آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1956ء
اشاعت: 1956ء· دو لسانی (انگریزی/اردو)
پاکستان کا پہلا آئین، 23 مارچ 1956ء سے 7 اکتوبر 1958ء تک نافذ رہا۔ مارشل لا کے ذریعے منسوخ کیا گیا۔
آرٹیکل 224: رائج قوانین کا نافذ العمل رہنا اور ان کی موافقت
(1) آرٹیکل 221 میں مذکور قوانین کی تنسیخ کے باوجود، اور جہاں دستور میں صراحتاً بصورتِ دیگر انتظام نہ ہو، پاکستان میں یا اس کے کسی حصے میں، یا ماورائے علاقہ نفاذ رکھنے والے، دستور کے نفاذ کے دن سے عین قبل نافذ العمل تمام قوانین (مذکورہ بالا قوانین کے سوا)، بشمول آرڈیننسز، آرڈرز اِن کونسل، احکام، ذیلی قوانین، ضوابط، نوٹیفیکیشنز اور دیگر قانونی دستاویزات، جہاں تک قابلِ اطلاق ہوں اور ضروری موافقتوں کے ساتھ، متعلقہ مقننہ یا دیگر مجاز حکام کے ذریعے تبدیل، منسوخ یا ترمیم کیے جانے تک نافذ العمل رہیں گی۔ تشریح 1 — اس آرٹیکل میں اصطلاح "قوانین" میں عدالتِ عالیہ قائم کرنے والے لیٹرز پیٹنٹ شامل ہوں گے۔ تشریح 2 — اس آرٹیکل میں کسی قانون کے سلسلے میں "نافذ العمل" سے مراد قانون کی حیثیت سے مؤثر ہونا ہے، خواہ وہ قانون عمل میں لایا گیا ہو یا نہ ہو۔
(2) پاکستان یا اس کے کسی حصے میں نافذ العمل کسی قانون کے احکام کو دستور کے احکام کے مطابق لانے کے مقصد کے لیے، صدر، دستور کے نفاذ کے دن سے دو سال کی مدت کے اندر، حکم نامے کے ذریعے، ایسے قانون میں ایسی موافقتیں اور ترمیمات کر سکے گا، خواہ ترمیم یا تنسیخ کے ذریعے، جو وہ ضروری یا مناسب سمجھے، اور یوں جاری کردہ کوئی حکم نامہ ایسی تاریخ سے مؤثر ہو گا، خواہ حکم نامہ بنائے جانے کی تاریخ سے پہلے ہو یا بعد میں، لیکن دستور کے نفاذ کے دن سے پہلے نہیں، جو حکم نامے میں مقرر کی جائے۔
(3) صدر کسی صوبے کے گورنر کو اختیار دے سکے گا کہ وہ، اس صوبے کے سلسلے میں، صوبائی فہرست میں شمار کردہ امور سے متعلق قوانین کے حوالے سے، شق (2) کے تحت اسے عطا کردہ اختیارات استعمال کرے۔
(4) شقوں (2) اور (3) کے تحت قابلِ استعمال اختیارات متعلقہ مقننہ کے کسی ایکٹ کے احکام سے مشروط ہوں گے۔