رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
غلاف کعبہ کی نمایش اور اس کا جلوس:
سوال: حال ہی میں بیت اﷲ کے غلاف کی تیاری اور نگرانی کا جو شرف پاکستان اور آپ کو ملا ہے وہ باعث فخر وسعادت ہے۔مگر اس سلسلے میں بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی وارد ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے تو آپ کی نیت پر حملے کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ دراصل آپ اپنے اور اپنی جماعت کے داغ مٹانا اور پبلسٹی کرنا چاہتے تھے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے خواہاں تھے،اس لیے آپ نے اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا تاکہ شہرت بھی حاصل ہو اور الیکشن فنڈکے لئے لاکھوں روپے بھی فراہم ہوں۔ اس کے بعد بعض اعتراضات اصولی اور دینی رنگ میں پیش کیے گئے ہیں۔مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ:
(۱) غلاف کعبہ کو قرآن وحدیث میں شعائر اﷲ کے زمرے میں شمار نہیں کیا گیا،اس لئے عملاً یا اعتقاداً اس کی تقدیس وتعظیم ضروری نہیں ۔یہ بس کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے،اس سے زائد کچھ نہیں، خواہ یہ کعبے کی نیت سے بنے یا نہ بنے۔کعبے سے کسی طرح کا تعلق رکھنے والی اگر ہرشے کا شمار شعائر اﷲ میں ہونے لگے اور اس کی تعظیم لازم سمجھی جائے تو پھر تعمیر کعبہ کے لئے جانے والا پتھر یا اس طرح کی دوسری اشیا بھی قابل تعظیم ٹھہریں گی۔
(۲) غلاف کی نمایش وزیارت اور اسے جلوس کے ساتھ روانہ کرنا ایک بدعت ہے۔کیوں کہ نبی ؐ اور خلافت راشدہ کے دور میں کبھی ایسا نہیں کیا گیا، حالاں کہ غلاف اس زمانے میں بھی چڑھایا جاتا تھا۔اگر غلاف کی نمایش کرنا اور اس کا جلوس نکالنا جائز ہے تو پھر ہدی کے اونٹوں کا جلوس کیوں نہ نکالا جائے جنہیں قرآن نے صراحت کے ساتھ شعائر اﷲ قرار دیا ہے۔
(۳) جو غلاف ابھی چڑھایا نہ گیا ہو بلکہ چڑھانے کے لئے تیار کیا گیا ہو، وہ تو محض کپڑا ہے، آخر وہ متبرک کیسے ہو گیا کہ اس کی زیارت کی اور کرائی جائے اور اسے اہتما م کے ساتھ جلوس کی شکل میں روانہ کیا جائے۔ پھر جو غلاف خانہ کعبہ سے اُترتا ہے، اس کی تعظیم وتکریم کیوں روا نہیں رکھی جاتی اور فقہا نے اس کا عام کپڑے کی طرح استعمال واستفادہ کیوں جائزرکھا ہے۔
(۴) یہ فعل بجائے خود احداث فی الدین اور بدعت ممنوعہ ہونے کے علاوہ بہت سی دیگر بدعات، منکرات اور حوادث کا موجب ہے۔چنانچہ غلاف کی اس طرح زیارت اور نمایش کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہوا ہے ،عورتوں کی بے پردگی اور بے حرمتی ہوئی ہے، جانیں تلف ہوئی ہیں، نذرانے چڑھائے گئے ہیں، غلاف کو چوما گیا ہے، اس کے گرد طواف کیا گیا ہے، اس سے اپنی حاجات طلب کی گئی ہیں،حتیٰ کہ اس کو سجدے کیے گئے ہیں۔ پھر غلاف کے جلوس باجے کے ساتھ نکالے گئے ہیں اور اسے حضرت مخدوم علی ہجویری کے مزار پر چڑھا یا گیا۔
معترضین کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہماری قوم پہلے ہی جذبۂ تنظیم سے عاری اور بدعات میں غرق ہے، اس لئے آپ کو یہ پیشگی سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اس طرح کے پروگراموں کا لازمی انجام یہی کچھ ہو گا۔ چنانچہ ان نتائج وعواقب کی ذمہ داری آپ پر براہِ راست عائد ہوتی ہے۔
اس طرح کے اعتراضات چوں کہ بار باراٹھائے جارہے ہیں اس لئے بہتر اور مناسب ہے کہ آپ ان کا جواب دیں۔ اس ضمن میں یہ بہت ضروری ہے کہ آپ بدعت کے مسئلے کو اصولی طور پر واضح کریں اور بتائیں کہ شریعت میں جو بدعت مکروہ ومذموم ہے، اس کی تعریف کیا ہے اور اس کا اطلاق کس قسم کے افعال پر ہوتا ہے۔
