مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اذکارِ مسنونہ:

سوال: آج آپ کی خدمت میں ایک خلش پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ توقع ہے کہ میری پوری مدد فرمائیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ میں ایک بریلوی خاندان کا فرد ہوں۔ بچپن میں غیر شعوری حالت میں والد بزرگوار نے حضرت سلطان باہوؒ کے سجادہ نشین سلطان امیر مرحوم کے ہاتھ پر میری بیعت کرائی۔

حضرت سلطان باہوؒ ضلع جھنگ کے ایک مشہور باخدا بزرگ ہیںجو حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں گزرے ہیں۔حضرت نے تبلیغ واشاعت دین میں پوری ہمت دکھائی اور جہاد میں بھی شرکت فرمائی۔

سجادہ نشین سلطان امیر مرحوم فرائض کے پابند، کبائر سے مجتنب خدا یاد آدمی تھے۔دربار میں جاتے تو مسنون طریقے سے دعائے مغفرت کرتے۔ لوگوں نے دربار کا طواف شروع کردیا تو موصوف نے دربار کے اندر ایک ایسی دیوار بنوا دی جس سے طواف ناممکن ہو گیا۔ ان کے ان اعمال اور خدا یاد ہونے کی وجہ سے مجھے ان سے بے حد عقیدت تھی۔مگر افسوس کہ اکتساب سے قبل میری کم عمری میں انتقال فرما گئے۔ پھر ایک ا ور بزرگ سے کچھ اوراد حاصل کیے جنہیں باقاعدگی سے پڑھتا تھا کہ ۴۳ء میں جماعت کی رکنیت سے سرفراز ہوا۔

اس کے بعد میرے اندر ایک زبردست کش مکش ہوئی۔ وہ یہ کہ سکون قلب کے لئے رکنیت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا کافی محسوس ہوتا رہا۔ مگر ساتھ ہی اپنی توجہات کو سمیٹ کر ایک مرکز پر مجتمع رکھنے کے لئے اورادو وظائف کی تشنگی محسوس ہوتی۔اس مقصد کے لئے جب مختلف حضرات کی طرف نظر دوڑاتا تو اقامت دین کے بنیادی تقاضوں سے ان کی غفلت ان کی ساری وقعت گھٹا دیتی۔ اس کش مکش میں مدت ہوئی مبتلا ہوں۔ بعض دوستوں سے اپنی حالت کا ذکر بھی کرچکا ہوں۔ بالا ٓخر طبیعت کارجحان اس طرف ہوا کہ اس معاملے میں بھی آپ ہی کی طرف رجوع کروں۔

میری درخواست ہے کہ اذکارواورادِ مسنونہ میں سے کچھ ایسی چیز یا چیزیں میرے لئے تجویز فرمائیں جو:

(۱) میری طبیعت سے مناسبت رکھتی ہوں اور…

(۲) جن سے پندرہ بیس پچیس منٹ صرف کرکے اپنی توجہات کو سمیٹنے میںمدد لیا کروں۔مجھے پوری توقع ہے کہ آپ اس معاملے میں بھی رہنمائی کریں گے۔

جواب: ذکر کے معاملے میں دو باتیں پیش نظر رہنی چاہییں۔ایک یہ کہ ذکر بتکلف نہ ہونا چاہیے،بلکہ دلی رغبت اور شوق کے ساتھ ہونا چاہیے۔دوسرے یہ کہ ذکر کا انتخاب اپنے دلی ذوق کی بِنا پر کرنا چاہیے۔ذکر وہ کیجیے جس سے خود اپنی روح کی مناسبت آپ کو محسوس ہو،اور اس وقت کیجیے جب پوری توجہ اور رغبت کے ساتھ آپ کرسکیں۔ان دو باتوں کو ذہن میں رکھ کر آپ مشکوٰہ میں سے تین مقامات کو بغور پڑھیں۔کتاب الصلوٰۃ میں سے باب الذکر بعدالصلوٰۃ اور باب صلوٰۃ اللیل، باب القصد فی العمل اور کتاب الدعوات پوری۔ ان حصوں میں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ نبیؐ ذکر ودعا کس طرح فرماتے تھے اور دوسروں کو آپ نے کیا کیا چیزیں اس سلسلے میں بتائی ہیں۔ ان میں سے جو جو چیزیں بھی آپ کے دل کو لگیں، ان کا انتخاب کرلیجیے۔

(ترجمان القرآن،شعبان، رمضان ۳۷۶اھ، جون ۹۵۷اء)