بحمد اﷲ امتحان اور کھیلوں میں بھی کام یاب ہوا۔ مگر بغیر وجہ بتائے ہوئے مجھے مسترد کردیا گیا۔ اب کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ تم صرف ڈاڑھی نہ منڈوانے کی وجہ سے رہ گئے تھے مگر مجھے یقین نہ آیا۔

اب دسمبر میں میں نے پی۔ ایم۔ اے کے لئے امتحان دیا۔ پہلے انٹرویو میں کمیٹی کے ایک بریگیڈیئر صاحب نے مجھے بتایا کہ تم پہلی دفعہ کوہاٹ میں صرف ڈاڑھی کی وجہ سے رہ گئے تھے۔ اور یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج کے افسر ڈاڑھی والے کیڈٹ کو پسند نہیں کرتے اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسا کوئی آدمی نہ لیا جائے۔ہاں بعد میں اجازت لے کر ڈاڑھی رکھی جاسکتی ہے۔اس کے بعد میں نے تحریری امتحان دیا اور اس میں کام یاب ہوا۔اب اس کے بعد میڈیکل ہوگا اور اس کے بعد کوہاٹ جانا پڑے گا۔اس وجہ سے میرے پانچ بھائی اور اب والد صاحب پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ڈاڑھی کو صاف کرائو۔مگر میں عزت، عہدے اور روپے کے لئے ایسا کام کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ میں اپنی حالت میں رہ کریا تجارت کروں گا اور یا مزید تعلیم حاصل کرکے اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔کیوں کہ ان ملازمتوں سے میرے مذہبی احساسات مجروح ہوں گے۔میں زیادہ دیر تک صبر نہیں کرسکتا۔ مگر قبل اس کے کہ آخری فیصلہ کروں،میں آپ سے مشورہ لینا ضروری سمجھتا ہوں۔آپ کتاب وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی کریں۔میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا۔

جواب: آپ نے جو حالات لکھے ہیں،انہیں پڑھ کر انتہائی افسوس ہوا۔ پاکستان کی فوج اور فضائیہ میں آج بھی بکثرت ایسے لوگ موجود ہیں جو تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان کی فوج یا فضائیہ میں سکھوں کے ساتھ،بلکہ بعض تو ان کے ماتحت کام کرچکے ہیں۔ان کو خوب معلوم ہے کہ رعب، خوب صورتی ،چستی اور دوسرے جن جن پر فریب الفاظ کو استعمال کرکے آج یہ لوگ ڈاڑھی کو فوج اور فضائیہ میں حرام کیے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی حیلہ اور بہانہ نہ تو سکھوں سے ڈاڑھی منڈوا سکا اور نہ کسی بڑے سے بڑے عہدے تک ان کے پہنچنے میں مانع ہو سکا۔ آج بھی متحدہ ہندوستان کی فوج اور بحریہ اور فضائیہ میں سکھ بڑے سے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور کسی کی یہ جرأت نہیں ہے کہ ان سے یہ کہہ سکے کہ تمہیں ملازمت کرنی ہے تو ڈاڑھی منڈوا کر آئو،یا اگر تم ڈاڑھی رکھو گے تو تمہیں ملازمت میں نہ لیا جائے گا۔ ابھی تھوڑی ہی مدت پہلے ہمارے ہاں کی ایک فوجی تقریب میں حصہ لینے کے لئے ہندوستان سے ایک سکھ لیفٹیننٹ جنرل آیا تھا جس کے چہرے پر بالشت بھر کی ڈاڑھی لٹک رہی تھی اور اس کی تصویر ہمارے ملک کے اخبارات میں شائع ہوئی تھی۔ افسوس کہ اس کو دیکھ کر بھی ہمارے کالے صاحب بہادروں کو شرم نہ آئی اور انہوں نے نہ سوچا کہ ڈاڑھی سے آدمی فوجی ملازمت کا اہل نہیں ہوتا تو یہ سکھ کیسے لیفٹیننٹ جنرل ہوگیا۔

اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے مسلمان افسر صاحبان ڈاڑھی والوں کو ملازمت میں نہ لینے، یا ڈاڑھی منڈوانے کو ملازمت کے لئے شرط قرار دینے کے لئے جتنے بہانے بناتے ہیں، وہ سب بالکل لغو اور بے ہودہ ہیں۔اصل بات یہ نہیں ہے کہ ڈاڑھی رکھنے سے فوجی ملازمت کے لئے آدمی کی اہلیت یا موزونیت میں کوئی فرق آجاتا ہے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انگریزکی بندگی نے ان لوگوں کو سکھوں کی بہ نسبت بہت زیادہ گھٹیا درجے کی غلامانہ ذہنیت میں مبتلا کردیا ہے۔سکھوں نے بھی وہی مغربی تعلیم پائی ہے جو انہوں نے پائی ہے اور اسی انگریز کی وہ بھی نوکریاں کرتے رہے ہیںجس کی یہ کرتے رہے ہیں۔کسی میدان میں وہ ان سے پیچھے نہیں رہے۔ لیکن وہ آج تک بھی مغرب زدگی کی اس ذلیل انتہا کو نہیں پہنچے کہ گرونانک اور گورو گوبند سنگھ اور اپنے مذہب کے دوسرے اکابر کی پیروی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں اور اسے نالائقی کا نشان سمجھیں۔ یہ شرف صرف ہمارے فرنگیّت زدہ حضرات ہی کو نصیب ہوا کہ انہوں نے جب انگریز کی بندگی اختیار کی تو اپنا سب کچھ لا کر خداوند انگریز کے قدموں میں ڈال دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ یہ لوگ انگریز کی نوکری حاصل کرنے کے لئے بخوشی ڈاڑھیاں مونڈنے پر راضی ہو گئے، بلکہ رفتہ رفتہ یہ اتنے بگڑے کہ انہوں نے خود ڈاڑھی کو نالائقی کا نشان تسلیم کرلیا۔ حالاں کہ ڈاڑھی جس طرح سکھوں کے اکابر مذہب کی سنت تھی،اسی طرح وہ مسلمانوں کے اکابر دین کی سنت بھی تھی، اور جس طرح سکھوں کو ان کے پیشوائے دین نے اس کے رکھنے کاحکم دیا تھا،اسی طرح مسلمانوں کو بھی نبی ؐنے اس کے رکھنے کی تاکید اور مونڈنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ اس صورتِ حال کوجب میں دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی شدت کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ مسلمان خود اپنے ہی ہم سر اور ہم عصر غیر مسلموں کی بہ نسبت سیرت وکردار کے اعتبار سے کتنے فروتر ثابت ہوئے ہیں۔

میرا مشورہ نہ صرف آپ کو، بلکہ تمام ان نوجوانوں کو جن کے اندر دینی غیرت وحمیت موجود ہے، یہ ہے کہ وہ ان حالات میں پست ہمت نہ ہوں اور کوئی کمزوری نہ دکھائیں۔ ان کو چاہیے کہ ہر مقابلے کے امتحان میں شریک ہوکر اپنی قابلیت واہلیت ثابت کردیں اور اس کے بعد جب صرف ڈاڑھی رکھنے کے سبب سے ان کو ملازمت میں لینے سے انکار کیا جائے تو ملازمت سے محرومی کو قبول کرلیں اور ڈاڑھی ہرگز نہ مونڈیں۔ اس طرح اگر غیرت مند مسلمان نوجوان پے درپے عمل کرتے رہیں گے تو انشاء اﷲ یہ بات بالکل ثابت ہوجائے گی کہ ڈاڑھی رکھنے والے نااہل نہیں ہیں بلکہ ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کرنے والے نام نہاد روشن خیال افسر انتہائی تنگ نظر ’’ملا‘‘ ہیں اور وہ اپنی اسی تنگ نظری کے باعث اپنے ملک کی ملازمتوں کو مضبوط سیرت وکردار رکھنے والے نوجوانوں سے محروم کررہے ہیں۔ ہماری حکومت اگر یہی پسند کرتی ہے کہ صرف پیٹ پر ضمیر وایمان کی قربانی دینے والے ہی ملازمتوں میں رہ جائیں اور تمام ایمان دار و بلند کردار لوگوں پر ملازمتوں کے دروازے بند رہیں تو وہ جب تک چاہے اپنی اس تباہ کن پالیسی پر چلتی رہے۔ آخرکاراس کو معلوم ہوجائے گا کہ اس نے اس حماقت سے اپنا اور اپنے ملک کا کس قدر نقصان کیا ہے۔ (ترجمان القرآن، جلد ۵۹،عدد ۶۔ مارچ ۹۶۳اء)