مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی جمہوریت اور ملازمین حکومت کی حیثیت:

سوال: اگست ۱۹۵۵ء کے ترجمان میں اشارات کے زیر عنوان آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے،ان سے مجھے جزوی اختلاف ہے۔میرے شبہات درج ذیل ہیں:

۱۔ آپ نے جمہوریت کو قرآن وسنت کا منشا قرار دیا ہے۔آپ بخوبی واقف ہیں کہ فی زماننا جمہوریت ایک مخصوص طرز حکومت کا نام ہے جس کی بنیاد عوام کی غیر محدود حاکمیت کے تصور پر قائم ہے، جسے ہم کسی طرح بھی کتاب وسنت کی منشا کے مطابق قرار نہیں دے سکتے۔ آپ جمہوریت کے لفظ کو اس کے معروف معنی سے ہٹا کر استعمال کررہے ہیں۔آپ نے خود اسلامی طرز حکومت کے لیے ’’تھیوڈیما کریسی‘‘کی اصطلاح وضع کی تھی، اب اس اصطلاح کو چھوڑ کر آپ ڈیما کریسی کی طرف کیوں رجعت کررہے ہیں۔

۲۔ آپ کا یہ خیال کہ ملازمین حکومت کو سیاست میں دخل اندازنہ ہونا چاہیے،بالکل مبہم اور مجمل ہے۔کیا آپ بھی سیاسیات ومذہب کی مصنوعی تقسیم کے قائل ہیں؟

۳۔ آپ کا یہ کہنا بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں کہ سرکاری ملازم ہر اس ہیئت حاکمہ کی اطاعت قبول کریں جسے ملک کے باشندوں کی اکثریت آئینی طور پر ملک کا اقتدار سونپ دے۔ مسلمانوں کے لیے خواہ وہ سرکاری ملازم ہو یا عام شہری،اطاعت صرف اسی حکمران کی لازم ہے جو کتاب وسنت کا پابند ہو۔ محض آئینی حیثیت سے ملک کی مسند اقتدار پر متمکن ہوجانا کسی طرح بھی مسلمانوں سے اطاعت کا مستحق نہیں ہوسکتا۔

جواب: جمہوریت کے متعلق میں بارہا اپنی تحریروں اور تقریروں میں یہ بات اچھی طرح واضح کرچکا ہوں کہ اسلام میں جمہوریت کا اصل جوہر موجود ہے۔ مگر جمہوریت کے اسلامی تصور اور جمہوریت کے مغربی تصورات میں بڑا فرق ہے۔ اسلام عوام کی لامحدود حاکمیت کا قائل نہیں ہے، بلکہ خدا کی حاکمیت کے تحت عمومی خلافت کا قائل ہے۔اس عمومی خلافت کے اختیارات چوں کہ کسی شخص یا خاندان یا گروہ میں مرکوز نہیں ہوتے بلکہ بحیثیت مجموعی پوری ملت کو حاصل ہوتے ہیں اور وہی اس کی مجاز ہے کہ جس کو چاہے ،ان اختیارات کے استعمال کے لیے منتخب کرے،اس لیے شخصی اور گروہی حکومت سے ممتاز کرنے کے لیے اسلام کے طرز حکومت کو جمہوری حکومت کہا جاسکتا ہے۔ یہی اسلام کا مخصوص تصور جمہوریت ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت کا ایک ہی معروف اور متفق علیہ تصور رائج ہے۔مغرب میں بھی جمہوریت کے مختلف تصورات، مثلاًسرمایہ دارانہ جمہوریت، اشتراکی جمہوریت وغیرہ موجود ہیں۔ ان کے بالمقابل اسلام کے طرز حکومت کو اسلامی جمہوریت کا نام دیا جاسکتا ہے۔اسی اسلامی جمہوریت کو میں نے ’’تھیوڈ یما کریسی‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔اس اصطلاح سے بھی مراد جمہوریت ہی کی ایک قسم ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہے۔

ملازمین حکومت کے سیاسیات میں دخل انداز ہونے کی جو مخالفت میں نے کی ہے،اس کی کے وجوہ ودلائل بھی میں نے بیان کردیے ہیں۔ آپ نے ان دلائل پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی اور ایسے پہلوئوں سے اعتراضات شروع کردیے جو اصل معاملے سے غیر متعلق ہیں۔ملازمین حکومت کی ایک حیثیت ذاتی اور دوسری حیثیت ملازم ہونے کی ہے۔ ذاتی حیثیت میں کوئی بھی نہیں کہتا کہ وہ سیاسیات سے’’ علیحدہ‘‘رہیں۔اسی وجہ سے تو ان کو بھی عام لوگوں کی طرح ووٹ کا حق حاصل ہے۔ لیکن ملازم حکومت ہونے کی حیثیت سے ان کا سیاسیات میں دخل اندازہونا اور ان سرکاری اختیارات کو،جو انتظام ملکی کے لیے انہیں دیے گئے ہیں،سیاسی نظریوں اور پارٹیوں میں سے کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف استعمال کرنا،اصولاً بھی غلط ہے اور عملاً بھی ملک کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ کیا آپ اسے صحیح سمجھتے ہیں کہ پولیس اور فوج اور سول سیکرٹریٹ کے لوگ اپنی جتھہ بندی کرکے خود اپنا ایک نظریہ قائم کرلیں اور یہ فیصلہ کر بیٹھیں کہ وہ خود ملک پر قبضہ کرکے اپنے نظریے کو زبردستی نافذ کریں گے،یا کوئی ایسی پارٹی اگر انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آجائے جو ان کے نظریے سے مختلف نظریہ رکھتی ہوتو اس کی حکومت نہ چلنے دیں گے۔

یہ صحیح ہے کہ ایک سرکاری ملازم کو، ایک عام شہری کی طرح،صرف اسی حکمران کی اطاعت کرنی چاہیے جو کتاب وسنت کا پابند ہو، لیکن کیا یہ بھی صحیح ہے کہ اگر کوئی حکمران کتاب وسنت کا پابند نہ ہو تو اس کی ملازمت تو کی جائے مگر اطاعت نہ کی جائے؟ میں نے تو جس سیاق وسباق میں یہ بات کہی تھی کہ باشندوں کی اکثریت جس ہیئت حاکمہ کے سپرد اختیارات کرے اس کی اطاعت ملازمین کو کرنی چاہیے،میں اُس میں جمہوری اصول بیان کرنے سے پہلے اسلامی دستور کے اصول بھی بیان کرچکا تھا اور میری یہ بات اسی سیاق وسباق سے متعلق سمجھی جانی چاہیے تھی۔ لیکن اگر آپ اس سیاق وسباق سے الگ کرکے بھی اسے لیں تو میں کہوں گا کہ ملک کی اکثریت اگر کسی ایسی ہیئت حاکمہ کو اختیارات سونپ دے جو کتاب وسنت سے منحرف ہو تو ایک دین دار ملازم حکومت کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔بہرحال اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ملازمت تو کرتا رہے مگر اطاعت سے انکار کردے۔(ترجمان القرآن۔ جمادی الاخریٰ ۳۷۵اھ۔فروری ۹۵۶اء)