آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء
اشاعت: 1956ء· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔
آرٹیکل 13: مذہب وغیرہ کے سلسلے میں تعلیمی اداروں سے متعلق تحفظات
(1) کسی تعلیمی ادارے میں حاضر ہونے والے کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے، یا کسی مذہبی تقریب میں شریک ہونے، یا مذہبی عبادت میں حاضر ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عبادت اس کے اپنے مذہب کے سوا کسی اور مذہب سے متعلق ہو۔
(2) کسی مذہبی جماعت یا فرقے کو کسی ایسے تعلیمی ادارے میں، جو مکمل طور پر اسی جماعت یا فرقے کے زیرِ انتظام ہو، اپنی جماعت یا فرقے کے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم فراہم کرنے سے روکا نہیں جائے گا۔ (3) کسی شہری کو محض نسل، مذہب، ذات، یا مقامِ پیدائش کی بنیاد پر سرکاری آمدنی سے امداد پانے والے کسی تعلیمی ادارے میں داخلے سے انکار نہیں کیا جائے گا: بشرطیکہ اس آرٹیکل میں کوئی امر کسی سرکاری حکام کو شہریوں کے کسی سماجی یا تعلیمی طور پر پسماندہ طبقے کی ترقی کے لیے انتظام کرنے سے مانع نہیں ہو گا۔
(4) کسی مذہبی ادارے کے سلسلے میں، ٹیکس کے حوالے سے چھوٹ یا رعایت دینے میں کسی جماعت کے خلاف کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔
(5) ہر مذہبی جماعت یا فرقے کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق حاصل ہو گا، اور ریاست محض اس بنیاد پر کہ کسی ایسے ادارے کا انتظام اس جماعت یا فرقے کے پاس ہے، اسے تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرے گی۔