مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء

اشاعت: 1956ء

· دو لسانی (انگریزی/اردو)

پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔

آرٹیکل 159: فوجداری معاملات میں عدالتِ عظمیٰ کا اپیلی دائرہ اختیار

عدالتِ عالیہ کے کسی فوجداری کارروائی میں کسی فیصلے، حتمی حکم یا سزا کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں اپیل کی جا سکے گی، اگر عدالتِ عالیہ نے — (الف) اپیل میں کسی ملزم کی بریت کے حکم کو کالعدم قرار دے کر اسے موت یا عمر قید کی سزا دی ہو؛ یا (ب) اپنے تحتِ اختیار کسی عدالت سے کوئی مقدمہ سماعت کے لیے اپنے پاس منگوا کر، ایسی سماعت میں ملزم کو مجرم قرار دے کر اسے مذکورہ بالا سزا دی ہو؛ یا (ج) سرٹیفائی کیا ہو کہ مقدمہ عدالتِ عظمیٰ میں اپیل کے قابل ہے؛ یا (د) عدالتِ عالیہ کی توہین پر کسی شخص کو کوئی سزا دی ہو: بشرطیکہ جہاں پیرا (ج) کے تحت سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے، اپیل ایسے قواعد کے تابع کی جائے گی جو اس سلسلے میں تیسری جدول کے پیراگراف 3 کے تحت بنائے جائیں، اور ایسے دیگر قواعد کے تابع، جو مذکورہ بالا قواعد سے متصادم نہ ہوں، جو عدالتِ عالیہ کے ذریعے اس سلسلے میں بنائے جائیں۔