جواب: اس معاملے میں مختلف دینی حلقوںکی طرف سے جو اعتراضات کیے گئے ہیں،وہ سب میری نگاہ سے گزرتے رہے ہیں۔مگر ان میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اور جس انداز بیان سے کام لیا گیا ہے،اس کا حریف بننا کسی طرح بھی میرے بس میں نہ تھا،اس لئے میں نے ان سے کوئی تعرض نہ کیا۔اب ایک سائل نے شرافت ومعقولیت کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ اصل وجوہ اعتراض پر بحث کی جائے ،اس لئے ان صفحات میں اس کا جواب دیا جارہا ہے۔
جتنے اعتراضات اوپر نقل کیے گئے ہیں،ان کی ساری عمارت دراصل ایک غلط مفروضے پر تعمیر کی گئی ہے۔معترضین نے اپنی جگہ یہ فرض کرلیا ہے کہ میں نے خود ابتدا کرکے غلاف کی نمایش کا انتظام کیا اور اس کا جلو س نکالنے کا پروگرام بنایا اور اسپیشل ٹرینوں کے ذریعے سے شہر در شہر اس کو پھرانے کی اسکیم بنائی۔ اسی بنیاد پر وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بدعت آخر یہاں کیوں شروع کی گئی، اور پھر اس پر اعتراضات کے ردّے پر رَدّے چڑھاتے چلے جاتے ہیں۔حالاں کہ دراصل یہ مفروضہ ہی بجائے خود واقعات کے خلاف ہے۔ میرے پیش نظر سرے سے یہ بات تھی ہی نہیں کہ اس غلاف کے معاملے کوعوام میں مشتہر کیا جائے اور نہ میرے حاشیۂ خیال میں کبھی یہ بات آئی تھی کہ اسے جلوسوں اور نمایشوں کے بعد دھوم دھام سے روانہ کیا جائے۔ غلاف کی تیاری کے لئے ابتدائً سارا کام بالکل راز داری کے ساتھ ہوتا رہا۔میر ی خواہش یہ تھی کہ پاکستان کے کاری گروں سے سعودی عرب کے منتظمین دارالِکسوہ کا براہِ راست معاملہ کرا دوں اورپھر عملاً اس سے بے تعلق ہو جائوں۔ میں نہ یہ چاہتا تھا کہ میرا اس نگرانی سے کوئی تعلق ہو اور نہ میں نے اس کو پسند کیا کہ اس کی کوئی اطلاع اخبارات میں شائع ہو، یا عام لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ میں اس سلسلے میں کوئی کام کررہا ہوں۔ لیکن مختلف کاری گروں سے سعودی عرب کے منتظمین کا تعارف کرانا اور ان کے کام کے نمونے حاصل کرنا بہرحال ناگزیر تھا۔ اس سے رفتہ رفتہ بات پھیلتی چلی گئی۔ پھر یکایک ایک روز یہ واقعہ پیش آگیا کہ چند کاری گروں کو مکے سے آئے ہوئے پرانے غلاف کا ایک ٹکڑا بطور نمونہ دیا گیا تھا تاکہ وہ اس کے مطابق کام بنا کر لائیں۔ عوام کو نہ معلوم کس طرح ان کے پاس اس ٹکڑے کی موجودگی کا علم ہوگیا اور لوگوںکے ٹھٹ کے ٹھٹ اس کی زیارت کے لئے جمع ہوگئے۔اس کے بعد اس کا جلوس بازار میں نکالا گیا اور آناًفاناً یہ بات شہر میں مشہور ہوگئی کہ یہاں غلاف کعبہ کی تیاری کا کام ہورہا ہے۔اس واقعے سے ایک خبر رساں ایجنسی تک یہ اطلاع پہنچ گئی اور اس نے سارے ملک میں اسے پھیلا دیا۔ پھرا خبارات کے نمائندوں نے بطور خود اس میں دل چسپی لینی شروع کردی۔ غلاف کی تیاری کے مختلف مرحلوں کی اطلاعات اخباری نمائندے خود ہی ٹوہ لگا لگا کر حاصل کرتے رہے اور انہیں شائع کرتے رہے۔یہاں تک کہ جب غلاف کا کپڑا تیار کرنے کا کام یعقوب انصاری صاحب کے سپرد کیا گیا تو اخبارات نے ان کا فوٹو،ان کے کاری گروں کا فوٹو، ان کی فیکٹری کا فوٹو،تمام تفصیلات کے ساتھ شائع کردیا،جس سے عوام کو معلوم ہوگیا کہ غلاف کہاں بن رہاہے اور کون بنا رہا ہے۔ اب غلاف کی تیاری شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ فیکٹری پر جمع ہونے لگے۔
یہ سب کچھ میرے علم واطلاع کے بغیر ہوتا رہا۔میری کسی خواہش اور کوشش کا اس میں قطعاً کوئی دخل نہ تھا۔
عوام میں جب یہ اطلاعات پھیلیں تو ان کے اندر غلاف کو دیکھنے کا شوق ایک طوفان کی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے پہلے اس امر کا کوئی اندازہ ہی نہ تھا کہ یہاں لوگ اس چیز سے اتنی اور اتنے بڑے پیمانے پر دل چسپی لیں گے۔اب جو خلاف توقع یہ صورت سامنے آئی تو میں نے محسوس کیا کہ اس طوفان کو روک دینا میرے یا کسی شخص کے بس میں نہیں ہے اور اسے روکنے کی کوشش میں قوت صرف کرنا غیر ضروری بھی ہے،کیوں کہ یہ ایک فطری دل چسپی ہے اور بجائے خود ناجائز نہیں ہے۔ یہ ملک عرب سے بہت دور ہے۔ یہاںکے بہت کم لوگوں کو وہاں جانا اور بیت اﷲ کو دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔یہاں کے عوا م کو پہلی مرتبہ یہ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ہاں سے ایک ہدیہ خدا کے گھر کے لئے تیار ہوکر جارہا ہے۔اس لئے یکایک ان کے اندر آتش شوق بھڑک اٹھی ہے۔ یہ شوق کسی بت کے لئے نہیں ہے۔ کسی معبود غیر اﷲ کے آستانے کے لئے نہیں ہے۔ خود اﷲ ربّ العالمین کے اپنے گھر کے لئے ہے جسے اﷲ نے آپ ہی مَثَابَۃَ لِّلنَّاسِ بنایا ہے اور تمام آفاق کے لوگوں کو اس کا گرویدہ کیاہے (فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ ابراہیم37:14) اس شوق کو کسی طرح بھی مشرکانہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک خدا پرستانہ شوق ہے اس لیے اسے شوق نامحمود قراردے کر روک دینے اور دبادینے کی فکر غیر ضروری ہے۔ مگر چوں کہ ہمارے عوام دین کے علم اور دینی تربیت سے محروم ہیں اور حدود کو نہیں پہچانتے،اس لئے ایک جائز شوق بھی اگر ان کے اندر سیلاب کی طرح اٹھے اور آپ سے آپ اپنا راستہ نکالنا شروع کردے تو بہت جلدی وہ غلط راستے پر پڑسکتاہے۔ ان سارے پہلوئوں پر غور کرکے میں نے یہ رائے قائم کی کہ عوام کی اس جائز اور فطری دل چسپی کو، جو میرے یا کسی کے بھڑکانے سے نہیں بھڑکی ہے بلکہ آپ سے آپ بھڑک اٹھی ہے، غلط رُخ پر جانے سے روکنے اور صحیح رُخ پر ڈال دینے کی کوشش ناگزیر ہے۔اگر میں ایسا نہ کروں گا تو یہ ایسا راستہ اختیا ر کرلے گی جو شرعی اعتبار سے بہت قابل اعتراض اور دین واخلاق کے لئے بہت مضرت رساں ہوگا۔
یہی کچھ سوچ کر میں نے غلاف کی تیاری شروع ہوتے ہی معززین شہر کو جمع کیا اور سب کی رضا مندی سے مختلف نمائندہ اصحاب کی ایک مجلس بنائی تاکہ شہر کے لوگوں کے جذبۂ شوق کی تسکین جائز حدود کے اندر ہوجائے اور بے قاعدہ زیارتوں اور جلوسوں کی نوبت نہ آنے پائے۔اس مجلس میں حسب ذیل اصحاب شامل کیے گئے!
۱۔ مولانا عبدالرحمن صاحب(مولانا مفتی محمد حسن صاحب مرحوم ومغفور کے صاحب زادے اور جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم،علمائے دیو بند کے گروہ سے)۔
۲۔ مفتی محمد حسین نعیمی صاحب(مہتمم جامعہ نعیمیہ،بریلوی گروہ کے علما میں سے)۔
۳۔ مولانا حافظ کفایت حسین صاحب( شیعہ علما میں سے)۔
۴۔ حاجی محمد اسحاق حنیف صاحب( ناظم نشرو اشاعت جمعیت اہل حدیث۔ ان کا نام اس مجلس کی رکنیت کے لئے جناب مدیر الاعتصام نے خود تجویز کیا تھا)۔
۵۔ چودھری محمد حسین صاحب( وائس چیئرمین لاہور کارپوریشن)
۶۔ چودھری محمد امین صاحب(کونسلر لاہو ر کارپوریشن)
۷۔ محمد عمر خاں صاحب بسمل(ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن لاہور)
۸۔ نصر اﷲشیخ صاحب(صدر پنجاب یونی ورسٹی سٹوڈنٹس یونین)
۹۔ حاجی محمد لطیف صاحب(صدر شاہ عالم مارکیٹ)
۰ا۔ شیخ تاج دین صاحب( صدر اعظم کلاتھ مارکیٹ ایسوسی ایشن)
۱۱۔ حاجی معراج دین صاحب(چیئرمین یونین کونسل شو مارکیٹ)
۲ا۔ ملک مبارک علی صاحب(چیئرمین یونین کمیٹی چوک وزیر خاں)
۳ا۔ شمشیر علی صاحب( لیڈیز اون چوائس ،انارکلی)
۴ا۔ شیخ فرحت علی صاحب( فرحت علی جیولرز،مال روڈ)
۵ا۔ سیٹھ ولی بھائی صاحب(بمبئے کلاتھ ہائوس،انار کلی)
۶ا۔ رانا الہ داد خان صاحب(رانا موٹرز،مال روڈ)
۷ا۔ عزیز الرحمن صاحب(سائنس ہائوس،میکلیگن روڈ)
۸ا۔ جناب کوثر نیازی صاحب(ایڈیٹر شہاب)
