آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء
اشاعت: 1956ء· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔
آرٹیکل 202: حکمرانوں سے متعلق معاہدے
(1) جہاں دستور کے نفاذ کے دن سے پہلے یا بعد میں حکومتِ پاکستان اور کسی ایسی ریاست کے حکمران کے مابین، جو اس وقت پاکستان کے ساتھ الحاق میں تھی، کیے گئے کسی معاہدے کے تحت، حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس حکمران کو اس کے پرائیوی پرس کے طور پر بلا ٹیکس کسی رقم کی ادائیگی کی ضمانت یا یقین دہانی دی گئی ہو، وہاں وہ رقوم وفاقی مجموعی فنڈ پر چارج کی جائیں گی اور اس فنڈ سے حکمران کو بلا ٹیکس ادا کی جائیں گی۔
(2) جہاں مذکورہ بالا کسی حکمران کے علاقے کسی صوبے میں شامل ہوں، وہاں اس صوبے کے مجموعی فنڈ پر وہ رقم چارج کی جائے گی، اور اس فنڈ سے وفاقی حکومت کو ادا کی جائے گی، جو وہ حکومت شق (1) کے تحت حکمران کو ادا کر چکی ہو۔
(3) قوانین بنانے کے کسی اختیار کے استعمال میں، اور وفاق یا کسی صوبے کے انتظامی اختیار کے استعمال میں، شق (1) میں مذکور کسی ایسے معاہدے کے تحت دی گئی ضمانتوں یا یقین دہانیوں کا، اس شق میں مذکور کسی ایسی ریاست کے حکمران کے ذاتی حقوق، مراعات اور وقار کے سلسلے میں، مناسب خیال رکھا جائے گا۔