رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
زیادہ سے زیادہ صرف کرو کی پالیسی:
کچھ دن ہوئے ہیں،میں نے آپ کو یہ سوال لکھا تھا کہ آپ خرچ پر جس قدر زور دیتے ہیں،اس کا نتیجہ صرف یہی ہوگا کہ اسلامی ریاست میں سرمائے کی شدید کمی ہوجائے گی اور ملک کی صنعتی ترقی رک جائے گی۔اس کا جواب آپ کی طرف سے یہ دیا گیا تھا کہ ’’سود‘‘ میں اس کا جواب موجود ہے۔متعلقہ ابواب کو دوبارہ پڑھا جائے۔ میں نے کئی بار ان ابواب کو پڑھا ہے اور میرا اعتراض قائم ہے۔لہٰذا میںآپ کے پیش کردہ دلائل کو اپنے الفاظ میں بیان کرتا ہوں اور پھر اپنا اعتراض پیش کرتا ہوں۔
آپ کا استدلال یہ ہے کہ لوگ دل کھول کر خرچ کریں تو ہر چیز کی مانگ بڑھے گی۔ا س کا نتیجہ یہ ہوگا کہ(producers) اپنی پیدا وار بڑھائیں گے۔ یعنی زیادہ عوامل کو روزگار مہیا کریں گے۔عوامل پیداوار کی بڑھتی ہوئی آمدنی کے نتیجے میں چیزوں کی مانگ اور بڑھے گی۔غرض کہ معاشی خوش حالی کا ایسا چکر چلے گا جس سے کہ ایک طرف عوامل پیدا وار کی آمدنی اور معیار زندگی بلند ہوتا چلا جائے گا اور دوسری طرف صاحب پیدا وار کی بکری اور منافع بڑھتاچلا جائے گا۔
اس کے بعد آپ یہ کہتے ہیں کہ صنعتوں کے لیے سرمایہ بڑھے ہوئے منافع اور بڑھتی ہوئی آمدنی سے بچی ہوئی رقم میں سے فراہم ہوجائے گا۔
اب میں اپنے اعتراضات بیان کرتا ہوں۔ میں شروع ہی میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ سود کی بندش سے پس اندازی کا سلسلہ رک جانے کا مجھے کوئی خدشہ نہیں ہے۔ میرا سارا اعتراض یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ خرچ کرو کی پالیسی صحیح پالیسی نہیں ہے۔
آپ کے پورے استدلال کی تہ میں یہ مفروضہ کام کررہا ہے کہ ملک پہلے سے ہی پوری طرح صنعتی ترقی کرچکا ہے۔اب صرف سالانہ(depreciation)اور(replacement) کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے۔دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ لوگوں کی پس انداز کرنے کی عادت کی بنا پر ملک کی موجودہ صنعتی قابلیت بھی پوری طرح استعمال نہیں ہورہی۔
پہلا نتیجہ میں نے اس طرح اخذ کیا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اصلاً صنعت کا اندرونی منافع ہی سرمائے کی کمی کو پورا کردے گا۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب صنعت پہلے سے خوب ترقی یافتہ ہو۔ اگر صنعت بالکل نہ ہو،یا ابتدائی مراحل میں ہو،تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اندرونی سرمائے ہی سے یا تھوڑا سا باہر کا سرمایہ ملا کر ضرورت پوری ہوجائے۔مثال کے طور پر پاکستان کا شش سالہ پلان لیجیے۔ باوجود اس کے کہ یہ پلان ہماری ضروریات کے لحاظ سے انتہائی حقیر ہے اور اس میں ملکی ضروریات سے زیادہ سرمائے کی فراہمی کے مسئلے کو پیش نظر رکھا گیا ہے،لیکن پھر بھی ا س پلان کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے صنعتی اور ملکی سرمایہ ملا کر اور غیر ملکی سرمائے کو بھی شامل کر کے سرمائے کی ضروریات پوری نہیں ہورہیں اور حکومت کو خسارے کا بجٹ بنانے پرمجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہی حال ہندوستان، انڈونیشیا، جاپان وغیرہ ممالک کا ہے۔ جتنے پس ماندہ ممالک ہیں، کسی کا ملکی سرمایہ بھی اس کی صنعتی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ صنعت کا اپنا سرمایہ اور تھوڑی بہت پس ماندہ رقم ہماری صنعتی ضروریات کے لیے کافی ہو گی، کس طرح صحیح ہے۔ اسی بِنا پر I.B.D.R.I.MEوغیرہ وجود میں آئے ہیں۔
دوسرا مفروضہ میں نے اس طرح نکالا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ جب لوگ زیادہ خرچ کریں گے تو روزگار بڑھے گا۔ پیدا کنندگان زیادہ عوامل پیدا وار سے روزگار مہیا کریںگے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب فاضل صنعتی قوت موجود ہو۔ اگر زائدقوت موجود نہ ہو، یعنی کارخانے اپنی قوت کار سے کم کام نہ کررہے ہوں، یا سرے سے کارخانے ہی موجود نہ ہوں،جیسا کہ عام طور پر پس ماندہ ممالک میں ہوتا ہے،تو زیادہ خرچ کرنے کا نتیجہ سوائے افراط زر کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ دوسرے ممالک کو چھوڑیے،خود اپنے ہی ملک میں ہمیں اس کا بہت تلخ تجربہ ہوا ہے۔دوران جنگ میں جب کارخانے دن رات کام کررہے تھے، تو روپے کی فراوانی کی بِنا پر لوگ خوب خرچ کررہے تھے،اس وقت صنعت میں برائے نام ہی ترقی ہوئی تھی۔ البتہ (inflation) خوب بڑھ گئی تھی۔ایسی صورت میں یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ زیادہ خرچ کرنے سے صنعت کو فروغ ہوگا؟ کیا یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ آپ کی معاشیات تنزل پذیر ہے، ترقی یافتہ نہیں ہے؟ آپ کا نسخہ ترقی یافتہ ممالک میں تو کارگر ہوسکتا ہے پس ماندہ ممالک میں نہیں۔