اس پوری مجلس میں جماعت اسلامی کے صرف دو رکن شامل تھے۔باقی سب مختلف گروہوں کے نمائندہ اور ذمہ دار اصحاب تھے۔میں نے خود اپنے آپ کو اس میں سرے سے شامل ہی نہ کیا تھا۔البتہ اس کے دو اجلاسوں میں ارکان مجلس کی خواہش پر شریک ضرور ہوا تھا۔ان مواقع پر ڈپٹی کمشنر لاہور،اسسٹنٹ کمشنر لاہور،اور ڈپٹی مجسٹریٹ لاہور بھی شریک اجلاس تھے۔سب کے مشورے سے یہ پروگرام بنایا گیا کہ غلاف روانہ کرنے سے پہلے چار دن عورتوں کو اور تین دن مردوں کو اس کے دیکھنے کا موقع دیا جائے۔اس نمایش میں عورتوں اور مردوں کو ہرگز خلط ملط نہ ہونے دیا جائے۔ نمایش گاہ میں ایسے کارکن(عورتوں کے لئے عورتیں اور مردوں کے لئے مرد) مقرر کیے جائیں جو لوگوں کو جائز شرعی حدود کی تلقین کرتے رہیں اور ناجائز افعال سے روکیں۔ نذرانے دینے سے بھی لوگوں کو منع کیا جائے اور انہیں ہدایت کی جائے کہ غلاف کو دیکھتے وقت بس اﷲ کا ذکر کریں، کلمہ طیبہ اور درود شریف پڑھیں، اور اﷲ سے دعا کریں کہ اپنے اس گھر کی زیارت کا بھی شرف عطا فرمائے جس کا غلاف دیکھنے کی توفیق اس نے بخشی ہے۔ پھر غلاف روانہ کرتے وقت اسے جلوس کی شکل میں لے جایا جائے، (کیوں کہ جلوس نکالا نہ گیا تو وہ خود نکل کر رہے گا اور بری طرح نکلے گا) مگر اس امر کا پورا اہتما م کیا جائے کہ جلوس کے پورے راستے سے فحش تصویریں ہٹا دی جائیں، گانوں کی ریکارڈنگ بند کردی جائے، تکبیر و تہلیل اور اﷲ جل شانہ کی حمد کا غلغلہ اس زور سے بلند کیا جائے کہ سارا شہر اس سے گونج اٹھے اور اس جلوس میں عورتوں کو شریک ہونے سے منع کیا جائے۔
یہ تھا وہ پروگرام جو شہرلاہور کے لئے بنایا گیا تھا۔اس کے بعد ہمیں ایک اور صورتِ حال سے سابقہ پیش آیا۔ وہ یہ تھی کہ غلاف کو دیکھنے کی تڑپ صرف لاہور شہر تک محدود نہ تھی بلکہ جگہ جگہ سے لوگ آکر اسے فیکٹری ہی میں دیکھ رہے تھے اور فیکٹری والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہورہا تھا۔ پھر لوگوں نے کسی نہ کسی طرح فیکٹری والوں سے غلاف کے تھان حاصل کرنے شروع کردیے اور مختلف شہروں میں لے جا کر ان کے جلوس نکالے اور اپنے اپنے طریقوں پر ان کی زیارت کرائی۔ مجھے اندیشہ ہواکہ جس خرابی کو میں یہاں روکنا چاہتا ہوں، وہ پورے ملک میں پھیلے گی۔ یہ خطرہ بھی لاحق ہوا کہ اس طرح کہیں کچھ تھان ضائع نہ ہوجائیں۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ باہر کے لوگوں کو بھی غلاف دکھانے کا باقاعدہ انتظام کردیا جائے۔ چنانچہ پاکستان ویسٹرن ریلوے کے تعاون سے دو اسپیشل ٹرینوں کا انتظام کیا گیا۔ ان کے ساتھ بارہ بارہ ریلوے اسکائوٹس، تین تین سول ڈیفنس کے رضا کار اور تین تین جماعت اسلامی کے کارکن بھیجے گئے۔ ان میں لائوڈسپیکر نصب کیے گئے اور کارکنوں کو یہ ہدایات دی گئیں کہ جہاں بھی وہ لوگوں کو غلاف دکھانے کے لئے ٹھہریں، وہاں پہنچتے ہی اﷲ کے ذکر کا غلغلہ اس زور سے بلند کریں کہ کوئی دوسرا نعرہ اٹھنے ہی نہ پائے۔ زائرین کو ہرطرح کے مشرکانہ افعال سے روکیں، عورتوں اور مردوں کو خلط ملط نہ ہونے دیں، نذرانے ڈالنے سے منع کریں،تنظیم کے ساتھ غلاف دکھائیں تاکہ حادثات رونما نہ ہوں، اور لوگوں کو سمجھائیں کہ یہ صرف ایک کپڑا ہے جو اﷲ کے گھر کے لئے بنایا گیا ہے۔ اسے بس دیکھ لو اور اﷲ سے دعا کرو کہ وہ اپنے گھر کی زیارت بھی نصیب کرے۔
واقعات کی اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کوئی ایسا پروگرام نہ تھا جو میں نے خود کسی اچھے یا برے مقصد سے شروع کیا ہو۔بلکہ یہ پروگرام اس وقت بنایا گیاجب عوام میں ایک جذبہ خود بخود بھڑک اٹھا تھا اور اس کے بنانے کی اصل غرض یہ تھی کہ اس جذبے کے سیلا ب کو منکرات کی طرف جانے اور صحیح راستے پر موڑنے کے لئے جو کچھ کیا جاسکتا ہے،کیا جائے۔اگر میں ایسا نہ کرتا تو یہ بہت زیادہ مکروہ راستہ اختیار کرلیتا اور کسی کے روکے نہ رکتا۔
اب آگے بڑھنے سے پہلے میں مختصراً یہ بھی بتائے دیتا ہوں کہ فی الواقع ہوا کیا ہے اور اس کو بنا کیا دیا گیا ہے۔
