مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حجر اسود اور خانہ کعبہ کے متعلق غیر مسلموں کی غلط فہمیاں:

سوال: یہاں(اسلامک کلچر سنٹر لندن میں) چند انگریزلڑکیاں جمعہ کے روز آئی ہوئی تھیں۔ بڑے غور سے نماز کو دیکھتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے ہم سے سوال کیا کہ آپ لوگ جنوب مشرق کی طرف منہ کرکے کیوں نماز پڑھتے ہیں؟ کسی اور طرف کیوں نہیں کرتے؟ کعبہ کو کیوں اہمیت دیتے ہیں؟ سنگ اسود کو کیوں چومتے ہیں؟ وہ بھی تو ایک پتھر ہے جیسے دوسرے پتھر۔ اس طرح تو یہ بھی ہندوئوں ہی کی طرح بت پرستی ہوگئی، وہ سامنے بت رکھ کر پوجتے ہیں اور مسلمان اس کی طرف منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ ہم انہیں تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔براہِ کرم ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں تاکہ پھر ایسا کوئی موقع آئے تو ہم معترضین کو سمجھا سکیں۔

جواب: قریب قریب اسی مضمون کے متعدد سوالات ہندوستان کے مختلف حصوں سے بھی حال میں ہمارے پاس آئے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ آج کل جگہ جگہ یہ سوال مسلمانو ں کے سامنے چھیڑا جا رہا ہے۔ ان معترضین میں کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن کا مقصد کسی نہ کسی طرح اسلام پر اعتراض جڑنا ہوتا ہے اور دنیا میں کوئی جواب بھی ان کے لئے تسلی بخش نہیں ہو سکتا۔ البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں حقیقت حال سے ناواقفیت کی بِنا پرنیک نیتی کے ساتھ شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے یہ بات بالکل کافی ہے کہ آپ انہیں معقولیت کے ساتھ حقیقت سے آگاہ کردیں۔

بت پرستی کی حقیقت یہ ہے کہ مشرکین کے مختلف گروہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ بعض دوسری ہستیوں کو بھی خدائی صفات اور اختیارات کا حامل سمجھتے ہیں ،یا یہ خیال کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے اندر حلول کیا ہے،اور اس غلط عقیدے کی بنا پر وہ ان ہستیوں کے مجسمے اور آستانے بنا کر ان کے آگے عبادت کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ خود اﷲ تعالیٰ کا بت آج تک کسی مشرک قوم نے نہیں بنایا ہے اور نہ اس کی پرستش کے لئے کبھی یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی کوئی خیالی شکل تیار کرکے اس کے آگے سربسجود ہوں۔دنیا کے تمام مشرکین قریب قریب صاف طور پر یہ سمجھتے رہے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ شکل وصورت سے منز ہ ہے۔اس کا اور دوسرے معبودوں کا فرق ان کے عقائد اور مذہبی مراسم میں نمایاں طریقے سے تسلیم کیا گیا ہے۔اسی لئے بت صرف دوسرے معبودوں ہی کے بنائے گئے ہیں، اﷲ کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

بت پرستی کی اس حقیقت کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے گا، وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ مسلمانوں کا نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رُخ کرنا، یا حج میں کعبے کا طواف کرنا اور حجر اسود کو چومنا بت پرستی سے کوئی ادنیٰ سی وجہ مماثلت بھی رکھتا ہے۔اسلام خالص توحیدی مذہب ہے جو اﷲ کے سوا سرے سے کسی کو معبود ہی نہیں مانتا اور نہ اس بات کا قائل ہے کہ اﷲ نے کسی کے اندر حلول کیا ہے، یا وہ کسی مادّی مخلوق کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔خانہ کعبہ کو اگر غیر مسلموں نے نہیں دیکھا ہے تو اس کی تصویریں تو بہرحال انہوں نے دیکھی ہی ہیں۔ کیا وہ راست بازی کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا بت ہے جس کی ہم پرستش کررہے ہیں؟کیا کوئی شخص بدرستی ہوش وحواس یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ چوکور عمارت اﷲ ربّ العالمین کی شکل پر بنائی گئی ہے؟رہا حجر اسود، تو وہ ایک چھوٹا سا پتھر ہے جو خانہ کعبہ کی چار دیواری کے ایک کونے میں قد آدم کے برابر بلندی پر لگا ہوا ہے۔مسلمان اس کی طرف رخ کرکے سجدہ نہیں کرتے،بلکہ خانہ کعبہ کا طواف اس مقام سے شروع کرکے اسی مقام پر ختم کرتے ہیں،اور ہر طواف اسے بوسہ دے کریا اس کی طرف اشارہ کرکے شروع کرتے ہیں۔ اس کا آخر بت پرستی سے کیا تعلق ہے؟

اب رہی یہ بات کہ دنیا بھر کے مسلمان خانہ کعبہ ہی کی طرف رخ کرکے کیوں نماز پڑھتے ہیں، تو اس کا سیدھا ساجواب یہ ہے کہ یہ مرکزیت او رتنظیم کی خاطر ہے۔ اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک مرکز اور ایک رخ متعین نہ کردیا گیا ہوتا تو ہر نماز کے وقت عجیب افراتفری برپا ہوتی۔ انفرادی نمازیں ادا کرتے وقت ایک مسلمان کا منہ مغرب کی طرف ہوتا تو دوسرے کا مشرق کی طرف، تیسرے کا شما ل کی طرف، اور چوتھے کا مغرب کی طرف۔ اور جب مسلمان نماز باجماعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر مسجد میں ہر نماز سے پہلے اس بات پر ایک کانفرنس ہوتی کہ آج کس طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے۔ یہی نہیں بلکہ ہر مسجد کی تعمیر کے وقت ہر محلے میں جھگڑا برپا ہوتا کہ مسجد کا رخ کس طرف ہو! اﷲ تعالیٰ نے ان سارے امکانات کو ایک قبلہ مقرر کرکے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا، اور قبلہ اسی جگہ کو بنایا جسے فطرتاً مرکزیت حاصل ہونی چاہیے تھی،کیوں کہ خدا پرستی کی یہ تحریک اسی جگہ سے شروع ہوئی تھی، اور خدائے واحد کی پرستش کے لئے دنیا میں سب سے پہلا معبد وہی بنایا گیا تھا۔ (ترجمان القرآن،جلد ا۶، عدد ۲۔نومبر ۹۶۳اء)

……٭٭٭……