مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

جنت کا محل وقوع:

(۲) یہ مضمون ترجمان القرآن بابت مئی ۵۵ء میں دومقامات پر بیان ہوا ہے۔ ایک صفحہ ۹اا۔۲۰ا پر، دوسرے صفحہ ۸۸ا۔۹۰ا پر۔ دونوں جگہ قرآن سے استدلال کرتے ہوئے میں نے یہ تو ضرور کہا ہے کہ یہ زمین عالم آخرت میں جنت بنا دی جائے گی اور صرف صالحین ہی اس کے وارث ہوں گے، مگر یہ کہیںنہیں کہا کہ کوئی جنت اب موجود نہیں ہے نہ پہلے سے بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ دوسرا مضمون میرے قول میں سے کس طرح نکل گیا اور کہاں سے نکل آیا؟ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں جگہ مکان بنایا جائے گا، تو اس سے یہ کیسے لازم آ گیا کہ اس وقت کسی جگہ کوئی مکان نہیں ہے نہ پہلے کبھی بنایا گیا ہے۔دوسرے کی بات میں ایک بات اپنی طرف سے بڑھا کر الزام کی گنجائش نکالنے کایہ عجیب طریقہ ہے۔

(۳)اس خیال کا اظہار بے شک میں نے کیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جس جنت میں رکھے گئے تھے،وہ اسی زمین پر تھی،مگر یہ آخر کون سا گناہ ہے اور کس عقیدے سے ٹکراتا ہے۔مفسرین نے اس مسئلے پر تین مختلف قول اختیار کیے ہیں۔ایک یہ کہ وہ جنت آسمان پر تھی۔ دوسرا یہ کہ وہ زمین پر تھی۔ تیسرا یہ کہ اس معاملے میں سکوت ہی بہتر ہے۔ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فلاں قول واجب الاذعان اسلامی عقیدہ ہے اور اس کے خلاف کہنے والا قابل الزام ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دوسرا قول بعض معتزلی علما نے اختیار کیاہے۔مگر یہ معتزلہ کے ان مخصوص مسائل میں سے نہیں ہے جن کی بِنا پر وہ معتزلی قرار دیے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان کی ہر بات اعتزال اور ہر ایک رد کردینے کے لائق تھی تو یہ بڑی زیادتی ہے۔ان کے شدید ترین مخالف امام رازی تک نے ابو مسلم اصفہانی اور زمخشری جیسے معتزلیوں کی بہت سی باتوں کو قبول کیا ہے، اور دوسرے اہل علم نے بھی ان کو علمی اچھوت نہیں سمجھا کہ ایک بات کو صرف اس لئے رد کردیں کہ وہ کسی معتزلی نے کہی ہے۔ (ترجمان القرآن،ربیع الاوّل ۳۷۵اھ۔نومبر ۹۵۵اء)