لاہور شہر میں مجلس انتظامیہ کے زیرا ہتمام غلاف کی نمایش چار دن عورتوں کے لئے اور تین دن مردوں کے لئے رہی اور ایک ایک دن مردوں اور عورتوں کے لئے علیحدہ علیحد ہ نمایش کا انتظام لاہور چھائونی میںبھی کیا گیا۔ ان مواقع پر غلاف کو سجدہ کرنے،یا اس کاطواف کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہ آیا۔ کارکنوں نے لوگوں کو حدود شرعیہ سمجھانے اور ان کی خلاف ورزی سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ کسی قسم کے نذرانے اور چڑھاوے نہ چڑھانے دیے گئے۔ بہت بڑی اکثریت نے کارکنوں کی تلقین کو قبول کیا اورحدود کی پابندی کی۔ لیکن جہاں ہزاروںلاکھوں آدمی ٹوٹ پڑے ہوں، وہاں یہ ممکن نہ تھا کہ کسی شخص کو بھی حد سے تجاوز نہ کرنے دیا جائے۔اس سیلاب میں اگر کچھ لوگ منع کرنے کے باوجود غلاف کو چوم بیٹھے،یا کوئی بندۂ خدا غلاف ہی سے دعا مانگ بیٹھا، یا مردوں کی نمایش میں کچھ عورتیں خود اپنے گھر والوںکے ساتھ آگئیں، تو اس کی ذمہ داری آخر منتظمین پر کیسے عائد ہوجائے گی۔
لاہور کا جلوس میں نے خود دیکھا ہے اور شروع سے آخر تک اس میں شریک رہا ہوں۔ ہوائی اڈے تک پہنچتے پہنچتے اس میں ۶،۷ لاکھ آدمی شامل ہوگئے تھے اور آٹھ میل لمبا راستہ تھا۔اس پورے راستے میں تمام سینمائوں اور دکانوں پر سے عورتوں کی تصاویر اور ہر قسم کی فحش تصویریں ہٹا دی گئی تھیں یا چھپا دی گئی تھیں۔ریڈیو پر گانوں کی تمام آوازیں بند ہوگئی تھیں۔ پورا جلوس اﷲ اکبر اور لا الٰہ الا اﷲ کے ذکر کے سوا کوئی چیز قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔اتنے بڑے ہجوم میں ایک جیب نہیں کٹی۔ کسی نے سگریٹ نہیں پیا۔ کوئی غنڈہ گردی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔عورتیںمنع کرنے کے باوجود آئیں، مگر کوئی ادنیٰ سا واقعہ بھی عورتوں کو چھیڑنے کا سننے میں نہ آیا۔ [مجھ سے لاہور شہر کے ڈی ایس پی نے خود بیان کیا کہ اِس جلوس میں جیب تراشی، غنڈہ گردی،اور عورتوں کو چھیڑنے کا کوئی واقعہ ان کے نوٹس میں نہیں آیا ہے]۔
پورے شہر پر اس وقت نیکی کا اتنا غلبہ تھا کہ بعض لوگ جن کی جوتیاں مال روڈ پر جلوس میں چھوٹ گئی تھیں،انہوں نے کئی گھنٹے بعد ہوائی اڈے سے واپس آکر اپنی جوتیاں اسی جگہ پڑی پائیں جہاں وہ چھوٹی تھیں۔اتنی بڑی خیر میں اگر کہیں کوئی مشرکانہ یامبتدعانہ بات ہوگئی تووہ معترضین کی گرفت میں آگئی۔ حالاں کہ جہاں لاکھوں آدمی جمع ہوں، وہاں کون اس امر کی ضمانت لے سکتا تھا کہ کوئی فرد بھی کوئی غلط کام نہ کرے گا۔ چلتے ہوئے مجمع میں سے اگر کچھ لوگ لپک کر غلاف کو چوم بیٹھے، یا کچھ لوگوں نے غلط نعرے لگا دیے، یا کوئی اور بے جا بات کر گزرے تو کیا صرف اس وجہ سے اس خیر عظیم پر پانی پھیر دیا جائے گا جو اتنے بڑے پیمانے پر اس روز شہر لاہور میں رونما ہوئی؟ یہ تو مکھی کا سا حال ہوا کہ ساری پاک چیزوں کو چھوڑ کر وہ صرف گندگی ہی تلاش کرتی ہے اور کہیں اس کی کوئی چھینٹ پاجائے تو اسی پر جا بیٹھتی ہے۔
جو اسپیشل ٹرینیں باہر بھیجی گئی تھیں،ان کی مفصل رپورٹ بھی میں نے لی ہے اور صرف جماعت اسلامی کے کارکنوں ہی سے نہیں بلکہ سول ڈیفنس اور ریلوے اسکائوٹس کے ان لوگوں سے بھی لی ہے جو ان ٹرینوں کے ساتھ گئے تھے [ اس رپورٹ کا خلاصہ ’’ایشیا‘‘ اور ’’شہاب‘‘ میں شائع ہوچکا ہے۔میرے پیش نظر صرف وہ تحریری خلاصہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ بیانات بھی ہیں جو ان لوگوں نے فرداً فرداً میرے سامنے زبانی پیش کیے ]۔ان کا متفقہ بیان ہے کہ جگہ جگہ ہزاروں، بلکہ بعض جگہ لاکھوں آدمی غلاف دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ہر جگہ ذکر اﷲ ہی غالب رہا اور بہت کم دوسرے نعرے بلند ہوسکے۔ ہر جگہ عورتوں اور مردوں کے مجمع الگ رہے اور بہت ہی کم مقامات پر ہجوم کی کثرت کے باعث انہیں خلط ملط ہونے سے نہ روکا جا سکا۔ ہر جگہ امن وسکون سے زیارت ہوئی اور بہت کم مقامات پر حادثات پیش آئے جن کی وجہ کسی کی غفلت نہ تھی بلکہ ازدحام کی شدت تھی۔ عورتیں کثرت سے آئیں، مگر شاذ ونادر ہی کہیں یہ واقعہ پیش آیا کہ کسی نے انہیں چھیڑا ہو۔ اتنے بڑے مجمعوں میں کسی کی جیب کٹنے کا کوئی واقعہ سننے میں نہیں آیا۔ عوام کو بڑے پیمانے پر نیکی اور بھلائی کی تلقین کی گئی اور انہیں غلاف کی زیارت کے حدود بتائے گئے۔ عموماً لوگوں نے ان حدود کا خیال رکھا اور زیادہ تر لوگ یہی دعا مانگتے دیکھے گئے کہ خدایا! جس گھر کا غلاف تو نے دکھایا ہے، خود اس گھر کو بھی دیکھنے کی توفیق عطا فرما۔ ان ٹرینوں کے ساتھ جو غلاف گئے تھے، ان میں سے کسی کا طواف ہرگز نہیں ہوا، اور نہ کسی کو غلاف کے آگے سجدہ کرتے دیکھا گیا۔ اب اگر کہیں ان لاکھوں انسانوں کے مجمع میں کوئی غلاف کو، یا غلاف لے جانے والی ٹرین کو چوم بیٹھا، یا کسی نے ٹرین کے انجن کو انجن شریف کہہ دیا، یا کارکنوں کے منع کرنے کے باوجود لوگوں نے ٹرین کے اندر پیسے پھینک دیے، یا ہجوم کی کثرت کے باعث عورتوں اور مردوں کو خلط ملط ہونے سے نہ روکا جاسکا، تو بس یہی چند واقعات ہمارے دین داروں نے اعتراض جڑنے کے لئے چن لئے اور اس ساری خیر کو نظر انداز کردیا جو اس کام میں غالب پائی جاتی تھی۔
پھر ان معترض حضرات نے محض کیڑے چننے ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ جہاں کیڑے نہ تھے، وہاں اپنی طرف سے کیڑے ڈالنے میں بھی تامل نہ فرمایا۔ مثلاً لاہور میں مجلس انتظامیہ کے علم واجازت کے بغیر اس محلہ کے لوگوں نے، جس میں غلاف تیار کرنے والی فیکٹری قائم تھی، بطور خود غلاف کا جلوس نکال ڈالا تھا۔ اس جلوس کے متعلق بڑے بڑے اتقیا وصلحا یہ الزام لگا رہے ہیں کہ اس کے آگے باجا بج رہا تھا اور جلوس والوں نے غلاف کو لے جاکر حضرت علی ہجویریؒ کے مزار پر چڑھایا۔ حالاں کہ یہ دوسری بات تو قطعی جھوٹ ہے۔ غلاف کو مزار پر چڑھانے کی روایت سرے سے کوئی اصلیت نہیں رکھتی۔ رہا باجا، تو اس کے متعلق خبریں متضاد ہیں۔ کسی کا بیان ہے کہ بجا تھا، کسی کا کہنا ہے کہ نہیں بجا، اور کوئی کہتا ہے کہ جب جلوس گزر رہا تھا تو ایک برات آگئی جس کے ساتھ باجا تھا۔ تاہم اگر وہ بجا ہی ہو تب بھی اس کی کوئی ذمہ داری مجھ پر یا مجلس انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی۔ کیوں کہ جلوس ہماری اجازت کے بغیر ،بلکہ ہمارے منع کرنے کے باوجود نکالا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہم کسی طرح بھی غلاف کو ان لوگوں سے نہ بچا سکتے تھے جن کے محلے میں وہ بن رہا تھا۔ الایہ کہ ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا جاتا اور غلاف کے تھان وہاں سے اڑا کر نکالے جاتے!
عجیب تر بات یہ ہے کہ ان حضرات کو سارا غم صرف اس غلاف کا ہے جو لاہور میں تیار ہوا تھا۔ کراچی میں جو غلاف بنا تھا، نمایش اس کی بھی ہوئی اور شہر در شہر وہ بھی پھرا، مگر اس کا ماتم کسی سے نہ سنا گیا۔ بلکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا، وہ سب بھی ایسے سیاق وسباق میں بیان کیا گیا کہ وہ آپ سے آپ میرے اور جماعت اسلامی کے حساب میں پڑ گیا۔
یہ باتیں تو پھر بھی ظاہر سے تعلق رکھتی تھیں۔کمال یہ ہے کہ ہمارے ان دین داروں کی نگاہ دور رس میرے باطن تک بھی جاپہنچی اور انہیں معلوم ہوگیا کہ میں نے غلاف کعبہ کی نمایش کا یہ سارا اہتمام کس نیت سے کیا تھا۔ اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ میری نیت ان پر کیسے منکشف ہوگئی۔ اگر وہ علیم بذات الصدور ہونے کے مدعی ہیں تو یہ اس شرک وبدعت سے اشد چیز ہے جس پر وہ گرفت فرما رہے ہیں۔اور اگر انہوں نے میری طرف یہ نیت محض قیاس وگمان کی بِنا پر منسوب فرمائی ہے تو شاید انہیں قرآن وحدیث میں صرف شرک وبدعت ہی کی برائی ملی ہوگی۔ بہتان وافترا کے متعلق احکام ان کی نگاہ سے نہ گزرے ہوں گے۔
اس بیان واقعہ کے بعد اب میں ان اصولی سوالات کی طرف رجوع کرتا ہوں جن پر روشنی ڈالنے کی خواہش محترم سائل نے ظاہر فرمائی ہے۔
