مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد چہارم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اسلامی ریاست اور خلافت کے متعلق چند سوالات:

سوال: یہ ایک سوال نامہ ہے جو جرمنی سے ایک طالب علم نے اسلامی ریاست اور خلافت کے بعض مسائل کی تحقیق کے لیے بھیجا ہے۔اصل سوالات انگریزی میں ہیں۔ذیل میں ہم ان کا ترجمہ دے رہے ہیں:

۱۔ کیا اسلامی ریاست کے سربراہ کے لیے صرف خلیفہ کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے؟

۲۔ کیا اموی خلفا صحیح معنوں میں خلفا کہلائے جانے کے مستحق ہیں؟

۳۔ خلفائے بنو عباس خصوصاً المامون کے متعلق آپ کی کیارائے ہے؟

۴۔ حضرت امام حسنؓ،حضرت امام حسینؓ اور ابن زبیرؓ کی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟آپ کی نظر میں ۶۸۰ء میں ملت اسلامیہ کا اصل رہنما کون تھا؟حسینؓ یا یزید؟

۵۔ کیااسلامی ریاست میں خروج ایک نیکی کا کام قرار پاسکتا ہے؟

۶۔ اگر خروج کرنے والے مساجد یا دوسرے مقدس مقامات(حرم اور کعبہ) میں پناہ گزیں ہوں تو ایسی صورت میں اسلامی ریاست کا ایسے لوگوں کے ساتھ کیا طرز عمل ہونا چاہیے؟

۷۔ وہ ایسے کون سے ٹیکس ہیں جو ایک اسلامی ریاست اپنے شہریوں سے ازروئے قرآن وسنت وصول کرنے کی مجاز ہے؟

۸۔ کیا کوئی خلیفہ ایسا کام بھی کرسکتا ہے جو سابق خلفا کے طرز عمل سے مختلف ہو؟

۹۔ حجاج بن یوسف کو بحیثیت گورنر اور منتظم آپ کیا حیثیت دیتے ہیں؟

۰ا۔ کیا اسلامی ریاست اس بات کا استحقاق رکھتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں پر ایسے ٹیکس عائد کرے جو نہ تو قرآن وسنت میں مذکور ہوں اور نہ ہی ان کی کوئی نظیر سابق خلفا کے ہاں ملتی ہو؟

جواب: آپ کے ارسال کردہ سوالات کے مفصل جوابات لکھنے کے لیے تو فرصت درکار ہے جو مجھے میسر نہیں۔البتہ مختصر جوابات حاضر ہیں:

۱۔ اسلامی ریاست کے رئیس یا صدر کے لیے ’’خلیفہ‘‘ کا لفظ کوئی لازمی اصطلاح نہیں ہے۔ امیر، امام، سلطان وغیرہ الفاظ بھی حدیث، فقہ، کلام اور اسلامی تاریخ میں کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔ مگر اصولاً جو چیز ضروری ہے وہ یہ کہ ریاست کی بنیاد نظریۂ خلافت پر قائم ہو۔ ایک صحیح اسلامی ریاست نہ تو بادشاہی یا آمریت ہوسکتی ہے اور نہ ایسی جمہوریت جو حاکمیت عوام(popular sovereignty) کے نظریے پر مبنی ہو۔اس کے برعکس صرف وہی ریاست حقیقت میں اسلامی ہوسکتی ہے جو خدا کی حاکمیت تسلیم کرے، خدا اور اس کے رسول کی شریعت کو قانون برتر اور اوّلین ماخذ قوانین مانے، اور حدود اﷲ کے اندر رہ کر کام کرنے کی پابند ہو۔اس ریاست میں اقتدار کی اصل غرض خدا کے احکام کا اجرا اور ا س کی رضا کے مطابق برائیوں کا استیصال اور بھلائیوں کا ارتقا ہے۔اس ریاست کا اقتدار،اقتدار اعلیٰ نہیں ہے بلکہ خدا کی نیابت وامانت ہے۔یہی معنی ہیں خلافت کے۔

۲۔ اموی فرما ںرائوں کی حکومت حقیقت میں خلافت نہ تھی۔اگرچہ ان کی حکومت میں قانون اسلام ہی کا تھا،لیکن دستور (constitution) کے بہت سے اسلامی اصولوں کو انہوں نے توڑ دیا تھا۔نیز ان کی حکومت اپنی روح میں اسلام کی روح سے بہت ہٹی ہوئی تھی۔ اس فرق کو ان کی حکومت کے آغاز ہی میںمحسوس کرلیا گیا تھا۔چنانچہ اس حکومت کے بانی امیر معاویہ کا اپنا قول یہ تھا کہ انا اوّل الملوک (میں سب سے پہلا بادشاہ ہوں)۔اور جس وقت امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کیا، اس وقت حضرت ابو بکر ؓکے صاحب زادے عبدالرحمنؓ نے اٹھ کر برملا کہا کہ ’’یہ تو قیصریت ہے کہ جب قیصر مرا تو اس کا بیٹا قیصر ہوگیا۔‘‘

