مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ڈاڑھی پر مسلمانوں کے اعتراضات:

سوال: ڈاڑھی کے بارے میں اکثر مسلمانوں کے سوچنے کا انداز یہ ہے کہ ڈاڑھی صرف علما اور مولانا حضرات کو زیب دیتی ہے۔ نبی اکرم صی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عام طور پر ڈاڑھی رکھی جاتی تھی اس لیے اکثریت ڈاڑھی رکھنے میں عار نہ سمجھتی تھی۔ مگر اب انسان کے لباس وآراستگی میں کافی فرق واقع ہوچکا ہے۔ چہرے بغیر ڈاڑھی کے پررونق وبارعب نظر آتے ہیں۔ کیا ایسے حالات میں ہر مسلمان کے لئے ڈاڑھی رکھنا لازم ہے؟ براہِ کرم اس معاملے میں ذہن کو یکسو اور مطمئن فرمائیں۔

جواب: ڈاڑھی رکھنا نہ صرف یہ کہ فعلی سنت ہے بلکہ نبیؐ نے اس کے رکھنے کا حکم دیا ہے اور مونڈنے سے منع کیا ہے۔اس لئے یہ سمجھنا کہ ڈاڑھی رکھنا صرف علما اور مولانا حضرات کا کام ہے اور عام مسلمان مختار ہیں کہ چاہیں رکھیں یا نہ رکھیں، بالکل غیر اسلامی اور غلط طرز فکر ہے۔ خصوصاً اگر آدمی ڈاڑھی مونڈنے کو پسند اور رکھنے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس کے اندر اسلامی ذوق کے بجائے کافرانہ ذوق پرورش پار ہاہے۔

یہ بڑی عجیب اور افسوس ناک بات ہے کہ جس طرح مسلمانوں کو ان کے ہادی و رہبرصلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے۔اسی طرح سکھوں کو بھی ان کے پیشوا نے اس کا حکم دیاتھا،ہمارے ملک میں انگریزی حکومت کے تحت دونوں رہے اور مغربی تعلیم دونوں نے پائی،لیکن سکھوں نے اپنے پیشوا کے حکم کی وہ بے احترامی نہیں کی جو مسلمانوں نے کی۔ درحقیقت یہ ایک بدترین حالت ہے جس پر مسلمانوں کو شرم آنی چاہیے، کجا کہ وہ بلا تکلف ان خیالات کا اظہار کریں کہ ڈاڑھی کے بغیر چہرے با رونق ہوتے ہیں اور ڈاڑھی رکھنے سے بے رونق ہوجاتے ہیں۔ آج فرنگیّت زدہ مسلمان محض ڈاڑھی مونڈنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ڈاڑھی کو برا سمجھتے ہیں۔اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے رکھنے والوں کی تذلیل وتضحیک کرتے ہیں۔ درس گاہوں میں ہر ممکن طریقے سے ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمتوںمیں انہوں نے بجائے خود ڈاڑھی کو نااہلی کا سرٹیفکیٹ قرار دے رکھا ہے اور بعض ملازمتوں میں تو اس کے رکھنے پر پابندیاں تک عائد ہیں۔ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ڈاڑھی رکھنے سے آدمی چست اور جامہ زیب(Smart) نہیں رہتا۔ یہ سب کچھ ایک مسلم سوسائٹی اور مسلم ریاست میں ہو رہا ہے۔ لیکن سکھوں نے انگریزی حکومت کے زمانے میں اپنا یہ حق تسلیم کرا کے چھوڑا کہ وہ ڈاڑھی رکھ کر ہر شعبۂ حیات میں داخل ہوسکتے ہیں اور بڑے سے بڑے مناصب پر پہنچ سکتے ہیں۔ فوج ایئر فورس اور سول کے کس شعبے میں و ہ نہیں پہنچے اور کون سا بڑے سے بڑا عہدہ رہ گیا جو محض ڈاڑھی رکھنے کی وجہ سے ان کو نہ ملاہو۔ کس میں یہ جرأت تھی کہ ان کو نااہل قرار دے سکے،یا ان پر(smart) نہ ہونے کا فیصلہ صادر کرسکے،یا ان کو یہ حکم دے سکے کہ پہلے ڈاڑھی منڈوائو پھر تمھیں فلاں منصب پر ترقی مل سکے گی آج ہمارے کالے صاحب لوگوں میں سے نہ معلوم کتنے ایسے ہوں گے جنہوں نے انگریزی دور میں کسی نہ کسی سکھ افسر کی ماتحتی کی ہو گی اور کبھی ان کو اس بات پر شرم نہ آئی کہ وہ ایک ڈاڑھی والے کی ماتحتی کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی شخص کبھی یہ ہمت نہ کرسکا کہ سکھوں کی ڈاڑھی کا مذاق اُڑانا تو درکنار، اس پر اعتراض تک کر سکے۔ یہ سب کچھ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت تھا کہ سکھ مسلمانوں سے زیادہ کیرکٹر رکھتے ہیں، ان سے زیادہ اپنے شعائر کا احترام کرتے ہیں، ان سے زیادہ اپنے پیشوائے دین کی اطاعت کرتے ہیں، اور ان سے کم ذہنی غلامی میں مبتلا ہوئے ہیں۔ کیا اس صریح علامت کم تری پر مسلمانوں کو کبھی شرم نہ آئے گی؟

(ترجمان القرآن، جلد۵۸، عدد ا،اپریل ۹۶۲اء)