(۱) شعائر اﷲ کے لفظ کا اطلاق صرف انہی چیزوں پر نہیں ہوتا جن کے لئے اﷲ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے،بلکہ ہر وہ چیز جو خدا پرستی کی علامت ہو،شعائر اﷲ میں شمار کی جاسکتی ہے، اور جس چیز کو بھی اﷲ جل شانہ کے حضور ہدیہ کرنے کی نیت کرلی جائے، اس کا احترام بجا ودرست ہے۔یہ احترام اس شے کا نہیں بلکہ اس خدا کا ہے جس کے لئے اسے مخصو ص کرنے کی نیت کی گئی ہے۔خانہ کعبہ کی تعمیر کے لئے اگر پتھر اور لکڑی بھی جمع کی جائے او رلوگ اسے ادب واحترام کے ساتھ اٹھائیں اور اسے اٹھاتے اور لے جاتے اور تعمیر کی خدمت انجام دیتے وقت باوضو ہونے اور اﷲ کا ذکر کرنے کا اہتمام کریں، تو آخر یہ چیز قابل اعتراض کس بنیادپر ہوگی؟ البتہ جو شخص ان حدود سے تجاوز کرکے انہی چیزوں کا طواف، یا ان کی طرف رخ کرکے سجدہ کرنے لگے، یا ان سے دعا واستعانت کرنے لگے، تو یہ بلاشبہ شرک ہوگا۔
(۲) کسی فعل کو بدعت مذمومہ قرار دینے کے لئے صرف یہی بات کافی نہیں ہے کہ وہ نبیؐ کے زمانے میں نہ ہوا تھا۔لغت کے اعتبار سے تو ضرور ہر نیا کام بدعت ہے۔مگر شریعت کی اصطلاح میں جس بدعت کو ضلالت قرار دیا گیا ہے ،اس سے مراد وہ نیا کام ہے جس کے لئے شرع میں کوئی دلیل نہ ہو، جو شریعت کے کسی قاعدے یا حکم سے متصادم ہو، جس سے کوئی ایسا فائدہ حاصل کرنا یا کوئی ایسی مضرت رفع کرنا متصور نہ ہو جس کا شریعت میں اعتبار کیا گیا ہے، جس کا نکالنے والا اسے خود اپنے اوپر یا دوسروں پر اس ادعا کے ساتھ لازم کرلے کہ اس کا التزام نہ کرنا گناہ اور کرنا فرض ہے۔ یہ صورت اگر نہ ہو تو مجرد اس دلیل کی بِنا پر کہ فلاں کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں ہوا، اسے’’بدعت‘‘ بمعنی ضلالت نہیں کہا جاسکتا۔امام بخاری نے کتاب الجمعہ میں چار حدیثیں نقل کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ عہد رسالت اور عہد شیخین میں جمعہ کی صرف ایک اذان ہوتی تھی، حضرت عثمانؓ نے اپنے دَورِ میں ایک اذان کا اور اضافہ کردیا۔ لیکن اسے بدعت ضلالت کسی نے بھی قرار نہیں دیا، بلکہ تمام اُمت نے اس نئی بات کو قبول کرلیا۔بخلاف اس کے انہی حضرت عثمان ؓنے منیٰ میں قصر کرنے کے بجائے پوری نماز پڑھی تو اس پر اعتراض کیا گیا۔ حضرت عبداﷲ بن عمر صلوٰۃ ضحی کے لئے خود بدعت اور احداث کا لفظ استعما ل کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ انھا لمن احسن ما احد ثوا ( یہ ان بہترین نئے کاموں میں سے ہے جو لوگوں نے نکال لیے ہیں) بدعۃ ونعمت البدعۃ (بدعت ہے اور اچھی بدعت ہے) ما احدث الناس شیئا احبا لی منھا( لوگوں نے کوئی ایسا نیا کا م نہیں کیا ہے جو مجھے اس سے زیادہ پسند ہو)۔ حضرت عمرؓ نے تراویح کے بارے میں وہ طریقہ جاری کیا جو نبیؐ اور حضرت ابو بکر ؓ کے عہد میں نہ تھا۔ وہ خود اسے نیا کام کہتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں: نعمت البدعۃ ھذہ(یہ اچھا نیا کام ہے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرد نیا کام ہونے سے کوئی فعل بدعت مذمومہ نہیں بن جاتا بلکہ اسے بدعت مذمومہ بنانے کے لئے کچھ شرائط ہیں۔
امام نووی شرح مسلم( کتاب الجمعہ) میں کل بدعۃ ضلالۃ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’علما نے کہا ہے کہ بدعت( یعنی باعتبار لغت نئے کام ) کی پانچ قسمیں ہیں۔ایک بدعت واجب ہے۔ دوسری بدعت مندوب (یعنی پسندیدہ) ہے جسے کرنا شریعت میں مطلوب ہے۔ تیسری بدعت حرام ہے۔چوتھی مکروہ ہے۔ اورپانچویں مباح ہے۔اور ہمارے اس قول کی تائید حضرت عمرؓ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے جو انہوں نے نماز تراویح کے بارے میں فرمایا۔‘‘
علامہ عینی عمدۃ القاری (کتاب الجمعہ) میں عبد بن حمید کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ’’جب مدینہ کی آبادی بڑھ گئی اور دُور دُور مکان بن گئے تو حضرت عثمانؓ نے تیسری اذان کا (یعنی اس اذان کا جواب جمعہ کے روز سب سے پہلے دی جاتی ہے) حکم دیا اور اس پر کسی نے اعتراض نہ کیا، مگر منیٰ میں پوری نماز پڑھنے پر اعتراض کیا گیا۔‘‘
