رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اقامت دین کے بارے میں چند ذہنی اشکالات:
سوال: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کی ذمہ داریاں جن جلیل القدر صحابہ کے کاندھوں پر ڈالی گئیں،ان کے بارے میں بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ وہ نوع انسانیت کے گل سرسبد تھے۔لیکن اس کے باوجود اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خلافت راشدہ کانظام جلد درہم برہم ہوگیا اور جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے حادثات رونما ہوئے، جن کا اسلامی تحریک کے ارتقا پر ناخوش گوار اثر پڑا۔ ان حالات سے پیدا شدہ چند سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں۔ سوالات حسب ذیل ہیں:
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے قریبی زمانے میں اور عہد نبوی میں تربیت یافتہ صحابہ کی موجودگی میں اگر مسلم سوسائٹی میں خلفشار پیدا ہوسکتا ہے تو آج ہم لوگ جو ان سلف صالحین کی بلندیوں کے تصور سے بھی عاجز ہیں، کس چیز پر فخر کرسکتے ہیں اور کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم ایک مکمل اسلامی ریاست قائم کرسکیں گے؟
۲۔ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام اس تیز رفتاری سے پھیل رہا تھا کہ اس مناسبت سے اس میں داخل اور شامل ہونے والوں کی تربیت کا انتظام نہیں ہوسکتا تھا، تو اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلفائے اسلام نے نظام اسلامی اور مسلم معاشرے کو پورے طورپر استوار اور مستحکم (consolidate) کیے بغیر اس کی توسیع (expansion) کیوں ہونے دی؟
۳۔ اگر ہمارے پیش رو لغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے تو ہمارا دامن کیسے پاک رہ سکتا ہے اور اقامت دین کے لیے ہم میں جرأت عمل کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟
جواب: آپ کے سوالات جتنے آسان اور مختصر معلوم ہوتے ہیں، ان کا جواب اتنے اختصار اور آسانی سے دینا محال ہے۔ ان مسائل پر مفصل بحث سردست مشکل ہے، صرف مجمل جوابی اشارات عرض ہیں۔ اﷲ نے چاہا تو انہی سے آپ کی تشفی ہوجائے گی۔
۱۔ اپنی قومی تاریخ میں ہمیں محض دھبوں ہی کی تلاش نہیں کرنی چاہیے اور صرف ان ہی کے تصور پر شرما کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ ہماری تاریخ بہت سے روشن نشانات کی بھی حامل ہے۔ ہمیں ان پر بھی فخر کرنا چاہیے اور انہیں نگاہ میں رکھ کر امید اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ روشن نشانات کو دیکھنے سے گریز کرنا اور صرف دھبوں کا خیال کرکے دل مسوس کر بیٹھ جانا بہت بے جا قسم کی قنوطیت ہے۔
۲۔ توسیع اور استحکام کے درمیان توازن وتناسب ذہنی دنیا میں تو قائم کیا جاسکتا ہے مگر عملی دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے۔ایک شخص اگر آپ کے پاس شرک یا کفر سے توبہ کرنے کے لیے آئے تو آخر کس عذر کی بِنا پر آپ اسے الٹا واپس کردیں گے؟کیا آپ اس سے یہ کہیں گے کہ اس وقت میں استحکام میں مصروف ہوں اور توسیع کا کام میں نے فی الحال بند کررکھا ہے؟
۳۔ انسان جب تک انسان ہے،اس کی سعی بشریت کے تقاضوں اور محدودیتوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔ ہر شخص کو اپنی حد تک اپنا فرض بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ اﷲ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں ارادی لغزشوں سے بچائے اور غیر ارادی لغزشوں کو معاف فرمائے۔(ترجمان القرآن ،دسمبر ۹۵۳اء)