مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فتنۂ تصویر:

سوال: آج کل تصویروں اور فوٹو گرافی کا استعمال کثرت سے ہے ۔زندگی کے تقریباًہر شعبے میں ان کا استعمال ایک تہذیبی معیار بن گیا ہے۔بازار کی دکانوں میں،مکانوں کے ڈرائنگ روموں میں،رسالوں کے سرور ق پر، اخباروں کے کالموں میں،غرض کہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے،اس لعنت سے سابقہ پڑتا ہے، اور بعض اوقات توجہ مبذول ہوکے رہتی ہے۔کیا نسوانی تصویروں کو بھی پوری توجہ کے ساتھ دیکھنا گناہ ہے؟

جواب: تصویروں کا فتنہ فی الواقع ایک بلائے عام بلکہ سیلاب بلا کی صورت اختیار کرگیا ہے جس کا کوئی علاج میرے علم میں اس کے سوا نہیں ہے کہ بحیثیت مجموعی نظام زندگی میں تغیر واقع ہو اور اس نظام کی زمام کار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہو جو معاشرے میں تمام منکرات کے ظہور کو روک دیں۔ جب تک یہ سیلاب اُمنڈ رہا ہے،جو شخص جس حد تک بھی اس سے بچ سکتا ہو، بچنے کی کوشش کرے۔ نسوانی تصویروں کے ساتھ بھی وہی غض بصر کا معاملہ کرنا چاہیے جو خود عورتوں کے لئے شریعت نے لازم کیاہے،کیوں کہ جیتی جاگتی عورت کو گھورنے اوراس کی تصویر کو دیکھنے کے اثرات ونتائج قریب قریب یکساں ہیں۔ (ترجمان القرآن۔جلد ۵۲،عدد ۵۔اگست ۹۵۹اء)