علامہ ابن حجر فتح الباری (کتاب التراویح) میں حضرت عمر ؓ کے قول نعمت البدعۃ ھذہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ بدعت ہر اس نئے کام کو کہتے ہیں جو کسی مثال سابق کے بغیر کیا گیا ہو ۔مگر شریعت میں یہ لفظ سنت کے مقابلے میں بولا جاتا ہے اور اسی بنا پر بدعت کو مذموم کہا جاتا ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ جو نیا کام شرعاً مستحسن کی تعریف میں آتا ہووہ اچھا ہے، اور جو شرعاًبرے کام کی تعریف میں آتا ہووہ برا، ورنہ پھر مباح کی قسم میں سے ہے۔‘‘
اس اصولی وضاحت کے بعد اب میں عرض کرتا ہوں کہ غلاف کے کپڑے کا جلوس نکالنااور اس کی نمایش کا انتظام کرنا بلاشبہ ایک نیا کام تھا جو عہد رسالت اور زمانۂ خلافت راشدہ میں نہیں ہوا۔ مگر میں نے یہ کام اس بِنا پر نہیں کیا کہ میں اصلاً اس کی نمایش کرنا چاہتا تھا اور اسے دھوم دھام کے ساتھ بھیجنا ابتدا ہی سے میری اسکیم میں شامل تھا۔ بلکہ میں نے یہ پروگرام اس وقت بنایا جب سارے ملک میں اس کے لئے عوام کے اندر بے پناہ جذبۂ شوق خو دبخود بھڑک اٹھا اور مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ شوق اگر خود اپنا راستہ نکالے گا تو بڑے پیمانے پر گمراہی پھیلنے کا موجب بن جائے گا۔ (چنانچہ جہاں جہاں بھی اس نے موقع پاکر خود اپنا راستہ نکالا،بہت بری طرح نکالا) اس لئے میں نے اس مضرت کو دفع کرنے کی خاطر یہ کام کیا جو شریعت کی نگاہ میں ایک بڑی مضرت تھی۔اس کے لئے ایسا طریقہ تجویز کیا جس سے لوگوں کے جذبات کا سیلاب حدود شرع کے اندر محدود رہ سکے۔ اس کو سیئات کے بجائے ان حسنات کی طر ف موڑنے کی کوشش کی جو شرعاً پسندیدہ ہیں۔ میرا ہرگز یہ دعویٰ نہ تھا کہ لوگوں کو ضرور غلاف دیکھنا اور اس کے جلوس میں شامل ہونا چاہیے،نہ آئیں گے تو گناہ گار ہوں گے، اور آئیںگے تو یہ اور یہ اجر ملے گا۔اور میرا یہ ارادہ بھی نہیں ہے کہ آئندہ اگر پاکستان ہی میں غلاف بننے لگے اور اس سے میرا کوئی تعلق ہو تو اس کی زیارت کے اہتمام اور جلوسوں کے انتظام کو ایک مستقل طریقہ بنا لوں۔ اب میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کس فقہی قاعدے سے میں بدعت ضلالت کا مرتکب ہوا ہوں۔اگر سب وشتم کے بجائے کوئی صاحب دلائل سے مجھے بتادیں کہ پھر بھی یہ بدعت ضلالت ہی ہے تو مجھے نادم اور تائب ہونے میں ذرّہ برابر تامل نہ ہو گا۔ الحمد ﷲ،میں متکبر نہیں ہوں کہ گناہ کو گناہ جان لینے کے بعد بھی اپنی بات کی پچ میں اس پر اصرار کروں۔
(۳)کوئی کپڑا خواہ کعبے پر چڑھایا گیا ہو،یا چڑھنے کے لئے تیار کیا گیا ہو،دونوں صورتوں میں وہ ایسا متبرک نہیں ہوجاتا کہ اس سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کو چھوا جائے، چوما جائے اس کی زیارت کی اور کرائی جائے اور اسے دھوم دھام سے روانہ کیا جائے۔بلکہ فقہا نے کعبے پر سے اترے ہوئے غلاف سے بھی لباس بنانے کو جائز قرار دیا ہے،بشرطیکہ اس پر کلمہ طیبہ یا آیات قرآنی یا اسمائے الٰہی لکھے ہوئے نہ ہوں۔ لیکن اگر لوگ اس بناپر اس کا از خود(نہ کہ کسی شرعی حکم اور فتوے کی حیثیت سے) احترام کریں کہ یہ اﷲ کے گھر کے لئے جارہا ہے،یا وہاں سے اُتر کر آیا ہے، تو اس احترام کو ناروا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تو اس نسبت کا احترام ہے جو اسے اﷲ کے گھر سے حاصل ہوگئی ہے۔ اس احترام کے لئے اﷲ تعالیٰ کی عظمت ومحبت کے سوا کوئی دوسرا محرک نہیں ہے۔اس احترام کو کوئی شخص واجب اور کسی خاص شکل کو لازم قرار دے تو غلط ہے۔ لیکن کوئی اسے مذموم ٹھہرائے اور خواہ مخواہ شرک قرار دے تو یہ بھی زیادتی ہے۔رہی اس کی زیارت اور اس کے لئے جلوس کا اہتمام، تو وہ جس کی بِنا پر کیا گیا ،اس کی وضاحت میں اوپر کرچکا ہوں۔
(ترجمان القرآن، جلد ۶۰، عدد ا۔اپریل ۹۶۳اء)