رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
صدر ریاست کو ویٹو کا حق:
سوال: کچھ عرصے سے اخبارات کے ذریعے سے تجاویز پیش کی جارہی ہیں کہ صدر پاکستان کو خلیفۃ المسلمین یا امیر المومنین کے معزز خطاب سے آراستہ کیا جائے۔اس تصور میں مزید جان ڈالنے کے لیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر کو حق تنسیخ ملنا چاہیے، کیوں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جلیل القدر صحابہ کے مقابلے میں ویٹو سے کام لیا اور منکرین زکوٰۃ ومدعیان نبوت کی سرکوبی کے لیے جہاد کا حکم دے کر صحابہ کرامؓ کی رائے کو ردّ کردیا۔ گویا اس دلیل سے شرعی حیثیت کے ساتھ ویٹو جیسے دھاندلی آمیز قانون کو مستحکم فرمایا جارہا ہے۔
ان حالات کی روشنی میں جناب والا کی خدمت میں چند سوالات پیش کیے جارہے ہیں، امید ہے کہ بصراحت جوابات سے مطمئن فرمائیں گے۔
۱۔ کیا حضرت ابوبکر ؓنے آج کے معنوں میں ویٹو استعمال فرمایا تھا؟ اور
۲۔ اگر استعمال فرمایا تھا تو ان کے پاس کوئی شرعی دلیل تھی یا نہیں؟
جواب: خلفائے راشدین کی حکومت کے نظام اور آج کل کے صدارتی نظام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ان دونوں کو ایک چیز صرف وہی لوگ قرار دے سکتے ہیں جو اسلام کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ میں نے اس فرق پر مفصل بحث اپنی کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘ میںصفحہ ا۳۳۔ ۳۳۳ پر کی ہے۔ اسے ملاحظہ فرما لیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ جس چیز کو خلافت کے نظام میں ’’ویٹو‘‘ کے اختیارات سے تعبیر کیا جارہا ہے،وہ موجودہ زمانے کی دستوری اصطلاح سے بالکل مختلف چیز تھی۔حضرت ابو بکرؓ کے صرف دو فیصلے ہیں جن کو اس معاملے میں بنائے استدلال بنایا جاتا ہے۔ ایک جیش اسامہ کا معاملہ۔ دوسرے مرتدین کے خلاف جہاد کا مسئلہ۔ ان دونوںمعاملات میں حضرت ابو بکرؓ نے محض اپنی ذاتی رائے پر فیصلہ نہیں کر دیا تھا، بلکہ اپنی رائے کے حق میں کتاب وسنت سے استدلال کیا تھا۔ جیش اسامہ کے معاملے میں ان کا استدلال یہ تھا کہ جس کام کا فیصلہ نبیؐ اپنے عہد میں کرچکے تھے، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انجام دینا میرا فرض ہے۔ میں اسے بدل دینے کے اختیارات نہیں رکھتا۔ مرتد ین کے معاملے میں ان کا استدلال یہ تھا کہ جو شخص یا گروہ بھی نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتا ہو اور یہ کہے کہ میں نماز تو پڑھوں گا مگر زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا، وہ مرتد ہے، اسے مسلمان سمجھنا ہی غلط ہے، لہٰذا ان لوگوں کی دلیل قابل قبول نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ لاالٰہ الا اﷲ کے قائلین پر تم کیسے تلوار اٹھائوگے۔ یہی دلائل تھے جن کی بِنا پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ یہ اگر ’’ویٹو‘‘ ہے تو کتاب اﷲ اور سنت رسول اللہ کا ویٹو ہے نہ کہ سربراہِ ریاست کا۔
حقیقت میں اسے ویٹو کہنا ہی سرے سے غلط ہے، کیوں کہ حضرت ابو بکرؓ کے استدلال کو تسلیم کرلینے کے بعد اختلاف کرنے والے صحابہ کرامؓ اس کی صحت کے قائل ہوگئے تھے او راپنی سابقہ رائے سے انہوں نے رجوع کرلیا تھا۔
(ترجمان القرآن۔ جلد ا۶، عدد۲۔ نومبر ۹۶۳اء)