رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نظام تعلیم کے متعلق چند بنیادی سوالات:
سوال: بندہ درس و تدریس کے کام سے ایک عرصے سے وابستہ ہے اور آج کل یہا ں زیرتعلیم ہے۔یہاں ماہرین تعلیم سے اکثر تعلیمی موضوعات پر بحث رہتی ہے۔چنانچہ شکاگو یونی ورسٹی کی فرمایش پر بندہ ایک مقالہ قلم بند کرنے کی کوشش کررہا ہے،جس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ پاکستان کی تعلیمی ضروریات امریکا اور دیگر ممالک کی ضروریات سے بہت مختلف ہیں۔ پاکستانی ضروریات کا حل اسلام کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔اگر امریکن طرز تعلیم بغیر سوچے اختیار کیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔
جناب کی بیش تر تصنیفات میر ی نظر سے گزر چکی ہیں اور اب رہنمائی کر رہی ہیں۔ ایک دو سوال کچھ اس پیچیدہ نوعیت کے درپیش ہوئے کہ میں نے ضروری سمجھا کہ جناب سے براہِ راست رہنمائی حاصل کی جائے۔اُمید ہے کہ آپ اپنی تمام مصروفیات کے باوجود کچھ وقت نکا ل سکیں گے۔ اپنی گزارشات سلسلہ وار تحریر کرتا ہوں:
(۱) جن ملکوں میں صنعتی ترقی ہوئی،وہاں لازمی طور پر عام اخلاقی تنزل ہوا۔ ملوں، کارخانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عورت، مرد، بچے تک مشینوں کے پرزے بن گئے۔ ان ملکوں میں نتیجے کے طور پر کچھ مفکر پیدا ہوئے(مثلاً امریکا میں جان ڈیوی) جنہوں نے نئی طرز کی زندگی کو نظریاتی سہارا دیا،روایات کو غلط قرار دیا اور سوسائٹی کی اقدار ہی کو بدل دیا۔ پاکستان میں ایک طرف تو صنعتی ترقی ضروری ہے ۔دوسری طرف اسلامی روایات اور اقدار کو قائم رکھنا فرض ہے۔ براہِ کرم فرمایے کہ یہ بظاہر متضاد مقاصد کیسے حاصل ہوسکتے ہیں؟مشینی فضا میں روح کیسے تازہ رہ سکتی ہے؟ تبدیلیاں لازمی ہیں مگر کس حد تک قابل قبول ہیں؟
(۲) اسلامی تعلیم کس قسم کی ہو؟ کیا سب کے لئے ہو؟ فری ہو یا نہ ہو ؟وہ نمونے کی شخصیت جو سکول کو پیداکرنی چاہیے اس کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟کیا ہمارے دینی مدارس ایسی شخصیتیں پیدا کررہے ہیں؟
(۳) نمونے کی اسلامی گھریلوزندگی کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟ کیا موجودہ گھریلو زندگی اسلامی ہے؟ کیا شہر اور گائوں میں ایک طرز کی گھریلو زندگی ہوگی؟ موجودہ گھریلو زندگی میں پرانی ہندوستانی روایات کا کتنا دخل ہے؟
جواب: یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی کہ آپ آج کل امریکا میں فن تعلیم کی تحصیل مزید کررہے ہیں۔ جن موضوعات کا آپ نے اپنے عنایت نامے میں ذکر کیا ہے وہ فی الواقع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ان کے متعلق مختصراً اپنے خیالات عرض کیے دیتا ہوں۔
