رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دل چسپ مین میخ
سوال: مہربانی فرما کر نہایت صاف اور سادہ الفاظ میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب تحریر فرما کر مشکور فرمائیں،تاکہ ان معاملات میں ہماری غلط فہمی اور لاعلمی دور ہوجائے:
(۱) جب سابق دستوریہ نے قرار داد مقاصد پاس کی تھی تب جماعت اسلامی نے پاکستان کو ’’دارالاسلام‘‘ تسلیم کیا تھا ۔اب جب کہ گورنر جنرل صاحب بہادر نے دستوریہ کو بمع اپنی تمام قرار دادوں اور نامکمل آئین کے ختم کردیا ہے،موجودہ دور میں آپ کے نزدیک پاکستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب؟
(۲) آپ نے ابھی تک حج کیوں نہیں کیا؟ کیا آپ نے اس سوال کے جواب میں یہ الفاظ کہے تھے یا آپ کا یہی نظریہ ہے:’’موجودہ جدوجہد ہمارے نزدیک حج سے زیادہ اہم ہے؟‘‘
(۳) پہلا حج فرض ہے اور دوسرا نفل۔وہ کون کون سے ملکی،خانگی یا مذہبی فرائض اور سنت ادا کرنے ضروری ہیں جن کے پورا کیے بغیر دوسرا حج جائز نہیں؟ جس ملک کے باشندے بھوک، افلاس اور بدحالی کی زندگی گزارتے ہیں،اس ملک کے لوگوں پر دوسرا حج جائز ہے یا نہیں؟
(۴) شہیدان ختم نبوت کو آپ کی جماعت کے ارکان ومتفقین حرام موت مرناکہتے رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کی جماعت کا ہی نظریہ ہے،یا اِن لوگوں کا ذاتی نظریہ؟ اگر ذاتی ہے تو کیا اس مقدس تحریک میں ذاتی طور پر حصہ لینے والے لوگوں کے خلاف جماعتی کاروائی کی تھی؟ اسی طرح ایسا کرنے والوں کے خلاف آپ کوئی جماعتی کارروائی کریں گے؟
(۵) آپ کے ہمارے شہر میں آنے پر جو ہزاروں روپے ناجائز تصرف کیے گئے، وہ غلط نہیں؟ آپ کے آنے کی خوشی اگر لازم تھی تو آپ کے ہاتھوں سے اتنی رقم کا اناج غریبوں اور مساکین میں تقسیم کرادیا جاتا تو بہتر نہ تھا؟
(۶) آپ کی جماعت تعصب اور تنگ نظری پر کیوں قائم ہے؟
جواب: (۱) یہ بات خلاف واقعہ ہے کہ گورنر جنرل نے سابق دستوریہ کی تمام قراردادوں اور نامکمل مسودۂ آئین کو ختم کردیا ہے۔ ایسا کوئی اعلان اب تک نہیں ہوا۔ قرارداد مقاصد اور دوسرے سابق فیصلے اپنی جگہ پر قائم ہیں،البتہ نئی دستوریہ اس اختیار کی حامل ہے کہ کسی چیز کو جوں کا توں قائم رکھے یا اسے منسوخ کرکے اس کا کوئی بدل پید اکردے۔ لہٰذا آپ کا سوال بے محل ہے۔
(۲) میں نے نہ کبھی یہ بات کہی اور نہ میں اس کا کبھی خیال کرسکتا ہوں۔میرے حج نہ کرنے کی وجوہ مالی مشکلات،بیماری اور بار بار قید ہوتے رہنا ہیں۔ کئی سال سے ارادہ کررہا ہوں،مگر ان وجوہ میں سے کوئی وجہ مانع ہوجاتی ہے۔دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آئندہ سال حج کرنے کی توفیق بخشے۔
(۳) آپ کا تیسرا سوال تفصیلی بحث چاہتا ہے ،مختصر جواب ممکن نہیں ہے۔میں صرف اتنا کہنے پر اکتفا کروں گا کہ ملکی افلاس کو دوسرے حج کے عدم جواز کی دلیل ٹھہرانا غلط ہے۔
(۴) میرے علم میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں شہید ہونے والوں کی موت کو حرام قرار دیا ہے۔ اگر کسی نے آپ کے سامنے یہ بات کہی ہے تو آپ مجھے اس کا نام بتائیں تاکہ میں اس کی تحقیق اور اس سے باز پرس کرسکوں۔
(۵) ’’ہزاروں روپے کے ناجائز تصرف‘‘ سے آپ کی مراد غالباً اس گارڈن پارٹی کے مصارف ہیں جو میری آمد کے موقع پر آپ کے شہر کے بعض اصحاب نے دی تھی۔ اگر یہی آپ کی مراد ہے تو یہ کام آپ ہی کے شہر کے کچھ لوگوں نے کیا ہے، اور غالباًآپ ان سے ناواقف نہیں ہیں۔آپ ان سے باز پرس کریں۔میرا گناہ اگر کوئی ہے تو وہ صرف یہ کہ میں نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا۔ کیاآپ کامنشا یہ ہے کہ مجھے جو شخص بھی کھانے یا چائے پر مدعو کرے، میں اس کی دعوت رد کردیا کروں؟
(۶) یہ سوال تو نہیں ہے بلکہ ایک الزام ہے ۔پہلے آپ اس الزام کی وضاحت فرمائیں کہ تعصب اور تنگ نظری سے آپ کی مراد کیا ہے،پھر اس کا ثبوت دیں کہ یہ چیز جماعت اسلامی میں پائی جاتی ہے،تب کہیں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جماعت اس پر کیوں قائم ہے۔کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ اس تکلیف فرمائی سے پہلے آپ اپنے ضمیر سے یہ سوال کرلیں کہ کہیں آپ خود تو تعصب اور تنگ نظری میں مبتلا نہیں ہیں؟(ترجمان القرآن،جولائی ۵۵ء)