یہ تو تھا آپ کے دلائل کا جائزہ اور ان پر میرا اعتراض،اب میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرو کی پالیسی کے خلاف چند دلائل پیش کرنا چاہتا ہوں:
۱۔ ہر قسم کے اخراجات معاشی نقطۂ نظر سے مفید نہیں ہیں۔ اگر اپنا زائد منافع صنعت میں لگا دینے کے بجائے قیمتی مکانات، قیمتی لباس،قیمتی فرنیچر وغیرہ پر صرف کردیں تو ملکی صنعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، بلکہ الٹانقصان ہی پہنچے گا، کیوں کہ وہ رقم صنعتی سرمایہ نہ بنی۔ علاوہ ازیں اتنی رقم صنعتی پیدا وار پر صرف ہونے سے بھی رہ گئی۔ اس طرح اتنی مالیت کی پیدا وار فروخت نہ ہوسکی۔ اور ایسے اخراجات حرام نہیں ہیں۔ لہٰذا خرچ کرو کی پالیسی معاشی مسائل کا حل نہیں ہے۔
۲۔ ’’زیادہ خرچ کرو‘‘ کی پالیسی پس ماندہ ممالک کے لیے نقصان دہ ہے۔ایسے ممالک میں چوں کہ ملکی صنعت برائے نام ہی ہوتی ہے،اس لیے خرچ کا بیش تر حصہ درآمدہ اشیا پر صرف ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ پر بہت بوجھ پڑتا ہے۔ایک تو ویسے ہی ان ممالک کے غیر ملکی وسائل بہت محدود ہوتے ہیں، پھر اوپر سے اخراجات صارفین کا جو دبائو پڑتا ہے،اس کی وجہ سے مشینوںکی درآمد کے لیے بہت کم وسائل رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ’’زیادہ خرچ کرو‘‘ کی پالیسی سے صنعتی ترقی کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔جب خرچ کا دبائو زیادہ پڑ رہا ہو تو یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ(consumption goods) کی درآمد بند کردی جائے۔کیوں کہ پھر ملک میں افراط زر کا چکر چلنے لگے گا۔ان دونوں صورتوں کا تجربہ ہم نے خوب کیا ہے۔پہلی صورت کا تجربہ فضل الرحمن صاحب کا او۔جی۔ ایل تھا۔دوسری صورت کا تجربہ ۹۵۳اء سے ہورہا ہے۔ اور دونوں تجربات کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
۳۔ ’’زیادہ سے زیادہ خرچ کرو‘‘ کی پالیسی اور بسرعت صنعتی ترقی کی خواہش بالکل متضاد ہیں۔ہر ملک کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ان وسائل کو دو طرح سے خرچ کیا جاسکتا ہے۔ (consumption) پر اور(Production)پر جتنے زیادہ وسائل (consumption demand) کو پورا کرنے کے لیے صرف کیے جائیں گے، اتنے ہی کم وسائل (production)کو پورا کرنے کے لیے رہ جائیں گے۔ یہاں الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ سرمایہ جب چاہا، جتنا چاہا، جس غرض کے لیے چاہا، مہیا ہوگیا، اور مستقبل کے متعلق فکر بھی نہ کرنی پڑی۔اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ میں صرف ایک عام فہم مثال دینے پر اکتفا کرتا ہوں۔انگلستان میں آج بھی رہایشی مکانات کی بہت قلت ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگ بنانا نہیں چاہتے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ وسائل کی کمی زیادہ مکانات بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔جتنا زیادہ سرمایہ لوہا سیمنٹ میں صرف کیا جائے گا ،اتنا ہی کم دوسری صنعتوں کے لیے رہ جائے گا۔ اسی لیے معاشی کونسل ہر صنعت کے لیے تمام عوامل کا کوٹا مقرر کردیتی ہے تاکہ سب کو کچھ نہ کچھ حصہ مل جائے اور کوئی کام بند نہ ہو۔
۵۔ کوئی پس ماندہ ملک بغیر(consumption expenditure) کو کم کیے اور بغیر اپنی قومی آمدنی کا خاصا بڑا حصہ پس انداز کیے ترقی نہیں کرسکتا۔ بیرونی امداد اور بیرونی سرمائے کی بڑی سے بڑی رقوم بھی ایسے ملک کے سرمائے کی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتیں۔اگریہ ممالک (consumption expenditure) کو کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ پس انداز کرنے پر تیار نہیں ہیں تو پھر صنعتی ترقی کے خواب ہی دیکھتے رہیں۔ان خوابوں کے پورا ہونے میں بہت وقت لگے گا اور بہت قربانیاں دینی پڑیں گی۔ اس دعوے کا بہترین ثبوت روس اور جاپان پیش کرتے ہیں۔ گو کہ سیاسی اعتبار سے دونوں ممالک میں بعد المشرقین ہے، لیکن معاشی ترقی کے لیے دونوں نے ایک ہی ذریعہ اختیار کیا۔ دونوں ہماری طرح ہی بدحال تھے،دونوں کو غیر ملکی سرمایہ نہیں ملا اور دونوں سرعت سے صنعتی ترقی کے خواہاں تھے۔ لہٰذا انہوں نے consumption expenditure)) کو کم کیا اور قومی آمدنی کا ایک خاص حصہ جبراً پس انداز کیا اور اس سرمائے سے اپنی صنعتیں کھڑی کیں۔