انسانی تمدن میں مادّی تغیرات کی مثال ان تغیرات کی سی ہے جو فر دانسانی کے جسم میں بچپن سے جوانی، جوانی سے کہولت اور کہولت سے بڑھاپے کی طرف منتقل ہوتے وقت رونما ہوتے ہیں۔ان کا روح اور نفس سے گہرا تعلق ضرور ہے، مگر ان تغیرات کے نتائج کا کوئی ایسا متعین اور قطعی ٹھپا نہیں ہے جو تمام انسانوں کے نفس پر ہمیشہ یکسانی کے ساتھ لگتا ہو۔بلکہ ان میں فرد فرد کے لحاظ سے بھی اور انسانی جماعتوں کے لحاظ سے بھی بڑا فرق ہوتا ہے، جس میں بہت سے دوسرے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر تعلیم، تربیت اور معاشرتی ڈھانچا جو کسی فرد انسانی کو میسر آئے، ایسا صالح ہو کہ فرد کو ارتقائے حیات کی طرف لے جانے کے ساتھ ساتھ وہ ایک عمدہ اور مضبوط سیرت کو بھی اس کے اندر نشو ونما دیتا رہے تو بچپن سے جوانی کی عمر میں داخل ہوتے وقت اس کی طبیعت کی جولانی غلط راہوں پر جانے کے بجائے بہترین تعمیری راہیں اختیار کرتی ہے او ریہ ارتقا بڑھاپے تک صحیح طریقے سے بڑھتا رہتا ہے۔ لیکن اگر تعلیم کسی صحیح فکر کو نشو ونما دینے والے فلسفے پر مبنی نہ ہو اور تربیت بھی غلط عادات وخصائل پیدا کرنے والی ہو اور پھر معاشرتی ڈھانچا بھی بگاڑنے والا ہی میسر آئے، تو ایک بچہ آغاز ہوش ہی سے مجرم بننا شروع ہوتا ہے۔ جوان ہوکر چو ر اورڈاکو بن کر اٹھتا ہے اور بڑھاپے تک اس کی جرائم پیشگی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح انسانی تمدن میں جو مادّی تغیر مثلاً صنعتی انقلاب سے رونما ہوا، اس میں بجائے خود کوئی خرابی نہ تھی۔ اس میں انسان کی بھلائی ہی کا سامان تھا،جیسے جوانی کا آنا بجائے خود کوئی برائی نہیں بلکہ انسان کے لئے اپنی ذات میں رحمت ہی ہے۔لیکن قصور اس فلسفۂ حیات کا تھا جو سولھویں، سترھویں صدی سے یورپ میں نشو ونما پار ہا تھا۔اس نے ذہن کو بگاڑا، ذہن کے بگاڑنے اخلاق خراب کیے، اور اخلاق کی خرابی نے معاشرتی ڈھانچے کو، جو دور جاگیر داری سے بگڑا ہوا چلا آرہا تھا، اور زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا۔اس حالت میں صنعتی انقلاب کی طاقت میسر آجانے سے قوموں کی قومیں جرائم پیشہ بن گئیں اور اب ایٹم کی طاقت پاکر تہذیب کی ساری نمایشوں کے باوجود اسفل السافلین کی طرف جارہی ہیں۔ اس حالت میں جو فلاسفر لوگوں کو اس بگاڑ پر مطمئن کرنے کے لئے نئے نئے نظریاتی سہارے دیتے ہیں اور بگڑے ہوئے سانچے سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے سوسائٹی کی اقدار بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی مثال اس دوست نما دشمن کی سی ہے جو ایک بگڑتے ہوئے بچے کو پہلی مرتبہ جیب کاٹنے پر شاباش کہے اور اسے یقین دلائے کہ یہ جیب تراشی تو ایک بہترین آرٹ ہے جس کی مذمت کرنے والے لوگ محض دقیانوسی ہیں۔
میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ مادّی ترقی کے مقاصد اور اسلامی اقدار کے مقاصد میں کوئی حقیقی تضاد ہے ۔نہ میں یہ جانتا ہوں کہ یورپ میں صنعتی ترقی کے ساتھ جس مخصوص تمدن وتہذیب نے نشو ونما پایا ہے، یہ صنعتی ترقی سے کوئی جوہری تلازم رکھتا ہے، اور لازماًجب اور جہاں بھی یہ ترقی ہو گی، وہاں یہی تہذیب ظہور میں آئے گی،یا آنی چاہیے۔