۳۔ اصولی حیثیت سے خلافت عباسیہ کی پوزیشن بھی وہی ہے جو خلافت بنی امیہ کی ہے۔ فرق بس اتنا تھا کہ خلفائے بنی امیہ دین کے معاملے میں بے پروا (indifferent) تھے، اور اس کے برعکس خلفائے بنی عباس نے اپنی مذہبی خلافت اور روحانی ریاست کا سکہ بٹھانے کے لیے دین کے معاملے میں ایجابی طور پر دل چسپی لی۔ لیکن ان کی یہ دل چسپی اکثر دین کے لیے مضر ہی ثابت ہوئی۔ مثلاًمامون کی دل چسپی نے جو شکل اختیار کی،وہ یہ کہ اس نے ایک فلسفیانہ مسئلے کو، جو دین کا مسئلہ نہ تھا،خواہ مخواہ دین کا ایک عقیدہ بنایا اور پھر حکومت کی طاقت سے زبردستی ا س کو تسلیم کرانے کے لیے ظلم وستم کیا۔

۴۔ جس دور کے متعلق یہ سوال کیا گیا ہے ،وہ حقیقت میں فتنے کا دور تھا۔ مسلمان اس وقت سخت انتشارِ ذہنی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس وقت عملاً مسلمانوں کا حقیقی لیڈر کون تھا۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ یزید کا سیاسی اثر جو کچھ بھی تھا،صرف اس بِنا پر تھا کہ اس کے پاس طاقت تھی اور ا س کے والد نے ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کے بعد اسے اپنا ولی عہد بنادیا تھا۔ یہ بات اگر نہ ہوتی اور یزید عام مسلمانوں کی صف میں شامل ہوتا، تو شاید وہ آخری شخص ہوتا جس پر لیڈر شپ کے لیے مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑ سکتی۔ اس کے برعکس حسین ابن علیؓ اس وقت امت کے نمایاں آدمی تھے اور ایک آزادانہ انتخاب میں اغلب یہ ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ ان کے حق ہی میں پڑتے۔

۵۔ ظالم امرا کے مقابلے میں خروج ایسی صورت میں نہ صرف جائز بلکہ فرض ہوجاتا ہے جب کہ ان کو ہٹا کر ایک صالح وعادل حکومت قائم کرنے کا امکان ہو۔ اس معاملے میں امام ابوحنیفہؒ کامسلک بہت واضح ہے جسے ابو بکر جصاص نے ’’احکام القرآن‘‘ اور الموفق المکی نے ’’مناقب ابوحنیفہ‘‘ میں نقل کیاہے۔ اس کے برعکس ایک حکومت عادلہ کے خلاف خروج بہت بڑا گناہ ہے اور تمام اہل ایمان پر لازم ہے کہ ایسے خروج کو دبا دینے میں حکومت کی تائید کریں۔بین بین حالت میں، جب کہ حکومت عادل نہ ہو مگر صالح انقلاب کے بھی امکانات واضح نہ ہوں، پوزیشن مشتبہ ہے اور ائمہ وفقہا نے اس معاملے میں مختلف طرز عمل اختیار کیے ہیں۔ بعض نے صرف کلمۂ حق کہنے پر اکتفا کیا مگر خروج کو ناجائز سمجھا۔بعض نے خروج کیا اور جام شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔ اور بعض نے بامید اصلاح تعاون بھی کیا۔

۶۔ حکومت عادلہ کے مقابلے میں جو لوگ خروج کریں ،وہ اگر مساجد میں پناہ لیں تو ان کا محاصرہ کیا جاسکتا ہے، اور اگر وہ وہاں سے گولا باری کریں تو جوابی گولا باری بھی کی جاسکتی ہے۔ رہا حرم میں ان کا پنا ہ لینا، تو اس صورت میں صرف محاصرہ کرکے اس حد تک تنگ کیا جاسکتا ہے کہ بالآخر باغی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائیں۔ حرم میں قتل وخون کرنا یا حرم پر سنگ باری یا گولا باری کرنا درست نہیں ہے۔بخلاف اس کے ایک ظالم حکومت کا وجود خود گناہ ہے اور اپنے قیام وبقا کے لیے اس کی کوشش بھی گناہ میں اضافے کے سوا کچھ نہیں۔

۷۔ قرآن وسنت نے ٹیکسوں کا کوئی نظام تجویز نہیں کیا ہے بلکہ مسلمانوں پر زکوٰۃ بطور عبادت اور غیر مسلموں پر جزیہ(بطور علامت اطاعت) لازم کرنے کے بعد یہ بات حکومت کی صواب دید پر چھوڑی ہے کہ جیسی ملک کی ضروریات ہوں،ان کے مطابق باشندوں پر ٹیکس عائد کریں۔ خراج اور محاصل درآمد وبرآمد اس کی ایک مثال ہیں جنہیں قرآن وسنت میں شرعاًمقرر نہیں کیا گیا تھا اور حکومت اسلامی نے اپنی صواب دید کے مطابق انہیں خود مقرر کیا۔اس معاملے میں اصل معیار ملک کی حقیقی ضروریات ہیں۔ اگر کوئی فرما ں روا اپنے تصرف میںلانے کے لیے ٹیکس وصول کرے تو حرام ہے۔ ملک کی حقیقی ضروریات پر صرف کرنے کے لے لوگوں کی رضا مندی سے ان پر عائد کرے تو حلال ہے۔

۸۔ جی ہاں۔صرف یہی نہیں بلکہ خود اپنے کیے ہوئے سابق فیصلوں کو بھی بدل سکتا ہے۔

۹۔ حجاج بن یوسف دنیوی سیاست کے نقطۂ نظر سے بڑا لائق اور دینی نقطۂ نظر سے سخت ظالم حاکم تھا۔

۰ا۔ جی ہاں، ان شرائط کے ساتھ جو نمبر ۷ میں بیان ہوئی ہیں۔