رسائل ومسائل – جلد چہارم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد چہارم۔ اس جلد میں 81 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «دل چسپ مین میخ»، «سپاس نامے اور استقبال»، «غلط الزامات»، «غیر اسلامی نظام میں اجرائے حدودِ شرعیہ»، «جنت کا محل وقوع»، «فتنہ پردازی کا مرضِ لاعلاج» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سود اور غیر ملکی تجارت:
سوال: غیر ملکی تاجر جب ہم سے سودنہ لینے پر مجبور ہوجائیں گے تو کیا اپنے مال کی قیمتیں نہیں بڑھا دیں گے؟کیا اس طرح سے سودی لین دین کا بند کرنا عملاًبے سود نہ ہوجائے گا؟
جواب: اگر غیر ملکی تاجروں کی واجب الادا رقم کی ادائیگی کا یقینی اور قابل اعتماد انتظام ہوجائے تو غالباً وہ اپنے مال کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے۔لیکن بالفرض اگر قیمتوں میں کچھ اضافہ بھی ہوجائے تب بھی ہماری تجارت حرام کی آلایش سے تو محفوظ ہوجائے گی اور یہ درحقیقت خسارے کا نہیں بلکہ بڑے نفع کا سودا ہے۔علاوہ ازیں ہماری معاشی زندگی میں اسلامی انقلاب دنیا بھر کے لیے سبق آموز ہوگا۔ہماری عملی مثال سے ان شاء اﷲ تمام قومیں اس بات کی قائل بلکہ اس پر راضی ہوجائیں گی کہ سود نہ جائز ہے اور نہ ناگزیر ہے۔
سوال: موجودہ بیرونی تجارت میں ایک عملی دقت یہ بھی ہے کہ اس کے لیے بنک میں (letter of credit) کھولنا ضروری ہوتا ہے اور بغیر سود کے اس کا کھلنا ممکن نہیں ہے۔
جواب: یہ صحیح ہے کہ موجودہ حالات میں افراد اگر دوسرے ممالک سے تجارت کرنا چاہیں تو ان کے رستے میں کچھ نہ کچھ مشکلات ہیں۔لیکن یہ مشکلات اسی وقت تک ہیں،جس وقت تک ملک کی حکومت آپ کی پشت پناہی نہ کرے اور خود بھی اپنی خارجی تجارت میں سود سے بچنے کی جدوجہد نہ کرے۔لیکن اگر حکومت مختلف ممالک سے غیر سودی بنیادوں پر معاہدے کرنے کی کوشش کرے، اپنے ملک کے اندر بھی غیر سودی مالی نظام قائم کرے، اور بیرونی ممالک میں اپنے تاجروں کی ادائیگیوں میں بھی مدد دے، تو تمام مشکلات کا حل بآسانی نکالا جاسکتا ہے۔