اسی طرح یہ مفروضہ بھی میرے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ انسانی روح چرخے اور چاک اور چکی کے ساتھ تو تازہ دم رہ سکتی ہے مگر مشین ہی کی فطرت کچھ ایسی ہے کہ اس سے سابقہ پیش آتے ہی اس روح پر مردنی چھا جائے۔میرے نزدیک ایک صحیح فلسفۂ حیات سے اگر ذہن درست کیے جائیں،ایک صالح نظام اخلاق اگر سیرت گری کے لئے استعمال کیا جائے، اور ایک معتدل ومتوازن معاشرتی ڈھانچا انسانوں کو سنبھالنے کے لئے موجود ہو تو صنعتی ارتقا اور سائنس سے حاصل ہونے والی قوتوں کا استعمال موجودہ مغربی تمدن وتہذیب سے بنیادی طور پر بالکل مختلف ایک دوسرے تمدن و تہذیب کو نشو ونما دے سکتا ہے، جو اس سے بدرجہ ہازیادہ طاقت وَر بھی ہو اور پھر انسانیت کے لئے باعث رحمت بھی۔ مجھے یقین ہے کہ اسلام اور صرف اسلام ہی ہمیں اس طرح کا فلسفۂ حیات اور نظام اخلاق دے سکتا ہے اور اس کی رہنمائی عملاً قبول کرکے اگر ہم اس کی ہدایات کے مطابق اپنا نظام تعلیم وتربیت عامہ، اور اپنا معاشرتی ڈھانچا بنا لیں تو ان شرائط کی تکمیل ہوسکتی ہے جو اوپر میں نے مادّی ترقی کے ساتھ ایک صالح تہذیب کی تشکیل کے لئے بیان کی ہیں۔ اس معاملے میں یہودیت پہلے ہی مایوس کن تھی۔ عیسائیت نئے دور کے آغاز ہی میں ناکام ثابت ہوگئی۔ اور بودھ مت سرے سے اس میدان کا مرد تھا ہی نہیں۔ رہے جدید مذاہب، سوشلزم، فاشزم اور کیپٹل ازم، سو وہ اپنے تمام عیوب ومحاسن کھول کر سامنے لا چکے ہیں اور دنیا خوب دیکھ چکی ہے کہ ان کے محاسن کو ان کے عیوب سے کیا نسبت ہے۔ نیا کوئی فلسفہ بھی اب تک ایسا سامنے نہیں آیا ہے جو ایک تہذیب کی بنیاد بننے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس کو سوچنے والے تمام تر اہل مغرب ہیں اور وہ اپنی اس تہذیب کے زہریلے پن سے تنگ آنے کے باوجود اس کی بنیادوں میں تغیر کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔بلکہ ان کے ذہن اس کے حدود سے آزاد ہوکر سوچنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے ۔وہ صرف جزوی ترمیمات سے کام چلانا چاہتے ہیں، اور ان میں سے اکثر کی تجویز کردہ ترمیمیں مزید بگاڑ ہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔
اس مختصر خط میں میرے لئے وہ وجوہ بیان کرنا مشکل ہے جن کی بِنا پر میں اس معاملے میں اسلام کو علیٰ وجہ البصیرت کافی ہی نہیں بلکہ انسانیت کے لئے ایک ہی شعاع اُمید سمجھتا ہوں۔ان دلائل کے اعادے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ میں انہیں اپنی متعدد کتابوں میں بیان کرچکا ہوں، مثلاً اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی، مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش حصہ سوم وغیرہ، اس کے علاوہ میرے بہت سے مضامین میں بھی اس کی طرف اشارات موجود ہیں۔
