آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء
اشاعت: 1956ء· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔
آرٹیکل 227: ججز، عدالتیں اور قانونی کارروائیاں
(1) وہ شخص جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل وفاقی عدالت کے چیف جسٹس یا دیگر جج کے طور پر عہدے پر رہا ہو، اس دن سے، جیسا بھی معاملہ ہو، عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس یا دیگر جج کے طور پر، معاوضے اور دیگر مراعات کے سلسلے میں انہی شرائط پر عہدے پر رہے گا جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل اس پر لاگو تھیں۔
(2) وہ شخص جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل کسی عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس یا دیگر جج کے طور پر عہدے پر رہا ہو، اس دن سے، جیسا بھی معاملہ ہو، اس عدالت کے چیف جسٹس یا دیگر جج کے طور پر، معاوضے اور دیگر مراعات کے سلسلے میں انہی شرائط پر عہدے پر رہے گا جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل اس پر لاگو تھیں۔
(3) وفاقی عدالت میں، دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل، زیرِ التواء تمام قانونی کارروائیاں، اس دن سے، عدالتِ عظمیٰ کو منتقل تصور کی جائیں گی اور فیصلے کے لیے اس کے سامنے زیرِ التواء تصور کی جائیں گی؛ اور وفاقی عدالت کا دستور کے نفاذ کے دن سے پہلے دیا گیا کوئی فیصلہ یا حکم اسی طرح قوت اور اثر رکھے گا جیسے وہ عدالتِ عظمیٰ کے ذریعے دیا یا جاری کیا گیا ہو۔
(4) دستور کے دیگر احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر، عدالتِ عظمیٰ کو وہی دائرہ اختیار اور اختیارات حاصل ہوں گے جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل وفاقی عدالت کے قابلِ استعمال تھے، اور کسی قانون میں وفاقی عدالت کے حوالوں کو عدالتِ عظمیٰ کے حوالوں کے طور پر سمجھا جائے گا۔
(5) دستور کے دیگر احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر، ہر عدالتِ عالیہ کو وہی دائرہ اختیار اور اختیارات حاصل ہوں گے جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل اسے حاصل تھے۔
(6) دستور کے احکام سے مشروط — (الف) وہ تمام سول، فوجداری اور محصولاتی عدالتیں جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل دائرہ اختیار اور فرائض کا استعمال کر رہی ہوں، اس دن سے، اپنے اپنے دائرہ اختیار اور فرائض کا استعمال جاری رکھیں گی، اور ایسی عدالتوں میں عہدے پر فائز تمام افراد اپنے اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے؛ (ب) پورے پاکستان میں تمام حکام اور تمام عدالتی، انتظامی اور دفتری افسران جو دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل فرائض انجام دے رہے ہوں، اس دن سے، اپنے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے۔