آپ کے دوسرے سوالات کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تعلیم اس دور کے لئے جس طرز پر دی جانی چاہیے،اسے میں نے اچھی خاصی تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب’’تعلیمات‘‘میں بیان کیا ہے،آپ اسے ملاحظہ فرما لیں۔میرے نزدیک یہ تعلیم ہر بچے کو ملنی چاہیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، البتہ اس کے مدارج میں صلاحیتوں کے لحاظ سے فرق کیا جانا چاہیے۔ اس کو ابتدائی حد تک جبری اور کم ازکم ثانوی حد تک سب کے لئے بالکل مفت ہونا چاہیے،اور آگے کے مدارج میں خاص صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کی کفالت بھی ریاست کو کرنی چاہیے۔جو نمونے کی شخصیت ایک مدرسے کو پیدا کرنی چاہیے،اس کی خصوصیات صرف چار اسلامی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکتی ہیں:مومن ہو،مسلم ہو، متقی اور محسن ہو۔ ان اصطلاحوں کو آپ جتنے زیادہ وسیع معنوں میں لیں گے، شخص مطلوب اتنا ہی زیادہ جامع کمالات ہوگا۔ تنگ معنوں میں لیں تو صنعتی ترقی کی باتیں اور اس ترقی میں موجودہ تہذیب وتمدن کے فاسق وفاجر کھلاڑیوں سے مسابقت کا خیال چھوڑ دیں،پھر ان شاء اﷲ پاکستان وہندستان کی ہر مذہبی درس گاہ میں آپ کو نمونے مل جائیں گے۔
ہماری گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات اسلام کی رو سے چار ہیں:ایک تحفظ نسب، جس کی خاطر زنا کو حرام اور جرم قابل تعزیر قرار دیا گیا ہے،پردے کے حدود قائم کیے گئے ہیں اور زن ومرد کے تعلق کو صرف جائز قانونی صورتوں تک محدود کردیا گیا ہے،جن سے تجاوز کا اسلام کسی حال میں بھی روادار نہیں ہے۔ دوسرے تحفظ نظام عائلہ جس کے لئے مرد کو گھر کا قوام بنایا گیا ہے،بیوی اور اولاد کو اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور اولاد پر خدا کے بعد والدین کا حق سب سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ تیسرے حسن معاشرت جس کی خاطر زن ومرد کے حقوق معین کردیے گئے ہیں،مرد کو طلاق کے اور عورت کو خلع کے اور عدالتوں کو تفریق کے اختیارات دیے گئے ہیں، اور الگ ہونے والے مرد وزن کے نکاح ثانی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے تاکہ زوجین یا تو حسن سلوک کے ساتھ رہیں، یا اگر باہم نہ نباہ سکتے ہوں تو بغیر کسی خرابی کے الگ ہوکر دوسرا بہتر خاندان بنا سکیں۔ چوتھے صلۂ رحمی جس سے مقصود رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنانا ہے اور اس غرض کے لئے ہر انسان پر اجنبیوں کی بہ نسبت اس کے رشتہ داروں کے حقوق مقدم رکھے گئے ہیں۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس بہترین نظام عائلہ کی قدر نہ پہچانی اور اس کی خصوصیات سے بہت کچھ دُور ہٹ گئے ہیں۔ اس نظام عائلہ کے اصولوں میں شہری اور دیہاتی کے لئے کوئی فرق نہیں ہے۔رہے طرزِ زندگی کے مظاہر، تو وہ ظاہر ہے کہ شہروں بھی یکساں نہیں ہو سکتے،کجا کہ شہریوں اور دیہاتیوں کے درمیان کوئی یکسا نی ہو سکے۔ فطری اسباب سے ان میں جو فرق بھی ہو،وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے، بشرطیکہ بنیادی اصولوں میں رد وبدل نہ ہو۔
(ترجمان القرآن ،جلد نمبر ا۵، عدد ۶،مارچ ۹۵۹اء)